میرے زمانۂ درویشی کی یادیں – محترم رائے ظہور احمد ناصر صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 16؍جون 2007ء میں محترم رائے ظہور احمد ناصر صاحب سابق درویش قادیان نے ایک مضمون میں اپنی یادداشتوں کو پیش کیا جو آپ کے قادیان میں تین سالہ قیام ( 1947ء تا 1950ء) کے دوران آپ کے ذہن پر نقش ہوگئیں۔
اس عرصہ میں ہم بھوکے بھی رہے، گندم کی گھگھنیاں کھا کر بھی گزارہ کیا اور ہر قسم کی سختیاں برداشت کرنے کی توفیق ملی۔ تین سال بعد بعض نامساعد گھریلو حالات کی بناء پر بادل نخواستہ باجازت سیدنا حضرت مصلح موعودؓ مجھے قادیان سے پاکستان آ نا پڑا۔ لیکن وہ سنہری ایام کبھی نہیں بھولے۔ جب مَیں قادیان پہنچا تو وہاں کے حالات اس وقت بڑے مخدوش تھے، کرفیو کا نفاذ تھا۔ اصل حفاظت تو اللہ تعالیٰ کی تھی لیکن مجھے بھی بہشتی مقبرہ میں ڈیوٹیاں دینے کی توفیق ملتی رہی۔ حضرت مصلح موعودؓ اور دیگر بزرگان کے درویشان کے نام تشفی آمیز مکتوبات دلی ڈھارس کا باعث بنا کرتے تھے۔ خصوصاً حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی وہ مشہور نظم ع

خوشا نصیب کہ تم قادیاں میں رہتے ہو

اوائل 1948ء میں حضور ؓنے خاندان حضرت مسیح موعود کی نمائندگی میں بعض بزرگ صحابہؓ کے ہمراہ محترم میاں وسیم احمد صاحب کو قادیان بھجواد یا۔ جب حضورؓ کے ارشاد پر صدرانجمن کا نظام دوبارہ منظم کیا گیا تو مجھے نظارت علیا قادیان میں دفتری خدمات بجالانے کی توفیق ملی۔ حضرت میاں بشیر احمد صاحب کے دفتر حفاظت مرکز لاہور سے بذریعہ ڈاک جو جماعتی خبریں قادیان پہنچتی تھیں۔ ان کو ایک دو ورقہ ’’اخبار احمدیہ‘‘ میں مرتب کرکے لکھنا اور سائیکلو سٹائل مشین کے ذریعہ انہیں چھاپ کر تمام احمدی جماعتوں کو بھجوانا میری ڈیوٹی تھی۔ جب پاکستان سے امارت قادیان کو یہ حکم ملا کہ درویشان چونکہ اکثر نوجوان ہیں اور محدود ایریا میں پابند رہنے کی وجہ سے ان کی صحت پر خراب اثر ہورہا ہے اس لئے کھیلوں کا باقاعدہ انتظام کیا جائے۔ اس پر مختلف کلب قائم ہوئے اور ٹورنامنٹس بھی منعقد ہوئے۔ مَیں بھی اچھا کھلاڑی تھا۔ حضرت میاں صاحب بھی والی بال کے چوٹی کے کھلاڑی تھے اور ہمیں ٹریننگ دیا کرتے تھے۔ آپ میرے قریباً ہم عمر ہی تھے۔ سو خاصی بے تکلفی بھی تھی۔ ایک دفعہ خاکسار اور حضرت میاں صاحب کا (شارٹ گن سے) نشانہ بازی کا ایک دلچسپ مقابلہ بھی ہوا تھا۔ طبیعت ہنس مکھ تھی۔ سب کو خندہ پیشانی سے ملتے تھے۔ درویش بھائیوں کے علاوہ قادیان کے غیر مذاہب والوں میں بھی ہردلعزیز تھے۔
معمول کی نمازوں کے علاوہ باجماعت نماز تہجد اور ہر ہفتہ سوموار اور جمعرات کے دن نفلی روزہ اور سال بھر دعائیں کرنا بھی درویشوں کے لئے لازم تھا۔ عام درس و تدریس کے علاوہ علماء سلسلہ ہمیں اختلافی مسائل سمجھایا کرتے اور تحریر و تقریر کی مشق بھی کرائی جاتی تھی۔ مقابلے بھی ہوتے۔
1949ء میں بٹالہ میں ایک آل انڈیا والی بال ٹورنامنٹ منعقد ہوا تھا۔ اس کے لئے دُور دُور سے ٹیمیں آئی تھیں۔ درویشان قادیان کے احمدیہ والی بال کلب کی ٹیم میں حضرت میاں صاحب سنٹر میں کھیل رہے تھے۔ ٹیم فائنل تک پہنچی اور دہلی کی مرکزی ٹیم کے مدمقابل فائنل میں کانٹے دار مقابلہ کے بعد دوئم قرار پائی۔خاندان مسیح موعودؑ سے تعلق کی بناء پر میاں صاحب کے کھیل کی بڑی شہرت ہوئی اور غیر وں نے بے شمار فوٹوز بھی لئے۔ 1947ء کے بعد درویشان قادیان کی کسی پبلک اجتماع میں یہ پہلی شمولیت تھی۔
مجھے ایک رمضان میں مسجد اقصیٰ اور ایک دفعہ مسجد مبارک میں اعتکاف کی توفیق بھی ملی۔
1948ء میں میرے برادر اکبر اور والد محترم صرف 42روز کے وقفہ سے اللہ کو پیارے ہوگئے۔ اس موقع پر حضرت میاں صاحب اور دیگر درویشان نے بہت دلجوئی فرمائی۔ انہی حالات نے مجھے نوعمری میں ہی گھر کا سربراہ بنادیا تھا چنانچہ 1950ء میں مجھے قادیان سے پاکستان آنا پڑا۔ دو درویش واہگہ بارڈر تک الوداع کہنے آئے۔ لاہور پہنچنے پر رتن باغ میں حضرت میاں بشیر احمدصاحبؓ اور پھر ربوہ حاضر ہونے پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ سے ملاقات ہوئی۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/VUlNL]

اپنا تبصرہ بھیجیں