ملک مشتاق احمد صاحب سگُّو

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 17؍اپریل 06 20ء میں مکرم حفیظ احمد خالد صاحب اور 28؍جون 2006ء کے شمارہ میں مکرم حکیم محمد افضل فاروقی صاحب کے قلم سے محترم ملک مشتاق احمد صاحب سگّو کا ذکر خیر شامل اشاعت ہے۔
محترم سگّو صاحب1945ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ملک اللہ ڈیوایا صاحب سگّو اپنے علاقہ کے نمبردار تھے۔ اُن کی وفات کے بعد محترم ملک مشتاق احمد سگّو صاحب نمبردار مقرر ہوئے۔ آپ خان گڑھ سے میٹرک کرکے راولپنڈی چلے گئے اور وہاں سے 1965ء میں ہومیوڈاکٹر کی سند حاصل کی۔ پھر دینی تعلیم کے لئے مدرسہ تعلیم القرآن میں داخلہ لیا اور پانچ سال میں مختلف دینی علوم پر عبور حاصل کیا۔ دریں اثناء پرائیویٹ طور پر B.A. بھی کرلیا۔ 1971ء میں آپ اپنے گھر واپس آگئے اور ہومیوپریکٹس شروع کردی۔ دل کے حلیم اور سخی تھے۔ سب کا علاج مفت کرتے۔ بطور ٹیوب ویل آپریٹر سرکاری ملازمت بھی کی لیکن 1986ء میں استعفیٰ دیدیا۔
آپ اپنے نانا محترم رانا فیض بخش صاحب نون آف شجاع آباد (بیعت 1931ء) کی کوشش سے دسمبر 1974ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی دستی بیعت کرکے مشرف بہ احمدیت ہوئے ۔ اُس سال آپ جلسہ سالانہ پر تشریف لے گئے اور وہاں حضورؒ کی ملاقات بھی کی۔ آپ حضورؒ سے ملاقات کے وقت دست مبارک کو چوم کر رونے لگ گئے اور ملاقات ختم ہونے پر باہر آکر کہنے لگے کہ آج تک مَیں غلطی پر تھا، حضورؒ اقدس کا چہرہ نور ہی نور تھا، ایسا نورانی چہرہ مَیں نے آج تک کسی کا نہیں دیکھا، یہ مرد خدا جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ اُسی رات بیعت کرلی۔ جب واپس گاؤں آئے تو سب عزیزوں کو اپنی قبول احمدیت کی اطلاع دی۔ اپنے ایمان پر نہایت جرأت اور استقامت سے قائم رہے۔ اپنے علاقہ کے پہلے احمدی تھے اور آپ کی دعوت الی اللہ سے جلد ہی ایک نئی جماعت قائم ہوگئی جس کے پہلے صدر بھی آپ ہی منتخب ہوئے۔ آپ نے اپنے مکان کے ساتھ والی اراضی میں احمدیہ مسجد بھی تعمیر کروائی جس میں مہمان خانہ بھی بنوایا ۔ آپ کی تبلیغ سے قریباً دو صد پھل اللہ تعالیٰ نے عطا کئے ہیں۔
آپ ایک ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ گفتگو اکثر دین سے متعلق ہوتی۔ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور غرباء ومستحقین کی مدد ان کا مرغوب مشغلہ تھا۔ میٹنگز اور جلسہ وغیرہ آپ کے ڈیرہ پر منعقد ہوتا۔ کرایہ پر بس لے کر احباب کو ربوہ کی زیارت کروانے بھی لاتے۔ اپنی مسجد میں امامت بھی کرواتے اور ڈش لگواکر پھر حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کا خطبہ بھی سنوانے لگے۔ اس پر مخالفین نے آپ کے خلاف سراسر جھوٹا مقدمہ قائم کردیا۔ چنانچہ اگست 2002ء سے تقریباً دس ماہ تک ڈسٹرکٹ جیل مظفر گڑھ میں اسیر رہے تو وہاں پر موجود تمام حوالاتیوں کو اکٹھا کرکے نماز باجماعت ادا کروائی۔ ڈسٹرکٹ کورٹس مظفر گڑھ میں پیشی کے لئے ان کو وہاں پر قائم ایک حوالات میں رکھا جاتا تو ایک عجیب منظر ہوتا۔ موسم شدید گرم، حبس بے انتہا، پسینے میں شرابور، دم گھونٹنے والے ماحول میں راہ خدا کا یہ مسافر، لوہے کی مضبوط زنجیر سے بندھا بڑے اطمینان اور سکون کے ساتھ کوہ وقار اور مرد آہن بن کر کھڑا ہوتا۔ چہرے پر کوئی مایوسی یا پریشانی کا شائبہ نہیں، زبان پر کوئی گلہ نہیں، اُلٹا دوسروں کو تسلّی دیا کرتا۔ یہ اس شخص کے عزم و استقلال کا ادھورا سا نقشہ ہے جس کو ڈیرہ غازی خان کی جیل میں سنگین جرائم میں ملوث قیدیوں کی طرح بیڑیاں پہنا کر کڑی دھوپ میں کھڑا رکھا جاتا، چکی بند کر دیا جاتا اور ملاقات کی اجازت ہفتہ میں ایک بار دی جاتی۔ یہی صورتحال مظفر گڑھ کی جیل میں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس مقدمہ میں باعزت بری کردیا۔
اس سے قبل بھی پہلی بار جولائی 1999ء سے تقریباً چھ ماہ تک ڈسٹرکٹ جیل ڈیرہ غازی خان میں اسیر رہے۔ اس مقدمہ میں گرفتاری کے لئے جب وہ خود گھر میں نہ ملے تو ان کے چودہ سالہ بیٹے عزیزم ملک عارف احمد سگو کو گرفتار کر لیا گیا اس طرح اسے بھی تین دن ڈسٹرکٹ جیل مظفر گڑھ میں گزار کر اسیر راہ مولیٰ ہونے کا شرف حاصل ہوا۔
حالانکہ یہ انسان ہمدردی خلائق میں فناشدہ تھا، نہ صرف راتوں کو رو رو کر دعائیں کرنا اس کا معمول تھا بلکہ عملاً بھی غرباء و مستحقین کی مدد کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا۔ غرباء کو صلائے عام تھی کہ اپنی احتیاجات بلا تردّد بیان کریں۔ اکثر بن مانگے بھی انہیں اناج اور لباس مہیا کرتے۔ لوگ اس یقین کے ساتھ ان کے پاس چلے آتے کہ خالی ہاتھ نہ لوٹائے جائیں گے۔ حتیٰ کہ آپ پر مذکورہ بالا جھوٹا مقدمہ دائر کروا کر ایذا رسانی کا باعث بننے والا شخص بھی امداد کا طالب ہوا تو کسی سے ادھار لے کر کافی مقدار میں غلّہ اس کو فراہم کیا۔ ایک ضرورت مند نے شدید سردی میں گرم چادر کا سوال کیا تو اپنے استعمال کی واحد نئی چادر اس کو دیدی۔ ان کی بستی کا ایک آدمی جیل میں قید تھا۔ اس کے گھر کا سارا ماہانہ خرچ برداشت کرتے رہے۔ لوگوں کو ادھار دی ہوئی رقم بھی از خود واپس نہ مانگتے۔
جیل سے رہائی کے بعد ایک دفعہ ان کے بیٹے نے کچھ رقم تحفۃ ً دے کر خواہش کی کہ وہ اس سے نئے کپڑے بنوالیں۔ مگر انہوں نے پرانے کپڑوں پر قناعت کرتے ہوئے اس رقم سے ہومیو پیتھک دواؤں کا بریف کیس منگوالیا اور نواحی موضع میں میڈیکل کیمپس لگا کر سینکڑوں مریضوں کا مفت علاج کیا۔
