مشرق بعید (آسٹریلیا) سے تعلق رکھنے والے ابتدائی احمدی حضرت محمد عبدالحق صاحبؓ

(مطبوعہ رسالہ اسماعیل اپریل تا جون 2014ء)

مشرق بعید (آسٹریلیا) سے تعلق رکھنے والے ابتدائی احمدی
حضرت محمد عبدالحق صاحب رضی اللہ عنہ

(Mr. Charles Francis Sievwright)
(ناصر محمود پاشا)

ایک سعادت مند آسٹریلوی باشندے Mr. Charles Francis Sievwright (محترم چارلس فرانسِس سیورائیٹ صاحب) کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت اور پھر بعد میں آپؑ کی بیعت کرنے کی سعادت بھی عطا ہوئی اور یوں آپ صحابہؓ کے زمرہ میں داخل ہوئے۔

1903ء کا سال جماعت احمدیہ آسٹریلیا کی تاریخ میں جہاں اس لئے اہمیت کا حامل ہے کہ اس سال حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا پیغام پہلی مرتبہ آسٹریلیا پہنچا اور ایک سعید روح حضرت صوفی حسن موسیٰ خان صاحبؓ کو اُسے قبول کرنے کی سعادت عطا ہوئی۔ وہاں اسی سال آسٹریلیا کے ایک باشندہ کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے قادیان میں ملاقات کرنے کا موقع ملا۔ اس آسٹریلوی باشندہ Mr. Charles Francis نے 1896ء میں اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام ’’محمد عبدالحق‘‘ رکھ لیا تھا۔ آپؓ 1906ء میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کرکے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔
آپؓ 1862ء میں میلبورن میں پیدا ہوئے۔ ایک کیتھولک گھرانے سے آپ کا تعلق تھا۔ آپ نے کئی سال ’’برٹش اینڈ انڈین ایمپائر لیگ‘‘ کے نمائندے کے طور پر انڈیا کا سفر کیا۔ چنانچہ ایک ایسے ہی سفر کے دوران اکتوبر 1903ء میں آپ کی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے قادیان میں ملاقات ہوئی۔ آپ اپنے اس سفر کے دوران لاہور میں تھے اور اس جستجو میں تھے کہ کسی ایسے راستباز مسلمان سے ملاقات ہو جو مجسّم اسلام ہو تا اِس کی حقیقی صحبت کی برکت سے خود بھی برگزیدہ بن جائیں۔ چنانچہ اس جستجو میں لاہور میں آپ کی ملاقات حضرت میاں معراج الدین عمر صاحب اور طیب نور محمد احمدی صاحب سے ہوئی جنہوں نے آپ کو قادیان چلنے کی تحریک کی۔ جس پر آپ 22؍اکتوبر 1903ء کو قادیان پہنچے جہاں آپ کا پُرتپاک استقبال کیا گیا۔ آپ دو دن قادیان میں رہے جہاں آپ حضرت مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ کے درس قرآن کریم کے معارف سے مستفید ہوئے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بھی ملاقات کی اور بعض سوالات پوچھے جن کی تفصیل ملفوظات (جلد 3 صفحہ 445 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ) میں درج ہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور محمد عبدالحق صاحبؓ کے درمیان جو گفتگو ہوئی وہ خلاصۃً درج ذیل ہے:
روحانی تعلق سے متعلق محمد عبدالحق صاحبؓ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑنے فرمایا: ہمارے مذہب اسلام کے طریق کے موافق روحانی طریق صرف دعا اور توجہ ہے لیکن اس سے فائدہ اٹھانے کیلئے وقت چاہئے کیونکہ جب تک ایک دوسرے کے تعلقات گاڑھے نہ ہوں اور دلی محبت کا رشتہ قائم نہ ہوجائے تب تک اس کا اثر محسوس نہیں ہوتا۔ ہدایت کا طریق یہی دعا اور توجہ ہے۔ ظاہری قیل و قال اور لفظوں سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
