محترم چودھری حفیظ الدین خان صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 29 جنوری 2011ء میں مکرم ماہد منظور طاہرصاحب نے اپنے پھوپھی زاد محترم چودھری حفیظ الدین خان صاحب ایڈووکیٹ (المعروف بھائی لالی) کا ذکرخیر کیا ہے جو 9؍ اپریل 2009ء کو ساہیوال میں وفات پاگئے۔
محترم چوہدری حفیظ الدین خان ستمبر 1940ء میں محترم چوہدری نورالدین جہانگیر صاحب ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر ساہیوال کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ محترمہ صفیہ بیگم صاحبہ حضرت حافظ نبی بخش صاحبؓ (یکے از 313) ساکن فیض اللہ چک کی نواسی تھیں۔ آپ کی شادی 1965ء میں محترم شیخ مبارک احمد صاحب مربی سلسلہ بلادافریقہ و عربیہ و امریکہ کی بیٹی سے ہوئی۔
محترم چودھری صاحب ایک ہمہ صفت و ہمہ جہت شخصیت تھے۔ آپ ایک لمبا عرصہ نائب امیر ضلع اور تادم آخر سیکرٹری امور عامہ ساہیوال کی حیثیت سے خدمات بجالاتے رہے۔ آپ 1984ء میں ساہیوال کی مسجد ’’بیت الحمد‘‘ کے مقدمہ میں نامزد ہوئے اور کئی ماہ تک ملتان جیل میں اسیرراہ مولا رہنے کا شرف حاصل کیا۔
آپ کی شخصیت اپنے بلندو بالا قد اور سرخ و سفید رنگ کی وجہ سے متأثر کُن تھی۔ دنیاوی افسران اور سیاسی اکابرین سے وسیع تعلقات تھے۔ ان تعلقات کو جماعتی مفاد میں استعمال کرنے سے کبھی بھی ہچکچاتے نہ تھے۔ طبیعت میں بذلہ سنجی اور شگفتگی کا وصف نمایاں تھا۔ تقریر کا خاص ملکہ حاصل تھا۔ مطالعہ کا از حد شوق تھا۔ باوجود بصارت کی کمی اور اطبّاء کے منع کرنے کے آخر وقت تک محدّب عدسہ کی مدد سے مطالعہ جاری رکھا۔ دوران اسیری وقت ضائع نہ کیا بلکہ عبادات اور مطالعہ کرتے رہے۔ شعروشاعری سے بھی شغف تھا۔
ہومیو پیتھی کے علم میں کافی مہارت تھی اوراس سلسلہ میں نافع الناس تھے۔ آپ کی وفات کے بعد ایک پولیو زدہ نوجوان نے بتایا کہ مرحوم کی تجویز کردہ ادویات سے اس کو فائدہ ہوا تھا۔ بطور عقیدت اس نے آپ کی تصویر اپنے موبائل فون میں محفوظ کر رکھی تھی۔
آپ کو خلافت سے والہانہ لگاؤ تھا اور جماعتی روایات کی پاسداری کرنا اپنا فرضِ اوّلین سمجھتے تھے۔ خاکسار اور آپ کی عمر میں اتنا فرق تھا کہ آپ نے خاکسار کو بچپن میں گود کھلا یا تھا مگر جب خاکسار نے صدر جماعت ساہیوال کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالی تو میرے ساتھ انداز تخاطب بدل گیا اور خاکسار کو ’’آپ، جناب ‘‘ کہہ کر پکارنے لگے جس پر مجھے شرم محسوس ہوتی تھی۔ ایک دفعہ خاکسار نے اس کا اظہار کیا تو فرمایا کہ آپ کا عہدہ اس بات کا متقاضی ہے کہ میں آپ کا ادب کروں۔
آپ اپنے خاندان اور بھائیوں کے لئے شجر سایہ دار کی طرح تھے۔ اپنے ہاتھ سے کام کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ باوجود ملازمین کی موجودگی کے باغبانی کرتے اور گاڑی خود دھوتے۔ کھانا بہت اچھا پکالیتے۔ غرضیکہ آپ کی شخصیت بہت سی صفات کی حامل تھی۔
آپ کے پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ دوبیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/mJuEk]

اپنا تبصرہ بھیجیں