مہمان نوازی کا وصف ان میں بدرجہ اولیٰ پایا جاتا تھا۔ مہمانوں کے ساتھ بہت اخلاق سے پیش آتے اور اکرام ضیف کا عمدہ نمونہ دکھاتے۔ کبھی ضلعی پروگراموں میں بھی مہمانوں کی تواضع کے لئے پھل اور گوشت وغیرہ بھجوادیتے۔ ایک دفعہ رات گئے کراچی سے آنے والے ایک عیسائی مسافر اس علاقے میں اترے، بوجہ اجنبی ہونے کے مطلوبہ جگہ نہ پہنچ پائے۔ لوگ ان کو اپنے ہاں ٹھہرانے پر آمادہ نہ ہوئے بلکہ سگوصاحب کے پاس جانے کا مشورہ دیا۔ چنانچہ آپ نے رات کو ان کی خاطر مدارت کی اور صبح منزل پر پہنچانے کا انتظام کیا۔
قرآن کریم سے بے انتہا محبت تھی۔ دوران قید بھی مختلف موضوعات پر آیات قرآنیہ تلاش کرکے درج کرتے رہے۔ عام گفتگو میں بات کا آغاز اکثر قرآنی آیت سے کرتے دوران گفتگو بھی بکثرت آیات کے حوالے دیتے۔ ان کے خیال میں خاکسار کاانداز تلاوت بہت عمدہ تھا، مجھ سے ہر جگہ، ہر مجلس میں اور ہر ملاقات میں قرآن کریم سنانے کی فرمائش کرتے حتیٰ کہ جیل میں حاضر ہوتا تو ملاقاتیوں کے اژدھام میں بھی کہتے کہ تھوڑا سا قرآن کریم سنا دو، فون پر رابطہ ہوتا تو بھی یہی خواہش۔
محترم سگو صاحب جماعتی عہدیداران کے احترام کی اہمیت اپنے نمونہ سے دوسروں پر اجاگر کرتے رہتے۔ اپنے اہل خانہ کے ساتھ سلوک بھی بہترین تھا۔ آپ کے گھر میں دوفیملیاں تھیں۔ سب کو اس کے پورے حقوق دئیے کسی کو کبھی کوئی شکایت نہ ہوئی۔ کچھ عرصہ قبل اپنی زمین ان میں تقسیم کی۔ بیٹیوں کو حصہ دینے کا رواج عملاً علاقے میں نہیں لوگوں نے ان کو بھی یہی مشورہ دیا مگر آپ نے عین دینی قانون وراثت کے مطابق سب کو حصہ دے کر دلی اطمینان کا اظہار کیا۔ لوگوں کے لئے یہ ایک اچھنبے کی بات تھی اور وہ اظہار حیرت بھی کرتے کہ دیکھو ایک سال کی بیٹی کے نام بھی زمین الاٹ کر دی گئی ہے۔ نیز تقسیم اراضی کے وقت زمین کا کوئی ٹکڑا اپنے لئے نہیں رکھا، بچوں کے استفسار پر جواب دیا کہ میرا پورا توکل اللہ تعالیٰ پر ہے۔
بچوں پر کبھی سختی نہ کی، اپنے نیک نمونے اور حکمت کے ساتھ تربیت کا ہر احسن طریق اختیار کیا، عبادت کی تاکید کرتے، ہر جماعتی ہدایت پر بڑے اہتمام سے اہل خانہ کو ساتھ ملا کر عمل کرتے۔ تمام مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر اور بلاتا خیر حصہ لینے کی کوشش کرتے۔ علاقہ بھر میں دور دور تک ہر چھوٹے بڑے کو دعوت الی اللہ کی، اپنے کردار کے بارے میں کہتے کہ اگر مجھ میں کوئی برائی دیکھتے ہو یا خدمت خلق میں کمی دیکھتے ہو تو بتاؤ تو وہ یہی کہتے کہ سوائے احمدی ہونے کے تمہارے اندر کوئی کمی نہیں ہے۔
آپ نے مورخہ 19؍اگست 2005ء کو بعارضۂ قلب بعمر تقریباً ساٹھ برس وفات پائی۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/4I21V]

اپنا تبصرہ بھیجیں