محمد عبدالحق صاحبؓ نے اظہار کیا کہ میری فطرت اس قسم کی واقع ہوئی ہے کہ روحانی اتحاد کو پسند کرتی ہے، مَیں اس کا پیاسا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اس سے بھر جاؤں۔ جس وقت سے مَیں قادیان میں داخل ہوا ہوں، مَیں دیکھتا ہوں کہ میرا دل تسلّی پاگیا ہے اور اب تک جس جس سے میری ملاقات ہوئی ہے مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرا اس سے دیرینہ تعارف ہے۔
حضرت مسیح موعودؑنے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کا قانون قدرت ہے کہ ہر ایک روح ایک قالب کو چاہتی ہے۔ جب وہ قالب تیار ہوجاتا ہے تو اس میں نفخ روح خودبخود ہو جاتا ہے۔ آپ کے لئے یہ ضروری امر ہے کہ جو حقیقت اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کھولی ہے اس سے آہستہ آہستہ آگاہی پالیویں۔ دیکھو ایک زمانہ وہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تن تنہا تھے مگر لوگ حقیقی تقویٰ کی طرف کھنچے چلے آتے تھے حالانکہ اب اس وقت لاکھوں مولوی اور واعظ موجود ہیں لیکن چونکہ دیانتدار نہیں، وہ روحانیت نہیں اس لئے وہ اثر اندازی بھی اُن کے اندر نہیں۔ انسان کے اندر جو زہریلا مواد ہوتا ہے وہ ظاہری قیل و قال سے دُور نہیں ہوتا اس کے لئے صحبتِ صالحین اور ان کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے فیض یافتہ ہونے کے لئے ان کے ہمرنگ ہونا اور جو عقائد صحیحہ خدا نے ان کو سمجھائے ہیں اُن کو سمجھ لینا بہت ضروری ہے۔
مزید فرمایا: یاد رکھو کہ سنت اللہ یوں ہے کہ دو باتیں اگر ہوں تو انسان حصولِ فیض میں کامیاب ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ وقت خرچ کرکے صحبت میں رہے اور اس کے کلام کو سنتا رہے اور اثنائے تقریر یا تحریر میں اگر کوئی شبہ یا دغدغہ پیدا ہو تو اُسے مخفی نہ رکھے بلکہ انشراحِ صدر سے اُسی وقت ظاہر کرے تاکہ اسی آن میں تدارک کیا جاوے۔
محمد عبدالحق صاحبؓ نے عرض کیا کہ جو شرائط سلسلہ میں داخل ہونے کے آپ نے بیان کئے ہیں، مَیں انہی کو اسلام کی شرائط خیال کرتا ہوں۔ جو مسلمان ہوگا اس کے لئے ان تمام باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔
حضرت مسیح موعودؑنے فرمایا: ہمارے اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم ایک سادہ زندگی بسر کرتے ہیں اور تمام تکلّفات جو کہ آج کل یورپ نے لوازمِ زندگی بنا رکھے ہیں اُن سے ہماری مجلس پاک ہے۔ رسم و عادت کے ہم پابند نہیں ہیں۔ اس حد تک کہ ہر ایک عادت کی رعایت رکھتے ہیں کہ جس کے ترک سے کسی تکلیف یا معصیت کا اندیشہ ہو۔ باقی کھانے پینے اور نشست و برخاست میں ہم سادہ زندگی کو پسند کرتے ہیں۔
اگلے روز اسی طرح سوال و جواب کے دوران محمد عبدالحق صاحبؓ نے جو اُس روز حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کا درس سن کر آئے تھے، عرض کیا کہ اس قسم کے ترجمہ (قرآن) کی بڑی ضرورت ہے۔ اکثر لوگوں نے دوسرے ترجموں سے دھوکا کھایا ہے اور اُن کی خواہش ہے کہ حضورؑ کی طرف سے ایک ترجمہ شائع ہو۔
چنانچہ حضرت مسیح موعودؑنے فرمایا: میرا خود بھی یہ ارادہ ہے کہ ایک ترجمہ قرآن شریف کا ہمارے سلسلہ کی طرف سے نکلے۔ مزید فرمایا: صرف قرآن کا ترجمہ اصل میں مفید نہیں جب تک اُس کے ساتھ تفسیر نہ ہو مثلاً

غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّالِیْنَ (سورۃالفاتحہ:7)

کی نسبت کسی کو کیا سمجھ آسکتا ہے کہ اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں۔ جب تک کہ کھول کر نہ بتلایا جائے اور پھر یہ دعا مسلمانوں کو کیوں سکھلائی گئی۔ اس کا یہی منشاء تھا کہ جیسے یہودیوں نے حضرت مسیحؑ کا انکار کرکے خدا کا غضب کمایا ایسا ہی آخری زمانہ میں اس امّت نے بھی مسیح موعودؑ کا انکار کرکے خدا کا غضب کمانا تھا۔ اسی لئے اوّل ہی اُن کو بطور پیشگوئی کے اطلاع دی گئی کہ سعید روحیں اس وقت غضب سے بچیں۔
اس کے بعد محمد عبدالحق صاحبؓ کے استفسار پر حضورؑ نے سورۃالنساء کی آیت 185

مَاقَتَلُوْہُ وَمَاصَلَبُوْہُ

کی حقیقت بیان کی اور دیگر سوالوں کے جواب دیئے۔ آخر پر حضورؑ نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم ہمیشہ دعا کرتے ہیں اور ہماری ہمیشہ سے یہ آرزو ہے کہ یورپین لوگوں میں سے کوئی ایسا نکلے جو اس سلسلہ کے لئے زندگی کا حصہ وقف کرے لیکن ایسے شخص کے لئے ضروری ہے کہ کچھ عرصہ صحبت میں رہ کر رفتہ رفتہ وہ تمام ضروری امور سیکھ لیوے جن سے اہل اسلام پر سے ایک داغ دُور ہوسکتا ہے اور وہ قوت اور شوکت سے بھرے ہوئے دلائل سمجھ لیوے جن سے یہ مرحلہ طے ہوسکتا ہے۔ تب وہ دوسرے ممالک میں جاکر اس خدمت کو ادا کرسکتا ہے۔ اس خدمت کے برداشت کرنے کے لئے ایک پاک اور قوی روح کی ضرورت ہے۔ جس میں یہ ہوگی وہ اعلیٰ درجہ کا مفید انسان ہوگا اور خدا کے نزدیک آسمان پر ایک عظیم الشان انسان قرار دیا جائے گا۔
محمد عبدالحق صاحبؓ (Mr. C. F. Sievwright) دو روز قادیان میں رہنے کے بعد واپس چلے گئے اور ہندوستان سے سنگاپور، ویسٹر ن آسٹریلیا اور پھر ساؤتھ آسٹریلیا سے ہوتے ہوئے واپس میلبورن آگئے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ملاقات کے بعد جب آپؓ آسٹریلیا واپس آئے تو دو اڑہائی سال کی تحقیق اور دعا کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو احمدیت یعنی حقیقی اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور آپ کا احمدیت میں شمولیت کا اعلان اپریل 1906ء کے رسالہ “Review of Religions” میں شائع ہوا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد آپؓ امریکہ شفٹ ہوگئے اور ساؤتھ کیلیفورنیا میں اپنے طور پر تبلیغ کرتے رہے۔ جب 1920ء میں حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ بطور مبلغ امریکہ پہنچے تو آپؓ کا حضرت مفتی صاحبؓ سے باقاعدہ رابطہ رہا۔
1922ء میں جماعت احمدیہ امریکہ کے رسالہ “The Muslim Sunrise” کے شمارہ نمبر 4 میں آپؓ کا ایک مضمون شائع ہوا اور آپؓ کی تصویر بھی شائع ہوئی اور آپ نے اپنے احمدی ہونے کا ذکر کیا۔ آپ اپنے اس مضمون میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اپنی ملاقات کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
