مجلس انصاراللہ برطانیہ کا 33 واں سالانہ اجتماع

یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/lHvOS]

مجلس انصاراللہ برطانیہ کے 33 ویں سالانہ اجتماع کا بابرکت انعقاد
امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا پُرمعارف خطاب اور نہایت اہم نصائح
علمی و ورزشی مقابلوں اور رُوح پرور ماحول میں تربیتی و تعلیمی اجلاسات کا انعقاد۔ 15 ممالک سے نمائندگان کی شمولیت۔

(مطبوعہ رسالہ انصارالدین ستمبر و اکتوبر2015ء)

(بقلم: محمود احمد ملک۔ ناظم رپورٹنگ اجتماع 2015ء)

مجلس انصاراللہ برطانیہ کا 33واں سالانہ اجتماع نہایت کامیابی کے ساتھ مسجد بیت الفتوح مورڈن کے احاطہ میں 18، 19اور 20؍ستمبر 2015ء کو منعقد ہوا۔ امسال اجتماع کا انعقاد مجلس عالمگیر کی 75 سالہ تاریخ کے حوالہ سے خصوصی اہمیت کا حامل تھا۔ سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی دُوررس نگاہ نے 1940ء میں مجلس انصاراللہ کے قیام کا اعلان فرمایا تھا۔ اور یہ فرمایا تھا کہ لجنہ اماء اللہ، خدام الاحمدیہ، اطفال الاحمدیہ کے بعد انصاراللہ کے قیام کے ساتھ احمدیت کی عمارت کی چاروں دیواریں مکمل ہوگئی ہیں۔
خلفاء احمدیت نے متعدد خطبات، خطابات اور مضامین کے ذریعہ انصار کو اُن کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے کا سلسلہ بھی ہمیشہ جاری رکھا ہے۔ بلکہ تین خلفاء کرام اپنے دَور خلافت میں یا اُس سے قبل صدر مجلس انصاراللہ مرکزیہ کی حیثیت سے بھی انصار کی رہنمائی فرماتے رہے ہیں۔
حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ کا پُرمعارف خطاب
اجتماع کا مرکزی اجلاس 20؍ستمبر کی سہ پہر سیّدنا حضرت امیرالمومنین خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ حضور انور نے اپنے خطاب میں انصار کو اُن کی اجتماعی اور انفرادی ذمہ داریوں کی طرف نہایت احسن رنگ میں توجہ دلائی اور اپنی زندگیوں میں عملی تبدیلی لانے کے بارے میں بہت پُراثر نصائح فرمائیں۔ حضور انور کا خطاب مسلم ٹیلی ویژن احمدیہ انٹرنیشنل کے رابطہ کے ذریعہ دنیابھر میں دیکھا اور سنا گیا۔ یہ بھی حسین اتفاق تھا کہ مجلس انصاراللہ امریکہ کا سہ روزہ سالانہ اجتماع بھی اسی اجلاس کے ساتھ اختتام کو پہنچ رہا تھا۔ اور وہاں کے اجتماع کے اندرونی مناظر بھی وقتاً فوقتاً MTA انٹرنیشنل پر پیش کئے جارہے تھے۔ حضور انور کا خطاب قریباً 55 منٹ جاری رہا جس کا متن اسی شمارہ میں شامل اشاعت ہے۔
اجتماع گاہ کا خوشنما منظر
مسجد بیت الفتوح مورڈن کے احاطہ میں دو وسیع و عریض مارکیاں نصب کی گئی تھیں جن میں سے ایک اجتماع گاہ اور دوسری طعام گاہ کے طور پر استعمال ہورہی تھی۔
اجتماع کی خصوصی اہمیت اور بیرونی ممالک سے تشریف لانے والے مہمانوں کی وجہ سے نہ صرف مارکی کا بلکہ سٹیج کا سائز بھی گزشتہ سال کی نسبت نمایاں بڑا تھا۔ سٹیج کے پس منظر میں سورۃ آل عمران کی آیت 104 میں سے ’’وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلَاتَفَرّقُوْا‘‘ کے الفاظ (اردو اور انگریزی تراجم کے ساتھ) درج تھے۔ دراصل یہ وہ بنیادی پیغام تھا جو اس تاریخی اجتماع کے حوالہ سے دیا جانا مقصود تھا۔ اجتماع کی مارکی کی دونوں اطراف میں مختلف بینرز لگائے گئے تھے جن پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے سلسلہ کے پاکیزہ ارشادات درج تھے۔ اجتماع گاہ کے آخری حصہ میں ایک خوبصورت اور نہایت مفید نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں دعوت الی اللہ اور قرآن کریم کے حوالہ سے دیدہ زیب چارٹس اور بینرز کی شکل میں دلچسپ معلومات پیش کی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ مغربی افریقہ کے مختلف ممالک میں تعمیر کئے جانے والے ماڈل ویلیجز (Model Villages) کے حوالہ سے بھی بہت دلچسپ معلومات پیش کی گئی تھیں۔ نیز مالی میں بنائے جانے والے ایک ماڈل ویلیج کا ماڈل بھی نمائش کے لئے رکھا گیا تھا جو خاص طور پر دلچسپی کے ساتھ دیکھا گیا۔
اجتماع کا پروگرام، حاضری اور انتظامیہ
امسال اجتماع کے تینوں ایام میں نہایت روح پرور ماحول میں برطانیہ کے طول و عرض سے تشریف لانے والے 2202 ؍ انصار کے علاوہ 15 بیرونی ممالک سے شامل ہونے والے معزز نمائندگان نیز خدام اور بچوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہوئی۔ کُل حاضری 3100 سے زائد تھی۔ الحمدللہ
اس اجتماع میں جرمنی، کینیڈا، آسٹریلیا، پاکستان، ہالینڈ، ڈنمارک، ملائشیا، ناروے، سپین اور سویڈن کے صدور نیز فرانس، غانا، نائیجیریا، شام اورامریکہ کے نمائندگان نے شرکت کی۔
تینوں دن نماز تہجد باجماعت ادا کی گئی۔ نماز فجر کے بعد درس (قرآن کریم، حدیث النبیﷺ اور ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام) کا پروگرام ہوتا رہا۔
ہفتہ اور اتوار کے دونوں دن ناشتہ کے بعد قریباً ساڑھے نو بجے بیک وقت مختلف علمی اور ورزشی مقابلہ جات کا انعقاد عمل میں آتا رہا۔ اس موقعہ پر منعقد ہونے والے علمی مقابلہ جات میں تلاوت، نظم خوانی، تقریر، فی البدیہہ تقریر، پیغام رسانی اور حفظ قرآن کے مقابلے شامل تھے جبکہ ورزشی مقابلوں میں والی بال، رسّہ کشی اور گولہ پھینکنا کے علاوہ ایتھلیٹکس سے متعلق بعض مقابلے بھی منعقد ہوئے۔ انفرادی مقابلہ جات کے دو معیار مقرر تھے۔ یعنی یوکے سے تعلق رکھنے والے انصار اور بیرونی ممالک سے آنے والے مہمانان۔ اسی طرح دیگر ممالک سے تشریف لانے والے مہمانوں کے والی بال کے نمائشی مقابلہ جات بھی کروائے گئے۔ ان مقابلہ جات کے فائنل میں یوکے نے جرمنی کو ہرا کر پہلا انعام حاصل کیا۔
علمی مقابلے اجتماع گاہ کے علاوہ ناصر ہال اور نُور ہال میں منعقد کئے گئے جبکہ ورزشی مقابلہ جات کے لئے مسجد کے سامنے واقع وسیع گراؤنڈ میں انتظام کیا گیا تھا۔ اسی گراؤنڈ میں پارکنگ کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔ دورانِ اجتماع رات کو قیام کرنے والے انصار کی رہائش کا انتظام طاہر ہال کے ایک حصہ میں کیا گیا تھا۔ قریباً ساڑھے تین صد انصار نے یہاں قیام کیا۔
طعام گاہ کے طور پر ایک علیحدہ مارکی لگائی گئی تھی جو 20 میٹر چوڑی اور 80 میٹر لمبی تھی۔ اس مارکی میں 1700 کرسیاں لگائی گئی تھیں۔ مارکی میں سروس کے لئے 8 پوائنٹس بنائے گئے تھے اور دو صد انصار کھانا کھلانے کی ڈیوٹی پر متعیّن تھے۔ اسی طرح چائے وغیرہ کا انتظام ہمہ وقت موجود رہا۔
اجتماع کے دوران مقامی مجالس کی سہولت کے لئے مختلف قیادتوں نے اپنے سٹالز بھی لگائے تھے۔ ان میں قیادت تعلیم، مال، تجنید، تبلیغ، تعلیم القرآن، عمومی اور نومبایعین کے شعبہ جات کے سٹالز شامل تھے۔
