محترم ملک صلاح الدین صاحب درویش (مؤلف اصحاب احمد)

ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان (درویش نمبر 2011ء) میں وفات یافتہ درویشان کے ضمن میں محترم ملک صلاح الدین صاحب کا ذکرخیر اُن کی بیٹی مکرمہ طیبہ صدیقہ ملک صاحبہ کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
محترم ملک صلاح الدین صاحب (مؤلف اصحابِ احمدؑ) 11؍جنوری 1913ء کو منٹگمری (ساہیوال) میں حضرت ملک نیاز محمد صاحبؓ کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ اپنے سب بہن بھائیوں میں بڑے تھے۔ آپ 1922ء میں حصولِ تعلیم کے لئے قادیان آئے اور پھر یہیں کے ہوکر رہ گئے۔ آپ نے مولوی فاضل، منشی فاضل اور ایم۔ اے کی تعلیم حاصل کی۔ 1936ء میں آپ نے ایم اے عربی میں گولڈ میڈل بھی حاصل کیا۔
آپ واقفِ زندگی تھے۔ تمام عمرصدر انجمن احمدیہ قادیان کی ملازمت میں گزاری اور کئی اہم جماعتی عہدوں پر خدمت بجا لاتے رہے۔ لیکچر ار جامعہ احمدیہ، ناظم جائیداد، لائبریرین ، ایڈیٹر بدر، وکیل المال تحریک جدید، وکیل اعلیٰ تحریک جدید، ناظر تعلیم، ناظر ضیافت، ناظر امورعامہ، سیکرٹری بہشتی مقبرہ ، مختار عام صدر انجمن احمدیہ ، انچارج وقف ِ جدید، متعدد بار قائمقام ناظر اعلیٰ و امیر مقامی اور ناظر اعلیٰ و امیر مقامی کی حیثیت سے خدمت کی سعادت پائی۔ آپ ممبر صدر انجمن احمدیہ و انجمن تحریک جدید و انجمن وقفِ جدید بھی رہے۔ اور تحریک جدید کی پانچ ہزاری فوج میں بھی آپ شامل تھے ۔ آپ نے فروری 1938ء سے 15؍اپریل 1941ء تک حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کے پرائیویٹ سیکرٹری کے طور پر خدمت سرانجام دی۔ حضورؓ نے 1938ء میں حیدرآباد دکن کا سفر اختیار فرمایا تو آپ بھی ہمراہ تھے۔ دورانِ سفر بمبئی میں حضورؓ نے سیر کے لئے ایک ہوائی جہاز کے پانچ ٹکٹ خرید ے۔ چار اپنے خاندان کے لئے اور ایک آپ کے لئے۔آپ ہوا باز کے ساتھ والی سیٹ پر تھے اور حضور اقدس اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ پیچھے تشریف فرما تھے۔ پھر حیدرآباد پہنچنے کے بعد حضور نے دو کاروں میں شہر کاچکر لگایا۔ حضور ؓ نے ایک دفعہ رؤیا دیکھی تھی کہ حضور ؓ نے اس شہر کا چکر لگایا ہے۔ اسی بنا پرحضور نے یہ چکر لگایا تھا۔ پھر آگرہ میں حضورؓ نے تاج محل اور قلعہ دیکھا اور حضرت سلیم چشتی ؒ کے مزار پر دعا فرمائی۔
محترم ملک صلاح الدین صاحب سلسلہ کے کاموں اور تصانیف کے کاموں میں ہمہ تن مصروف رہتے اور واقعی آپ کی زندگی کا لمحہ لمحہ خدمت دین کے لئے وقف تھا۔ نمازوں کو باقاعدگی سے بروقت ادا کرتے اور اسی طرح تہجد اور نوافل کے بھی پابند تھے۔ مسجد سے آکر گھر والوں سے ضرور دریافت کرتے کہ نماز ادا کی یا نہیں ۔ اگر کسی نے ادا نہ کی ہوتی تواپنے سامنے پڑھواتے۔ یہ طریق عمر بھر رہا۔
