مکرمہ اسلم بی بی صاحبہ اور آپ کے بھائی ڈاکٹر فیروزالدین صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 23؍جنوری 2010ء میں مکرمہ م۔ شاہین صاحبہ کے قلم سے ایک مضمون شامل اشاعت ہے جس میں انہوں نے اپنے خاندان میں احمدیت کے نفوذ کا ذکر کیا ہے۔
مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ میری دادی مکرمہ اسلم بی بی صاحبہ اور آپ کے بھائی ڈاکٹر فیروزالدین صاحب چھوٹی عمر کے ہی تھے کہ ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا جس کے بعد ان کے والد ڈاکٹر قاضی لعل الدین صاحب سول سرجن نے دوسری شادی کرلی۔ اس بیوی سے بھی ان کے 3 بیٹے اور 5 بیٹیاں پیدا ہوئے۔ قریباً 1934ء میں محترم ڈاکٹر صاحب نے حضرت مصلح موعودؓ کی بیعت کرلی اور پھر جلد ہی قادیان میں رہائش اختیار کرلی۔ اس سے قبل ہی میری دادی اسلم بی بی صاحبہ کی شادی مکرم شیخ سردار محمد صاحب سے ہوگئی تھی جو ایک انجینئر تھے اور ہوشیارپور میں رہائش تھی۔ میری دادی خود بھی نماز، روزہ کی بہت پابند، نیک، دیندار خاتون تھیں مگر اُن کو اپنے والد اور چھوٹے بہن بھائیوں کا بیعت کرنا اچھا نہ لگا۔ تاہم فطرتاً نیک تھیں اس لئے دعا کیا کرتی تھیں کہ کوئی مرد کامل ملے تو اس کی بیعت کریں۔ ایک مرتبہ آپ نے خواب میں ایک بزرگ کو دیکھا کہ یہ مرد کامل ہیں۔ اس بزرگ کو ڈھونڈنے کے لئے آپ نے بہت جتن کئے۔ کئی جگہ گئیں اور کئی بزرگوں سے ملیں مگر دل کو تسلی نہ ہوتی۔
اُنہی دنوں شیخ سردار محمد صاحب بسلسلہ ملازمت کسی دوسرے شہر تشریف لے گئے تو دادی جان اپنے تینوں بیٹوں کے ہمراہ اپنے والد کے پاس قادیان میں چلی آئیں۔ یہاں آپ کی بہنیں، خاص طور پر خالہ فردوس چغتائی صاحبہ آپ پر جماعتی پروگراموں میں شامل ہونے پر زور دیتیں مگر آپ نہ مانتیں۔ ایک دن خالہ فردوس صاحبہ حضرت مصلح موعودؓ کی ملاقات کو جانے لگیں تو آپ سے فرمایا کہ آپ بھی ساتھ چلیں، بیشک بیعت نہ کریں۔ دراصل انہیں بھی آپ کی بزرگ والی خواب کا پتہ تھا اور یقین تھا کہ وہ بزرگ حضرت مصلح موعود ہی ہوں گے۔ بڑی مشکل سے دادی صاحبہ تیار ہوئیں اور دونوں بہنیں ملاقات کو پہنچیں۔ جب آپ ملاقات کے کمرہ میں پہنچیں تو حضورؓ نے آپ کو دیکھتے ہی فرمایا کہ آپ بیعت کرنے آئی ہیں؟ نیز فرمایا کہ آپ کے بھائی ڈاکٹر فیروزالدین صاحب (جوکہ عدن میں مقیم تھے) نے مجھے آپ کی بیعت کرنے کے بارہ میں اتنے زیادہ خطوط لکھے ہیں کہ آج تک مجھے کسی بھائی نے اپنی بہن کے بیعت کرنے کے واسطے دعا کرنے کے لئے اتنے خط نہیں لکھے، جتنے انہوں نے لکھے ہیں۔
دادی جان بھی کمرہ میں داخل ہوتے ہی پہچان چکی تھیں کہ یہ وہی بزرگ ہیں جن کو ڈھونڈنے کے لئے وہ در در کی خاک چھان چکی ہیں۔ چنانچہ آپ نے شرح صدر سے بیعت کی اور خوشی خوشی گھر واپس لوٹ آئیں۔ پھر تو آپ قادیان کی ہی ہو رہیں۔ یہاں مکان لے کر بچوں کو بھی سکول میں داخل کیا اور داداجان کو بھی آمادہ کرکے ان کی بھی بیعت کروائی۔