اس اجتماع کے ناظم اعلیٰ مکرم ڈاکٹر چودھری اعجازالرحمن صاحب نائب صدر اوّل تھے۔ جن کے ساتھ8 نائب ناظمین اعلیٰ اور125 ناظمین اور نائب ناظمین تھے اس کے علاوہ تقریباً 300 انصار نے انتظامات کو نہایت احسن رنگ میں سرانجام دے کر اس تاریخی اجتماع کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام خدمت کرنے والوں کی مساعی کو قبول فرمائے اور ان سب کو اپنے خاص فضلوں کا وارث بنائے۔ آمین
افتتاحی اجلاس
18؍ستمبر 2015ء کو قریباً پونے چار بجے سہ پہر اجتماع کے افتتاحی اجلاس کے باقاعدہ آغاز سے قبل لوائے انصاراللہ لہرانے کی تقریب مسجد بیت الفتوح کے احاطہ میں نصب کی جانے والی وسیع و عریض مارکی میں عمل میں آئی۔ مکرم رفیق احمد حیات صاحب امیر جماعت یوکے نے لوائے انصاراللہ جبکہ مکرم وسیم احمد چودھری صاحب صدر مجلس انصاراللہ یوکے نے برطانیہ کا قومی پرچم لہرایا جس کے بعد مکرم امیر صاحب نے دعا کروائی۔
افتتاحی اجلاس کی صدارت مکرم رفیق احمد حیات صاحب امیر جماعت احمدیہ برطانیہ نے کی۔ کارروائی کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم سلیم احمد صابر صاحب نے کی۔ آیات کریمہ (سورۃ النور:56 تا 58) کا انگریزی ترجمہ مکرم طالب جان صاحب نے پڑھ کر سنایا۔ مکرم خالد چغتائی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منظوم کلام ’’حمدوثنا اُسی کو جو ذات جاودانی‘‘ میں سے چند اشعار خوش الحانی سے سنائے۔ اس کے بعد مکرم امیر صاحب نے انگریزی میں تقریر کرتے ہوئے انصار کو اُن کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔ آپ نے کہا کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ قرآن کریم اور آنحضور ﷺکی حیات مبارکہ سچّی روایات کا منبع ہیں۔اس وقت مسلم امّہ مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹی ہوئی ہے اور دنیا مسلمانوں کو دہشتگردی کے حوالہ سے جانتی ہے جبکہ ہر قسم کی برائی مسلمانوں کے ساتھ وابستہ کی جاتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں مسلمان بچوں کے ذہنوں پر نہایت منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔اسی طرح مسلمان ممالک میں ایسی تحریکیں جاری ہیں جو اسلام کی بدنامی کا باعث ہونے کے علاوہ بدامنی اور دہشتگردی میں اضافہ کررہی ہیں۔ لیکن ان حالات کی خبر آنحضور ﷺ نے دے رکھی تھی اور اس حوالہ سے ایک مصلح کی آمد کی خبر بھی دی ہوئی تھی۔ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا دیا تھا کہ مسیح موعود کے بعد خلافت بھی جاری ہوگی۔
مکرم امیر صاحب نے غیرمبایعین کے حوالہ سے بیان کیا کہ خلافت پر ایمان رکھنے والے ہی کامیابی اور ترقیات کا منہ دیکھتے ہیں لیکن خلافت پر ایمان رکھنے کے نتیجہ میں ہم پر بعض ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ آپ نے مختلف اخلاقی پہلوؤں مثلاً سچائی اور دیانتداری پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ جھوٹ اور بدعنوانی میں مبتلا لوگوں کی اولاد پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ قول سدید کہنے کے حکم پر عمل نہ کرنے سے معاشرتی تعلقات متأثر ہوتے ہیں۔ اَنا کے نتیجہ میں گھر برباد ہونے لگتے ہیں۔