میرا دوست۔ جھنگ کا عبقری

ماہنامہ ’’النور‘‘ امریکہ فروری 2005ء میں جناب کے، کے، کٹیال (سابق ایسوسی ایٹ ایڈیٹر دی ہندو، نیو دہلی) کا محترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے بارہ میں ایک مضمون شائع ہوا ہے۔
آپ بیان کرتے ہیں کہ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میری اس سے ذاتی واقفیت ایم بی مڈل سکول اور گورنمنٹ انٹرمیڈیٹ کالج جھنگ کے شروع ایام میں ہوئی لیکن ہندوستان کے بٹوارے کے بعد مجھے عبدالسلام سے ملنا ممکن نہ ہوسکا تاہم 1979ء میں نوبل انعام سے نوازے جانے کے بعد وہ بھارت کے دورہ پر آیا۔ تب اس سے ہونے والی ملاقات میرے لئے ایک کڑا جذباتی تجربہ تھی۔
1938ء میں ایک روز ماسٹر کیسر داس نے مجھے ایسی نصیحت کی جو بظاہر بہت دلچسپ نظر آتی تھی: ’’اس لائق لڑکے کے ساتھ میل جول رکھنا اس کی گائیڈنس تمہارے لئے سکالرشپ حاصل کرنے میں لازماً ممد ثابت ہوگی۔‘‘ اور یقینا ایسا ہی ہوا۔ یہ لائق لڑکا عبدالسلام تھا۔ میں نے اس سے قدرے تذبذب اور خوف کے ساتھ پہلی ملاقات کی۔ ایسے ذہین لڑکے عموماً گستاخ پائے جاتے ہیں یا پھر کم ذہین طالب علموں کے لئے ان کے پاس کم ہی وقت ہوتا ہے۔ لیکن میرا اندیشہ غلط ثابت ہوا۔ اُس سے کسی نہ کسی مسئلہ کو سمجھنے کے لئے میں بار بار ملتا رہا اور ہربار میں نے اسے صبر والا پایا۔ وہ ہر مسئلہ پوری محنت کے ساتھ مجھے سمجھاتا رہا۔ جو امر بظاہر مشکل نظر آتا تھا اس کی توضیح کے بعد آسان نظر آنے لگتا تھا۔
میرا اس کے ساتھ ایک اور تعلق بھی پیدا ہوگیا۔ سکول کے ایام کے دوران جرنلزم کے فطری تجسس کی وجہ سے میں دو اخبارات کے دفاتر کے چکر لگایا کرتا تھا جو جھنگ سے اس وقت شائع ہوتے تھے یعنی ’’جھنگ سیال‘‘ اور ’’عروج‘‘۔ عروج ڈسٹرکٹ بورڈ کی پبلیکیشن تھا جسے شعبہ تعلیم کا ایک سٹاف ممبر ایڈٹ کرتا تھا یعنی اس دَور کا ممتاز شاعر مجید امجد۔ اس دوران امجد کے قریبی دوست اور شریک کار چوہدری محمد حسین کے ساتھ بھی میری شناسائی ہوگئی۔ آپ عبد السلام کے والد ماجد تھے۔ اس شناسائی کی بناء پر میرا عبدالسلام کے گھر وقتاً فوقتاً جانا شروع ہوگیا۔ یہ ایک معمولی ساگھر تھا۔ عبد السلام کے مطالعہ کے کمرہ کی دیواروں پر گارے والی مٹی کا لیپ لگا ہوا تھا۔ ایک چارپائی اینٹوں پر رکھی ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا میز جس پر کتابیں تہ وار رکھی ہوئیں تھیں۔ اکثر کتابوں کے حاشیئے اس کے نوٹس سے لبریز تھے۔ کچھ سال قبل میں اس گھر کو دیکھنے دوبارہ گیا جو اگرچہ حکومت پاکستان نے اپنے قبضہ میں لے لیا ہواہے مگر بڑی قابل رحم حالت میں تھا۔ باوجودیکہ میں نے اس وقت کے وزیر اعظم نوازشریف سے مکان کی بری حالت کے بارہ میں شکایت کی، مگر اس کی مرمت کے لئے کچھ بھی نہ کیا گیا۔
عبد السلام کے ساتھ میری کوئی گہری بے تکلفی والی دوستی نہ تھی بلکہ قریبی شناسائی تھی۔ چشموں والا دبلا لڑکا، شلوار قمیص اور پگڑی پہنے جوکالج کے احاطہ میں سائیکل پر جارہا ہوتا تھا وہاں اکثر دیکھنے میں آتا تھا۔ جو اعزاز اس نے تعلیم میں اور مباحثوں میں حاصل کئے ان کی شہرت عموماً سننے میں آتی تھی۔ جب عبد السلام نے انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کر لیا تو اس کے والد نے ڈویژنل انسپکٹر آف ایجوکیشن سے اپنے بیٹے کی ملازمت کے لئے ملاقات کی کیونکہ ان کی فیملی اس کی ہائر ایجوکیشن کے لئے تعلیمی اخراجات برداشت نہ کرسکتی تھی۔ انسپکٹر نے اس کے والد سے التماس کی کہ وہ اپنے ہونہار بیٹے کو مزید تعلیم حاصل کرنے دیں۔ نوجوان طالبعلم کیلئے سکالرشپ کا انتظام ہوگیا اور صورت حال بدل گئی۔ اس واقعہ کو کرشمہ سے کم نہیں تسلیم کیا جاسکتا کہ یوں بیسویں صدی کا ایک ذہین ترین دماغ کلرک کی ملازمت میں متاع عزیز کھپانے سے بچ گیا۔
