محترم بشیر احمد آرچرڈ صاحب – پہلے یورپین واقف زندگی اور مبلغ احمدیت

پہلے یورپین واقف زندگی اور فدائی مبلغ احمدیت
محترم بشیر احمد آرچرڈ صاحب

(محمود احمد ملک)

(مطبوعہ رسالہ انصارالدین یوکے- جنوری و فروری 2019ء)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
’’ہم ہمیشہ دعا کرتے ہیں اور ہماری ہمیشہ سے یہ آرزو ہے کہ یورپین لوگوں میں سے کوئی ایسا نکلے جو اس سلسلہ کے لئے زندگی کا حصہ وقف کرے لیکن ایسے شخص کے لئے ضروری ہے کہ کچھ عرصہ صحبت میں رہ کر رفتہ رفتہ وہ تمام ضروری اصول سیکھ لیوے جن سے اہل اسلام پر سے ہر ایک داغ دُور ہوسکتا ہے اور وہ تمام قوّت اور شوکت سے بھرے ہوئے دلائل سمجھ لیوے جن سے یہ مرحلہ طے ہوسکتا ہے تب وہ دوسرے ممالک میں جاکر اس خدمت کو ادا کرسکتا ہے۔ اس خدمت کے برداشت کرنے کے لئے ایک پاک اور قوی روح کی ضرورت ہے جس میں یہ ہوگی وہ اعلیٰ درجہ کا مفید انسان ہوگا اور خدا کے نزدیک آسمان پر ایک عظیم الشان انسان قرار دیا جاوے گا۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم ایڈیشن دوم صفحہ 451)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مذکورہ بالا خواہش کا عملی ظہور جس خوبصورت اور خوب سیرت وجود کے ذریعہ ہوا، اُس نے 26؍اپریل 1920ء کو اس دنیا میں آنکھ کھولی اور ان کا نام James Brian Orchard رکھا گیا تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ نے آپ کا نام ’’بشیر احمد‘‘ رکھا چنانچہ آپ ’’بشیر احمد آرچرڈ‘‘ کے نام سے معروف ہوئے۔
جب خاکسار کو مجلس خدام الاحمدیہ برطانیہ کے رسالہ ’’طارق‘‘ کے اردو صفحات کی ادارت کی ذمہ داری سونپی گئی تو کچھ عرصہ بعد اِن صفحات میں ایک تعارفی سلسلۂ شروع کیا گیا جس میں ایسے (غیرپاکستانی) خدّامِ احمدیت کے انٹرویوز پیش کئے جاتے تھے جنہوں نے پہلے خود احمدیت قبول کرنے کی سعادت پائی اور پھر اپنی زندگی خدمتِ دین کے لئے وقف کرنے کی توفیق بھی پائی۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ انٹرویوز کے اس سلسلہ کو جاری کرنے کا خیال ہی مجھے محترم بشیر احمد آرچرڈ صاحب اور محترم محمد عثمان چینی صاحب جیسے قابلِ قدر بزرگوں کو قریب سے دیکھنے کے بعد پیدا ہوا تھا۔ اگرچہ محترم آرچرڈ صاحب کے ایک انٹرویو کا اردو ترجمہ نہایت اختصار کے ساتھ قبل ازیں رسالہ ’’طارق‘‘ کی زینت بن چکا ہے۔ تاہم اس مضمون میں خاکسار اُن کے تفصیلی انٹرویو کے علاوہ اپنے مشاہدات کی مدد سے بھی اس نہایت مخلص فدائی احمدی کی سیرت و سوانح پر قدرے تفصیل سے روشنی ڈالنا چاہتا ہے۔ انگریزی زبان میں دیئے گئے اس انٹرویو میں محترم آرچرڈ صاحب نے اپنے حالاتِ زندگی تفصیل سے بیان کرنے کے علاوہ بعض دیگر امور سے متعلق سوالوں کے جواب بھی دیئے تھے۔ پس محترم آرچرڈ صاحب کے انگریزی میں دیئے گئے انٹرویو کا ترجمہ خاکسار اپنی ذمہ داری پر ہدیۂ قارئین کررہا ہے۔
محترم مولانا بشیر احمد آرچرڈ صاحب نے اپنی پیدائش اور خاندانی حالات کے ضمن میں بتایا کہ آپ Devon شہر کے ساحل پر واقع Torquay میں 26؍اپریل 1920ء کو پیدا ہوئے۔ آپ کے والد اور دادا دونوں ڈاکٹر تھے جبکہ نانا ایڈمرل تھے۔ اور شادی سے قبل آپ کی والدہ نرس تھیں۔آپ تین بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔آپ کا سب سے بڑا بھائی Kenneth جو آپ سے تین سال بڑا تھا وہ دوسری جنگ عظیم کے دوران اُس وقت موت کے منہ میں چلا گیا جب وہ بحری جہاز جس پر وہ متعیّن تھا، بحیرہ روم میں دشمن کی کارروائی کے نتیجہ میں غرق ہوگیا۔ دوسرے بھائی Leslie کا رجحان بچپن ہی سے مذہب کی طرف تھا وہ دراصل میری اس خالہ سے بہت متأثر تھا جو چین میں چالیس سال تک بطور مشنری کام کرتی رہی تھیں۔ اس تأثر کے تحت جب وہ جوان ہوا تو پروٹسٹنٹ فرقے کا پادری بن گیا مگر جلد ہی یہ پیشہ چھوڑ کر اُس نے ایک سکول میں بطور ٹیچر ملازمت اختیار کر لی لیکن وہ اس ملازمت میں بھی زیادہ عرصہ تک نہ رہا اور روم چلا گیا وہاں تعلیم و تربیت کے بعد وہ رومن کیتھولک چرچ کا پادری بن گیا۔ میری والدہ بھی مذہب سے بہت دلچسپی رکھتی تھیں اور باقاعدہ گرجے جایا کرتی تھیں۔ میرے بھائی کے رومن کیتھولک بن جانے کے بعد میری والدہ نے بھی رومن کیتھولک مذہب اختیار کر لیا۔ اس کے برعکس میرے والد کو مذہب سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔
بچپن اور لڑکپن میں اپنی تعلیم اور دیگر سرگرمیوں کے حوالہ سے محترم آرچرڈ صاحب نے بتایا کہ سکول میں مجھے تعلیم میں دلچسپی نہیں تھی۔ تاہم مَیں کرکٹ اور فٹ بال دونوں ٹیموں میں شامل تھا۔ سولہ سال کی عمر میں بغیر کوئی سند حاصل کئے سکول چھوڑ دیا۔ بچپن میں ایک بار مَیں نے اپنے والد کو خوش کرنے کے لئے اُن سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں ڈاکٹر بننا چاہتا ہوں تو انہوں نے ڈانٹتے ہوئے کہا کہ ایسا کیسے ممکن ہے جب تم میں محنت کے ساتھ پڑھنے کی اہلیت ہی نہیں ہے۔ اور اُن کی یہ بات کسی حد تک ٹھیک بھی تھی۔ چنانچہ 1936ء میں مَیں نے سکول کو خیرباد کہہ دیا۔ اسی دوران میں میرے والدین میں علیحدگی ہو گئی۔ میری والدہ پہلے عارضی طور پر Bath نامی شہر میں اور پھر برسٹل شہر میں مستقل رہائش پذیر ہو گئیں۔ میرے سامنے چونکہ اب کوئی مستقبل نہ تھا اس لئے میں فوج میں بھرتی ہو گیا جہاں میری تنخواہ دو شلنگ یومیہ تھی۔ فوجی ملازمت کا یہ معاہدہ سات سال کے لئے تھا مگر میری طبیعت دو سال بعد ہی اس زندگی سے اُکتا گئی اور مَیں نے اپنے والد کو لکھا کہ جس طور پر ممکن ہو مجھے فوج سے نجات دلائیں چنانچہ انہوں نے چند دن بعد 35 پاؤنڈکا چیک مجھے بھجوا دیا جس کی ادائیگی کے بعد مجھے فوج سے ڈسچارج مل گیا۔
لیکن ایسا لگتا ہے کہ محترم آرچرڈ صاحب کے فوج سے فراغت حاصل کرنے کے باوجود بھی آپ کے دل کے کسی گوشہ میں فوج کے لئے دلچسپی ضرور موجود رہی تھی۔ چنانچہ آپ نے بیان فرمایا کہ فوج سے اس فراغت کے بعد جلد ہی مَیں نے رائل آرمی میڈیکل کارپس کے Territorial Unit میں شمولیت اختیار کر لی جس کے لئے ہر ہفتہ میں صرف ایک شام کے لئے فوجی تربیت درکار ہوتی تھی۔ لیکن جب 3ستمبر1939ء کو برطانیہ نے جرمنی کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا تو مَیں ایک بار پھر باقاعدہ فوجی بن گیا۔ ہمیں پہلے فرانس بھیجا گیا اور اس کے بعد بیلجیم منتقل کردیا گیا۔ لیکن جرمنوں کے شدید حملے نے ہمیں Dunkirkکے ساحل تک پسپا کردیا تو ہمیں ایک کشتی کے ذریعہ برٹش چینل عبور کروایا گیا اور ہم واپس برطانیہ پہنچادیئے گئے۔ ہماری کشتی میں مقررہ تعداد سے کہیں زیادہ فوجی سوار تھے جو سب کے سب تھکے ماندہ اور پریشان حا ل تھے۔ میری ایسی حالت تھی کہ جب کشتی چلی تو میری آنکھ لگ گئی اور جب آنکھ کھلی تو کشتی Doverکی بندرگاہ میں داخل ہو رہی تھی۔ یہاں سے ٹرین کے ذریعہ ہم Wales پہنچائے گئے۔
1941ء میں مَیں نے انڈین آرمی میں کمیشن کے لئے درخواست دی اور کئی انٹرویوز دینے کے بعد مجھے آفیسر کیڈٹ کے طور منتخب کر لیا گیا۔ چنانچہ 1942ء میں مَیں دیگر کیڈٹس کے دستہ کے ہمراہ بحری جہاز سے ہندوستان روانہ ہوگیا۔ دو ماہ کے سمندری سفر کے بعد ہم بمبئی پہنچے اور وہاں سے بنگلور منتقل کئے گئے اور پھر چھ ماہ کی ٹریننگ کے بعد بطور سیکنڈ لیفٹنینٹ مجھے ڈوگرہ رجمنٹ میں جا لندھر بھیج دیا گیا۔ بعد میں ’’انڈین آرمی آرڈیننس کارپس‘‘ میں تبدیل کرکے آسام اور برماکے محاذ پر بھجوادیا گیا۔ یہاں ایک معرکہ میں جب مَیں مَنی پور پہاڑ پر متعین تھا تو جاپانی ہمارا مکمل محاصرہ کرکے ہم پر ہر طرف سے بمباری کر رہے تھے اور دو ہفتے کے محاصرہ میں ہمیں سامان خورونوش پیرا شوٹوں کے ذریعہ ملتا رہا۔ آخرکار ہم دشمن کے نرغے سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔یہاں 1944ء میں میری زندگی کا ناقابلِ فراموش اور بڑا ہی سنسنی خیز لمحہ وہ تھا جب ہم خندقوں میں بیٹھے تھے کہ اچانک مجھے میرے اعلیٰ افسر نے بلوا بھیجا۔ جونہی میں خندق سے نکلا تو ایک گولہ عین خندق کے اوپر گرا اور میرے دونوں ساتھی موت کے منہ میں چلے گئے۔ یہ واقعہ مَیں کبھی بھول نہیں سکا اور امرواقعہ یہ ہے کہ مذکورہ حادثہ نے میرے اندر روحانی اثرات پیدا کردیئے۔
مختلف مذاہب اور ان کی تعلیمات میں دلچسپی کے حوالہ سے محترم آرچرڈ صاحب نے بتایا کہ ایک عیسائی خاندان میں پیدا ہونے کے باوجود بھی عیسائیت نے کبھی بھی مجھے متأثر نہیں کیا تھا۔ البتہ ایک برہمن دوست کی طرف سے ملنے والے ہندو لٹریچر سے کسی حد تک متأثر ضرور ہوا تھا۔ البتہ اسلام کی تعلیمات سے مَیں کلیۃً لاعلم رہا۔ صرف پنڈت نہرو کی کتاب “Glimpses of World History” میں مغل بادشاہوں کے حالات زندگی دلچسپی سے پڑھتا رہا تھا۔ اُس وقت تک زندگی میں میری دلچسپیاں وہی تھیں جو عام طور پر نوجوانوں کی ہؤا کرتی تھیں۔ سولہ سال کی عمر سے مَیں شراب نوشی اور سگریٹ نوشی کا عادی تھا۔ قماربازی میرے خون میں شامل تھی۔ اٹھارہ سال کا ہؤا تو ناچ گانے کا جنون سوار ہوگیا اسلئے اکثر سینما اور تھیٹر جانا پسند کرتا۔ خدا کا شکر ہے کہ قبولِ اسلام کے بعد ان بدعادتوں سے نجات ملی اور جس بدعادت سے سب کے بعد چھٹکارا ملا وہ سگریٹ نوشی تھی۔
اسلام کا پیغام ملنے کے بعد اُسے قبول کرنے تک کئی مراحل محترم آرچرڈ صاحب کی زندگی میں آئے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا خدا تعالیٰ کے فرشتے باقاعدہ ایک پروگرام کے تحت آپ کی راہنمائی کے لئے سرگرمِ عمل تھے۔ چنانچہ آپ نے بیان فرمایا کہ اسلام کا پیغام مجھے ایک احمدی حوالدار کلرک مکرم عبد الرحمن دہلوی صاحب نے پہنچایا تھا اور کسی طرح یہ انتظام بھی کرلیا کہ حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ قادیان سے میرے نام بھیج دی جائے۔ اگرچہ میری روحانی استعداد ایسی نہیں تھی کہ مَیں اس کتاب کے مندرجات کوآسانی سے سمجھ سکتا تاہم کتاب کے کچھ حصوں نے مجھے بہت متأثر کیا ۔ کچھ عرصہ بعد مجھے دو ہفتے کی چھٹی ملی تو حوالدار صاحب نے مشورہ دیاکہ مَیں قادیان چلا جاؤں۔ اگرچہ ابتدائی طور پر مَیں نے اُن کو اثبات میں جواب دیا لیکن چونکہ قادیان میرے لئے نا معلوم جگہ تھی اور وہاں جانے کیلئے اندازاً ایک ہزار میل کا لمبا سفر درکار تھا۔ اس لئے مَیں نے غور کرنے کے بعد وہاں نہ جانے کا فیصلہ کیا اور جب اُنہیں اس بارہ میں بتایا تو اُن کو سخت صدمہ ہوا جو اُن کے چہرے سے ظاہر تھا۔ اُن کی حالت دیکھ کر مَیں نے محض اُن کی دلجوئی کی خاطر اپنا فیصلہ بدل لیا۔
قادیان کے سفر اور وہاں مختصر قیام کے حوالہ سے محترم آرچرڈ صاحب نے بیان کیا کہ یہ بہت تکلیف دہ سفر تھا۔ وہاں پہنچنے میں مجھے ایک ہفتہ لگ گیا۔ یہ الگ تھلگ چھوٹا سا قصبہ تھا۔ کسی کو میری آمد کا وقت معلوم نہیں تھا اس لئے ریلوے سٹیشن پر مجھے وصول کرنے کے لئے کوئی نہیں آیا۔ مَیں نے ٹانگہ کروایا اور حضرت مفتی محمد صادق صا حبؓ کے گھر پہنچا جن کا نام حوالدار صاحب نے مجھے دیا تھا۔ مفتی صاحب مجھے دیکھ کر حیران ہوئے اور انہوں نے ٹانگے والے کو ہدایت کی کہ وہ مجھے گیسٹ ہاؤس لے جائے۔ کچھ ہی دیر بعد مفتی صادق صا حبؓ مجھے ملنے کے لئے وہاں چلے آئے۔ اگلے روز مفتی صادق صا حب نے مجھے قادیان کی سیر کروائی اور دلچسپی کے مختلف مقامات دکھائے۔ مجھے یاد ہے اس موقعہ پر میں نے ان سے استفسار کیا تھا کہ جماعت احمدیہ کا سگریٹ نوشی کے بارہ میں کیا مؤقف ہے تو انہوں نے جواباً فرمایا تھا کہ اگرچہ اسلام نے اسے حرام قرار نہیں دیا تا ہم اسے ایک مکروہ اور ناپسندیدہ فعل سمجھا جاتا ہے۔
قادیان میں صرف دو روزہ قیام کے دوران سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ کی شخصیت نے جو تأثرات محترم آرچرڈ صاحب پر چھوڑے وہ آج بھی آپ کے ذہن پر نقش ہیں۔ آپ نے اپنی یادوں کو مجتمع کرتے ہوئے ایک روحانی لذّت حاصل کرتے ہوئے بیان کیا کہ قادیان میں میرے دو روزہ قیام کے دوران حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ سے بھی ملاقات ہوئی۔ اُن سے ملاقات میری زندگی کا ناقابلِ فراموش واقعہ ہے۔ گو میں اس وقت ان کے بلند روحانی مقام سے واقف نہ تھا پھر بھی ان سے ملاقات کے وقت مجھے یوں محسوس ہوا کہ میں کسی اَور دنیا میں ہوں۔ حضورؓ اپنے گھر کے برآمدہ میں تشریف فرما تھے۔ گفتگو شروع ہوئی تو میں نے عرض کی میرے نزدیک تو بہتر زندگی گزارنے کے لئے توریت کے دس احکام پر عمل کرنا ہی کافی ہے۔ حضورؓ نے فرمایا کہ یہ دس احکام تو مجمل حیثیت رکھتے ہیں اور زندگی کے ہر شعبہ میں ان کی تفصیل و وضاحت کی ضرورت ہے۔ مثلاً ایک حکم ہے ’’قتل نہ کرو‘‘ لیکن بظاہر کئی ایسے مواقع جن پر جان لینا ضروری ہوتا ہے یا کن مراحل پر جان لینا منع ہے اور کن مواقع پر نہیں اس پر صرف اسلام روشنی ڈالتا ہے اور ہر حکم کی فلاسفی بھی بیان کرتا ہے۔ میں نہ صرف حضورؓ کے نورانی چہرے اور مقناطیسی شخصیت سے متأثر ہوا بلکہ ان کی دلربا مسکراہٹ بھی ہمیشہ کے لئے میرے دل میں گھر کر گئی۔ اس وقت یہ احساس شدت سے تھا کہ میں کسی عام آدمی سے ملاقات نہیں کر رہا بلکہ ایک نہایت اعلیٰ ہستی میرے سامنے ہے۔
