محترم میاں محمد ابراہیم صاحب جمونی

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 15؍دسمبر 1999ء میں محترم میاں محمد ابراہیم صاحب جمونی کا ذکر خیر آپ کی بیٹی مکرمہ امۃالرشید سعدی صاحبہ کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
محترم جمونی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی صلاحیتوں سے نوازا تھا جن سے آپ نے بھرپور استفادہ کیا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو جب آپ نے اپنی کتاب بھجوائی تو حضور انور نے جواباً تحریر فرمایا: ’’مَیں نے سرسری نظر سے کتاب دیکھنی شروع کی تو بے تکلّف انداز تحریر اور پرانی دلچسپ یادوں کے تذکرے نے توجہ کو ایسا کھینچا کہ چھوڑنے کا خیال بوجھل لگتا تھا۔ آپ کی شخصیت کے بعض نئے پہلو سامنے آئے۔ مثلاً مجھے پہلے یہ علم نہیں تھا کہ آپ ماشاء اللہ دعوت الی اللہ کے میدان کے بھی نامور کھلاڑی رہے ہیں اور بچپن اور ایام طالب علمی میں بڑے جوش و خروش سے مختلف مناظروں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ آپ کا مزاح کا ذوق بھی معروف ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ رحمت اور مغفرت کا سلوک فرمائے اور اُن لوگوں میں اٹھائے جن کے ساتھ حساباً یسیراً کا معاملہ کیا جائے۔‘‘
آپ کو قریباً 30 سال تک خاندانِ حضرت مسیح موعودؑ کو پڑھانے کا شرف حاصل رہا۔ حضرت مصلح موعودؓ جب بھی آپ کا ذکر کرتے تو ’’ہمارے ماسٹر صاحب‘‘ ہی کہتے۔ 1929ء میں آپ حضورؓ کے ارشاد پر اپنی نوکری چھوڑ کر قادیان حاضر ہوگئے۔ 1940ء میں حضورؓ نے خود ولی بن کر آپ کا نکاح پڑھایا اور آپ کا قابل تقلید معلم کے طور پر ذکر کیا۔ آپ کی شادی پر حضورؓ نے آپ کی بیوی کیلئے زیور اور آپ کے لئے مصلّٰی بھجواتے ہوئے تحریر فرمایا ’’اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے تعلق بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: تم تمام نمازوں اور خصوصاً درمیانی نماز کا پورا خیال رکھو‘‘۔ اس سے حضورؓ کی سیرت کے بھی کئی پہلو سامنے آتے ہیں۔
قادیان میں آپ کو سکول کے تمام عملہ کو نظام وصیت میں شامل کروانے کی توفیق عطا ہوئی۔ ربوہ میں جب حضرت مصلح موعودؓ نے سلسلہ کے علماء کو چھوٹے چھوٹے رسائل لکھنے کا ارشاد فرمایا تو آپ نے بھی کئی مضامین لکھے جو شائع کئے گئے۔ آپ نے 1973ء تک تعلیم الاسلام ہائی سکول میں خدمت انجام دی۔ شام کو گھر پر طلبہ کو مفت پڑھاتے تھے۔
1973ء میں آپ کو بطور مبلغ امریکہ بھجوایا گیا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے آپ سے خاص طور پر فرمایا: ’’یاد رکھیں (فلاں صاحب) غلط کہتے ہیں کہ چہرہ کا پردہ نہیں۔ اسلام میں چہرہ کا پردہ ہے۔ اب آپ امریکہ جا رہے ہیں، اس بات کو مدنظر رکھیں‘‘ چنانچہ آپ کو وہاں اس نصیحت کے مطابق کام کرنے کی خاص سعادت حاصل ہوئی۔ وہاں آپ رمضان میں روزانہ ایک سیپارہ کا درس بھی انگریزی زبان میں دیتے رہے۔ آپ کو امریکہ میں انگریزی ترجمہ قرآن دو بار بیس بیس ہزار کی تعداد میں طبع کروانے کی بھی توفیق ملی۔ آپ کا قیام ڈیٹن میں تھا۔ وہاں کے میئر نے حضورؒ کی خدمت میں شہر کی چابی پیش کی اور کہا کہ جماعت احمدیہ کے افراد میں جرائم کی شرح صفر کے برابر ہے اور جب کوئی شہری احمدی ہوجاتا ہے تو مَیں اطمینان کا سانس لیتا ہوں۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/eYV0l]

اپنا تبصرہ بھیجیں