مکرمہ اسلم بی بی صاحبہ نے نظام وصیت میں بھی شمولیت کی توفیق پائی اور آپ 1/3 حصہ کی موصیہ تھیں۔ بہشتی مقبرہ ربوہ میں آسودہ خاک ہیں۔
آپ کے بھائی ڈاکٹر قاضی فیروزالدین صاحب نے عدن میں دیگر چار احمدی ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر جماعت قائم کی تھی اور ڈاکٹر فیروزالدین صاحب ہی جماعت عدن کے صدر بھی تھے۔ آپ 1946ء میں عدن سے قادیان آئے تو ڈاکٹر محمد احمد صاحب نے عدن سے آپ کو خط اور تار کے ذریعہ عدن میں مشن کھلوانے کی تحریک کی۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے جماعت عدن کی نمائندگی میں حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر درخواست کی کہ کوئی موزوں مربی عدن کے لئے تجویز فرمایا جائے، ہم پانچوں ڈاکٹر مشن کا بار اٹھانے میں مدد کریں گے۔ اس پر حضرت مصلح موعود نے جامعہ احمدیہ کے فارغ التحصیل نوجوان مولوی غلام احمد صاحب مبشر کو اس خدمت کے لئے نامزد فرمایا۔ 19؍اگست 1946ء کو وہ عدن پہنچے تو بندرگاہ پر ڈاکٹر فیروزالدین صاحب اور ڈاکٹر محمد احمد صاحب نے اُن کا استقبال کیا۔
ان دنوں عدن میں یہود اور عرب کی کشمکش یکایک زور پکڑ گئی جس کا اثر جماعتی سرگرمیوں پر بھی ہوا۔ نیز ڈاکٹر فیروز الدین صاحب عین فسادات کے دوران وفات پاگئے۔ مکرم مولوی غلام احمد صاحب مبشر نے اپنی 27 دسمبر 1947ء کی رپورٹ میں ان کے انتقال کی اطلاع دیتے ہوئے لکھا: ’’احمدیت کی مالی خدمت کا جو جوش اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر رکھا ہوا تھا، اس کی نظیر بھی کم ہی پائی جاتی ہے۔ ہمارا اندازہ ہے کہ وہ ہر سال (اپنی آمدکا) ساٹھ فیصد ہی اشاعت کے لئے خرچ کررہے تھے۔ مساکین و غرباء سے ہمدردی اور خدمت خلق کا جذبہ تو کوٹ کوٹ کر ان کے دل میں بھرا ہوا تھا۔ اگر کوئی مسکین بھی ان کے دروازہ پر آجاتا اور سوال کرتا تو آپ ضرور اس کی حاجت پوری کر دیتے۔ بعض اوقات اپنی نئی پہنی ہوئی قمیص وہیں اتار کر دیدیتے اور یہی باتیں بعض اوقات ان کے گھر میں کشمکش کا باعث ہو جاتیں۔ غرضیکہ آپ کی زندگی حقیقت میں یہاں کی جماعت کے لئے ایک عمدہ نمونہ تھی‘‘۔ ڈاکٹر فیروزالدین صاحب کی تدفین ’’کریتر‘‘ نامی شہر کے مرکزی قبرستان میں ہوئی اور ان کی قبر آج تک وہاں موجود ہے۔ مرحوم نہایت مخلص، نہایت پُرجوش اور بہت سی صفات حمیدہ کے مالک تھے۔ دعوت الی اللہ کا جوش اور شغف ان میں بے نظیر تھا۔ اگر کوئی مریض ان کے گھر پر آتا تو وہ ضرور اس تک محبت، اخلاص اور ہمدردی سے احمدیت کا پیغام پہنچاتے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/54WQN]

اپنا تبصرہ بھیجیں