محترم چودھری محمد صدیق صاحب سابق لائبریرین

ماہنامہ ’’مصباح‘‘ فروری2011ء میں محترم چودھری محمد صدیق صاحب (سابق انچارج خلافت لائبریری ربوہ) کا مختصر ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔ قبل ازیں محترم چودھری صاحب کی خودنوشت سوانح 21؍مئی 1999ء کے شمارہ میں‘‘الفضل ڈائجسٹ’’کی زینت بنائی جاچکی ہے۔
آپ کی وفات 6؍نومبر 2010ء کو ہوئی۔ آپ کی وفات پر حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ نے اپنے خطبہ جمعہ میں فرمایا کہ ہمارے سلسلے کے ایک پرانے بزرگ مکرم چودھری محمد صدیق صاحب واقفِ زندگی تھے۔ 1915ء میں پیدا ہوئے۔ 1906ء میں ان کے والد نے بیعت کی تھی۔ ان کی والدہ کی تو اس سے پہلے کی بیعت تھی۔ 1935ء میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کیا اور تیسری پوزیشن لی۔ اس کے بعد جامعہ احمدیہ میں داخلہ لے لیا۔ اور 1938ء میں وہاں سے فارغ ہو کر حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں وقف کی درخواست دی۔ پھر 1960ء میں انہوں نے پرائیویٹ بی۔اے کیا اور لائبریری سائنس کا ڈپلومہ لیا۔ 1964ء میں تعلیم الاسلام کالج میں عربی کی کلاسیں شروع ہوئیں تو پھر ایم۔اے عربی کے پہلے Batch میں یہ شامل تھے۔ اور عربی میں پوری یونیورسٹی میں انہوں نے پہلی پوزیشن لی۔ 1931ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے جو احمدیہ کور قائم کی اس کے بھی آپ ممبر تھے۔ اور 1934ء میں نیشنل لیگ کے قیام پر آپ بھی اس میں شامل تھے۔ 1938ء میں خدام الاحمدیہ کے ابتدائی ممبران میں شامل ہوئے اور معتمد خدام الاحمدیہ مرکزیہ، ایڈیٹر خالد اور قائمقام صدر کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ 1947ء میں ہجرت کے موقع پر حضرت امّاں جان اور حضرت مسیح موعودؑ کی باقی اولاد کے ساتھ ہی یہ قافلے کو لے کر آئے۔ 1948ء میں فرقان بٹالین میں شرکت کی۔ اور 1948ء میں ربوہ کی سرزمین پر جو خیمے گاڑے گئے تھے ان کا انتظام بھی آپ کے ذمے تھا اور پہلی رات آپ کو ربوہ میں بسر کرنے کی توفیق ملی۔ یہ اور عبدالسلام اختر صاحب خیمے اور چھولداریاں سائبان وغیرہ لے کر ربوہ گئے تھے۔ سیلاب کی وجہ سے راستے کٹے ہوئے تھے ایک لمبے راستے سے ان کو آنا پڑا۔ اس زمانے میں تعلیم الاسلام سکول عارضی طور پرچنیوٹ میں ہوتا تھا۔ اور اس کے ہیڈ ماسٹر سید محمود اللہ شاہ صاحب تھے۔ان کو انہوں نے کہا کہ ہم نے رات وہاں رہنا ہے تو لڑکوں کے ہاتھ کچھ لالٹین بھجوا دیں تا کہ روشنی ہوتی رہے۔جب ربوہ پہنچے ہیں تو اس وقت سورج ڈوب رہا تھا۔ انہوں نے ربوہ کی زمین کے وسط کا اندازہ لگایا اور پھروہاں خیمے لگائے۔ بنجر اور بیابان جگہ تھی۔ جو چند لوکل، مقامی راہگیر وہاں سے گزرا کرتے تھے، وہ بڑے حیران کہ اس جگہ یہ دو آدمی بیٹھ کے کیا کر رہے ہیں؟ سامان لانے والے ٹرک رخصت ہوگئے تو یہ دونوں وہاں بیٹھ کر دعائیں کرنے اور نظمیں سنانے لگے۔ پھر دُور سے روشنی نظر آنے لگی۔ یہ سکول کے بچے تھے جو چھ میل کے فاصلے سے لالٹین لے کے آ رہے تھے۔ اس کے بعد رات کو احمد نگر سے ان کو کھانا آیا تو اس طرح انہوں نے یہ پہلی رات ربوہ میں بسر کی۔ اسی طرح ان کے بہت سے تاریخی کام ہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ نے 1940ء میں علماء کی کمی پوری کرنے کے لیے نوجوانوں کو تیار کرنے کی خاطر مختلف مضامین میں غیر از جماعت جید علماء سے تدریس کا پروگرام بنایا تو اس میں بھی یہ شامل تھے۔ لائبریرین کے طور پر یہ ریٹائر ہوئے۔ تحریکِ جدید کے ممبر تھے۔ صدر انجمن احمدیہ کے ابتدائی ممبروں میں سے تھے۔ پاکستان آنے کے بعد جو انجمن بنی ہے اس کے بھی ممبروں میں سے تھے۔ ربوہ کے صدر عمومی رہے۔
حضورانور نے فرمایا کہ مَیں نے دیکھا ہے کہ مرتبے کے بزرگ تھے، عمر بڑی تھی۔ بہت فرق ہے میرا اور ان کی عمر کا۔ لیکن مَیں نے دیکھا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے انتہائی عاجزی سے ہر ایک کو ملنے والے اور وفادار کارکن تھے۔ جہاں سختی اور دھڑلے کی ضرورت ہوتی تھی وہاں اس سے بھی کام لیتے تھے۔ لیکن بہر حال اچھی انتظامی صلاحیت تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔
آپ کی اہلیہ محترمہ صفیہ ثاقب صاحبہ بنت مکرم حکیم محمد جمیل صاحب آف راولپنڈی 1997ء میں وفات پاگئی تھیں۔ آپ کی اولاد میں چار بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ ایک بیٹے مکرم رشید احمد صاحب نظارت زراعت ربوہ میں کارکن ہیں جبکہ ایک بیٹی مکرمہ نعیمہ حمید صاحبہ سابقہ ہیڈمسٹریس نصرت گرلز ہائی سکول ربوہ (محاسبہ لجنہ اماء اللہ پاکستان) اور دوسری بیٹی مکرمہ سلیمہ قمر صاحبہ دفتر مصباح کی کارکن ہیں۔ حضرت مولوی محمد شریف صاحب سابق مبلغ گیمبیا و فلسطین آپ کے بڑے بھائی تھے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/t2htS]

اپنا تبصرہ بھیجیں