مکرم سید محمود احمد صاحب آف برازیل

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ8جولائی 2008ء میں مکرم اقبال احمد نجم صاحب کے قلم سے محترم سید محمود احمد صاحب آف برازیل کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔
مکرم سید محمود احمد صاحب سے میری پہلی ملاقات 22جولائی 1985ء کو ہوئی جب خاکسار حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کے ارشاد پر برازیل میں احمدیہ مشن کے قیام کا جائزہ لینے کے لئے وہاں پہنچا۔ آپ نے میرا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ حضور نے مجھے آج سالگرہ کا عمدہ تحفہ ارسال فرمایا ہے یعنی اس روز ان کی سالگرہ تھی۔ آپ اس وقت بینک میں اکانومسٹ تھے اور نیتا رائے کے شہر میں رہتے تھے۔ آپ کا ایک گھر جزیرہ پاکیتا میں بھی ہے۔ چھ میل قطر کا یہ جزیرہ بہت ہی خوبصورت ہے۔ آپ مجھے اسی مکان میں لے گئے اور ایک کمرہ مجھے دیدیا۔ ہر ویک اینڈ پر آپ اپنی فیملی کے ساتھ وہاں آتے اور بڑے اہتمام سے میری مہمان نوازی کرتے۔ جماعتی دستور کا ترجمہ پرتگالی زبان میں ہم دونوں کرتے کیونکہ اس وقت ہم اتنے بڑے ملک میں دو ہی احمدی تھے۔
آپ کی برازیلی اہلیہ نے اس مکان میں دس گیارہ کتے پالے ہوئے تھے جن کی بظاہر کوئی ضرورت نہیں تھی ۔ ان کی خوراک پر بھی بہت خرچ اٹھتا تھا اور گند بھی بہت ڈالتے تھے گو صفائی کے لئے ایک نوکر بھی تھا مگر وہ تساہل سے کام لیتا تھا اور ان کی وجہ سے میں اپنا کمرہ بھی بند رکھنے پر مجبور تھا۔ میں نے سید صاحب سے بات کی تو کہنے لگے کہ شادی سے قبل ہم میاں بیوی کا یہ معاہدہ ہوا تھا کہ ہم ایک دوسرے کے مذہب میں دخل نہیں دیں گے۔ وہ کہتی ہیں کہ جانور رکھنا اور ان کا خیال رکھنا میرے مذہب میں ہے ۔ لہٰذا آپ مجھے مجبور سے نظر آئے۔ میں خاموش ہو گیا۔ میں نے دعا بھی کی کہ مولا ان کتوں سے نجات دے۔ کچھ روز بعد مَیں دو ہفتہ کے لئے پارا گوائے چلا گیا۔ جب واپس آیا تو مجھے کوئی کتا نظر نہ آیا۔ نوکر نے بتایا کہ میرے جانے کے بعد کتے ایک ایک کر کے مرنے لگے۔ایک ہمسائی نے یہ خیال ظاہر کیا کہ مشنری انہیں زہر نہ دے گیا ہو کیونکہ کتے اسے پسند نہیں تھے ۔ پھر کتے کی لاش قبر سے نکلوا کر پوسٹ مارٹم کرائی گئی جس سے اُنہیں اطمینان ہوا کہ زہر نہیں دیا گیا اور ندامت پیدا ہوئی۔ پھر خرگوش اور بیٹر رکھے گئے۔
میں تقریباً چھ ماہ اُن کے ہاں رہا اور پھر اُن کے اصرار کے باوجود ریو دے جنیرو شہر میں منتقل ہوگیا تاکہ تبلیغ کے کام کو بڑھایا جاسکے۔ وہاں ایک کمرہ کا فلیٹ لیا گیا۔ آپ تقریباً روزانہ ہی وہاں تشریف لاتے۔ ظہر وعصر کی نماز ہم باجماعت پڑھتے۔ جلد ہی ابتدائی تعارفی پمفلٹ اور ’’میں احمدیت کو کیوں مانتا ہوں؟‘‘ بڑی تعداد میں شائع کروائے گئے۔ اور ایک رات ہم دونوں نے پانچ ہزار اہم افراد کے نام پیکٹ تیار کرکے حوالہ ڈاک کردیئے پھر قریباً10ہزار اخبارات و رسائل کو اور اتنی ہی لائبریریوں کو بھی احمدیہ لٹریچر بھجوادیا گیا۔ آپ میرے ساتھ رات دن کام کرتے تھے۔ بہت لائق تھے اور احمدیت کے عاشق تھے ۔ خدمت خلق کا جذبہ آپ میں کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔بہت مہمان نواز تھے ۔ قربانی اور ایثار کے پتلے تھے۔ کراچی کے تین نوجوانوں نے کولمبیا میں زمین خریدی جو چٹیل پہاڑی نکلی۔ وہ لٹ پٹ کر آ گئے تو آپ نے ان کو ہم وطن ہونے کی وجہ سے سہارا دیا اور کئی سال تک وہ آپ کے مکان میں مقیم رہے۔ بینک میں اپنے ہم جلیسوں سے بھی بہت احترام کا تعلق رکھتے تھے۔
مجھے ایک دن پیغام بھجوایا کہ میری اہلیہ کی جاننے والی ایک بڑی عمر کی خاتون کا مشغلہ پینٹنگ ہے۔ وہ جزیرہ والے مکان میں آ رہی ہیں، آپ بھی آ جائیں اور انہیں تبلیغ کریں۔ مَیں نے جاکر اُن کو ’’مسیح ہندوستان میں‘‘ اور ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ پڑھنے کو دی تو وہ پینٹنگ چھو ڑ کر مطالعہ میں لگ گئیں۔ انہوں نے 20سال قبل ایک کشف بھی دیکھا تھا چنانچہ وہ احمدی ہو گئیں اور بعد میں میری تحریک پر وقف بھی کردیا اور پھر وہ لندن آگئیں۔ حضورؒ کے ارشاد پر تیس پینتیس سال کی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے کتب اور پمفلٹ ترجمہ کرائے گئے اورہم دونوں نے پرتگالی زبان میں ترجمہ قرآن کریم بھی تیار کیا اور حضورؒ نے آپ یعنی سسٹرامینہ ایدل وائز دیاز کو پہلی احمدی خاتون مربی بھی قرار دیا۔ سسٹر امینہ جب پرتگال میں مشن رجسٹرڈ کرانے گئیں تو اسی دوران پروفیسر طاہر مغل صاحب نے ارجنٹائن میں جماعت کو رجسٹرڈ کروایا اور وہاں ایک فلیٹ بھی جماعت کے لئے خریدا۔
محترم سید محمود احمد صاحب 2؍اکتوبر 2007ء کو وفات پا گئے۔ آپ کی تدفین بھی جزیرہ پاکیتا کے قبرستان میں ہوئی۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/5o3F4]

اپنا تبصرہ بھیجیں