سلام کے جملہ اساتذہ میں سے کسی کو بھی ذرا شک نہ تھا کہ اس عبقری بچے میں کس قدر خوابیدہ قوت موجود ہے۔ ’’سلام کی قسمت میں مقدر ہوچکا ہے کہ وہ نہ چھوئے جانے والی بلندیوں کو چھوئے گا‘‘۔ یہ فقرہ اردو کے استاد صوفی ضیاء الحق اکثر دہراتے تھے جو بعد میں گورنمنٹ کالج لاہور سے عربی کے استاد کے طور پر ریٹائر ہوئے۔ عبدالسلام کے فزکس کے ٹیچر ہنس راج بھٹلہ بھی اس سے ملے جلے جذبات کا اظہار کرتے تھے۔ عبد السلام کی دہلی وزٹ کے دوران میں نے ان دو پروفیسروں کے بارہ میں بہت کچھ سنا۔ ہنس راج کو تو وہ اپنے ساتھ ان تمام یونیورسٹیوں کے دَوروں پر لے گیا جنہوں نے نوبل لارئیٹ کو مبارکباد دی تھی۔ یہ تشکر کے جذبہ کا نرالا اظہار تھا۔
یہ وہی عبد السلام تھا جو 1979ء میں نوبل انعام ملنے کے بعد دہلی آیا مگر قدرے بدلا ہوا۔ بھرے ہوئے جسم اور داڑھی سے مرصع چہرہ کے ساتھ فزکس کے میدان میں دنیا بھر سے ملنے والی اس کی علمیت کی قدرشناسی۔ نیو دہلی میں میرے گھر عصرانے کے دوران اس نے اپنی شخصیت کے تمام امتیازی اوصاف کو بڑے ساحرانہ انداز میں بیان کیا۔ سب لوگوں پر یہ بات عیاں ہوگئی کہ وہ اپنے دیس کی مٹی سے بنا انسان تھا جس نے خالص جھنگی زبان میں بات چیت کی۔ نوبل انعام کی تقریب کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے اس نے بتلایا کہ کس طرح وہ سر پر ایسی پگڑی پہننے پر مصر تھا جس میں کلغی بنی ہو۔ سویڈن میں ایسی پگڑی کا دستیاب ہونا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا تاہم اس نے پگڑی پاکستانی سفارتخانے کے ملازم سے حاصل کرلی مگر اس میں لگی کلف نے بڑی مشکل سے دو چار کردیا۔ اس تقریب کی تصاویر اگلے روز اخبارات کی زینت بنیں جس میں سلام سویڈن کی ملکہ کے ساتھ گفتگو کے دوران اس کی جانب جھکا ہوا ہے۔
انعام ملنے کے بعد اس کے بچوں نے اس سے انعامی رقم میں سے کچھ کا مطالبہ کیا مگر اس نے ان کو بتلایا کہ یہ رقم تو صرف کسی Charity (نیک مقصد) کے لئے خرچ کی جائیگی۔ اس کے بچوں نے مزاحیہ طور پر جواب دیا کیا Charity اپنے ہی گھر سے شروع نہیں ہوتی؟ تاہم سلام نے ان سے اتفاق نہ کیا۔ یہ رقم ایک طور سے اپنے ہی گھر پر خرچ کی گئی یعنی رقم کا کثیر حصہ جھنگ کے گورنمنٹ کالج کو دے دیا گیا جس میں عبد السلام سائنس بلاک تعمیر کیا گیا۔
دوستانہ گفتگو کے ماحول میں کئی موضوعات پر اس نے اظہار خیال کیا۔ دعوت میں موجود ایک مہمان نے جب برہم ہوکر کہا کہ انڈیا اور پاکستان کے تعلقات کی حد ہوگئی۔ آئیے اب فیصلہ کریں یا یوں ہوگا یا ایسے ہوگا۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے جواباً کہا: لگتا ہے کہ ہمارا عزیز دوست کسی قسم کا کنٹریکٹر ہے۔
ایک اور دوست نے سوال کیا کہ کیا مذہب اور سائنس متضاد چیزیں نہیں؟ انہوں جواب دیا ہرگز نہیں، اس کے ساتھ انہوں نے قرآن کی آیات کے حوالے دئے۔ ایک اور صاحب نے سوال کیا سادہ الفاظ میں مجھے اپنی تھیوری بتلائیں جس کی بناء پر آپ کو نوبل انعام ملا ہے۔ سلام نے جواب دیا: میں نے فطرت کی مختلف قوتوں میں سے دو کو ایک ثابت کیا ہے اب میں باقی ماندہ کو ایک ثابت کرنے کی کوشش میں ہوں۔
وہ امتیازی اوصاف جو اس کی بچپن کی زندگی میں اجاگر تھے وہ زندگی کے بعد والے حصہ میں خوب نکھر کر سامنے آئے: ذہانت، عاجزی، دوسروں کو علم سکھانا، اپنے وطن سے محبت اور مذہبی رجحان۔ یقینا وہ باقی ماندہ انسانوں سے ایک گز اونچا تھا۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/ilx8f]

اپنا تبصرہ بھیجیں