محترم پروفیسر میاں عطاء الرحمٰن صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 28؍اپریل 2006ء میں مکرم لطف الرحمٰن محمود صاحب اپنے والد محترم پروفیسر میاں عطاء الرحمٰن صاحب کا ذکرخیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ بھیرہ میں یکم اپریل 1905ء کو حضرت میاں کرم الدین صاحبؓ کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ کی پیدائش سے قبل اگرچہ آپ کے والد محترم حضرت مسیح موعودؑ کے دست مبارک پر بیعت کرچکے تھے لیکن والدہ نے بیعت نہیں کی تھی۔ پھر انہوں نے خواب دیکھا کہ امام الزمان کے دامن سے وابستہ ہوئے بغیر اولاد نرینہ کی نعمت نصیب نہیں ہوگی۔ چنانچہ انہوں نے احمدیت قبول کرلی۔ آپ اپنے والدین کی پہلی نرینہ اولاد تھے۔ آپ کا نام حضورؑ نے ہی رکھا۔ پھر مزید چھ بھائی پیدا ہوئے۔
بھیرہ سے میڑک کیا اور ضلع میں اوّل آئے۔ لاہور میں F.C. کالج میں بھی زیرتعلیم رہے۔ M.Sc. کرنے کے بعد B.T. کی۔ 1944ء میں گورنمنٹ کالج سرگودھا میں استاد تھے جب تعلیم الاسلام کالج میں سائنس کلاسز کا اجراء ہوا۔ اس پر آپ نے بھی زندگی وقف کردی۔ سابقہ کالج کے پرنسپل نے آپ کو بہت سمجھایا لیکن یہ بات اُس کی سمجھ سے بالا تھی۔ اُنہی دنوں آپ کو حضرت مسیح موعودؑ نے خواب میں آکر بشارت دی کہ ’’ضروریات زندگی کے حاصل کرنے میں کوئی دقّت پیش نہیں آئے گی‘‘۔
تعلیم الاسلام کالج کے ساتھ ہی آپ قادیان سے لاہور اور پھر ربوہ منتقل ہوگئے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے ایک بار آپ کے بارہ میں فرمایا کہ: ’’بڑے اخلاص اور محنت کے ساتھ ایک لمبے عرصہ سے تعلیم الاسلام کالج میں جماعت کی خدمت کر رہے ہیں۔ بڑے بے نفس اور مضبوط انسان ہیں‘‘۔
آپ کی بے نفسی اور استغناء کا یہ عالم تھا کہ قادیان میں کرایہ کے مکان میں رہتے رہے لیکن تقسیم ہند کے بعد ہجرت کرتے وقت قادیان سے صرف ایک چیز اپنے ہمراہ لائے اور وہ حضرت مسیح موعودؑ کا ایک کوٹ تھا۔ قادیان سے پہلے بھیرہ آئے۔ یہاں بعض افسران نے کہا کہ آپ کو مہاجر ہونے کی بنا پر کوئی گھر الاٹ کردیتے ہیں لیکن آپ نے یہی کہا کہ چونکہ میرا اپنا گھر یہاں موجود ہے، اس لئے مکان کسی اور مستحق کو دیدیں۔ جب بعد میں ربوہ آئے تو یہاں کا سارا عرصہ بھی کرایہ کے مکان میں گزار دیا۔
آپ تہجدگزار اور بہت دعائیں کرنے والے بزرگ تھے۔ موصی تھے اور تحریک جدید کے ابتدائی پنج ہزاری مجاہدین میں شامل تھے۔ مطالعہ کا شغف تھا اور کتابوں کو نہایت محبت سے رکھتے۔ آپ کی زندگی کم خوردن، کم گفتن، کم خفتن کے سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی۔ آپ کو پرانی دمہ کی شکایت تھی لیکن 14؍جنوری 1982ء کو ایک آپریشن کے بعد حرکت قلب بند ہوجانے سے وفات پائی۔ اس بارہ میں آپ کو کئی سال قبل اشارۃً بتلایا جاچکا تھا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے نماز جنازہ پڑھائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین عمل میں آئی۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/I1Lxm]

اپنا تبصرہ بھیجیں