پس آئندہ نسلوں کی تربیت کی خاطر ہمیں اپنے عمل پر غور کرنا چاہئے۔ بچوں کی نیک راہوں کی طرف رہنمائی کرنی چاہئے اور ان کے لئے دعا کرنی چاہئے۔ تعلیمی میدان میں بھی اُن کا خیال رکھنا چاہئے اور برطانیہ میں جاری تعلیمی نظام سے استفادہ کرنا چاہئے۔ اس وقت دنیا کی بیس بہترین یونیورسٹیوں میں سے پانچ کا تعلق برطانیہ سے ہے۔ اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ خلافت احمدیہ کی وجہ سے احمدی مسلمانوں کو اس معاشرہ میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
مکرم امیر صاحب نے بیان کیا کہ یورپین پارلیمنٹ کے ایک خصوصی اجلاس سے جب حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطاب فرمایا تو اس میں یورپین پارلیمنٹ کے ممبران کی ایک بڑی تعداد شامل ہوئی۔ ان دنوں پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر بھی یورپ کے دورہ پر تھیں اور صدر زرداری کے ساتھ یورپین پارلیمنٹ کے صدر کی ملاقات کے لئے وقت مانگ رہی تھیں۔ اُن کے وفد کے ایک رُکن حضور انور کے خطاب کے بعد احمدیوں سے ملے اور پوچھا کہ پاکستان کئی کروڑ لوگوں کا ملک اور ایک ایٹمی طاقت ہے لیکن اس کے صدر کے لئے یورپین پارلیمنٹ کے صدر کے پاس وقت نہیں ہے جبکہ تم لوگوں کے پاس نہ پیسہ ہے اور نہ ایسا دنیاوی اثرورسوخ، لیکن تمہارے امام کی تقریر سننے کے لئے اتنے ممبران پارلیمنٹ اکٹھے ہوگئے ہیں۔ مکرم امیر صاحب نے بتایا کہ یہ دراصل خلافت کے نظام کی ہی برکات ہیں۔
افتتاحی تقریر کے اختتام پر مکرم امیر صاحب نے دعا کروائی۔
اسلام کی امتیازی خصوصیات
باقاعدہ افتتاح کے بعد اجتماع کی پہلی تقریر جیّد عالم اور بزرگ محترم سیّد میرمحمود احمد صاحب نے موازنہ مذاہب کے حوالہ سے اسلام کی امتیازی خصوصیات کے موضوع پر نہایت دلنشیں انداز میں کی۔ یہ تقریر اردو زبان میں تھی۔ آپ نے اسلام کی اعلیٰ و ارفع تعلیم کا عیسائیت اور یہودیت کی تعلیم سے تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے بیس سے زیادہ نکات بیان فرمائے۔
محترم میر صاحب نے بتایا کہ اسلام کا بنیادی عقیدہ توحید ہے جو واضح اقرار کے ساتھ اور بغیر کسی شک و شبہ اور ابہام کے ہونی چاہئے۔ اگرچہ بعض عیسائی بھی خدا کو ایک مانتے ہیں لیکن وہ تثلیث کے بھی قائل ہیں۔ یہودی بھی انسانی بزرگوں کی تحریر کردہ کتب کو خدا کی کتب قرار دیتے ہیں۔ پھر اسلام ایک ایسے نبی کو پیش کرتا ہے جو اسوۂ حسنہ اور کامل ترین نمونہ ہے۔ لیکن اہل کتاب اپنے نبیوں پر خود ہی شرک، جھوٹ اور بدکاری کے الزامات لگاتے ہیں۔ پھر اسلام ہر قوم، ہر نسل اور ہر زبان بولنے والے سے خطاب کرتا ہے لیکن اہل کتاب صرف اپنی قوم سے ہی مخاطب ہوتے ہیں۔ پھر قرآن کریم ہر قسم کی تحریف، تضاد اور تبدیلی سے پاک ہے۔ اور قرآن کریم کا یہ بھی چیلنج ہے کہ اس کی طرح کی ایک سورۃ ہی بناکر لے آؤ۔ اسی طرح قرآن کریم کی زبان ہر لحاظ سے پاکیزہ اور مہذّب ہے اور اس کے مضامین نہایت اعلیٰ، تحقیقی اور زبان دانی کے لحاظ سے عمدہ ہیں جبکہ بائبل کے محققین نے بھی بائبل کی زبان کو ادنیٰ قرار دیا ہے۔ پھر قرآن کریم قطعی طور پر جارحانہ حملہ کرنے سے منع کرتا ہے۔ صرف اُن سے لڑائی کرنے کا حکم دیتا ہے جو حملہ کرتے ہیں۔ جبکہ بائبل میں ایسے مظالم کا حکم ہے جس میں شہر کے تمام مردوں، عورتوں، بچوں اور جانوروں کو قتل کرکے شہر کو جلاکر خاکستر کردینے کا حکم ہے۔ جبکہ قرآن کریم عمداً قتل کرنے والوں کے علاوہ کسی کو قتل کرنا جائز قرار نہیں دیتا اور قاتل کے لئے معافی اور دیت وغیرہ کے راستے کھلے رکھے ہیں۔پھر اسلام میں جنگ کے علاوہ کسی کو قیدی بنانے کی اجازت نہیں۔ اور رحم کرکے یا فدیہ لے کر رہا کرنے کا حکم بھی دیا بلکہ پرانے قیدیوں (غلاموں) کو مکاتبہ کے ذریعہ رہائی کا حکم دیا۔
مکرم میر صاحب نے بیان کیا کہ اسلام کی ایک خوبی اہل لوگوں کو ذمہ داریاں سپرد کرنے کا حکم ہے۔ ایک حدیث کے مطابق تباہی کی گھڑی اُس وقت آئے گی جب لوگ امانات ضائع کرنے لگیں گے۔ عہدے بھی امانت ہیں اور ان کو صرف اہل لوگوں کے سپرد کرنے کا حکم ہے جبکہ بائبل میں سارے انتظامی اختیارات ایک ہی قبیلہ کے سپرد کئے جانے کا حکم ہے خواہ وہ کسی قابل ہو یا نہ ہو۔
اسی طرح اسلام نے سب سے بڑے گناہ یعنی شرک کی سزا مقرر نہیں کی بلکہ سزا صرف اُس کے لئے ہوگی جو کسی دوسرے کے بدن پر، اُس کے مال پر یا اُس کی عزت پر حملہ کرے۔ اس کے علاوہ کسی جرم کی سزا نہیں دی گئی۔ لیکن بائبل میں شرک کی سزا بھی موت رکھی گئی ہے۔
پھر اسلام ظاہری صفائی کا بھی حکم دیتا ہے جو دیگر مذاہب میں نظر نہیں آتا۔ آنحضورﷺ نے مَردوں کو خاص طور پر صاف رہنے کا ارشاد فرمایا ہے اور گھروںکے صحنوں کی صفائی کا بھی حکم دیا ہے۔ نیز خوراک میں ایسی اشیاء حرام قرار دی ہیں جو جسم، دماغ، اخلاق یا روحانیت کے لئے مُضر ہوں۔
پھر اسلام میں مجددین کا نظام قائم ہے ۔ اسی طرح معاشیات کے بارہ میں دو بنیادی اصول ہیں۔ اوّل یہ کہ زمین میں جو کچھ ہے وہ سب انسانوں کی ملکیت ہے نہ کہ کسی ایک گروپ کی۔ اور دوسرا یہ کہ محنت اور کوشش کے نتیجہ میں ذاتی ملکیت میں کمی بیشی ہوسکتی ہے۔ اسی طرح سود سے ممانعت اور ورثہ کی تقسیم کے اصول بھی اسلام نے بیان فرمائے ہیں۔
مکرم میر صاحب نے بتایا کہ عیسائیت نے Faith اور Reason کے دائروں کو الگ الگ کردیا ہے مگر اسلام نے الہام اور عقل کے درمیان ایک لطیف تعلق قائم کیا ہے۔ نیز قرآن کریم نے سائنسی قواعد کے حوالہ سے بنیادی طور پر تین امور بیان فرمائے ہیں اوّل یہ کہ ساری کائنات میں ہر جگہ ایک ہی اصول جاری ہوگا اور کوئی تضاد نہیں ہوگا۔ دوسرا ارتقاء کا اصول ہے اور تیسرا اصول یہ ہے کہ Cause اور Effect لازم و ملزوم ہیں۔
نماز باجماعت کی ادائیگی اور انصار کی ذمہ داری
اس اجلاس کی دوسری تقریر مکرم مولانا عطاء المجیب راشد صاحب نائب امیر و امام مسجد فضل لندن کی انگریزی زبان میں تھی۔ آپ نے عبادت (خصوصاً نماز باجماعت) کے حوالہ سے انصار کو اُن کی ذمہ داریوں کی طرف نہایت احسن رنگ میں توجہ دلائی۔
محترم امام صاحب نے بتایا کہ قرآن کریم میں انسان کی پیدائش کا مقصد عبادت بیان کیا گیا ہے۔ آنحضور ﷺ نے بھی ایک مومن اور غیرمومن میں فرق کو نماز کے حوالہ سے بیان فرمایا ہے۔ سورۃالبقرہ کے آغاز میں متقیوں کی خصوصیات کے بیان میں اللہ تعالیٰ نے نماز کے قیام اور مالی قربانی کا حوالہ دیا ہے۔ جبکہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے بارہا نماز باجماعت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے واضح طور پر فرمایا ہے کہ کام کے لئے نماز کو نہ چھوڑو بلکہ نماز کے لئے کام کو چھوڑ دو۔