محترم آرچرڈ صاحب نے قادیان کے سفر اور حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ سے اپنی ملاقات کے عملی اثرات بھی بیان فرمائے اور کہا کہ اگرچہ مَیں باقاعدہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں داخل نہیں ہوا تھا لیکن حضورؓ کے نورانی چہرے اور مقناطیسی شخصیت کے بعد جس چیز نے زیادہ متأثر کیا وہ اہل قادیان کا حسن اخلاق تھا۔ گو اس وقت دین کے بارے میں میرا علم صفر تھامگر مَیں نے اپنے دل کو سمجھایا کہ جس درخت کے پھل ایسے میٹھے ہوں وہ درخت بھی یقینا اعلیٰ ہو گا۔ اور یہ بھی کہ مَیں جس صداقت کی تلاش میں تھا، مَیں نے اس کو قادیان میں پا لیا تھا۔ چنانچہ قادیان سے واپسی پر جب مَیں امرتسر کے ریلوے سٹیشن پر اگلی گاڑی کا منتظر تھا تو ویٹنگ روم میں چند برطانوی افسر بھی بیٹھے تھے۔ وہ شراب نوشی میں مشغول تھے جسے دیکھ کر مجھے سخت کراہت آئی اور قادیان کا پاکیزہ ماحول مجھے یاد آگیا۔ اُسی وقت مَیں نے شراب نوشی ترک کرنے کا عہد کیا اور واپس اپنے کمرہ میں پہنچ کر پہلا کام یہی کیا کہ شراب کی وہ ساری بوتلیں ضائع کردیں جو مَیں نے اپنے استعمال کے لئے کبھی جمع کی تھیں۔… جب ہماری فوج Meiktilla میں جاپانی فوج کو پسپا کر رہی تھی تو اسی مقام پر مارچ 1945ء میں مَیں نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ کیا اور احمدیت یعنی حقیقی اسلام قبول کرکے بیعت فارم پُر کیا اور قادیان روانہ کر دیا۔
ایک موقع پر حضرت مصلح موعودؓ نے ایک خط میں آپ کو لکھا:
’’بے شک آج تمہیں کوئی نہیں جانتا اور کسی نے تمہارا نام نہیں سنا لیکن یاد رکھو ایک زمانہ آئے گا کہ قومیں تم پر فخر کریں گی اور تمہاری تعریف کے گیت گائیں گی اس لئے تم اپنے کردار اور گفتارپر نظر رکھو …‘‘۔
چنانچہ احمدیت کی آغوش میں آنے کے بعد محترم آرچرڈ صاحب کی زندگی یکسر بدل گئی۔ محض جسمانی اور ذہنی لذّات کی تلاش میں رہنے والے آرچرڈ صاحب نے اخلاقی قدروں کو پہچاننے اور روحانی میدان میں ترقی کی نئی منازل تیزی سے طَے کرنے کے لئے خاص طور پر محنت شروع کردی۔ آپ نے اسلام قبول کرنے کے بعد ابتدائی دَور کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اُس زمانہ میں بلاشبہ مَیں نے بے شمار نعمتیں پائی ہیں اور بے شمار برائیوں سے چھٹکارا حاصل کیا ہے۔ مثلاً شراب نوشی کی عادت جس کی وجہ سے مَیں قادیان جاتے ہوئے بھی اپنے سامان میں شراب لے کر گیا تھا۔ اسی طرح جوئے بازی یعنی گھوڑوں، شکاری کتوں، کارڈ گیمز پر کیا کرتا تھا۔ ایک بار جؤا کھیلتے ہوئے میں نے پورے مہینے کی تنخواہ گنوا دی تھی۔ ان بدعادات سے نجات ملی اور انفاق فی سبیل اللہ جیسی اچھی عادت پیدا ہوگئی۔ احمدیت قبول کرنے سے قبل مجھے خیرات کی طرف قطعاً توجہ نہیں تھی۔ اسلام نے مجھے اس فلاسفی سے آگاہ کیا کہ انسان جس چیز کو محبوب جانتا ہے اس کو خدا کی خاطر قربان کر دینا خدا کی رضا کا موجب بناتا ہے تو مَیں نے اپنی تنخواہ کا سولہواں حصہ چندہ دینا شروع کر دیا اور بعد میں اس کو بڑھا کر دسواں حصہ کر دیا۔ اور آخر کار 1967ء میں اپنی آمد کا تیسرا حصہ چندہ میں دینا شروع کر دیا جو آج بھی جاری ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ میری (واقف زندگی) کی تنخواہ معمولی ہے، میری زندگی ہر لحاظ سے مطمئن و مسرور ہے۔ کیونکہ صرف مال کا کسی کی ملکیت میں ہونا اُس کو چنداں خوشی اور قناعت نہیں د ے سکتا بلکہ امن اور سکون بخشنا صرف خداتعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ چنانچہ زکوٰۃ ادا کرنے کے علاوہ مَیں تحریک جدید اور انصاراللہ و دیگر چندہ جات جیسے صدسالہ جوبلی فنڈ وغیرہ بھی باقاعدگی سے ادا کرتا رہا ہوں۔
اسی طرح احمدیت نے میری زندگی میں روزانہ نماز پڑھنے کی عادت کو متعارف کیاجو میرے لئے دلی راحت کا مو جب بنی ہے۔ یہ قرآن کریم کی اس آیت کریمہ کی صداقت کا ثبوت ہے: اَلَا بِذِکْرِاللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبَ ۔ نماز کے بارہ میں حضرت مسیح موعودؑ کے ملفوظات پڑھنے سے مجھے بہت کچھ حاصل ہوا ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے اگر کوئی مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہو اور نماز باقاعدگی سے ادا نہ کرتا ہو۔ مسجد مبارک قادیان کے باہر نوٹس بورڈ پر مَیں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کا ایک ارشاد لکھا ہوا پڑھا تھا کہ جس شخص نے گزشتہ دس برسوں میں ایک نماز بھی عمداً چھوڑ دی ہو وہ سچا احمدی نہیں کہلا سکتا۔
محترم آرچرڈ صاحب کا خداتعالیٰ سے تعلق روزبروز بڑھنے لگا اور قربانی کے میدان میں آپ لذّت اٹھاکر روحانی سرور حاصل کرنے لگے۔ خداتعالیٰ نے اپنی محبت کے کئی نشان بھی آپ کو دکھائے چنانچہ آپ نے بیان کیا کہ احمدیت قبول کرنے کے بعد مَیں نے متعدد ایسی خوابیں دیکھی ہیں جن کو فراموش نہیں کر سکا۔ مثلاً 1945ء میں قبول احمدیت کے بعد میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کو خواب میں دیکھا جو قادیان کی مسجد مبارک میں کھڑے تھے۔ آپؓ نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا ’’حقیقی زندگی بسر کرنے کے لئے تمہیں غموں سے گھبرانا نہیں چاہئے‘‘ پھر آپؓ نے اپنا داہنا ہاتھ اوپر اٹھایا جس میں چھڑی پکڑی ہوئی تھی اور بڑے زور سے فرمایا: ’’اور اس میں شک کی گنجائش نہیں‘‘۔
1958ء میں بھی محترم آرچرڈ صاحب کچھ عرصہ کے لئے قادیان کی زیارت کے لئے تشریف لے گئے۔ اِس قیام کے دوران دیکھا گیا ایک خواب آپ نے یوں بیان فرمایا کہ مَیں مہمان خانہ میں سو رہا تھا کہ خواب میں دیکھا کوئی شخص پیالہ میں میرے لئے ملائی لے کر آیا ہے اور مجھے بتایا گیا کہ یہ ملائی حضرت خلیفۃالمسیح الثانی کے لئے تیار کی گئی تھی مگر کسی وجہ سے اب یہ مجھے دی جا رہی ہے۔
ایک اور قابلِ ذکر خواب آپ نے یوں بیان فرمایا کہ جب میں ویسٹ انڈیز میں بطور مبلغ سلسلہ خدمت کی توفیق پارہا تھا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت مصلح موعود میرے لئے ایک پیالہ لائے ہیں جسے انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑا ہوا ہے۔ اس طرح کہ پیالہ میرے منہ کو لگا ہوا ہے پیالے کے اندر مَیں نے جھانکا تو دیکھا کہ اس میں دودھ ہے اور تھوڑی سی ڈبل روٹی بھی ہے۔
آپ نے کہا کہ اگرچہ ان خوابوں کی اہمیت مجھ پر واضح ہے مگر میں ان کی تعبیر میں نہیں جانا چاہتا۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ احمدیت قبول کرنے کے بعد مَیں نے بہت سے خواب دیکھے جو میرے ذہن میں ہمیشہ کی طرح آج بھی تازہ ہیں۔
ایک بار پھر ماضی کے اوراق پلٹتے ہوئے محترم آرچرڈ صاحب نے ایک مسلمان کی حیثیت سے واپس اپنے وطن انگلینڈ پہنچنے اور پھر زندگی کو بامقصد انداز میں گزارنے کے حوالے سے بیان فرمایا کہ بے شک قبولِ احمدیت سے قبل میری زندگی کا کوئی خاص مقصد نہیں تھا۔ مستقبل کا کوئی خاکہ میرے ذہن میں نہ تھا۔ مَیں جبری بھرتی کیا ہوا ایک فوجی تھا۔ لیکن مجھے یاد تھا کہ جب میں قریباً دس سال کا تھا تو ایک رات بستر میں لیٹے ہوئے مَیں ایک عجیب احساس کی گرفت میں آگیا کہ مجھے ایک غیر معمولی انسان بن کر غیر معمولی کام کر نا ہے۔ بعد مَیں یہ احساس میرے ذہن سے محو ہوگیا لیکن احمدیت قبول کرنے کے بعد دوبارہ میرا ذہن میرے لاشعور میں موجود اس خواہش کی طرف مبذول ہوگیا۔ چنانچہ 1945ء میں دوسری عالمی جنگ ختم ہوتے ہی مَیں انگلستان واپس پہنچا۔ فوج سے فراغت کے بعد سیدھا اپنی والدہ کے پاس Bristol گیا اور چند دن اُن کے ساتھ گزارنے کے بعد مسجد فضل لندن کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا جہاں اُس وقت حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحبؓ امام تھے۔ میںنے اُن کو اپنا تعارف کرایا اور مشن میںکام کرنے نیز احمدیت کی خاطر زندگی وقف کر دینے کے ارادے کا بھی اظہار کیا۔ مولانا صاحب نے مجھے مبلغ کی ذمہ داریوں اور اُس کی مشکلات سے آگاہ کیا اور فوری طور پر میری درخواست کو قبول نہ کرنے کا عندیہ دیا تو اُن کی باتیں سُن کر مَیں بہت افسردہ ہوا۔ لیکن پھر چند دن بعد اُنہیں باقاعدہ طور پر اپنے ارادہ سے تحریراً آگاہ کردیا۔ اس پر انہوں نے میری درخواست حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں بھجوادی جو حضورؓ نے ازراہ شفقت قبول فرمالی۔ اور یوں خداتعالیٰ نے مجھے پہلا یورپین احمدی مبلغ بننے کی سعادت بخشی۔ یہ خداتعالیٰ کا ایک عظیم احسان ہے جو اس نے مجھ ناچیز پر فرمایا اور میرے لئے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔
ایک سوال کے جواب میں محترم آرچرڈ صاحب نے خدام کے نام یہ پیغام دیا کہ:
’’ میں تمام خدام کو قرآن کریم کی تعلیم کی روشنی میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے خیالات، قول اور فعل میں پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہیں کیونکہ یہی انسانی پیدائش کا مقصد عظیم ہے۔‘‘
اپنی زندگی خدمت دین کے لئے وقف کر نے کے بعد محترم آرچرڈ صاحب کچھ عرصہ لندن مشن میں خدمت کرتے رہے اور پھر 1948ء میں گلاسٹر کے مقام پر آپ کا پہلا تقرر ہوا۔ 1949ء میں گلاسگو (سکاٹ لینڈ) کے پہلے مبلغ مقرر ہوئے۔ تین سال بعد 1952ء میں آپ کو ویسٹ انڈیز بھجوایا گیا اور آپ قریباً 15 سال تک ٹرینیڈاڈ، گیانا، گریناڈا، اور کئی ملحقہ جزائر میں تبلیغ اسلام کرتے رہے۔ 1966ء میں آپ کا تقرر دوبارہ گلاسگو میں ہوا جہاں آپ کا قیام مسلسل 17سال تک رہا۔ 1983ء میں آپ آکسفورڈ مشن میں متعین ہوئے۔ اسی دوران انگریزی ماہنامہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ کی ادارت کی ذمہ داری آپ کے سپرد ہوئی اور قریباً 9 سال تک آپ یہ خدمت بجالاتے رہے۔ 1987ء میں آپ نے اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں رہائش اختیار کر لی۔ 1993ء کے آخر میں آپ کی تقرری بحیثیت مبلغ سلسلہ آکسفورڈ میں ہوگئی جہاں آپ اس وقت مقیم ہیں۔
……………………………
مذکورہ بالا انٹرویو غالباً 1994ء میں لیا گیا تھا۔ 1997ء تک محترم آرچرڈ صاحب بحیثیت مبلغ سلسلہ آکسفورڈ مشن میں تعینات رہے اور بعد ازاں ریٹائرڈ ہوگئے۔ 1993ء میں ہی مرکزی شعبہ کمپیوٹر اسلام آباد سے لندن منتقل ہوگیا اور خاکسار کے لندن منتقل ہونے کے بعد محترم آرچرڈ صاحب کے ساتھ ملاقاتوں کا تسلسل بھی قائم نہ رہ سکا۔ کبھی کبھار جب آپ کسی میٹنگ کے لئے لندن تشریف لاتے تو مسجد فضل میں یا ہمارے دفتر میں بھی تشریف لاتے اور ملاقات ہوجاتی۔ لیکن 2002ء میں خاکسار کی درخواست پر محترم آرچرڈ صاحب ایک روز خاص طور پر مرکزی شعبہ کمپیوٹر (واقع Hardwicks Way London) میں تشریف لائے اور آپ کے ساتھ تفصیلی نشست کا انعقاد ہوا۔ بعدازاں ایک اَور نشست بھی طَے ہوئی اور محترم آرچرڈ صاحب اُس روز وقتِ مقررہ پر تکلیف اٹھاکر ہمارے دفتر میں تشریف بھی لے آئے لیکن بدقسمتی سے خاکسار کو کسی ضروری کام سے جانا پڑگیا تو فون پر اُن سے بے حد معذرت بھی کی۔ بعدازاں کوئی نئی تاریخ مقرر کرنے سے قبل ہی یہ نہایت پیارا وجود 8؍جولائی 2002ء کو دل کے حملہ کے نتیجہ میں اپنے ربّ کے حضور حاضر ہوگیا۔ آپ کی عمر 82سال تھی۔ حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ نے 10؍جولائی کو آپ کی نماز جنازہ مسجد فضل لندن کے احاطہ میں پڑھائی اور بعدازاں تدفین احمدیہ قبرستان بروک ووڈ کے قطعہ موصیان میں عمل میں آئی۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔
……………………………
محترم بشیر احمد آرچرڈ صاحب کی ایک بہت خوبصورت نظم ہدیۂ قارئین کرنا چاہتا ہوں جو بوجوہ مجھے بہت پسند ہے …۔ ملاحظہ فرمائیں:

When things go wrong as they sometime will,
When the road you’re trudging seems all uphill.

When the funds are low and the debts are high,
And you want to smile, but you have to sigh.

When the care is pressing you down a bit –
Rest if you must, but don’t you quit.

Success is failure turned inside out,
The silver tint of the clouds of doubt,

And you never can tell how close you are,
It may be near when it seems afar.

So, stick to the fight when you’re hardest hit –
It’s when things go wrong that you mustn’t quit.

مذکورہ بالا سطروں کا مفہوم (جس سے مَیں نے بارہا نہ صرف لطف اٹھایا بلکہ بوقت ضرورت استفادہ بھی کیا ہے) کچھ یوں ہے کہ:
زندگی کی دوڑ میں جب کبھی تمہیں ایسی خوفناک مشکلات کا سامنا کرنا پڑے کہ ہمہ وقت یہ احساس ہوتا رہے کہ گویا تمہارے بوجھل قدم کسی ایسی راہ پر گامزن ہیں جو پہاڑوں کی بلندیوں کی طرف رواں دواں ہے۔
جب تمہارے روزافزوں اخراجات، تمہارے محدود ذرائع آمد سے تجاوز کرنے لگیں اور روزمرّہ زندگی میں ایسا بھی ہونے لگے کہ جب تم مسکرانے کی خواہش کرو تو اندر کہیں پاتال سے ایک آہ اُٹھ جائے۔
جب منزل کی تلاش میں اپنی توجہ مرکوز کرنا چاہو تو اچانک دل بیٹھنے لگے، تمہاری ہمّت ڈوبنے لگے اور حوصلہ جواب دینے لگے، تو یاد رکھو کہ ایسے میں بھی بوقتِ ضرورت کچھ آرام تو بیشک کرلو لیکن اپنی جدّوجہد ہرگز ترک نہ کرو۔
یاد رکھو کہ ہر کامرانی دراصل ناکامی میں ہی پوشیدہ ہوتی ہے بالکل اُسی طرح جس طرح شک کے گہرے اور سیاہ گھنے بادلوں کے کنارے بھی چاندی جیسے اُجلے اور سفید نظر آتے ہیں۔
پس بے شک تم اپنی شاندار کامیابی کو حاصل کرلینے کے وقت اور فاصلہ کا کبھی تعین نہیں کرسکتے۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ جب منزل کہیں دُور تلک دکھائی نہ دے اور اداسیاں بال کھولے کھڑی ہوں تو بہت ممکن ہے کہ تمہاری منزل لب بام ہی تمہارے قدم چوم لے۔
پس جب کبھی تم مصائب میں خود کو گھِرا ہوا پاؤ تو بھی اپنی جدّوجہد کو جاری رکھو۔
یاد رکھو کہ جب روزمرّہ نظامِ زندگی اپنی سمت کھو بیٹھے تو بھی تمہیں اپنی مساعی ترک نہیں کرنی ہے۔ یہ کوشش جاری رکھنی ہے۔ ہمیشہ اور ہمہ وقت۔ انشاء اللہ
(آئندہ شمارہ میں جاری ہے)

(قسط دوم- مطبوعہ انصارالدین مارچ و اپریل 2019ء)
محترم بشیر احمد آرچرڈ صاحب کے بارہ میں اپنے چند مشاہدات بیان کرنے سے قبل مَیں اُس بزرگ وجود کا ذکرخیر کرنا چاہتا ہوں جو محترم آرچرڈ صاحب کے قبولِ اسلام کا ذریعہ بنے یعنی

مکرم و محترم عبدالرحمن دہلوی صاحب

محترم عبدالرحمن صاحب دہلوی کی وفات قریباً ایک سو سال کی عمر میں 15فروری 2009ء کو کینیڈا میں ہوئی۔ آپ 1910ء میں دہلی میں حضرت ڈاکٹر عبدالرحیم صاحب دہلویؓ کے ہاں پیدا ہوئے تھے اور آپ کا نام حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ نے رکھا تھا۔ آپ تیرہ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ دہلی سے میٹرک اور قادیان سے مولوی فاضل کا امتحان پاس کرکے آپ لکھنؤ گولا کھنڈ کالج میں انگریزوں کو اُردو پڑھانے پر مقرر ہوئے۔ دوسری جنگ عظیم میں برٹش آرمی میں بھرتی ہوگئے اور ہندوستان کے مختلف علاقوں میں تعینات رہے۔ 1942ء میں آپ برما کے محاذ پر تھے جب آپ کی ملاقات لیفٹیننٹ جان برین آرچرڈ سے ہوئی جو اسلام قبول کرکے محترم بشیر احمد آرچرڈ کہلائے۔
محترم دہلوی صاحبؓ کو آنحضورﷺ سے غیرمعمولی عشق تھا اور ان کا نام آتے ہی آپ کی آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے۔ درودشریف کی برکات سے متعلق حضرت مولوی اسماعیل حلالپوری صاحب کی کتاب شائع کرکے آپ نے مفت تقسیم کی۔ بہت متوکّل اور دعاگو انسان تھے۔ رسول کریم ﷺ کی پاک و مطہر زندگی کے واقعات سناتے تو آنسوؤں سے آنکھیں نمناک ہوتیں۔ آنحضرت ﷺ کا نام لبوں پر آتا تو ہونٹ تھرتھرانا شروع کر دیتے، جسم پر کپکپی طاری ہوجاتی، گویا غم سے نڈھال ہوئے جا رہے ہیں۔
فوج سے سبکدوش ہو نے کے بعد 1958ء میں محترم دہلوی صاحب ربوہ منتقل ہوگئے اور 1980ء تک دفاتر صدر انجمن احمدیہ میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ 1982ء میں اپنے بیٹے کے پاس کینیڈا چلے گئے۔ یہاں آپ تبلیغ کرنے کے مواقع کی تلاش میں رہتے۔ آپ نے ریڈکرسچین کالج میں بھی تعلیم حاصل کی ہوئی تھی۔ چنانچہ ایک عیسائی ہمسائی آپ سے گفتگو کے بعد کہنے لگی کہ عیسائیت اور بائبل کا جتنا علم ان کو ہے ہمارے پادریوں کے پاس اُس کے مقابلہ میں عیسائیت کا کچھ بھی علم نہیں ہے۔ اسی طرح آپ اپنے فیملی ڈاکٹرلوئس کو بھی تبلیغ کیا کرتے تھے جو سابق وزیراعظم ملائشیا تنکوعبدالرحمن کے بھی معالج رہے تھے۔ وہ آپ کی باتیں سننے کے لئے دیر تک آپ کو اپنے پاس بٹھاتے اور کہتے کہ باہر بیٹھے لوگ تو میرے ہاتھ سے شفا پانے کا انتظام کررہے ہیں لیکن یہاں اند ر مَیں مسٹر دہلوی کے ذریعے اپنی روحانی شفا کا بندوبست کررہا ہوں۔ ایک روز ڈاکٹر لوئس کہنے لگے کہ میں ان کی باتوں پر گھر جاکر گھنٹوں غور کرتا ہوں اور اگر دنیا میں کچھ اَور لوگ بھی اِن جیسے ہوجائیں تو یہ دنیا تو بہشت بن سکتی ہے۔
محترم دہلوی صاحب نے قرآن و حدیث، حضرت مسیح موعودؑ اور خلفاء کے ارشادات کو لکھ لکھ کر اور اُن کی بے شمار عکسی نقول کرواکر ایک بڑے تھیلے میں اپنے پاس رکھی ہوتی تھیں۔ جلسہ ہوتا یا کوئی شادی بیاہ کی تقریب ہوتی، ہر جگہ اور ہر محفل میں آپ وہ پمفلٹ تقسیم کرتے۔ آپ فرمایا کرتے تھے میں دہلی اور کوئٹہ میں تبلیغ کرتے ہوئے ماریں بھی کھا چکا ہوںاور کوئٹہ میں تو ایک شخص نے میری عینک بھی توڑ دی تھی۔ اور ایک بار ایک شخص چاقو لے کر مجھے مارنے بھی آگیا تھا لیکن پھر پتہ نہیں اُسے کیا ہوا کہ بجائے مارنے کے وہ میرے سامنے کھڑا ہوکر کانپنے لگا۔ میں نے اُس سے وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ اُسے مولویوں نے مجھے مارنے کے لئے بھیجا تھا اور کہا تھا کہ اس طرح وہ جنت کا حقدار ہوجائے گا۔ وہ میرے پیروں پر گر پڑا اور معافی مانگنے لگا۔میں نے اُس سے کہا کہ معافی مانگنی ہے تو خدا سے مانگ۔
ایک بار آپ کے بیٹے نے آپ سے کہا کہ شادی بیاہ پر یہ تھیلا نہ لایا کریں اور وہاں کچھ نہ بانٹا کریں تو آپ اُس سے کہنے لگے کہ سمجھ لو تمہارا باپ پاگل ہے، اُسے تبلیغ کا جنون ہے۔ اُس کے لئے موقع محل کچھ نہیں ہے۔ اُسے تو یہ فکر ہے کہ کسی طرح اسلام اور احمدیت کا پیغام ساری دنیا تک پہنچ جائے۔
کینیڈا آنے کے چند دن بعد آپ اپنے بیٹے سے کہنے لگے کہ پاکستان میں تو تم نماز اور قرآن روزانہ پڑھنے کی پابندی کرتے تھے لیکن اب دین کا خانہ بالکل خالی ہے۔ اس سے تو بہتر تھا کہ تم پاکستان میں رہتے لیکن دین تمہارے پاس رہتا۔ اِس نصیحت کے نتیجہ میں آپ کے بیٹے نے نہ صرف نماز اور قرآن کی تلاوت میں باقاعدگی اختیار کی بلکہ روزانہ نصف گھنٹہ کے لئے حضرت مسیح موعودؑ کی کتب بھی آپ کو سنایا کرتے اور اس طرح کم از کم تین بار ساری کتب بھی پڑھ ڈالیں۔
1986ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کینیڈا تشریف لائے تو آپ نے حضورؒ سے عرض کیا کہ میری خواہش ہے کہ میری وفات کے بعد آپؒ میرا جنازہ پڑھائیں۔ حضورؒ نے مسکراکر فرمایا کہ دہلوی صاحب ایسی بھی کیا جلدی ہے۔ آپ ابھی بہت جئیں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو لمبی اور صحت والی عمر عطا فرمائی۔ 99سال کی عمر میں بھی اپنے کام خود کرتے تھے۔ آخری دن تک تہجد اور فجر کی نماز کے لئے اُٹھے۔ وضو کیا اور کھڑے ہوکر نمازیں ادا کیں۔ کینیڈا میں دو بار آنکھوں کا آپریشن ہوا جس کی وجہ سے صحیح طور پر تلاوت قرآن یا حضرت مسیح موعودؑ کی کتب نہ پڑھ سکتے اور اس کا آپ کو بہت صدمہ تھا۔
آپ موصی تھے اور تحریک جدید کے اوّلین پانچ ہزاری مجاہدین میں شامل تھے۔ اردو زبان پر مسلمہ قدرت حاصل تھی۔ ادب اور شاعری سے بھی لگاؤ تھا۔ غالب کے فارسی کلام پربھی مکمل عبور حاصل تھا۔ قیام پا کستان سے قبل وہ مسلم لیگ کے جلسوں میں تقریریں کیا کرتے تھے۔ نیک دل، دوست نواز،حد درجہ مہمان نواز اور عبادت گزار انسان تھے ۔ خوش مزاجی اور خوش خلقی کا ثبوت دیتے ہوئے مہمانوں کی حد درجہ تواضع کرتے۔ سادہ مگر صاف ستھرا لباس زیب تن فرماتے۔ سیاہ رنگ کی شیروانی اور جناح کیپ ضرور پہنتے۔
آپ کی قبولیت دعا کے بے شمار واقعات ہیں۔ مثلاً آپ خود تحریر فرماتے ہیں کہ رنگون سے میرا تبادلہ برما کمانڈ کے ہیڈکوارٹر میں ہوگیا۔ رنگون کا سٹاف پکی عمارتوں میں رہتا تھا اور برما کمانڈکا سٹاف خیموں میں۔ چونکہ برما میں بارشیں کافی ہوتی ہیں اس وجہ سے میں برما کمانڈ جانا نہیں چاہتا تھا۔ میرے ساتھیوں میں سے کوئی بھی وہاں جانے پر رضامند نہیں تھا۔ ہمیں مع ہمارے سامان کے ٹرک پر بٹھا دیا گیا اور ٹرک ہمیں لے کر روانہ ہوگیا۔ اُس وقت تیز بارش بھی شروع ہوگئی۔ میں نے دعا کرنی شروع کردی کہ کسی طرح ہماری یہ تبدیلی رُک جائے۔ اس بارش کے دوران ہم برما کمانڈ کے ہیڈ کوارٹر پہنچے۔ ہمارے انٹرویو کے لئے تین میجروں کا ایک بورڈ مقرر تھا۔ ہم باری باری بورڈ کے سامنے انٹرویو کے لئے جاتے رہے۔ جب میں اپنی باری ختم کرکے واپس آیاتو موسلادھار بارش جاری تھی۔ میں نے دعا شروع کردی کہ الٰہی اس تبدیلی کے آرڈر کو منسوخ کردے۔ قربان جائیے خداوند تعالیٰ کی قدرت کے کہ جن الفاظ میں مَیں نے دعا کی تھی انہی الفاظ میں اُس نے منظور فرمالی اور انٹرویو کرنے والے افسر نے ہمارا تبادلہ منسوخ کردیا۔
ایک واقعہ جو محترم دہلوی صاحب نے خاکسار راقم الحروف کے نام اپنے ایک خط میں تحریر فرمایا وہ آپ کے الفاظ میں یوں ہے کہ برما میں Meiktila میں میرے ساتھ ہسپتال میں ایک مولوی عمر خطاب صاحب مولوی فاضل ہوتے تھے۔ ایک دن میں نے اُن سے کہا کہ چلو Mamyo میں احباب جماعت سے ملاقات کر آئیں۔ وہاں ہمارا ریکارڈ آفس تھا اور کئی ہندوستانی احمدی بھی وہاں تھے۔ آفیسر کمانڈنگ Major M.A. Mohar نے ازراہِ نوازش اپنی ذاتی جیپ ہمیں استعمال کے لئے دیدی اور ایک ہندو ڈرائیور بھی دیدیا۔ شام کو اُس ڈرائیور سے میں نے کہا کہ جیپ کو اچھی طرح دیکھ بھال کر پٹرول وغیرہ بھرلے۔ دوسرے دن علی الصبح ہم روانہ ہوئے تو ڈرائیور نے میرے پوچھنے پر بتایا کہ اُس نے رات کو پٹرول بھر لیا تھا۔ قریباً ساٹھ میل کا سفر طے کیا ہوگا کہ جیپ کھڑی ہونے لگی۔ میں نے ڈرائیور سے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے؟ مگر وہ خاموش رہا۔ باربار دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ پٹرول ختم ہوگیا ہے۔ وہ کہنے لگا کہ رات کو بارہ بجے تک ہم جیپ میں گھومتے رہے اور معلوم ہوتا ہے کہ رات کو سارا پٹرول خرچ ہوگیا۔ ہم کافی دیر تک سڑک پر کھڑے انتظار کرتے رہے کہ کسی فوجی گاڑی سے تھوڑا سا پٹرول مل جائے مگر کوئی پٹرول دینے کے لئے تیار نہ ہوا۔ وہ بڑے خطرناک دن تھے۔ برمی ہندوستانیوں کے سخت خلاف تھے اور جہاں اِکّا دُکّا ہندوستانی کو اکیلے پاتے تو قتل کردیتے تھے۔ ہم اُس وقت بالکل جنگل میں تھے، کوئی ہتھیار پاس نہ تھا اور قرب وجوار میں کوئی بڑی بستی بھی نہ تھی۔ میں جیپ میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا اور ڈرائیور سے کہا کہ گاڑی چلاؤ۔ میں نے دعا شروع کردی اور عرض کیا کہ بارِ الٰہی پٹرول میں یہ خاصیت کہ وہ موٹر کو چلاتی ہے کس نے پیدا کی؟ آپ نے ہی تو پیدا کی ہے۔ آج آپ ہوامیں وہ خاصیت پیدا کردیجئے اور ہوا کو حکم دیجئے کہ وہ گاڑی کو چلائے۔ ڈرائیور نے گاڑی چلانا شروع کی۔ لیکن ڈرائیور جب کبھی سامنے سے کوئی سول یا ملٹر ی گاڑی آتے دیکھتا تو اس گاڑی کے ڈرائیور سے درخواست کرتا کہ ایک دو گیلن پٹرول دے دو مگر کوئی دینے کے لئے رضامند نہ ہوتا۔ یہاں تک کہ ہم مانڈلے کے قریب پہنچ گئے۔ مانڈلے سے چند میل کے فاصلہ پر ایک سول گاڑی خراب ہوئی کھڑی تھی۔ باوجودیکہ میں نے ڈرائیور سے کئی مرتبہ کہا کہ گاڑی کھڑی کرکے پٹرول نہ مانگو اور چلتے چلو۔ مگر اُس نے اس جگہ پھر گاڑی روک لی اور اس گاڑی کے ڈرائیور سے بھی وہی پٹرول کا مطالبہ دہرادیا۔ وہ ڈرائیور اس شرط پر ایک گیلن پیٹرول دینے پر راضی ہوا کہ مانڈلے پہنچ کر وہ دو گیلن پٹرول وصول کرے گا۔ چنانچہ ایک گیلن پٹرول گاڑی میں ڈال کر ڈرائیور نے مجھے بتایا کہ آج تک اُس نے ایسا کبھی نہیں دیکھا کہ گاڑی بغیر پٹرول کے چالیس میل چلی ہو۔ میں نے اسے جواب دیا کہ آج اگر تم یہ گاڑی اسی صورت میں بغیر پٹرول ڈالے میمیو تک بھی لے جاتے تو گاڑی راستے میں پٹرول نہ ہونے کی وجہ سے کبھی نہ رکتی…۔
اسی طرح کے کئی واقعات محترم دہلوی صاحب کی پاکیزہ زندگی کا حصہ تھے۔
======================

