محترم شیخ راشد احمد صاحب

سہ ماہی ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا جولائی تا ستمبر2008ء میں مکرمہ روبینہ احمد صاحبہ اپنے والد محترم شیخ راشد احمد صاحب کا ذکرخیر کرتی ہیں۔
مکرم شیخ راشد احمد صاحب (سابق کارکن وکالت مال تحریک جدید ربوہ) 28؍ دسمبر 2007ء کو 94 سال کی عمر میں کینیڈا میں وفات پاگئے۔ آپ 1914ء میں سیالکوٹ شہر میں پیدا ہوئے۔ مولوی فاضل اور بی۔اے کرکے دہلی میں گورنمنٹ سروس شروع کی۔ علمی اور تحقیقی رجحان ہونے کی وجہ سے احمدیہ لٹریچر پڑھنے کا اتفاق ہوا تو سینہ ایمان کے نور سے منور ہوگیا اور 1936ء میں 22سال کی عمر میں حضرت مصلح موعودؓ کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ اس پر شدید مخالفت ہوئی، جائیداد سے عاق کر دئیے گئے اور معاشرتی تعلقات منقطع کر لئے گئے لیکن آپ کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئی۔ بلکہ حضورؓ کی تحریک پر 1945ء میں آپ نے اپنی زندگی وقف کردی اور دہلی سے سرکاری ملازمت چھوڑ کر قادیان حاضر ہوگئے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد کینیڈا چلے گئے۔ مرحوم موصی تھے۔ نہایت مخلص، وفا شعار، غریبوں کے ہمدرد اور خلافت سے بے انتہا محبت رکھنے والے نیک انسان تھے۔ نماز تہجد میں اکثر آنسو رواں ہوتے۔ گھر میں بھی باجماعت نماز کا اہتمام کرتے تھے۔ قرآن مجید کی تلاوت خوش الحانی سے کرتے، کتب سلسلہ کو کئی بار پڑھ چکے تھے اور ان پر اپنے ہاتھ سے ہر صفحہ پر نوٹ لکھتے۔ اپنے بچوں کو بھی پابندی نماز اور تلاوت قرآن کی تلقین کرتے۔ دعا کرنے میں ان کو ایک خاص شغف تھا۔ ہم نے آپ کی قبولیت دعا کے کئی واقعات دیکھے۔
آپ ایک اچھے داعی الی اللہ تھے۔ تبلیغی لٹریچر اپنی جیب میں رکھتے۔ آپ کے ذریعہ کئی سعید روحیں جماعت میں داخل ہوئیں۔ شعر و شاعری سے بھی شغف تھا اور خدا تعالیٰ نے آواز بھی اچھی دی تھی۔ 94سال کی عمر ہونے کے باوجود بلا کا حافظہ تھا۔ سکول کے زمانہ کی نظمیں بھی سنایا کرتے تھے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/HeEB7]

اپنا تبصرہ بھیجیں