آپ نے بتایا کہ نماز کو دین کا ستون قرار دیا گیا ہے چنانچہ اگر نماز قائم نہ رہے اور شرائط کے مطابق وضو کرکے، کھڑے ہوکر اور توجہ سے ادا نہ کی جائے تو دین کی عمارت قائم نہیں رہ سکتی۔ جلدی میں نماز ادا کرنا اقامۃالصلوٰۃ نہیں ہے۔ انصار اپنے مقام کے لحاظ سے اس سوال کا جواب خود تلاش کریں کہ کیا وہ نماز کا حق ادا کررہے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ جس نے ارادتاً بھی ایک نماز چھوڑی اس نے گویا کفر اختیار کرلیا۔ چنانچہ حدیث میں یہ واقعہ بیان ہوا ہے کہ ایک نابینا شخص نے آکر آنحضور ﷺ سے عرض کیا کہ راستے کے پتھروں سے اس کے پاؤں زخمی ہوجاتے ہیں اس لئے اُس کو گھر پر نماز ادا کرنے کی اجازت عطا فرمائی جائے۔ رحمۃٌ للعالمین نے ابتدائی طور پر اس کی درخواست مان کر اُسے اجازت عطا فرمادی لیکن پھر اس سے پوچھا کہ کیا اذان کی آواز اُس کے گھر تک آتی ہے۔ اثبات میں جواب ملنے پر آپؐ نے فرمایا کہ پھر مسجد میں آکر ہی نماز ادا کیا کرو۔
نماز باجماعت کی اہمیت اُس واقعہ سے بھی ظاہر ہوتی ہے جب ایک چرواہے نے عرض کیا کہ جب وہ ریوڑ چرانے کے لئے جنگل میں ہوتا ہے تو نماز باجماعت ادا نہیں کرسکتا۔ اس پر آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ وہ اکیلا اذان دے ، پھر تکبیر کہے اور پھر نماز پڑھے تو خدا تعالیٰ کے فرشتے اُس کے ساتھ مل کر نماز ادا کریں گے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جو شخص پنجگانہ نماز باجماعت کا التزام نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ چنانچہ ایک نابینا حضرت حافظ معین الدین صاحبؓ کی درخواست پر حضور علیہ السلام نے انہیں چار روپے ماہوار پر ملازم رکھ لیا۔ اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ نماز باجماعت کی ادائیگی میں سہولت رہے۔ حضورؑ فرماتے تھے کہ سورۃ فاتحہ میں نَعْبُدُ اور نَسْتَعِیْن جمع کے صیغے استعمال کئے گئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام نے نماز باجماعت کا ہی حکم دیا ہے۔
ایک بار حضرت مسیح موعودؑ کے ہمسایہ میں ایک مغنّیہ ساری رات ناچتی رہی۔ آپؑ نے پتہ کروایا تو علم ہوا کہ اُس کو پانچ روپے کے عوض لایا گیا تھا۔ اس پر حضورؑ نے فرمایا کہ ایک مغنّیہ صرف پانچ روپے کی خاطر ساری رات ناچ سکتی ہے تو مومن کو سوچنا چاہئے کہ اگر وہ ساری رات آرام سے سوتا رہا ہے تو صبح نماز کی ادائیگی کے لئے نہ اُٹھ سکنے پر اُسے شرم محسوس کرنی چاہئے۔
مجلس انصاراللہ کے قیام کے بعد حضرت مصلح موعودؓ نے انصار کو اُن کی بنیادی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے یہ بھی فرمایا تھا کہ ’’اس فیصلہ کے ذریعہ اس امر کی بھی نگرانی رکھی جائے گی کہ کوئی شخص ایسا نہ رہے جو مسجد میں نماز باجماعت ادا کرنے کا پابند نہ ہو‘‘۔ پس نماز باجماعت کا قیام انصاراللہ کی تنظیم کا ایک اہم مقصد ہے۔ اور جب انصار اپنی زندگی کے اختتام کی طرف بڑھ رہے ہوں تو اُن کا فرض ہے کہ اپنے خاندان میں اور نسلوں میں نماز باجماعت کی اہمیت کو قائم کریں اور اس مقصد کے لئے بچوں پر سختی کرنے کی بجائے اپنا نمونہ پیش کریں۔ انہیں چاہئے کہ قرآن کریم میں بیان فرمودہ دو انبیاء کی مثالیں ہمیشہ پیش نظر رکھیں جن کی نماز اور عبادت کی مثال خدا تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے۔ یہ انبیاء حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