محترم بشیر احمد آرچرڈ صاحب

محترم بشیر احمد آرچرڈ صاحب کے حوالہ سے ذاتی مشاہدات پر مبنی چند معروضات پیش کرنے سے قبل خاکسار آپ کے بڑے بیٹے مکرم ناصر احمد آرچرڈ صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہے جنہوں نے اپنی یادداشت کی بنیاد پر تحریر کئے جانے والے خاکسار کے اس مضمون میں بعض خاندانی امور میں معلومات کی درستی کے لئے گرانقدر تعاون فرمایا۔ فجزاھم اللّٰہ احسن الجزاء۔
*** پہلے انگریز واقف زندگی ہونے کا اعزاز حاصل کرنے والے اس قابل قدر وجود سے راقم الحروف کا تعارف 1989ء میں اُس وقت ہوا جب خاکسار کا تقرر اسلام آباد (ٹِلفورڈ۔ یُوکے) میں قائم رقیم پریس کے کمپیوٹر سیکشن میں ہوا۔ یہاں دنیا کی مختلف زبانوں میں سلسلہ کی کتب کے تراجم اور مسودات کے علاوہ چند رسائل کی ٹائپ سیٹنگ، ڈیزائننگ اور پرنٹنگ کی جاتی تھی جن میں سے ایک انگریزی ماہنامہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ تھا۔ محترم بشیر احمد آرچرڈ صاحب اس رسالہ کے مدیر تھے۔ اگرچہ رسالہ کے ادارتی بورڈ میں کچھ دیگر احباب کے اسماء بھی شامل تھے تاہم اس حوالہ سے تمام تر ذمہ داری محترم آرچرڈ صاحب کے کاندھوں پر ہی تھی اور آپ اس ذمہ داری کو نہایت احسن رنگ میں تن تنہا سرانجام دے رہے تھے اور اس میں ازحد اطمینان اور سرور محسوس کرتے تھے۔ اس رسالہ کے مضامین کی ٹائپنگ کی سعادت خاکسار کو ملنے لگی تو اس درویش صفت وجود سے قربت کا تعلق بھی آہستہ آہستہ بڑھنے لگا اور مجھے یہ احساس ہوتا چلا گیا کہ اپنے نفس کو تابع رکھنے کا ہنر جاننے والا یہ وجود تعلق باللہ اور مخلوق کی ہمدردی میں بہت بلند مقام پر فائز تھا۔
*** 1989ء کے آغاز میں دنیابھر میں صد سالہ جوبلی کے جشنِ تشکّر کے سلسلہ میں مختلف پروگرام تشکیل دیئے جارہے تھے۔ تمام رسائل اپنی خصوصی اشاعتوں کی تیاری میں بھی مصروف تھے۔ رسالہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ بھی نسبتاً ضخیم تھا اور اس میں ’’جماعت احمدیہ کی صد سالہ تاریخ‘‘ کے حوالہ سے بھی ایک تفصیلی مضمون شامل اشاعت تھا۔ اس مضمون کی ٹائپنگ کرتے وقت مجھے اس اہم مضمون میں چند تاریخی اغلاط کا احساس ہوا۔ خاکسار نے اس کا ذکر آپ سے کیا تو آپ واقعۃً پریشان ہوگئے اور کہنے لگے کہ یہ مضمون اردو زبان میں تھا جس کا انگریزی میں ترجمہ کسی سے کروایا ہے اور کسی دوسرے سے چیک بھی کروایا ہے۔ پھر کہنے لگے کہ اسلام آباد میں تو کوئی ایسی لائبریری نہیں ہے جس کی مدد سے مَیں اس کو چیک کرسکوں لیکن کیا تم اِس مضمون میں ایسی غلطیوں کی نشاندہی کرسکتے ہو جو یقینی طور پر واقع ہوئی ہیں۔ اس پر خاکسار نے ایسا ہی کیا اور ’یورپ میں احمدیہ مراکز تبلیغ‘ کے موضوع پر لکھے ہوئے اپنے ایک مضمون کی نقل بھی آپ کو مہیا کردی۔ اس مقالہ میں مستند ریفرنسز بھی موجود تھے۔ خاکسار کی اس کاوش کو قبول کرتے ہوئے محترم آرچرڈ صاحب نہایت درجہ شکرگزار ہوئے اور دراصل باہم علمی گفتگو کا آغاز تب سے ہوگیا۔
*** محترم آرچرڈ صاحب ایک درویش صفت، نہایت دعا گو اور بزرگ احمدی مبلغ تھے۔ مزاج نہایت دھیما اور لب و لہجہ بہت میٹھا تھا۔ سخت بات نہ کسی کو کہہ سکتے تھے بلکہ اگر کبھی کسی دوسرے کو بھی تلخ لہجے میں کسی اَور سے بات کرتا ہوا دیکھ لیتے تو بھی آپ کی طبیعت پر بہت گراں گزرتا اور بعد میں بار بار اس بات کا اظہار کرتے کہ ہمارا رویّہ آپس میں مشفقانہ ہونا چاہئے اور ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ بہرحال نرمی اور خندہ پیشانی سے پیش آنا چاہئے۔
*** حقیقت یہی ہے کہ محترم آرچرڈ صاحب کو کبھی بھی کسی سے غصّہ کی حالت میں مخاطب ہوتے ہوئے مَیں نے نہیں دیکھا۔ اگر کسی کی کوئی بات انتہائی ناگوار بھی محسوس ہوتی (جس کی بڑی وجہ نادانستہ یا مذاق میں غلط بیانی ہوا کرتی تھی) تو آپ شدید کرب محسوس کرتے اور اس کا اظہار نہ صرف اپنی زبان سے کردیتے بلکہ وہ کرب آپ کے چہرہ سے بھی عیاں ہوتا۔
*** محترم آرچرڈ صاحب انتہائی درجہ کا سچ بولنے کے عادی تھے اور دوسروں سے بھی یہی توقع رکھتے تھے۔ قولِ سدید کو نہ صرف اپنی شخصیت کا حصّہ بنالیا تھا بلکہ اپنے ماحول میں بھی اسے فروغ دینے کے لئے ہرممکن کوشش فرماتے۔ ایک بار فرمانے لگے کہ تم ایشین لوگ سچ کو بھی سچ کی طرح نہیں بولتے۔ میرے حیرت کا اظہار کرنے پر فرمایا کہ تم لوگ جب آپس میں ملتے ہو تو سلام کے بعد حال پوچھنے پر فوراً جواب دے دیتے ہو کہ الحمدللہ بالکل ٹھیک ہوں۔ لیکن تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد یہ پتہ چلتا ہے کہ دو دن سے فلُو کی وجہ سے کمزوری ہے یا رات سے کمر میں درد ہے وغیرہ۔ اس کا مطلب تو یہی ہے کہ پہلا بیان پوری سچائی نہیں تھا۔
آپ کی یہ بات سُن کر مَیں واقعۃً ہکّابکّا رہ گیا اور اُس روز سے مَیں نے محترم آرچرڈ صاحب کی روزمرّہ بات چیت کو خاص طور پر آپ کے مذکورہ بالا بیان کی روشنی میں پرکھنا شروع کیا تو مجھے احساس ہوا کہ آپ سچ بولنے کے اس قدر عادی تھے کہ سچ بولنے کے سوا، شاید کوئی فقرہ بول ہی نہیں سکتے تھے۔ کبھی مذاق میں بھی جھوٹ کا شائبہ نہیں ہوتا تھا۔
یہی وجہ تھی کہ جب بھی آپ کی خدمت میں دعا کی درخواست کی جاتی اور آپ اس کا وعدہ کرلیتے تو نہ صرف خاص طور پر دعا کرتے بلکہ بعد میں اس معاملہ کے بارہ میں دریافت بھی کرتے رہتے ۔ دراصل آپ کی سچائی آپ کی روزمرّہ زندگی بلکہ فطرت کا حصہ بن چکی تھی۔ جب بھی کوئی وعدہ کرتے تو پوری طرح سوچ سمجھ کر کرتے کہ اُسے پورا کرسکیں گے یا نہیں اور پھر اپنا وعدہ ایفاء کرنے کے لئے ہرممکن کوشش کرتے خواہ یہ وعدہ کسی کے ذاتی امور سے متعلق ہوتا یا کسی دینی پروگرام کی غرض پیش نظر ہوتی۔
سچائی کا یہی اعلیٰ معیار محترم آرچرڈ صاحب کی مالی قربانیوں سے بھی عیاں ہوتا تھا۔ مالی قربانی میں آپ کا مقام اتنا نمایاں تھا کہ جب پہلی بار مجھے آپ کی ماہوار قربانی کا علم ہوا تو ایسا محسوس ہوا کہ گویا آپ نے اپنا سب کچھ ہی خدمتِ دین کے لئے پیش کردیا ہے اور مال، وقت اور جان … ہر چیز عملاً قربان کردی ہے۔ لیکن باوجود خواہش کے مَیں کبھی اُن سے اُن کے مالی معاملات کے بارہ میں استفسار نہیں کرسکا۔ جس خاموشی سے وہ آکر چندہ ادا کیا کرتے تھے یہی خاموشی مجھے اپنی حیرت کو چھپانے پر مجبور کرتی رہی۔
*** محترم آرچرڈ صاحب کی ایک بہت بڑی خوبی وقت کی پابندی تھی۔ آپ اس بات سے شدید کوفت محسوس کرتے تھے کہ دیئے گئے وقت کے بعد بلاوجہ انتظار کروایا جائے۔ چنانچہ محترم آرچرڈ صاحب جب گلاسگو (سکاٹ لینڈ ) میں تعینات تھے تو احباب جماعت اجلاسات میں شامل ہونے کے لئے چند منٹ دیر سے آنے کے عادی تھے اور اسے کوئی بُرا بھی نہیں سمجھتا تھا۔ لیکن محترم آرچرڈ صاحب کی تعیناتی کے بعد جب پہلے اجلا س کے لئے لوگ آنا شروع ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ اجلاس وقتِ مقررہ پر شروع ہوچکا تھا اور ٹھیک وقت پر محترم آرچرڈ صاحب نے پوڈیم پر کھڑے ہوکر اپنی تقریر کا آغاز کردیا تھا۔ چنانچہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے ہی اجلاس سے اکثر احباب نے وقت کی پابندی شروع کردی۔
*** محترم آرچرڈ صاحب اپنے اُس مقام سے پوری طرح آشنا تھے جس کا اظہار سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ نے آپ کے نام اپنے ایک ابتدائی خط میں یوں فرمایا تھا:
’’اگرچہ آج آپ کے ملک کے لوگ بھی آپ کو نہیں جا نتے چہ جائیکہ دنیا آپ کو جانے کہ آپ کون ہیں۔ مگر وہ وقت نزدیک ہے جب رُوئے زمین پر خداکے نام کا بول با لا ہوگا اور دنیا میں ہر جگہ احمدیت کا چرچا ہوگا۔ پھر ایک وقت آئے گا جب آپ کے وطن کے لوگ تاریخ کے ان اوراق کا مطالعہ کریں گے کہ احمدیت کے آغاز کے زمانہ میں ایک انگریز بھی تھا جس نے احمدیت قبول کی تھی۔ جب انہیں معلوم ہوگا کہ بشیر احمد آرچرڈ نام کے ایک شخص نے احمدیت قبول کی تھی تو پھر وہ مطمئن ہو جائیں گے کہ انگریز قوم نے اپنا حق پورے طور پر ادا کیا۔
بے شک آج آپ کو کوئی نہیں جانتا اور کسی نے آپ کا نام نہیں سنا لیکن یاد رکھو کہ ایک زمانہ آئے گا کہ قومیں آپ پر فخر کریں گی اور آپ کی تعریف کے گیت گائیں گی اس لئے آپ اپنے قول و فعل پر نظر رکھو۔ یہ مت خیال کرو کہ جو کچھ آپ کر رہے ہو وہ آپ کا ذاتی فعل ہے بلکہ وہ فعل تمام انگریز قوم کی طرف منسوب ہو گا اور آئندہ آنے والی نسلیں آپ کی پیروی کریں گی۔ … اگر آپ کے افعال اور آپ کا کردار اسلامی تعلیم کے مطابق ہو گا اور آپ کے افعال اعلیٰ ہوئے تو وہ آپ کی قوم کے اخلاقی کردار کو بڑھانے میں مُمِّدد ہوں گے۔ لیکن اگر وہ اسلامی تعلیم کے مطابق نہ ہوئے تو آپ کی قوم کو نقصان ہو گا اس لئے کوشش کرو کہ آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے عمدہ نمونہ قائم کرو، ورنہ خداتعالیٰ آپ کی جگہ اپنے کسی اَور بندے کا انتخاب کرلے گا جو یہ کام کر سکے۔ جب احمدیت کا دنیا میں غلبہ ہوجائے گا اور انشاء اللہ ایسا ہو گا اور دنیا کی کوئی طاقت ایسی نہیں جو اِس ترقی کو روک سکے تب لوگوں کے دلوں میں آپ کے لئے عظمت ہو گی، اس عظمت سے بھی زیادہ، جو اُن کے دلوں میں بڑے وزیراعظم کے لئے ہے۔‘‘
(ریویو آف ریلجنز جون 1947ء)
حضرت مصلح موعودؓ کی مذکورہ بالا توقّعات کو محترم آرچرڈ صاحب نے کبھی فراموش نہیں کیا۔ اپنے قول و فعل ، ہر دو کے بارہ میں بےحد محتاط تھے بلکہ شک میں مبتلا کرنے والے امور سے بھی ہمیشہ مجتنب رہتے تھے۔ اس حوالہ سے کئی مثالیں میرے ذہن میں موجود ہیں۔ مثلاً یورپ کی مارکیٹ میں جو ٹائیاں عام طور پر دستیاب ہیں وہ کُلّی طور پر یا جُزوی طور پر مصنوعی Silk سے تیار کی جاتی ہیں۔ یہ ٹائیاں نہ صرف دیکھنے میں چمکدار اور خوشنما معلوم ہوتی ہیں بلکہ اِن کی گرہ لگانا اور کھولنا بھی آسان ہوتا ہے۔ لیکن محترم آرچرڈ صاحب وہ ٹائی استعمال نہیں کرتے تھے جس میں Silk کی ملاوٹ بھی ہو۔ اس حوالہ سے ایک بار فرمانے لگے کہ اسلام نے ریشم کا استعمال مَردوں کے لئے ممنوع قرار دیا ہے۔ مَیں نے عرض کیا کہ اصل ریشم کا استعمال تو واقعی مسلمان مَردوں کے لئے حرام ہے لیکن یہ تو مصنوعی ریشم ہے جس کا صرف نام ہی Silk ہے۔ اس پر آپ فرمانے لگے کہ ممکن ہے کہ ان کے استعمال میں کسی حد تک اصل ریشم بھی استعمال ہوتا ہو۔ یا بہرحال ان کی ریشم کے ساتھ ایک مماثلت تو موجود ہے اس لئے میری طبیعت اِن کے استعمال کو نہیں مانتی۔ غالباً آپ نے مثال کے طور پر ایسی غذاؤں کا بھی ذکر کیا جن میں شاید معمولی سی سؤر کی چربی (Lard) کی آمیزش موجود ہوسکتی تھی۔ چنانچہ آپ ایسی دکانوں سے فرائی چِپس اور فرائی مچھلی لینا پسند نہیں فرماتے تھے جہاں سؤر کے گوشت یا چربی سے بنی ہوئی اشیاء بھی فرائی کی جاتی ہوں۔ سٹورز سے کبھی کیک یا کوئی ایسی کھانے کی چیز نہیں خریدتے تھے جس میں موجود اجزاء کی فہرست میں جانوروں کی چربی (Animal Fat) بھی شامل ہوتی تھی۔
*** محترم آرچرڈ صاحب تقویٰ کی نہایت باریک راہوں پر بہت محتاط انداز میں قدم اٹھاتے تھے۔ آپ اپنی ذات کی حد تک ہر قسم کی تکلیف برداشت کرلیتے لیکن کبھی ایسی بات کو اختیار نہ فرماتے جس بارہ میں کبھی شک و شبہ بھی آپ کے ذہن میں آیا ہو۔ آپ کی تربیت میں بہت زیادہ دخل حضرت مصلح موعودؓ کے بعد حضرت چودھری محمد ظفراللہ خان صاحبؓ کا تھا۔ یورپ کی شدید سردیوں میں جب یہاں کے مقامی باشندے شراب (الکحل) سے مصنوعی حرارت جسم میں پیدا کرکے موسم کی شدّت کا مقابلہ کرتے وہاں مسلمان اکثر چائے اور کافی کا استعمال بڑھا دیتے ہیں۔ لیکن اس بات پر حیرت ہوتی تھی کہ محترم آرچرڈ صاحب نہ صرف چائے اور کافی کا استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ کیفین کا حامل کوئی مشروب (کولڈڈرنک) بھی استعمال نہیں کرتے تھے ۔ پوچھنے پر آپ نے بتایا کہ کیفین کسی حد تک نشہ آور ہوتی ہے اس لئے کئی دہائیاں گزر گئی ہیں مَیں نے کیفین والی کوئی چیز استعمال نہیں کی۔ مَیں نے عرض کیا کہ کئی ڈرنکس میں تو کیفین کی بہت ہی معمولی مقدار ہے اور پھر چائے کافی وغیرہ تو حرام نہیں ہیں۔ فرمانے لگے کہ ہاں حرام نہیں ہیں لیکن اگر اس سے بچا جاسکتا ہو تو ضرور بچنا چاہئے۔ مَیں نے پوچھا کہ شدید سردی میں پھر آپ کونسی گرم غذا استعمال کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ حضرت چودھری صاحبؓ نے مجھے بتایا تھا کہ سردیوں کے موسم میں گرم چاکلیٹ (Hot Chocolate) استعمال کرلیا کرو، مَیں بھی ایسا ہی کرتا ہوں اور اس حوالہ سے اُن کو نصیحت حضرت خلیفۃالمسیح الاولؓ نے اُس وقت کی تھی جب وہ اعلیٰ تعلیم کے لئے لندن آنے سے حضورؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ آرچرڈ صاحب نے بتایا کہ آپ بھی کئی دہائیوں سے ایسا ہی کررہے ہیں۔ اسی طرح آپ ایک مشروب Postum بھی استعمال کیا کرتے تھے جو Health Shop سے دستیاب تھا۔ یہ چائے کی طرح استعمال کیا جاتا ہے لیکن کیفین سے پاک ہے۔
ویسے محترم آرچرڈ صاحب بہت Health conscious تھے اور میدے کی بنی ہوئی ڈبل روٹی وغیرہ بھی استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ بغیر چھنے ہوئے آٹے کے استعمال کو ترجیح دیتے تھے۔ مجھے بارہا اُن کے ہمراہ شاپنگ کے لئے جانے کا اتفاق ہوا۔ کئی بار ہم Health Shops میں بھی گئے جہاں سے ذہنی تقویت کے لئے مختلف بیج (Nuts) اور خشک پھل خریدا کرتے تھے۔
*** اِسی حوالہ سے یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اُس زمانہ میں حلال گوشت کی دکانیں اتنی عام نہ تھیں بلکہ لندن کے دو چار علاقوں میں واقع چند دکانوں سے ہی حلال گوشت حاصل کیا جاسکتا تھا۔ اسلام آباد کے باسیوں کے لئے وہاں جاکر گوشت لانا واقعی کارے دارد تھا کیونکہ ذرائع آمدورفت انتہائی مسدود تھے اوراگر اُس وین میں جگہ مل بھی جائے جو روزانہ علی الصبح کارکنان کو لے کر مسجد فضل جاتی تھی اور رات گئے واپس لَوٹا کرتی تھی، تو بھی سارا دن بِلامقصد لندن میں گزارنا مشکل امر تھا۔ لیکن اسلام آباد کے نواحی علاقوں میں حلال یا ایشین اشیائے خورونوش کی عدم دستیابی بھی ایک حقیقت تھی۔ یہی کیفیت یورپ کے اکثر علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں کی تھی۔ چنانچہ برطانیہ کے مختلف علاقوں میں آباد مسلمان اس کا ایک حل تو یہ نکالا کرتے تھے کہ چونکہ یہودی بھی ذبیحہ کھاتے ہیں اس لئے اکثر مسلمان یہودیوں کے سٹورز سے بکرے کا گوشت حاصل کرکے اُس پر اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اُسے استعمال کرلیا کرتے تھے۔ لیکن مکرم آرچرڈ صاحب اس حوالہ سے بھی منفرد تھے۔ چنانچہ ایک بار فرمایا کہ جب باقاعدہ حلال ذبیحہ کا گوشت مہیا ہوسکتا ہو (خواہ اس کے لئے کتنا ہی تردّد کیوں نہ کرنا پڑے) تو پھر دوسرے کسی طریق سے دستیاب گوشت استعمال نہیں کرنا چاہئے۔
مَیں نے عرض کیا کہ بہت سے لوگ اُن حلال دکانوں میں مہیا کئے جانے والے گوشت کے بارے میں بھی شک کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور بعض مقامات سے ایسی خبریں بھی آئی ہیں کہ شاید گوشت صحیح طور پر ذبیحہ نہیں تھا بلکہ جہاں سے باقی گوشت آتا ہے، اُسی گوشت کو بعض مسلمان دکانداروں نے ذبیحہ کے نام پر مسلمانوں کو بیچ دیا۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ ہمیں خواہ مخواہ تجسّس نہیں کرنا چاہئے۔ اگر کوئی واقعہ سامنے آجائے تو اُس کی بنیاد پر فیصلہ لینا چاہئے ورنہ گوشت بیچنے والے کی بات پر یقین کرنا چاہئے سوائے اس کے کہ اُس کے خلاف کوئی واقعاتی ثبوت مل جائے۔ فرمانے لگے کہ مَیں جب بھی گوشت لینے خود جاتا ہوں، دکاندار سے یہ اظہار ضرور کردیتا ہوں کہ حلال گوشت چاہئے۔ لیکن پھر اس کے بعد بلاوجہ شک میں مبتلا نہیں ہوتا۔ پھر یہ اُس کا اور خدا کا معاملہ ہے۔
(آئندہ شمارہ میں جاری ہے۔ انشاء اللہ)

