محترمہ حشمت بی بی صاحبہ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ یکم فروری 2008ء میں مکرم محمد نصراللہ خان صاحب اپنی والدہ محترمہ حشمت بی بی صاحبہ کا ذکرخیر کرتے ہیں۔
محترم حشمت بی بی صاحبہ بنت غلام علی خاں صاحب تحصیل بٹالہ کے گاؤں دیوان والی کی رہائشی تھیں۔ آپ محترم چودھری غلام دستگیر صاحب مرحوم سابق امیر ضلع فیصل آباد کی بڑی بہن تھیں۔ آپ کے والد استاد تھے۔ احمدی نہیں تھے لیکن احمدیت کی خوبیوں کے مداح تھے، نوجوانی میں ہی وفات پائی جس کے بعد یہ گھرانہ بہت سے مسائل کا شکار رہا۔
آپ کے سسر (یعنی میرے دادا) ساری زندگی احمدیت کے شدید مخالف رہے۔ 1936-37ء میں جب میرے والدین نے احمدیت قبول کی تو کئی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 1939ء میں دادا نے اِن سب کو گھر سے نکال دیا۔ بے سروسامانی کے عالم میں یہ پیدل چل کر دس میل دُور ایک گاؤں میں پہنچے اور آلوؤں کے ایک کھیت میں والد صاحب کو مزدوری مل گئی۔ کچھ روز کے بعد میرے چچا اِن کو تلاش کرتے ہوئے آ پہنچے اور سب کو واپس لے گئے۔ لیکن اِس دوران بچے بیمار ہوچکے تھے اور جلد ہی ایک بیٹے اور ایک بیٹی کی وفات ہوگئی۔ میرے والدین نے نہایت صبر سے اس صدمہ کو برداشت کیا۔
میرے والدین بہت مہمان نواز تھے اور اس مقصد کے لئے ہر قربانی کیا کرتے تھے۔ گاؤں میں جسے کہیں سے کچھ نہ ملتا، اُسے ہمارے ہاں سے کھانا اور دوسری چیزیں مل جاتیں۔ دادا نے جب گھر سے نکالا تھا تو طنزاً کہا کہ میں دیکھوں گا اب تم لوگوں کو کس طرح پراٹھے کھلاتے ہو۔ تاہم دادا نے اپنی آخری عمر اِسی بیٹے کے ہاں گزاری اور وفات پائی۔
والدہ روزانہ تلاوت قرآن کرتیں اور بچوں کی نگرانی کرتیں کہ وہ بھی تلاوت ضرور کریں۔ گاؤں کی بہت سی بچیوں کو بھی قرآن پڑھایا۔ دعاؤں سے گہرا شغف تھا۔ اللہ تعالیٰ قبولیت سے بھی سرفراز فرماتا۔
ہماری والدہ نے بہت مصائب جھیلے لیکن ہمت، استقلال اور عزم کے ساتھ ان کا سامنا کیا۔ 1953ء میں ہمیں فتنہ سے بچنے کے لئے کئی ماہ ایک دوسرے گاؤں میں پناہ لینی پڑی۔ اُن دنوں میرے والد کپڑے کا کاروبار کیا کرتے تھے۔ لیکن لوگوں نے نہ صرف کپڑا خریدنا بند کردیا بلکہ ادھار پر لئے گئے کپڑے کی قیمت بھی ادا نہ کی۔
میرے والدین نے اولاد کی تعلیم و تربیت کا بہت خیال رکھا۔ دونوں خود بھی تہجد گزار، نماز، تلاوت قرآن اورروزوں کے پابند تھے اور اپنی اولاد کو بھی اسی رنگ میں رنگین کیا۔
والدہ محترمہ کو اللہ تعالیٰ نے پانچ بیٹے اور پانچ بیٹیاں دیئے۔ جن میں سے دو بیٹے اور دو بیٹیاں آپ کی زندگی میں فوت ہوئے۔ تین دامادوں کی وفات کا صدمہ بھی سہا لیکن آپ نے کمال صبر کا نمونہ دکھایا۔ آپ کی اولاد میں سے بہت سوںکو خدمت دین کی توفیق عطا ہوئی۔ مکرم حافظ فضل ربی صاحب استاد جامعہ احمدیہ لندن اور اُن کے چھوٹے بھائی مکرم حافظ نوید ربی صاحب مربی سلسلہ بھی آپ کے نواسے ہیں۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/BVMql]

اپنا تبصرہ بھیجیں