مکرم امام صاحب نے بتایا کہ مسجدوں کی تعمیر اصل چیز نہیں ہے بلکہ مسجدوں کو نمازیوں سے بھرنا اصل کام ہے اور یہ انصاراللہ کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ تجربہ اور حکمت کے ساتھ اس بارہ میں دوسروں کی راہنمائی کرنے کا فرض ادا کریں۔
مجلس انصاراللہ کا قیام۔ حضرت مصلح موعودؓ کا عظیم احسان
اس اجلاس کی تیسری اور آخری تقریر مکرم ڈاکٹر محمد احمد اشرف صاحب نائب صدر مجلس انصاراللہ پاکستان کی تھی جس میں آپ نے مجلس انصاراللہ کے قیام کے حوالہ سے حضرت مصلح موعودؓ کے عظیم احسان کا ذکر کیا۔
محترم ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ حضرت مصلح موعودؓ کی باون الہامی صفات سے علم ہوتا ہے کہ پیشگوئی میں کسی انفرادی عظمت کے حامل شخص کی پیدائش کا ذکر نہیں ہے بلکہ ایک ایسے مذہبی راہنما کی پیدائش کی خبر دی گئی تھی جسے ایک روحانی تحریک کا روحِ رواں بننا تھا۔یہی وجہ ہے کہ آپؓ نے ایسے کارہائے نمایاں سرانجام دیئے جو ہمیشہ سنہری حروف میں لکھے جاتے رہیں گے۔ جن میں سے ایک کارنامہ ذیلی تنظیموں کا قیام بھی ہے۔
حضرت مصلح موعودؓ نے انصاراللہ کے قیام کے وقت اس تنظیم کے مقاصد بھی بیان فرمائے جن میں نیکی و تقویٰ پیدا کرنا، دینی عقائد کو ذہن نشین کروانا، نمازوں کا قیام، قرآن کریم سیکھنا اور سکھانا، دعوت الی اللہ کرنا، خدمت خلق کرنا وغیرہ شامل تھے۔ حضورؓ نے یہ بھی لازمی قرار دیا کہ ہر ناصر روزانہ نصف گھنٹہ یا ہر مہینہ میں تین دن وقف کرے۔ اور ایک موقع پر فرمایا: ’’یاد رکھو تمہارا نام انصاراللہ ہے۔ یعنی اللہ کے مددگار۔ گویا تمہیں اللہ تعالیٰ کے نام کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ ازلی و ابدی ہے۔ اس لئے تم کو بھی کوشش کرنی چاہئے کہ ابدیت کے مظہر ہوجاؤ۔ تم اپنے انصار ہونے کی علامت یعنی خلافت کو ہمیشہ ہمیش کے لئے قائم رکھتے چلے جاؤ اور کوشش کرو کہ یہ کام نسلاً بعد نسلٍ چلتا چلا جاوے‘‘۔
پس انصاراللہ نے اطاعتِ خلافت کے مراحل میں خلیفۂ وقت کی آواز کو اپنے ممبران تک پہنچانے کا فرض نہایت احسن رنگ میں نبھانے کی کوشش کی۔ سرکلرز کی تیاری یا ماہنامہ ’’انصاراللہ ‘‘ کے اجراء کا مقصد بھی یہی تھا۔ 1980ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے خطبات جمعہ کے کیسٹس تیار کرنے کی منظم سکیم ہی تھی جس نے کئی سال بعد MTA کا رُوپ دھار لیا۔ خلیفۂ وقت کے خطبات اور خطابات کے تراجم کرنے کا آغاز بھی انصاراللہ کے ذریعہ ہی عمل میں آیا تھا۔
خلیفۂ وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے انصارنے اپنے گیسٹ ہاؤسز کی تعمیر کی توفیق پائی۔ مرکزی دفاتر تعمیر ہوئے۔تعلیم القرآن اور کتب حضرت مسیح موعودؑ کے مطالعہ کے لئے پروگرام ترتیب دیئے۔ حضرت اقدسؑ کی کتب کی آڈیوز تیار کرنے کی سعادت حاصل کی۔ دینی تعلیم کا جائزہ لینے کے لئے امتحانات کا سلسلہ شروع کیا۔ حتّٰی کہ اپنے آقا کی خوشنودی کی خاطر اپنے اجتماع کے لئے سائیکل سفر یا پیدل سفر اختیار کرنے لگے۔
