محترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کا ا پنے بھائی کے نام خط

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 25؍جولائی 2005ء میں محترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کا ایک خط شائع ہوا ہے جو آپ نے اپنے بھائی مکرم چودھری عبدالحمید صاحب کو تحریر کیا تھا (مرسلہ: مکرم شمشاد احمد قیصر صاحب)۔ ڈاکٹر صاحب اپنے بھائی کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
ابا جان کے خط سے معلوم ہوا کہ آپ کا امتحان 18 اپریل کو شروع ہے۔ شاید آپ کو یہ خط تب ملے گا جب امتحان چار پانچ دن رہ گیا ہوگا اور آپ کی تیاری ہوچکی ہو گی۔ اگر تیاری خاطر خواہ نہ بھی ہو ئی ہو تو بھی آپ گھبرائیں نہیں۔ امتحان جہاں تیاری پر منحصر ہوتے ہیں اس کے علاوہ Keeping your wits about you پر بھی انحصارکھتے ہیں۔ جو چیزیں آپ کو بہت اچھی طرح آتی ہوں ان سے پورا فائدہ اٹھانا امتحان میں ضروری ہوتا ہے۔
آپ کو شاید اس وقت تو یہ مضمون حساب فزکس، کیمسٹری وغیرہ بے کار معلوم ہوتے ہیں لیکن یہ یاد رکھیں کہ ان میں Top پر رہنے میں دو پوائنٹ ہوتے ہیں۔ (1)اگر آپ ان مضمونوں میں بہتر نتیجہ دکھائیں تو اگرچہ آپ کی ان میں دلچسپی نہ بھی ہو تو بھی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ محنت کرسکتے ہیں اور دوسرے آپ ذہین ہیں۔ زندگی میں کامیابی محنت اور ذہانت سے ہے۔ ایک معمولی کلرک بن جانا یا معمولی دکاندار بن جانا یا معمولی میکینک بن جانا آپ کو خوش نہیں کرسکتا۔ زندگی Ambition کا نام ہے۔ اور وہ Ambition کیا ہے؟ سب سے چوٹی پر رہنا۔ جس شخص کی زندگی میں Ambitionنہیں ہے وہ مردہ ہے۔ ماں باپ بھائی کسی کے کام نہیں آسکتے۔ ہر شخص نے اپنی زندگی خود بنانی ہوتی ہے۔ آپ کی عمر میں انسان کو احساس نہیں ہوتا کہ وقت کس طرح خرچ کرنا چاہئے، زندگی بھر میں کونسی چیزیں کام آئیں گی۔ لیکن محنت کی عادت ایسی چیز ہے کہ ایک بار پڑ جائے تو کامیابی آپ کے قدم چومتی ہے۔ محنت کرنا کوئی آسان چیز نہیں۔ بہت کڑوی ہے۔ (جی کہتا ہے) کہ یہ مصیبت ہے، لوگ مزے کررہے ہیں۔ یاد رکھیں کہ جو لوگ اس عمر میں مزے کرتے ہیں وہ ساری عمر روتے رہتے ہیں۔ مزے کرنے کا بھی وقت ہو اور کام کرنے کا بھی وقت ہو تو زندگی حسین ہوتی ہے۔ آپ کا مطمحٔ نظر یہ ہونا چاہئے کہ آپ رات کو جب سوئیں تو سونے سے پہلے یہ سوچیں کہ کیا آپ کا دن اچھا گزرا ہے۔ پڑھنے کے وقت آپ پڑھتے ہیں؟ کھیلنے کے وقت آپ کھیلتے ہیں؟ یاد رکھیں ہم بہت غریب ہیں۔ ہمارے پاس سوائے محنت اور ذہانت کے اور کچھ نہیں کہ ہم اوپر چڑھ سکیں۔ آپ کے سامنے ہزاروں میدان ہیں آپ محنت کریں تو بڑے سے بڑے تاجر، بڑے سے بڑے میکینک ہوسکتے ہیں۔ ایک بار عزم کریں اور پھر محنت۔ اس وقت آپ کے سامنےStudies کا میدان ہے۔ آپ یقینا اس قابل ہیں کہ آپ سب کو پیچھے چھوڑ سکیں۔ اگر پہلے وقت ضائع ہوگیا ہے تو کوئی حرج نہیں۔ عزم کے ساتھ کیا ہوا دو دن کا کام لوگوں کے مہینوں کے کام سے بہتر ہوتا ہے۔
(2)آپ کی تعلیم کا دوسرا فائدہ یہ کہ ریاضی، فزکس وغیرہ آج دنیا کی کلید ہیں۔ بجلی، موٹریں، انجینئرنگ سب کچھ ریاضی کے بغیر ناممکن ہے۔ یہ لوہا کیسے بنتا ہے۔ یہ کاریں کیسی چلتی ہیں۔ آپ کی عمر کے بچے یہاں خود ریڈیو سیٹ (Radio set) اور کاریں بنالیتے ہیں۔ آپ بھی سب کچھ کرسکتے ہیں صرف چھوٹی چیزوں کاخیال چھوڑ دیں۔ بہت بڑی چیزیں آپ کے سامنے ہیں۔…

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/Gt8pE]

اپنا تبصرہ بھیجیں