(قسط سوم- مطبوعہ انصارالدین مئی و جون 2019ء)
*** محترم آرچرڈ صاحب نہایت مخلص اور فدائی احمدی مبلغ تھے۔ ساری زندگی تبلیغ کا ایک جنون آپ کے اندر موجود رہا اور اس میدان میں آپ کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے تھے۔ دعاؤں پر کامل یقین تھا۔ اس حوالہ سے ایک واقعہ محترم بشیر احمد رفیق خان صاحب سابق امیر و مبلغ انچارج یوکے بیان کیا کرتے تھے کہ مَیں نے ایک خط محترم آرچرڈ صاحب کو اُس وقت لکھا جب آپ سکاٹ لینڈ میں بطور مبلغ تعینات تھے۔ نومبر کے آغاز میں لکھے گئے اس خط میں کہا گیا تھا کہ وہاں کے مقامی افراد کو احمدیت کی آغوش میں لانے کے لئے مزید محنت کریں ، مَیں نے یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ دعوت الی اللہ کے میدان میں بھرپور کوشش کی جائے تاکہ اسی سال چند بیعتیں حاصل ہوجائیں۔ اس خط کا جواب انہوں نے یہ لکھا کہ وہ تو اپنی ہرممکن کوشش کررہے ہیں لیکن سکاٹش لوگوں کی طرف سے مثبت ردّعمل دیکھنے میں نہیں آرہا۔ پھر نومبر کے وسط میں مجھے اُن کی طرف سے دوسرا خط ملا جس میں تحریر تھا کہ اسی سال وہ تین بیعتیں کروانے کی سعادت حاصل کرلیں گے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ چند دن قبل کے خط میں تو مختلف اظہارِ خیال کیا گیا تھا اور اِس خط میں یہ دعویٰ کیسے کیا جاسکتا ہے کہ اتنی مدّت تک تین بیعتیں ضرور حاصل کرلی جائیں گی۔ بہرحال اُنہوں نے اُس سال کے اختتام سے قبل (یعنی قریباً ڈیڑھ ماہ میں) تین بیعت فارم بھجوادیے۔ پھر کچھ عرصہ بعد جب میری ملاقات محترم آرچرڈ صاحب سے ہوئی تو مَیں نے اُن سے پوچھا کہ وہ تین افراد کی معینہ مدّت کے اندر بیعت کرلینے کے بارہ میں قبل از وقت کیسے بتاسکتے تھے؟ تب انہوں نے بتایا کہ میرا خط ملنے کے بعد انہوں نے نہایت گریہ و زاری سے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کیں کہ وہ رحم فرماتے ہوئے اسی سال کچھ سکاٹش لوگوں کو قبولِ حق کی توفیق عطا فرمادے۔ تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو اطلاع دی گئی کہ تین مقامی افراد بیعت کرنے کے لئے تمہاری طرف بھجوائے جائیں گے۔ اور علیم و خبیر کی طرف سے دی جانے والی یہ اطلاع اُس متوکّل شخص نے اُسی وقت لکھ کر بھجوادی۔
*** محترم آرچرڈ صاحب لمبا عرصہ اسلام آباد کی جماعت کے سیکرٹری تبلیغ بھی رہے۔ اپنی طاقت سے بڑھ کر اپنے فرائض کی بجاآوری کی کوشش کیا کرتے تھے۔ آپ کے پاس کار وغیرہ یعنی ٹرانسپورٹ کی سہولت نہیں تھی۔ اور اُس زمانہ میں اسلام آباد کے قریب سے غالباً کوئی بس بھی نہیں گزرتی تھی۔ تبلیغ یا اشیائے ضرورت لینے کی خاطر آپ کئی کئی میل پیدل بھی چلتے اور بعض مخلص دوستوں سے کبھی کبھار بامرمجبوری ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی حاصل کرلیتے۔
*** ایک بار مجھے کہنے لگے کہ کیا تم نے قریبی قصبے Farnham کے فلاں علاقہ کے گھروں میں تبلیغی پمفلٹس تقسیم کئے ہیں؟ مَیں نے اثبات میں جواب دیا تو فرمایا کہ آئندہ اُن پر میرے گھر کا ٹیلیفون نمبر بھی لکھ دیا کرو تاکہ اگر کوئی فون کے ذریعے رابطہ کرنا چاہے تو کرسکے۔
دراصل اُن پمفلٹس پر صرف مسجد فضل کا ہی پتہ اور ٹیلیفون نمبر وغیرہ درج تھا اور تقسیم کرنے سے قبل مَیں ہر پمفلٹ پر اپنے نام اور اسلام آباد کے ایڈریس کا ایک سٹکر چسپاں کردیتا تھا۔ لیکن چونکہ میرے پاس کوئی ذاتی فون نہیں تھا اس لئے اُس پر فون نمبر درج نہیں کرسکتا تھا۔ بہرحال محترم آرچرڈ صاحب نے یہ بھی بتایا کہ جن گھروں میں مَیں نے پمفلٹس تقسیم کئے تھے وہاں ایک گھر آپ کے زیرتبلیغ بھی تھا اور آپ اکثر وہاں جاتے رہتے تھے۔ انہوں نے وہ پمفلٹ آپ کو دکھایا تھا تو آپ کو اُس پر فون نمبر لکھنے کا بھی خیال آیا۔
*** جب 1993ء میں مسجد فضل لندن کے قریب Hardwicks Way میں مرکز نے دو بلڈنگز (نمبر 6 اور نمبر 10) خریدیں تو بہت سے دفاتر وہاں منتقل ہوگئے جن میں مرکزی شعبہ کمپیوٹر بھی تھا جو قبل ازیں رقیم پریس کا حصّہ تھا۔ نمبر 6 کی بلڈنگ میں واقع دو چھوٹے چھوٹے کمرے خاکسار اور ہمارے نہایت مخلص و فدائی احمدی بھائی محترم راویل بخاریو صاحب کو ذاتی رہائش کے لئے دے دیے گئے۔ محترم راویل صاحب کا ذکرخیر بھی اس عاجز پر ایک قرض ہے جو انشاء اللہ آئندہ کبھی ادا کرنے کی کوشش کروں گا۔ فی الحال محترم آرچرڈ صاحب کے حوالہ سے یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ آپ مجھ سے ملنے کے لئے کبھی کبھار اُس بلڈنگ میں بھی تشریف لایا کرتے تھے۔ عموماً ایسا اُس روز ہوتا جب آپ صبح اسلام آباد سے وین کے ذریعہ تشریف لاتے، اپنی ضروری میٹنگ وغیرہ سے فارغ ہوکر ایک شاپنگ سنٹر میں کچھ وقت گزارتے جس سے دو فرلانگ کے فاصلہ پر ہمارا دفتر تھا۔ چنانچہ یہاں بھی تشریف لے آتے۔
*** ایک بار مختصر وقت کے لئے دفتر میں تشریف لائے تو میری مصروفیات کا پوچھا۔ آپ کے پوچھنے کے دو واضح مطالب ہوا کرتے تھے۔ پہلا یہ کہ آجکل حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی کس کتاب پر کام ہو رہا ہے اور وہ کس زبان میں اور تیاری کے کس مرحلے میں ہے۔ کبھی اگر مَیں حضورؒ کی کسی انگریزی کتاب پر کام کررہا ہوتا تو میرے پاس ہی کرسی پر بیٹھ جاتے اور باقاعدہ اجازت لے کر اُس کتاب کے صفحات پڑھتے رہتے، بعض ٹائپنگ کی اغلاط کی نشاندہی بھی کردیتے۔ محترم آرچرڈ صاحب اور ان جیسے بعض دیگر دوستوں کے آنے سے میرے لئے بارہا آسانی پیدا ہوجاتی کیونکہ حضور رحمہ اللہ کے دست مبارک سے لکھے ہوئے نوٹس میں سے بعض مشکل الفاظ سمجھنا میرے لئے واقعی کارِدارد ہوتا تھا۔تاہم سیّدنا حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اور بعد میں سیّدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی متعدد کتابوں پر کام کرنے کے بعد اس امر کا مَیں حلفیہ اقرار کرسکتا ہوں کہ خداتعالیٰ ان بابرکت وجودوں کی طرف سے مفوضہ کام کو کرنے کے نتیجہ میں نہ صرف اُن کاموں کی تکمیل میں غیرمعمولی آسانیاں پیدا فرمادیتا ہے بلکہ میرے جیسے ناکارہ انسان کے کئی ذاتی کام بھی محض خداتعالیٰ کے فضل اور رحم کے نتیجہ میں معجزانہ طور پر ہوجاتے ہیں۔
بہرحال ذکرخیر چونکہ محترم آرچرڈ صاحب کا ہو رہا ہے تو عرض ہے کہ دفتر میں تشریف لانے کے بعد اُن کا مجھ سے کیا جانے والا دوسرا سوال عموماً تبلیغ کے بارہ میں ہوتا کہ دعوت الی اللہ کے حوالہ سے کوئی کوشش ذاتی طور پر کرنے کا موقع بھی ملا ہے یا نہیں؟ ایسے ہی ایک موقع پر مَیں نے انہیں بتایا کہ ہماری بلڈنگ جہاں واقع ہے یہاں زیادہ تر گودام اور دفاتر ہیں جو شام کو بند ہوجاتے ہیں تب بہت سے لوگ جو رات کو سیرو تفریح کے لئے نکلتے ہیں وہ ہماری سڑک پر کاریں پارک کرکے جاتے ہیں۔ نیز قریب ہی ایک نائٹ کلب بھی واقع ہے جس میں جانے والے بھی ہرWeekend پر رات بھر کے لئے ہماری سڑک اور پارکنگ میں اپنی گاڑیاں کھڑی کرکے جاتے ہیں اور علی الصبح فجر کی نماز کے وقت کلب سے نکل کر گاڑیوں میں بیٹھ کر اپنے گھروں کی طرف روانہ ہورہے ہوتے ہیں۔ لیکن اس وقت اُن کی حالت اُن کے اپنے اختیار میں بھی معلوم نہیں ہوتی۔ نیز ان لوگوں کا مزاج بھی مختلف ہوتا ہے اور ویسے بھی یہ نامناسب لگتا ہے کہ کسی سے بات چیت کرکے اسے بتایا جائے کہ کس قدر مصنوعی زندگی تم لوگ گزار رہے ہو۔ مَیں نے آرچرڈ صاحب سے درخواست کی کہ اگر وہ مجھے کوئی مختصر اور مؤثر تحریر انگریزی میں لکھ کر دے دیں تو مَیں اُسے خوبصورت انداز میں ٹائپ کرکے اِن پارک کی ہوئی گاڑیوں پر رات کو لگادیا کروں گا۔ ممکن ہے دن چڑھنے پر اُن کی نظر اس تحریر پر پڑے، اُسے پڑھنے کا موقع بھی اُنہیں ملے اور اُن پر اس کا اثر ہوجائے۔
محترم آرچرڈ صاحب جب چند روز بعد دوبارہ دفتر تشریف لائے تو آپ کے ہاتھ میں چند سطروں کی ایک انگریزی نظم تھی جو آپ نے خاص طور پر مذکورہ بالا لوگوں کو سامنے رکھ کر کہی تھی۔ اُس نظم میں اس مضمون کو بڑی خوبصورتی اور سادگی سے بیان کیا گیا تھا کہ ہماری یہ زندگی (وقت) اور یہ صحت اور دوسری طاقتیں اس لئے نہیں ہیں کہ انہیں ضائع کردیا جائے بلکہ صرف اس لئے ہیں کہ اپنے خالق کو پہچان کر اُس کی مخلوق کی خدمت کے راستے تلاش کئے جائیں۔
مجھے افسوس ہے کہ محترم آرچرڈ صاحب کی مذکورہ بالا نظم مجھے پرانے کاغذات میں سے نہیں مل سکی… تاہم آنمحترم کی ہی ایک دوسری نصیحت آموز اور ولولہ انگیز نظم ہدیۂ قارئین ہے تاکہ آپ کی انسانی نفسیات سے شناسائی، ذہنی بلوغت، ادبی قابلیت اور قوّت بیان کا کسی قدر اندازہ محترم قارئین بھی کرسکیں۔ یہ خوبصورت نظم بھی اُن نظموں میں سے ایک ہے جو بوجوہ مجھے بہت پسند ہیں۔ نظم کا عنوان ہے: ’’ایک مسکراہٹ‘‘۔

A Smile
A smile costs nothing,
yet it means so much.
It enriches those who receive
without making poorer those who give.
It takes but a moment,
yet the memory of it may last forever.
A smile creates happiness in the home,
and is the sign of friendship.
It brings cheer to the discouraged,
sunshine to the sad
and is nature’s best antidote to trouble.
Yet a smile cannot be bought,
begged, borrowed or stolen,
it is of no value to anyone
unless it is given away.
Some people are too tired to give you a smile,
so give them one of yours.
No-one needs a smile as much as he
who has none to give.