دُعاؤں پر آپ کو کامل یقین تھا۔ ہر چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے کام کے لئے بھی خود دُعا کرتے اور گھر والوں کو بھی دُعا کے لئے ضرور کہتے۔ کبھی بھی کسی مشکل اور پریشانی سے فکرمند یا مایوس نہ ہوتے۔ جہاں مشکل آئی فوراً دُعا میں مصروف ہوگئے۔ جو لوگ آپ کو دعا کے لئے کہتے یا خط لکھتے آپ ان سب کے لئے یاددہانی سے دعاکرتے اور گھر میں بھی کہتے کہ فلاں مشکل میں ہے ان کے لئے دُعا کرو۔ دعا کروانے والوں کی فہرست سرہانہ کے نیچے رکھتے اور اکثر پتہ بھی کرتے کہ اُن کی مشکل دُور ہوئی یا نہیں ۔
قرآن مجید سے آپ کو بے انتہا محبت تھی۔ دن میں کئی بار قرآن مجید تفسیر سے پڑھتے تھے۔ بیماری کی حالت میں بھی قرآن مجید پڑھنے میں ناغہ نہیں کرتے اور بچوں کو بھی باقاعدگی سے قرآن مجید پڑھنے کی تاکید کرتے۔ آپ کی یہ عادت تھی کہ کوئی بھی نیکی کرتے تو ساتھ ہم کو بھی اس کے کرنے کی تلقین کرتے ۔ نظامِ خلافت سے دِل و جان سے وابستگی تھی۔ خلیفہ وقت کے لئے بہت دعا کرنے والے اور کثرت سے خلیفہ وقت کی خدمت میں دعائیہ خطوط تحریر کرتے ۔ غریبوں کی مدد اور بیماروں کی عیادت کا وصف آپ میں نمایاں تھا۔ ہر بڑے چھوٹے کو سلام کہنے میں ہمیشہ پہل کرتے۔
آپ بہت سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ کھانے پینے، رہنے سہنے گویا کہ زندگی کے ہر پہلو میں آپ کی سادگی نظر آتی تھی۔ اہلیہ اکثر بیمار ہوا کرتی تھیں تو آپ گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتے۔ بارہا بغیر سالن کے روٹی کھالیتے یا پھر پانی میں بھگو کر کھالیا کرتے۔ کھانے پینے یا گھریلو معاملات میں غصہ یا ناپسندیدگی کااظہار کبھی نہیں کیا۔ جو بھی چیز کھانے کو دی جاتی ضرور اس کی تعریف کرتے اور خوشی کا اظہار کرتے۔ اپنے اہل وعیال سے بہت حسن سلوک کیا کرتے۔ اپنا ہو یا بیگانہ ہر ایک سے نہایت خوش اخلاقی سے پیش آتے۔ ہر چھوٹے بڑے امیر غریب سے یکساں طور سے عزت اور خندہ پیشانی سے ملتے۔ اپنے سے چھوٹوں کو بھی نام کے ساتھ صاحب لگاکر بلاتے۔ مہمان کا بڑے جوش سے خیر مقدم کرتے اور اُن کے رشتہ داروں کا بھی حال احوال پوچھتے۔ ملاقاتیوں سے ہمیشہ دینی و تربیتی امور کے متعلق ہی باتیں ہوتیں ۔ چغلی، غیبت، تجسس سے پرہیز کرتے اور ہمیں بھی روکتے۔ بہت مہمان نواز تھے ۔ جلسہ سالانہ پرکثرت سے مہمانوں کو ٹھہراتے۔
آپ نے کبھی اپنی تعلیم یا جماعتی عہدہ پر فخر نہیں کیا۔ بلکہ ہمیشہ عاجزی و انکساری کے دامن کو تھامے رکھا۔ جب ناظر اعلیٰ قادیان کے عہدہ پر خدمت کے لئے فائز ہوئے تو کبھی اس پر خوشی کا اظہار نہیں کیا بلکہ بہت زیادہ دعا کرتے ہوئے اور خدا کاخوف رکھتے ہوئے وقت گزاراکہ خداتعالیٰ خلیفہ وقت کی توقعات پر پورا اُترنے کی توفیق دے۔
