محترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب

ماہنامہ ’’خالد‘‘ دسمبر 2000ء میں محترمہ ڈاکٹر عزیزہ رحمن صاحبہ کے ایک انگریزی مضمون کا ترجمہ (از محمد زکریا ورک صاحب) شامل اشاعت ہے جس میں انہوں نے اپنے والد محترم ڈاکٹر عبدالسلام کا ذکرخیر کیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ میرے والد ایک منفرد انسان اور ایک مشفق باپ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی پیدائش کی خبر آپکے والد کو آپکی پیدائش سے قبل دیدی تھی اور عبدالسلام نام بھی بتادیا گیا تھا۔ آپ چھ سال کی عمر میں چوتھی جماعت میں داخل ہوئے اور بیس سال کی عمر میں ایم۔اے کرلیا۔ 46ء میں کیمبرج آئے جہاں ریاضی اور فزکس میں Double Tripos کرنے کے بعد ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے تحقیق کا کام شروع کردیا جسے حیرت انگیز طور پر پانچ ماہ میں مکمل کرلیا۔ اسی تحقیق پر آپ کو Smith’z Prize سے نوازا گیا۔ پھر ایک سال امریکہ میں آئن سٹائن کے ساتھ کام کرنے کے بعد آپ اِس امید پر واپس پاکستان آگئے کہ اپنے وطن کی خدمت کرسکیں لیکن جلد ہی آپ کو یہ احساس ہوگیاکہ پاکستان میں آپ کی قابلیت کی کوئی قدر نہیں ہے تو آپ 1953ء میں اپنی فیملی کے ہمراہ کیمبرج آگئے۔ اس کے بعد فزکس کے علمی و تحقیقی میدان میں آپ کو شاندار اور منفرد کامیابیاں نصیب ہوئیں۔ آپ کو چوبیس اعلیٰ ترین ایوارڈز اور میڈل دیئے گئے، پچیس ممالک کی سائنس اکیڈمیوں نے ممبرشپ دی، چھتیس اعزازی ڈاکٹریٹ ڈگریاں ملیں اور ملکہ برطانیہ نے اعزازی نائیٹ ہوڈ سے نوازا۔
جب مَیں اپنے والدین کے ساتھ لندن منتقل ہوئی تو میری عمر تین سال تھی۔ اباجان نے سینٹ جانز کالج میں ملازمت کو ترجیح دی کیونکہ یہاں کے باغات دلپذیر تھے۔ آپ کا ہردلعزیز مشغلہ ہمیں دریا پر لے جاکر کشتی کی سیرکروانا تھی۔ جب کچھ سالوں بعد ہم لندن منتقل ہوگئے اور میرے والد امپیریل کالج میں تعینات ہوگئے تو پھر آپ بہت مصروف ہوگئے۔ بعض دفعہ ایک ہی ہفتہ میں چار پانچ ممالک میں لیکچر دیتے تھے مگر اس کے باوجود ہماری تعلیم و تربیت کے لئے وقت نکال لیتے تھے۔ تعلیم کے معاملہ میں کافی سختی کرتے تھے۔ سفر سے واپس آتے تو ہر ایک کو اپنے کمرہ میں بلاتے، ہمارے گریڈز اور تعلیمی پراگرس کے بارہ میں استفسار کرتے زیادہ سے زیادہ محنت کرنے کی تلقین کرتے۔ خود بھی ہر وقت کام میں مگن رہتے۔ گھنٹوں مطالعہ میں منہمک رہتے اور بعض دفعہ تو کمرہ سے باہر صرف کھانا کھانے کے لئے آتے۔ آپ کے کمرہ کا ماحول پُراسرار ہوا کرتا تھا۔ ٹمپریچر کافی اونچا ہوتا۔ بعض مقامات پر اگربتیاں جل رہی ہوتیں، بیک گراؤنڈ میں قرآن پاک کی تلاوت کا ٹیپ لگاہوتا تھا۔ باہر سے آنے والے شور کو کم کرنے کے لئے کھڑکیوں پر ویلویٹ کے پردے کھینچے ہوئے ہوتے۔ ہم کو بچپن سے ہی پتہ تھا کہ جب آپ کمرہ میں ہوں تو ہم نہ اونچی آواز میں بولیں نہ گھر میں بھاگیں دوڑیں۔
