مکڑی

مکڑی ایسا کیڑا ہے جو نہ صرف فنّ تعمیر میں ماہر ہے بلکہ تعمیری مواد پیدا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے- اس کی تقریباً بتیس ہزار اقسام دنیا میں پائی جاتی ہیں- روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 17؍ستمبر 1998ء میں ایک معلوماتی مضمون مکرم طارق محمود سدھو صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے-
مکڑی کی آٹھ ٹانگیں ہوتی ہیں- ہر ٹانگ کے سات حصّے ہوتے ہیں اور آخرپر پنجہ یا بال نما ساختیں ہوتی ہیں جو اسے دیواروں اور چھتوں پر چلنے میں مدد دیتی ہیں- یہ ساختیں بہت حساس ہوتی ہیں اور ہلکی سی تھرتھراہٹ کو بھی محسوس کر لیتی ہیں- اگر مکڑی کہیں پھنس جائے جہاں سے نکلنا مشکل ہو تو یہ اپنی دو تین ٹانگیں توڑ کر بھی خود کو آزاد کرلیتی ہے-
مکڑیوں کی کچھ اقسام ایک خاندان کی شکل میں رہتی ہیں لیکن زیادہ تر تنہا رہنا پسند کرتی ہیں- جسامت کے اعتبار سے یہ ایک ملی میٹر سے لے کر نو سینٹی میٹر تک ہوتی ہیں- عام طور پر مکڑی کے سر کی اگلی جانب آٹھ آنکھیں ہوتی ہیں- منہ کا ایک سوراخ ہوتا ہے جس سے دوسرے جانداروں کا جوس چوستی ہے- اس کے سر کے قریب زہر پیدا کرنے والے غدود واقع ہوتے ہیں- یہ زہر ایک نالی کے ذریعے باہر نکلتا ہے اور دوسرے حشرات کو ہلاک کردیتا ہے یا شدید زخمی کر دیتا ہے- بعض مکڑیوں کے زہر بعض پرندوں کو بھی ہلاک کر دیتے ہیں- اکثر مکڑیاں طویل عرصے تک بھوکی رہ سکتی ہیں مثلاً ایک قسم کی مکڑی تقریباً دو سو آٹھ دن تک بھوک برداشت کرلیتی ہے-
مکڑی کا خون بے رنگ ہوتا ہے جو بغیر نالیوں کے جسم میں حرکت کرتا رہتا ہے- مادہ مکڑی انڈے دیتی ہے- بچے جلد ہی چلنا سیکھ لیتے ہیں اور جلد ہی آزادانہ زندگی بسر کرنے لگتے ہیں- تمام مکڑیاں جالا نہیں بنتیں لیکن ہر مکڑی میں جالا بننے کے اعضاء تین جوڑیوں کی صورت میں جسم کے پچھلے حصہ میں موجود ہوتے ہیں- ان اعضاء میں سینکڑوں کی تعداد میں باریک نالیاں ہوتی ہیں جو پروٹین سے بنے ہوئے مادے کو باہر نکالتی ہیں- یہ مائع پروٹین باہر آکر سخت دھاگہ نما صورت اختیار کر لیتی ہے- مکڑی چلتے ہوئے رستے میں دھاگے کی ایک لمبی لکیر بناتی جاتی ہے جو اِس کے جسم سے مسلسل جُڑی رہتی ہے- ایک مرتبہ بُنا ہوا جالا تمام عمر کام نہیں آتا کیونکہ جالے میں کچھ دھاگے گیلے یا لیس دار ہوتے ہیں جو خشک ہوکر بیکار ہو جاتے ہیں اس لئے مکڑی اِن دھاگوں کو اور بعض دفعہ پورے جالے کو کھا جاتی ہے اور اس جالے کی پروٹین مکڑی کے غدود میں دوبارہ شامل ہو کر نئے دھاگے پیدا کرتی ہے-
گو مکڑی کی آنکھیں زیادہ دور تک نہیں دیکھ سکتیں لیکن اِس کی ٹانگیں تھرتھراہٹ کو محسوس کر سکتی ہیں اور جونہی کوئی کیڑا مکوڑا اِس کی پیچھے چھوڑی ہوئی تار سے ٹکراتا ہے اِسے علم ہو جاتا ہے کہ کیڑا کس قسم کا ہے اور اُس کا سائز کیا ہے-

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/qFP5D]

اپنا تبصرہ بھیجیں