’’میرے مشرق بعید کے اس سفر کے دوران مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا لیکن قادیان میں میرے سارے شکوک و شبہات دُور ہوگئے اور ایک عجیب روحانی احساس کے ذریعہ مجھے اس بات کا ثبوت مل گیا کہ جو الٰہی پیشگوئیاں مسیح موعود کے بارے میں کی گئی تھیں وہ آپ (حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ) کے وجود میں پوری ہوگئیں۔ 1903ء میں قادیان میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی سے ملاقات اسلام کی صداقت کا ایک حیرت انگیز ثبوت تھا کہ جس وجود کے بارے میں وہ الفاظ جو تیرہ صدیاں قبل کہے گئے تھے، آپؑ کی ذات میں پورے ہوگئے۔ میرے لئے اپنی زندگی میں تمام سفروں کے دوران پیش آنے والے مختلف واقعات میں سے اس سے حیرت انگیز واقعہ نہیں گزرا۔ جب مَیں قادیان کی بستی میں اس کے مسیح کے سامنے تھا اور آخرکار جب مجھے ان کے سامنے پیش کیا گیا اور ہماری آنکھیں ملیں تو مجھے دیکھتے ہی وہ جان گئے کہ مَیں حق اور سچائی کا متلاشی ہوں اور انہیں دیکھتے ہی مَیں جان گیا کہ یہ وہی الٰہی وجود ہے جس کو اس زمانہ میں مومنوں کے اکٹھا کرنے اور اسلام کو دنیا میں پھیلانے کے لئے مبعوث کیا گیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس ملاقات کا اہتمام اللہ تعالیٰ ہی نے میرے لئے کیا تھا اور وہی ہے جس نے میرے جسم اور میری روح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت ڈالی۔ بالآخر کئی ماہ کی سوچ، تحقیق اور دعا کے بعد مَیں نے اپریل 1906ء میں یہ اعلان کیا کہ مَیں جماعت احمدیہ آف قادیان کا ایک ممبر ہوں اور اس طرح مَیں ساری دنیا میں اسلامی تعلیمات کو پھیلانے والی سب سے منظم اور فعّال محمدن مشنری ایسوسی ایشن کے ساتھ منسلک ہوا اور یہ اعلان دنیا کے ایک دُوردراز ملک نیوزی لینڈ سے بھجوایا گیا تھا۔
جو الفاظ مَیں نے اوپر لکھے ہیں، مَیں اپنے دل کی گہرائیوں سے ان پر یقین رکھتا ہوں اور آج سے 19 سال قبل جب مَیں نے اپنے آقا کو قادیان میں الوداع کہا تھا، مَیں تب سے ان کی صداقت کا قائل ہوں اور مفتی محمد صادق صاحبؓ کی یہاں آمد کے بعد مَیں اس آرٹیکل کے ذریعہ اپنے عہد کی تجدید کر رہا ہوں کہ مَیں جماعت احمدیہ سے منسلک ہوں اور پہلے بھی مفتی محمد صادق صاحبؓ کی یہاں آمد کے بعد ان کی مدد کرتا رہا ہوں اور آئندہ بھی اسلامی تبلیغ کی مساعی میں مدد کرتا رہوں گا‘‘۔
آپ امریکہ میں پہلے Fresno, California میں مقیم رہے۔ پھر 1914ء میں Los Angeles منتقل ہوگئے۔ آپ کی وفات لاس اینجلیز میں ہوئی۔ آپ کی وفات کا سال ابھی واضح طور پر ریکارڈ میں نہیں آیا۔ آپ کی تدفین لاس اینجلیز کے قبرستان “Forest Lawn-Glendne” میں ہوئی۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/kEb2F]

اپنا تبصرہ بھیجیں