محترم قریشی محمد افضل صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 24؍دسمبر 2002ء میں مکرم قریشی محمد افضل صاحب کی وفات کی خبر شائع ہوئی ہے۔ آپ 21؍دسمبر 2002ء کو 88 سال کی عمر میں ربوہ میں وفات پاگئے۔
محترم قریشی صاحب حضرت حافظ محمد حسین صاحب قریشیؓ آف ٹرپئی ضلع امرتسر کے ہاں 2؍اگست 1914ء کو قادیان میں پیدا ہوئے۔ 1934ء میں مولوی فاضل کیا اور پھر میٹرک کرکے قادیان میں ’’افضل برادرز‘‘ کے نام سے جنرل سٹور قائم کیا جو اس وقت ربوہ کی قدیم ترین دکانوں میں سے ایک ہے۔ 1945ء میں آپ نے وقف کیا تو نائیجیریا بھجوائے گئے 1951ء تک وہاں متعین رہے۔ بعد ازاں غانا (1953ء تا 1956ء)، سیرالیون (1958ء تا 1961ء)، آئیوری کوسٹ (1963ء تا 1972ء) اور 1977ء تا 1986ء (مختلف اوقات میں) ماریشس میں بطور مبلغ اور مشنری انچارج خدمت کی توفیق عطا ہوتی رہی۔ 1990ء تک مجموعی طور پر 28؍سال بیرون ملک خدمت کی اور یہ سارا عرصہ بغیر فیملی کے گزارا۔ اس کے علاوہ مرکز میں بعض دفاتر میں اور جامعہ احمدیہ میں بطور استاد بھی خدمت کی توفیق پائی۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 19؍جون 1970ء میں جن مربیان کے مقام نعیم پر فائز ہونے کا تذکرہ فرمایا تھا، اُن میں آپ بھی شامل تھے۔
آپ کی شادی حضرت مولوی عطا محمد صاحبؓ کی بیٹی مکرمہ مبارکہ بیگم صاحبہ سے ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو پانچ بیٹوں اور دو بیٹیوں سے نوازا جن میں سے مکرم شاہد احمد قریشی صاحب (نصرت جہاں اکیڈمی ربوہ) واقف زندگی ہیں۔ آپ انتہائی منکسرالمزاج اور خاموش خدمت کرنے والے واقف زندگی تھے۔ 1951ء میں حج کیلئے تشریف لے گئے لیکن جدہ میں گرفتار ہوگئے اور 38؍دن قید میں رہے۔ ربوہ میں بھی 298۔سی کے تحت آپ پر ایک مقدمہ قائم ہوا جو ابھی جاری ہے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/O2Hdf]

اپنا تبصرہ بھیجیں