آپ وقت کی پابندی اور بہت قدر کرتے اور دوسروں کو بھی اس کی نصیحت کرتے۔ بہت ذہین تھے، یادداشت بہت عمدہ تھی۔ مطالعہ بہت کرتے اور اچھی چیزیں دوسروں سے شیئر کرتے۔ خوش مزاج طبیعت کے مالک تھے۔ اکثر جماعتی کاموں سے کئی کئی ماہ ہندوستان کے دورے پر بھی رہتے۔ ایسے میں آپ کا معمول تھا کہ ہر روز خیریت کا کارڈ تحریر کرتے اور آنے پر وہاں کے کلچر کے اور دیگر ایمان افروز واقعات سناتے۔
پڑوسیوں سے آپ بہت حسنِ سلوک کرتے اور ان کے حقوق کاخیال رکھتے۔ آپ نے ہومیوپیتھک دوائیوں کا ذخیرہ اپنے پاس رکھا تھا اور جو کوئی دوائی لینے آتا آپ کسی کو انکار نہیں کرتے تھے۔ اکثر بچے بھی آپ سے دوائی لینے آجاتے۔بچوں سے خاص شفقت کا سلوک تھا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 15 جولائی 1949ء میں بمقام کوئٹہ فرمایا کہ: ’’رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : اُذْکُرُوْا مَوْتَاکُمْ بِالْخَیْرِ۔ عام طور پر اس کے یہ معنی کئے جاتے ہیں کہ مُردوں کی برائی بیان نہیں کرنی چاہئے وہ فوت ہوگئے ہیں اور ان کامعاملہ اب خدا تعالیٰ سے ہے۔ یہ معنی اپنی جگہ درست ہیں لیکن درحقیقت اس میں قومی نکتہ بھی بیان کیا گیا ہے۔ آپؐ نے اُذْکُرُوْا مَوْتیٰ بِالْخَیْرِ نہیں فرمایا بلکہ آپؐ نے مَوْتَاکُمْ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یعنی اپنے مُردوں کا ذکر نیکی کے ساتھ کرو۔ جس کے معنی ہیں کہ آپؐ نے یہ صحابہ کرام ؓ کے متعلق ارشاد فرمایا ہے۔‘‘
اس ارشاد کی روشنی میں محترم ملک صلاح الدین صاحب نے 1952ء میں ’’اصحاب احمدؑ‘‘ کے نام سے ایک رسالہ شائع کرنا شروع کیا جس میں صحابہ حضرت مسیح موعودؑ کے مختصر حالات شائع کئے جاتے تھے۔ رسالہ کانام حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے تجویز فرمایا تھا۔ بعد ازاں بزرگانِ سلسلہ کی تجویز پر ان سوانح کو مفصل اور کتابی شکل میں شائع کرنا شروع کیا۔ چنانچہ آپ نے ’’اصحاب احمد ؑ ۔ تابعین اصحاب احمد ؑ۔ مکتوبات احمدیہ۔ مکتوبات اصحابِ احمدؑ‘‘ کے نام سے متعدد کتب تصنیف کیں ۔ حضرت مصلح موعودؓ نے 1955ء کے جلسہ سالانہ میں آپ کی اس خدمت کاذکر کرتے ہوئے خوشنودی کا اظہار فرمایا ۔
آپ کی وفات 2؍فروری 2003ء کو بعمر90سال ہوئی۔ آپ غیرمسلموں میں بھی ہردلعزیز تھے اور کثیر تعداد میں غیرمسلم لوگ بھی جنازہ میں شامل ہوئے۔
آپ کی وفات پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے اپنے تعزیتی مکتوب میں تحریر فرمایا: ’’میں جانتا ہوں واقعی بزرگ سیرت، درویش صفت انسان تھے۔ علم و عرفان سے آراستہ تھے اور بڑے طویل عرصہ جماعت کی بے لوث خدمت کی سعادت پائی ہے‘‘۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/RJFLk]

اپنا تبصرہ بھیجیں