اس نظم کا مفہوم جس طرح سے اسے مَیں نے سمجھا ہے اور لطف اٹھایا ہے وہ کچھ اس طرح سے ہے کہ:
صرف ایک ہی بار اپنی مسکراہٹ کسی دوسرے پر نچھاور کرنے سے بہت کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے جبکہ مسکرانے والے کا کچھ خرچ بھی نہیں آتا۔
ایک مسکراہٹ ۔ دیکھنے والے کے دل کو جذباتِ اُلفت سے بھر دیتی ہے اگرچہ مسکرانے والے کی کسی شئے میں کمی واقع نہیں ہوتی۔
مسکرانے والے کی ہلکی سی مسکراہٹ کا وہ ایک ’منفرد لمحہ‘ دیکھنے والے کے دل و دماغ میں ایک خوشگوار یاد بن کر ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
گھروں کے ماحول کو خوشگوار بنانے میں مسکراہٹ کا کردار بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ باہمی تعلقات کی گہرائی ماپنے کا بھی یہ ایک عمدہ ذریعہ ہے۔
حوصلہ شکنی کے شکار لوگوں کے لئے یہ (مسکراہٹ) ایک پیغامِ مسرّت ہے اور اداس و دل گرفتہ لوگوں کے لئے طلوع ہوتے ہوئے سورج کی روشنی کی مانند امید کی ایک کرن ہے۔ اور پھر روزمرّہ پیش آنے والی تکالیف کے تدارک کے لئے یہ قدرت کی طرف سے عطا کیا جانے والا بہترین تریاق بھی ہے۔
لیکن چونکہ مسکراہٹ کبھی خریدی نہیں جاسکتی۔ بلکہ اسے خیرات میں یا قرض کے طور پر بھی کسی سے نہیں لیا جاسکتا اور نہ ہی یہ کوئی ایسی چیز ہے جسے چرایا جاسکتا ہو۔ چنانچہ کسی بھی شخص کے لئے مسکراہٹ کو اپنے اندر محبوس رکھنے کی کوئی اہمیت نہیں ہے تاآنکہ وہ اسے کسی دوسرے پر نچھاور نہ کردے۔
بے شک بعض لوگ دوسروں کے لئے مسکرانے کے عمل میں انتہائی بخل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ لیکن تم کو چاہیے کہ اُن بخیل لوگوں کے لئے بھی ایک بار تو ضرور ہی مسکرادیا کرو۔ کیونکہ (ذرا سوچو کہ) اُس بخیل سے زیادہ اس مسکراہٹ کا حقدار اَور کون ہوسکتا ہے جس بے چارے کے پاس کسی دوسرے کو دینے کے لئے ایک مسکراہٹ بھی نہ ہو!۔
*** جب بھی محترم آرچرڈ صاحب سے کسی دینی یا دنیاوی موضوع پر کوئی سوال کیا جاتا تو آپ بہت سوچ سمجھ کر اور نپے تُلے انداز میں جواب دیتے۔ انسانی نفسیات کا مضمون آپ کا پسندیدہ تھا اس لئے مختلف موضوعات پر بات چیت کرتے ہوئے منفرد انداز اختیار کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ بہت زیادہ باتیں کرنے کے شوقین نہیں تھے بلکہ خَیْرُالْکَلَامِ مََا قَلَّ وَ دَلَّ کی عملی تصویر تھے۔ آپ کے پاس مختلف موضوعات پر کتابوں کا ایک ذخیرہ موجود تھا جس میں انسانی نفسیات سے متعلقہ کتب کی خاصی تعداد بھی شامل تھی۔ چند بار جب ہماری گفتگو کسی خاص موضوع پر ہوئی تو آپ نے اپنی لائبریری سے متعلّقہ موضوع پر کوئی کتاب بھی مطالعہ کے لئے عنایت فرمائی لیکن انگریزی زبان میں مطالعہ کا ذوق نہ ہونے کی وجہ سے بعدازاں مَیں آپ سے کوئی کتاب لینے سے ہچکچاتا رہا۔ دراصل آپ جب کوئی کتاب پڑھنے کے لئے عنایت کرتے تو قریباً روزانہ پوچھتے کہ کتنے صفحے پڑھ لیے ہیں اور پھر اُن صفحات میں بیان شدہ مضامین سے متعلق تبادلۂ خیال کرنے سے لطف اٹھایا کرتے تھے۔
آپ کا ذاتی مطالعہ بہت وسیع تھا۔ انگریزی زبان پر عبور حاصل تھا۔ تحریر نہایت شستہ اور پختہ تھی۔ لکھائی بھی بہت خوبصورت تھی اور پڑھنے میں بہت آسان تھی۔ صفحات کے صفحات ایک ہی انداز میں پختہ تحریر میں لکھے ہوئے ہوتے تھے۔ آپ کے بے شمار مضامین جماعتی جرائد کی زینت بنتے رہے ہیں۔ چند مضامین “Life Supreme” کے نام سے شائع ہونے والی ایک کتاب میں پیش کئے گئے ہیں۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ ’’عظیم زندگی‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ ایک دوسری کتاب “The Guide Post” ہے جس کا اردو ترجمہ ’’گلدستۂ خیال‘‘ کے عنوان سے شائع ہوچکا ہے۔
محترم آرچرڈ صاحب اپنے گھر پر اور دفتر میں تو مطالعہ کرتے ہی ہوں گے لیکن اسلام آباد کی ایک دو خاموش جگہوں پر آپ نے پلاسٹک کی ایک کرسی رکھی ہوئی تھی۔ جب کبھی موسم خوشگوار ہوتا اور آپ نے اس موسم کا لطف اٹھانا ہوتا تو وہاں بیٹھ کر مطالعہ وغیرہ کرتے۔
آپ کے پاس ایک خاص صلاحیت بھی تھی جس کا مظاہرہ آپ مختلف اجتماعات اور مجالس وغیرہ میں کرتے رہے تھے۔ اس میں ہوتا یہ تھا کہ آپ ایک مجمع کے سامنے کھڑے ہوجاتے اور تیس چالیس لوگ باری باری کسی چیز کا نام لیتے۔ آپ اُن مختلف اشیاء کے نام اپنے ذہن میں اُسی ترتیب سے محفوظ کرتے چلے جاتے جس ترتیب سے وہ نام لئے جارہے ہوتے اور پھر بعد میں اُن ناموں کو اُسی ترتیب سے بیان کردیتے۔ خاکسار کو آپ کی اس صلاحیت کے بارہ میں کسی دوست نے بتایا تو مَیں نے ایک بار آپ سے اظہار کیا کہ اب قریباً ستّر سال کی عمر میں تو آپ کی یادداشت ویسی نہیں رہی ہوگی کہ اِس صلاحیت کا مظاہرہ کرسکیں۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ اب بھی آپ میں یہ صلاحیت پہلے کی طرح موجود ہے اور مَیں لوگوں کے سامنے اس صلاحیت کا مظاہرہ اب بھی کرسکتا ہوں۔
*** برسبیل تذکرہ یہ عرض کرنا بھی مناسب ہوگا کہ محترم آرچرڈ صاحب بہت مضبوط جسم اور نہایت اچھی صحت کے مالک تھے۔ اپنی روزمرّہ زندگی میں بھی حسب ضرورت میل ہا میل پیدل چلنے کے عادی تھے۔ نہ صرف قریبی شہر Farnham تک پیدل جاکر شاپنگ کرلیا کرتے تھے بلکہ خدام الاحمدیہ یُوکے کے تحت ہر سال ہونے والی میراتھن واک میں بھی باقاعدگی سے شامل ہوتے اور پورے 26 میل کا فاصلہ طے کرنے والوں میں نمایاں مقام پر نظر آتے۔ عمر کے لحاظ سے آپ کی صحت نمایاں طور پر اچھی تھی۔ ویسے بھی آپ سابق فوجی تھے اور مجاہدانہ زندگی گزارچکے تھے۔
ایک دو بار مَیں نے آپ سے پوچھا کہ کیا آپ ڈرائیونگ کرتے رہے ہیں؟ جب آپ نے بتایا کہ آپ گاڑی چلانا تو کسی حد تک جانتے ہیں تو مَیں نے پوچھا کہ کبھی کار خریدنے کے بارے میں نہیں سوچا؟ اس پر مُسکرادیتے۔ پھر ایک روز میرے پاس آئے کہ ذرا میرے ساتھ آؤ۔ مَیں آپ کے ساتھ رقیم پریس سے باہر آیا تو آپ نے ایک جانب اشارہ کیا جہاں ہمارا ایک ماریشین دوست اپنی گاڑی کا انجن کھول کر اُسے ٹھیک کرنے میں مصروف تھا۔ وہ دوست چونکہ خود بھی گاڑیوں کا کام جانتا تھا اس لئے اکثر بہت سستی سی گاڑیاں خرید لاتا اور پھر اُن کی خود ہی مرمّت کرتا ہوا بھی اکثر نظر آتا۔ محترم آرچرڈ صاحب فرمانے لگے کہ جب مَیں ایسی گاڑیوں کو دیکھتا ہوں تو میری طبیعت کار خریدنے سے مکدّر ہوجاتی ہے۔
گو آپ نے زندگی میں ایک بار ڈرائیونگ کا سبق بھی لیا تھا۔ اُن دنوں آپ ریٹائرمنٹ کے بعد پٹنی کے علاقہ میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ رہائش پذیر تھے۔ صبح فجر کی نماز پر قریباً بیس منٹ پیدل چل کر مسجد فضل پہنچتے اور پھر اُتنا ہی فاصلہ طے کرکے واپس گھر جاتے۔ خداتعالیٰ نے مالی آسودگی بھی عطا فرمائی تھی اور اب فرصت نصیب ہوئی تو خیال آیا کہ کیوں نہ ڈرائیونگ ٹیسٹ دیا جائے۔ چنانچہ آپ نے پہلا Driving Lesson لیا۔ لیکن یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا کیونکہ آپ کو خیال آیا کہ اس عمر میں ڈرائیونگ سیکھنے کے لئے رقم خرچ کرنا اسے ضائع کرنے کے مترادف ہے اور بہتر ہے کہ یہ پیسے کسی اچھے مقصد کے لئے استعمال کئے جائیں۔
*** اسلام آباد میں آپ کا قیام انگریزی رسالہ ’’ریویو آف ریلجنز‘‘ کے مدیر کے طور پر تھا۔ قریباً روزانہ ہی آپ رقیم پریس میں تشریف لاتے۔ چند منٹ کے لئے اپنے آئندہ رسالہ کی ٹائپنگ یا سیٹنگ وغیرہ کے بارہ میں گفتگو کرتے۔ کسی مضمون کا پروف حاصل کرتے یا کسی پروف پر اغلاط کی نشاندہی کرکے واپس دیتے۔ حسبِ ضرورت دوبارہ اور سہ بارہ بھی دفتر میں آجایا کرتے تھے۔ لیکن دفتری اوقات میں زیادہ بات چیت شاذ ہی کرتے تھے۔ البتہ کبھی چھٹی والے دن مجھے پریس کے کمپیوٹر سیکشن میں بیٹھا دیکھتے تو پھر تشریف لے آتے۔ میری مصروفیت کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتے۔ اکثر میری درخواست پر بیٹھ جاتے اور پھر مختلف باتیں بھی کرتے رہتے۔ ماضی کے اوراق کو ذہن میں کنگھالتے اور پھر کسی بزرگ کی کوئی بات Share کرتے، قادیان یا ربوہ کی کسی یاد کو تازہ کرتے۔ دھیمے لہجے میں میرے استفسارات کا جواب دیتے۔ آپ کے اندر اس بات کی شدید تڑپ تھی کہ عام احمدیوں کا بھی اور خصوصاً واقفین زندگی اور مربیان کا اخلاقی اور روحانی معیار بلند سے بلند تر ہوتا چلا جائے۔
کبھی کبھار ہماری قیامگاہ “S” بلاک میں بھی تشریف لاتے۔ اکثر کھڑے کھڑے بات چیت کرنا پسند کرتے۔ کبھی مَیں وہاں کے کچن میں کھانا تیار کر رہا ہوتا تو پاس کھڑے ہوکر باتیں کرتے رہتے۔ بعض دفعہ ایسا لگتا کہ صرف اپنا وقت گزار رہے ہیں اور بلامقصد ہی وہاں کھڑے ہیں۔ مَیں نے ایک دو بار پوچھ لیا کہ کوئی بات کرنا چاہتے ہیں یا کوئی بات بھول گئے ہیں؟ تو کہنے لگے کہ نہیں مَیں خود ہی یہاں کچھ دیر کھڑا رہنا چاہتا ہوں کیونکہ ایشین کھانوں کی تیاری میں جب پیاز کو فرائی کیا جاتا ہے تو اُس سے اُٹھنے والی خوشبو مجھے اتنی اچھی لگتی ہے کہ مَیں یہاں رہتے ہوئے اُس سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہوں۔ تاہم جب بھی مَیں نے آپ کو اپنے کھانے میں شرکت کی درخواست کی تو آپ نے سالن میں مرچ اور مصالحوں کے استعمال کی وجہ سے شکریہ کے ساتھ معذرت کرلی۔ اکثر ایسی بے وقت ہونے والی ملاقات اس وجہ سے اختتام کو پہنچتی کہ نماز باجماعت کا وقت قریب ہوتا اور یا پھر آپ کو اپنی کوئی ایسی مصروفیت یاد آجاتی جس کا تعلق آپ کی اہلیہ کی بیماری سے ہوتا۔ یہی وجہ تھی کہ گھر میں بھی آپ بہت مصروف رہتے۔