آپ نے اپنا جو روزانہ کا معمول طے کیا ہوا تھا، اُس پر مذہبی فریضہ کی طرح کاربند تھے۔ اس مقولہ پر سختی سے عمل کرتے:Early to bed, early to rise, makes man healthy, wealthy and wise. رات آٹھ نو بجے بستر پر چلے جاتے اور چند گھنٹوں کے بعد بیدار ہوکر تحقیقی کام شروع کرتے۔ پو پھٹنے کے وقت آپ کی قوت ارتکاز اور قوت تخلیق چوٹی پر ہوتی جسے برقرار رکھنے کے لئے گرم میٹھی چائے سے بھرا تھرموس اور کچھ کھانے کی چیزیں ہم سونے سے قبل آپ کے بستر کے قریب رکھ دیتے تھے۔
آپ کی سب سے بڑی میراث اُن کتب کا خزانہ ہے جو آپ چھوڑ گئے ہیں۔ آپ نے ہر موضوع پر کتب کا مطالعہ کیا اور آپ کا علم مختلف موضوعات پر بحر بیکراں کی طرح تھا۔ نئی اور پرانی کتب خریدنا آپ کا محبوب مشغلہ تھا۔ ہمارے گھر کا کوئی کمرہ بشمول باتھ روم کے ایسا نہ تھا جس میں دیواروں پر شیلف نہ لگے ہوں جو کتابوں سے بھرے ہوتے۔ آپ کے نزدیک وقت کی اہمیت سب سے بیش قیمت تحفہ تھا جس کا زیاں گناہ سے کم نہ تھا۔ آپ اکثر ہمیں میوزیم، انسٹیٹیوٹس اور تاریخی مقامات کی سیر کے لئے لے جاتے۔ پارک میں بھی لے جاتے لیکن ہر جگہ کوئی نیا سبق دیتے اور بعد میں اُس کو دہراتے بھی تھے۔
آپ کو تین باتوں سے والہانہ لگاؤ تھا: قرآن کریم، والدین اور وطن عزیز۔
اپنے والد کے آپ مکمل مطیع و فرمانبردار تھے اور اُن کی راہنمائی کو بلاسوچے سمجھے قبول کرلیتے تھے۔ نوبل انعام جیتنے کے بعد آپ نے ایک سکالرشپ جاری کیا جس کا نام تھا: محمد حسین و ہاجرہ حسین فاؤنڈیشن۔ آپ کی وصیت تھی کہ بعد از وفات آپ کو اپنے والدین کی قبروں کے ساتھ دفنایا جائے۔ وصیت نامہ میں یہ بھی تحریر تھا کہ ’’اگر کسی وجہ سے مجھے ربوہ نہ لے جایا جاسکے تو میرے کتبہ پر یہ عبارت کندہ ہو: اس کی خواہش تھی کہ وہ ماں کے قدموں میں دفن ہو‘‘۔
اپنی عاجزانہ زندگی کے آغاز کو آپ نے کبھی فراموش نہیں کیا۔ یہی وصف حضرت چودھری محمد ظفراللہ خان صاحبؓ میں بھی نمایاں تھا۔ اباجان جب بھی لندن میں قیام پذیر ہوتے تو چودھری صاحبؓ اتوار کے روز ناشتہ کیلئے ہمارے ہاں ضرور تشریف لاتے۔ ناشتہ کی میز پر دو عظیم انسانوں کے درمیان ہونے والی گفتگو بہت دلچسپ ہوتی جو مذہب، سیاست اور دیگر موضوعات پر حاوی ہوتی۔
زندگی کے آخری ایام میں آپ اس مرض کا شکار ہوئے جس میں دماغ اور فہم و فراست آخر وقت تک برقرار رہے لیکن جسم کے پٹھے رفتہ رفتہ کمزور ہوکر ضائع ہوگئے۔ آپ نے کسی شکوہ و شکایت کے بغیر بیماری کی شدت کو قبول کیا۔ جس طرح آپ کی پیدائش کی خبر دی گئی تھی اُسی طرح وفات کی خبر بھی اللہ تعالیٰ نے پہلے سے دیدی۔ جس رات آپ کی وفات ہوئی، اُسی رات آپ کے چھوٹے بھائی محمد عبدالرشید صاحب نے خواب میں دادا جان کو دیکھا جنہوں نے دیدہ زیب لباس پہنا ہوا تھا اور بہت خوش نظر آرہے تھے۔ انہوں نے پنجابی میں کہا: سلام پہنچ گیا اے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/dPiK7]

اپنا تبصرہ بھیجیں