*** آپ کی اہلیہ محترمہ قانتہ آرچرڈ صاحبہ کئی سال تک ایک بہت تکلیف دہ بیماری میں مبتلا رہیں اور بڑے صبر اور حوصلہ سے یہ وقت گزارا۔ ایک واقفِ زندگی کے ساتھ معمولی مشاہرہ پر انہوں نے ساری زندگی بڑے عزت و وقار سے بسر کی اور ہرپہلو سے اپنے درویش صفت خاوند کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں۔ وہ اِس لحاظ سے بہرحال خوش قسمت تھیں کہ اُن کے وفادار شوہر نہ صرف گھر کے امور میں اُن کا ہاتھ بٹاتے، بلکہ اُن کی تکالیف کو کم کرنے کے لئے اُن کو دباتے اور اُن کے جذبات کا بھی بے حد خیال رکھتے تھے۔ محترم آرچرڈ صاحب کی یہ دوسری شادی تھی۔
*** محترم آرچرڈصاحب کی طرف سے اپنے جذبات کی غیرمعمولی قربانی اُس وقت سامنے آئی جب آپ کی اہلیہ اوّل نے آپ سے یہ مطالبہ کردیا کہ آپ وقف چھوڑ دیں اور ایک عام احمدی کے طور پر زندگی گزارلیں۔
محترم آرچرڈ صاحب کی پہلی شادی کا پس منظر یوں تھا کہ جب آپ احمدیت قبول کرنے کے بعد واپس لندن تشریف لائے تو یہاں ایک ایسی انگریز فیملی بھی احمدیت کی آغوش میں آچکی تھی جن کی بیٹی کے ساتھ آپ کا رشتہ طے پاگیا اور دونوں میاں بیوی نہایت پُرمسرّت زندگی گزارنے لگے۔ ایک بیٹی بھی پیدا ہوئی۔ پھر محترم آرچرڈ صاحب کو جنوبی امریکہ جاکر دعوت الی اللہ کرنے کا حکم ملا تو آپ اپنی فیملی کے ساتھ وہاں منتقل ہوگئے۔ اُن دنوں غربت کے باعث نہ صرف یہ کہ واقفین زندگی کے مشاہرے بہت ہی کم تھے بلکہ دُورافتادہ علاقوں میں رہنے والے مبلغین کے ماہوار مشاہرے بعض اوقات بہت دیر سے ملا کرتے تھے اور اس طرح زندگی کی تکالیف میں کئی گُنا اضافہ ہوجاتا۔ ایک بار آپ نے میرے پوچھنے پر بتایا کہ پہلی اہلیہ اگرچہ آپ کے ساتھ تو زندگی گزارنے کے لئے بخوشی تیار تھیں اور مذہب کی تبدیلی کے مشکل مرحلہ پر بھی انہوں نے مکمل ساتھ دیا تھا۔ لیکن پھر آپ کے زندگی وقف کرنے کے بعد جب مالی اور دیگر مشکلات پیش آئیں تو وہ اُن مشکلات سے گھبراگئیں۔ خصوصاً جب محترم آرچرڈ صاحب کو جنوبی امریکہ کی ریاستوں میں تعینات کیا گیا تو مسائل میں اضافہ ہوگیا اور یہ اختلاف اتنا بڑھا کہ دونوں کی راہیں جُدا ہوکر ٹھہریں۔ وہ چاہتی تھیں کہ آپ وقف چھوڑ کر لندن آجائیں لیکن آپ مُصر رہے کہ ’وقف‘ تو دین ہے جو دنیا پر مقدّم ہے۔ جیسا کہ ذکر کیا جاچکا ہے کہ محترم آرچرڈ صاحب کی اہلیہ اوّل سے ایک بیٹی بھی تھیں لیکن اولاد کی محبت بھی آپ کو دینی راستے سے ہٹانے میں ناکام رہی۔
بعدازاں محترم آرچرڈ صاحب کی اہلیہ نے دوبارہ عیسائیت اختیار کرلی اور کیتھولک ہوگئیں۔ انہوں نے اپنی اکلوتی بیٹی کے ذہن میں بھی یہ بات بٹھادی کہ اُس کا باپ اُسے پسند نہیں کرتا اور دراصل اُس کی پیدائش کے بعد ہی اُس کے والد کا رویّہ بدل گیا تھا وغیرہ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا وہ بیٹی چالیس پچاس سال تک اپنے والد کی شفقت سے محروم رہی۔ غالباً اپنی والدہ کی وفات کے بعد اُس نے محترم آرچرڈ صاحب سے رابطہ کیا اور پھر ایک دو بار آپ سے ملنے اسلام آباد بھی آئیں۔
اس کے بعد محترم آرچرڈ صاحب جب ربوہ تشریف لے گئے تو آپ کی دوسری شادی حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے کروائی جو خداتعالیٰ کے فضل سے بہت بابرکت ثابت ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تین بیٹوں اور دو بیٹیوں سے نوازا جن میں سے اکثر بھرپور خدمت دین کی توفیق پا رہے ہیں۔
محترم آرچرڈ صاحب کی غیرمعمولی مالی قربانی کا علم ہونے پر انتہائی حیرت ہوتی تھی کیونکہ یہ تو واضح تھا کہ محترم آرچرڈ صاحب کو جماعت کی طرف سے معمولی مشاہرہ دیا جاتا تھا۔ لیکن اس کے علاوہ ریٹائرمنٹ کی عمر تک پہنچنے کے بعد سے آپ کو State Pension بھی ملتی تھی۔ پھر ایک بات یہ بھی نہایت اہم تھی کہ محترم آرچرڈ صاحب نہایت سادہ زندگی بسر کرتے تھے اور کسی قسم کی فضول خرچی کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا بلکہ جائز ضروریات کے لئے بھی Self Control قسم کا انداز بہت نمایاں تھا۔ لیکن ایک دلچسپ امر یہ بھی تھا کہ محترم آرچرڈ صاحب کے والد محترم نے (جو ایک قابل ڈاکٹر تھے) سالہاسال پہلے بہت سے Shares خریدے تھے جن سے باقاعدہ ایک بڑی آمد محترم آرچرڈ صاحب کو ہوا کرتی تھی۔ تاہم اپنی وفات پر انہوں نے جو وصیت چھوڑی تھی اُس کے مطابق اُن کے تینوں بچے صرف شیئرز کا منافع استعمال کرسکتے تھے اور اُن میں سے کسی کو اِن شیئرز کو فروخت کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ تاہم بچوں کی اولاد اگر چاہے تو یہ شیئرز بیچ سکتی تھی۔ چنانچہ جیسا کہ گزشتہ صفحات میں بیان کیا جاچکا ہے کہ محترم آرچرڈ صاحب کے ایک بھائی نوجوانی میں ہی بحری جہاز کے حادثے میں زندگی گنوابیٹھے۔ دوسرے بھائی پادری تھے۔ اُن کے چرچ میں کوئی ایسا شقی القلب داخل ہوگیا جو بے گھر تھا۔ باوجودیکہ پادری صاحب نے اُس کا خیال رکھنے اور مدد کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی تھی لیکن اُس نے (شاید کسی نشہ کے زیراثر) کسی بات پر سیخ پا ہوکر اُن کو قتل کردیا۔ پادری ہونے کی وجہ سے اُنہوں نے شادی نہیں کی تھی۔ چنانچہ اتفاق ایسا ہوا کہ والد کے خریدے گئے شیئرز کا تمام تر منافع صرف محترم آرچرڈ صاحب کو ہی ملنے لگا۔ اور آپ کی وفات کے بعد آپ کے بچوں میں بطور وراثت وہ شیئرز تقسیم ہوگئے۔ چنانچہ خداتعالیٰ نے محترم آرچرڈ صاحب کی آمد کے نہ صرف غیرمعمولی ذرائع پیدا کردیے بلکہ اس رقم کے بہترین استعمال (یعنی فی سبیل اللہ پیش کرنے) کی صورت بھی پیدا فرمادی۔
*** محترم آرچرڈ صاحب کی بے نفسی اور قناعت کے ضمن میں محترم بشیر احمد رفیق خانصاحب نے ایک واقعہ یوں بیان کیا کہ ایک بار محترمہ قانتہ آرچرڈ صاحبہ نے یہ ذکر کیا کہ اُن کے مشن ہاؤس کا فرنیچر بہت پرانا ہونے کی وجہ سے کافی حد تک خستہ ہوچکا تھا حتیٰ کہ کھانا کھانے کی کرسیاں اور بیڈ وغیرہ بھی عملاً ٹوٹ چکے تھے۔ اس پر مَیں نے فوری طور پر اُن کے مشن ہاؤس کے فرنیچر کے لئے بجٹ منظور کرکے چیک اُنہیں بھجوادیا۔ لیکن محترم آرچرڈ صاحب نے وہ چیک یہ لکھ کر واپس بھجوادیا کہ وہ پرانے فرنیچر کے ساتھ ہی بہت مطمئن ہیں اور اپنی آسائش کے لئے جماعت کے فنڈ کو استعمال نہیں کرنا چاہتے۔ اس پر اُنہیں نیا فرنیچر خریدنے پر آمادہ کرنے کے لئے مجھے لمبی بحث کرنی پڑی اور کہنا پڑا کہ احمدیہ مرکز تبلیغ میں مناسب فرنیچر کی موجودگی آپ کی ذاتی آسائش کے لئے نہیں ہے بلکہ جماعت احمدیہ کے مراکز میں واقعۃً ایسا فرنیچر ہونا چاہئے جو آنے والے مہمانوں کے لئے راحت اور آرام کا باعث بنے اور دیکھنے میں بھی اچھا نظر آئے۔
*** اسلام آباد میں قیام کے دوران آپ کے ساتھ وقت گزارنے کا اور آپ سے بہت کچھ سیکھنے کا بھی مجھے موقع ملتا رہا۔ انگریزی کے بعض الفاظ کا تلفّظ سُنتے تو درست فرمادیتے۔ بعض ایسی عادات سے اجتناب کرنے کی طرف توجہ دلاتے جو ہماری تہذیب میں تو قابلِ قبول ہوجاتی ہیں لیکن برطانوی معاشرہ میں معیوب سمجھی جاتی ہیں۔ آپ خود بھی نہایت نفاست سے اپنے لباس کا خیال رکھتے تھے اور دوسروں سے بھی ایسی ہی توقع رکھتے تھے۔ جس بات کو درست سمجھتے اُس کا برملا اظہار کردیتے لیکن بعدازاں فیصلہ اگر آپ کی مرضی کے مطابق نہ بھی آتا تو بھی صدقِ دل سے اطاعت کرتے۔ مثلاً اسلام آباد کی سابقہ مسجد میں (جس کا نام حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد بیت الاسلام تجویز فرمایا تھا) نماز فجر کے لئے وقت مقرر کرنا ایک بڑا مرحلہ ہوتا تھا۔ محترم آرچرڈ صاحب نماز فجر کا وقت شروع ہونے کے فوراً بعد نماز ادا کرنا چاہتے تھے۔ جبکہ بعض دوسرے بزرگ جن میں محترم محمد عثمان چینی صاحب بھی شامل تھے، بچوں میں نماز باجماعت کی عادت پختہ کرنے کی خاطر نماز فجر کا وقت ذرا دیر سے مقرر کرنے میں حرج نہیں سمجھتے تھے۔ جب بھی اس حوالہ سے گفتگو ہوتی تو محترم آرچرڈ صاحب مسجد فضل لندن کا حوالہ بھی دیتے جہاں حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نماز فجر کا وقت شروع ہونے کے بعد جلد ہی نماز پڑھانا پسند فرماتے تھے۔ تاہم اسلام آباد میں گفتگو ہوتی تو چونکہ کثرتِ رائے دیر سے نماز کا وقت مقرر کرنے کے حق میں نظر آتی اس لئے محترم آرچرڈ صاحب خاموش تو ہوجاتے لیکن چہرے سے بوجھل پَن کا اظہار ہوجاتا تھا۔ ایک دو بار ذاتی طور پر اس حوالہ سے گفتگو ہوئی تو پھر مجھے علم ہوا آپ خداتعالیٰ کے فضل سے نہ صرف لمبی نماز تہجد ادا کرنے کے عادی تھے بلکہ اپنی اہلیہ کی بیماری کی وجہ سے اور موسم گرما میں راتوں کے بے حد چھوٹا ہونے کی وجہ سے بھی اپنی نیند پوری نہ کرپاتے تھے اور اس کی وجہ سے آپ کی دوسری ذمہ داریوں پر اثر پڑتا تھا۔ آپ کے معمولات میں نماز فجر کے بعد ہی آپ کو اتنا وقت مل سکتا تھا کہ آپ کچھ آرام فرماسکیں۔
اسی طرح آپ کے نظام کی اطاعت کرنے کا پہلو اُس وقت بھی سامنے آیا جب اردو اور عربی کے مخصوص الفاظ کو انگریزی زبان کی کتب (لٹریچر) میں لکھنے (Transliteration) کا معاملہ درپیش تھا۔ بعض علماء کا خیال تھا کہ ’ض‘، ’ذ‘، ’ز‘ اور ’ظ‘ کے حامل اردو الفاظ (مثلاً حضرت، رمضان، ظفر اور زکوٰۃ وغیرہ) کو انگریزی لٹریچر میں اس طرح درج کیا جائے کہ ان کے مخصوص حروف واضح طور پر ایک دوسرے سے جُدا نظر آئیں۔ کبھی کسی لفظ کو Z سے لکھا جاتا اور کبھی D سے۔ پھر کبھی اِن الفاظ کے اوپر نقطہ (Dot) ڈال دیا جاتا اور کبھی اِن کو underline کردیا جاتا یا ان کے نیچے لکیر کھینچ دی جاتی وغیرہ۔ ایسے میں محترم آرچرڈ صاحب اور کئی دیگر اہلِ علم و فضل کا اصرار تھا کہ اردو کے تمام الفاظ کی ٹرانسلیٹیریشن کرتے وقت محض اُن کا تلفّظ ملحوظ رکھنا چاہئے (یعنی مذکورہ سب الفاظ کو انگریزی میں حرف “Z” کے استعمال سے ہی ظاہر کیا جانا چاہئے) تاکہ بچوں اور نَومسلموں کے لئے سہولت پیدا کی جائے۔ نیز محترم آرچرڈ صاحب یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ اگر اس طرح سے الفاظ کو ادل بدل کر لکھا جانے لگا تو یہ سلسلہ کبھی رُکنے والا نہیں ہوگا کیونکہ زبان دانی کے یہ نئے قواعد ماہرین لسانیات نہیں بنارہے بلکہ یہ تو ایک بے بنیاد اور خودساختہ اختراع ہیں اور ذاتی پسندو ناپسند پر مبنی ہیں۔ بہرحال محترم آرچرڈ صاحب کے مضبوط دلائل کے باوجود جب اصولی فیصلہ ہوگیا تو محترم آرچرڈ صاحب نے بادل نخواستہ نئے قواعد کی پابندی شروع بھی کردی لیکن اُن کے خدشات سوفیصد درست نکلے اور واقعۃً چند سال کے اندر ہی ہر حرف کی ساخت کئی کئی بار تبدیل ہوتی رہی اور کتب میں مختلف اندازِ اظہار نے پڑھنے والوں کی پریشانی میں مزید اضافہ کردیا۔
*** اسلام آباد میں قیام کے دوران محترم آرچرڈ صاحب کی خوبصورت شخصیت میں دو چیزیں وہاں آنے والوں کو بہت نمایاں دکھائی دیتی تھیں۔ ایک آپ کا نماز باجماعت میں انتہا درجہ کا شغف اور دوسرے بہت سی بلیوں کی پرورش۔ یہ بلیاں ہمہ وقت محترم آرچرڈ صاحب کے گھر کی سیڑھیوں پر اور گھر کے قرب و جوار میں بیٹھی ہوئی نظر آتی تھیں۔ بعض اوقات ان کی تعداد تیس کے قریب بھی ہوجاتی۔ آپ ان کی خوراک کا بھی خیال رکھتے اور موسم وغیرہ کے حوالہ سے بھی شفقت کا اظہار کرتے۔ بہت سے لوگ بلیوں سے اُنسیت کو دیکھ کر آپ کو حضرت ابوہریرہؓ سے مماثلت دیا کرتے تھے۔
*** اس مضمون کا اختتام بھی محترم بشیر احمد آرچرڈ صاحب کی ایک مختصر مگر بہت ہی خوبصورت تحریر پر کرنا چاہوںگا۔ دراصل آپ کی اکثر نظمیں اور مختصر نثری کاوشیں دوسروںکے لیے حوصلہ افزائی کا باعث، امید کی خوشگوار کرن، نیز اُن کی قلبی طمانیت اور ذہنی خوشی میں اضافہ کے لئے ہی تھیں۔ آپ واقعۃً بہت رقیق القلب اور دوسروں کی بہبود کے لئے ہمیشہ کوشاں رہنے والا وجود تھے۔ چنانچہ اُن کی ایسی کوئی بھی تحریر جب بھی سامنے آتی ہے تو محترم آرچرڈ صاحب کا مسکراتا ہوا معصوم چہرہ بھی پس منظر میں دکھائی دینے لگتا ہے۔ آپ لکھتے ہیں:

Until you have learned to be tolerant with those who do not always agree with you —
until you have cultivated the habit of saying some kind word of those whom you do not admire—
until you have formed the habit of looking for the good instead of the bad there is in others,
you will be neither successful nor happy.

مذکورہ بالا چند فقرات میں ’’پُرمسرّت زندگی کے حصول کا کلیّہ‘‘ بیان کیا گیا ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ:
جب تک تم اپنے ساتھ اختلافِ رائے رکھنے والوں کے لیے قوّتِ برداشت کا مظاہرہ نہیں کرپاتے اور جب تک تم ناپسندیدہ لوگوں کے لیے پُرشفقت رویّے کے مظہر الفاظ ادا کرنے کی رِیت نہیں اَپنا لیتے، نیز جب تک تم دوسروں کی خامیوں کی جستجو کرنے کی بجائے اُن کی خوبیوں پر نظر رکھنے کی عادت نہیں ڈال لیتے … تب تک تم ایک کامیاب اور خوش و خرم شخصیت کے مالک نہیں کہلا سکتے۔
*** حقیقت یہ ہے کہ محترم بشیر احمد آرچرڈ صاحب ایسے بابرکت وجودوں میں شامل تھے جو دوسروں کے لئے بے شمار دعائیں اور بہت عمدہ نمونہ چھوڑکر رخصت ہوئے۔ یہ واقعۃً ایسے بزرگ اشخاص میں سے تھے جنہوں نے دیکھنے والوں کو خدمت دین کے نئے اسلوب سے روشناس کیا اور خدمت انسانیت کے منفرد انداز پیش فرمائے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عابدوزاہد، شفیق علیٰ خلق اللہ اور بے شمار خوبیوں کے حامل وجود سے مغفرت کا سلوک فرماتے ہوئے آپ کے درجات کو بلندتر فرماتا چلا جائے اور ایسے نیک سیرت، خلافتِ احمدیہ کے جاں نثار اور سلطان نصیر ہمیشہ جماعت احمدیہ میں پیدا ہوتے چلے جائیں۔ آمین

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/3BEQW]

اپنا تبصرہ بھیجیں