حضرت مصلح موعودؓ نے آغاز میں ہی ہدایت دی تھی کہ انصارا پنے پروگراموں کے لئے روپیہ خود جمع کریں۔ چنانچہ ایک مستحکم مالی نظام قائم ہوا۔ صدسالہ جوبلی کے شکرانہ کے طور پر مجلس انصاراللہ پاکستان کو تھرپارکر سندھ میں المہدی ہسپتال بنانے کی توفیق ملی۔ اسی طرح گزشتہ چند سال میں مجلس انصاراللہ برطانیہ کو افریقہ میں دس ہزار سے زائد مستحقین کی آنکھوں کے مفت آپریشنز کروانے کی توفیق حاصل ہوئی۔ متعدد ممالک میں چیریٹی واکس منعقد ہوتی ہیں جن کے ذریعے فلاحی تنظیموں کی مدد کی جاتی ہے۔ صرف برطانیہ میں 1999ء میں دو ہزار پاؤنڈز سے شروع ہونے والی چیریٹی واک کی آمد گزشتہ سال تین لاکھ ساٹھ ہزار پاؤنڈز تک پہنچ چکی ہے۔
مقرر موصوف نے کہا کہ بے شمار اجتماعی ترقیات کے علاوہ انصار کے ذاتی نمونے بھی قابل رشک ہیں۔ آپ نے چند واقعات بھی اس ضمن میں بیان کئے اور پھر حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا ایک ارشاد پیش کیا۔ حضور انور نے فرمایا کہ ’’ہر ایک کو ہم میں سے اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ کیا نحن انصاراللّٰہ کا نعرہ لگانے سے پہلے غور بھی کیا ہے کہ یہ کتنا گہرا اور وسیع نعرہ ہے؟ اس کے لئے کیا کیا قربانیاں دینی پڑیں گی اور قربانیاں ہیں کیا؟… قربانی جو اس زمانے میں کرنی ہے وہ یہ ہے کہ اپنی عبادتوں کے اعلیٰ معیار قائم کرنے ہیں، اپنے معاشرہ کے حقوق ادا کرنے ہیں ، اپنے مالوں کی قربانیاں دینی ہیں۔‘‘
چند مہمان نمائندگان کا اظہار خیال
اس اجلاس کے اختتام سے قبل تین ممالک سے تشریف لانے والے مہمان نمائندگان نے حاضرین سے مختصراً اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اپنے ملک میں انصاراللہ کے تحت ہونے والی چیدہ چیدہ سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔
٭ مکرم شاہد منصور صاحب صدر انصاراللہ کینیڈا نے خصوصیت سے صحبت صالحین کے پروگراموں میں بیان کی جانے والی ایمان افروز روایات کا ذکر کیا اور نَواحمدی انصار کی دعوت الی اللہ کی خوشکُن مساعی بیان کی۔
٭ مکرم فیروز علی صاحب صدر مجلس انصاراللہ آسٹریلیا (جو فجّی میں پیدا ہوئے تھے) نے کہا کہ وہ 26گھنٹے کے ہوائی سفر کے بعد لندن پہنچے ہیں تاکہ اس تاریخی اجتماع میں شامل ہوسکیں۔ آپ نے مجلس آسٹریلیا کی کارگزاری مختصراً بیان کی اور بتایا کہ آسٹریلیا میں مجلس انصاراللہ 1985ء میں قائم ہوئی تھی اور اس وقت اس کی تجنید 563 ہے۔
٭ نائیجیریا سے تشریف لانے والے نمائندہ اور وہاں کی مجلس عاملہ کے رُکن خصوصی مکرم Sanusi Ahmed Babatunde صاحب نے صدر مجلس انصاراللہ نائیجیریا مکرم Alhaji Mikail Babatunde Odukoya صاحب کا مرسلہ پیغام پڑھ کر سنایا جو انہوںنے مجلس انصاراللہ برطانیہ کے اس تاریخی اجتماع کے لئے بھجوایا تھا۔
اجلاس کے اختتام کے بعد مغرب و عشاء نماز باجماعت ادا کی گئی اور پھر طعام پیش کیا گیا۔ اس طرح پہلا دن اختتام پذیر ہوا۔
………………………
بروز ہفتہ 19؍ستمبر 2015ء
صبح ساڑھے نو بجے مختلف علمی اور ورزشی مقابلہ جات کا آغاز ہوا جو دوپہر کے کھانے تک جاری رہے۔ بعد ازاں نماز ظہر و عصر باجماعت ادا کی گئیں اور اس کے بعد پونے تین بجے دوسرے اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی۔
دوسرا اجلاس
مکرم حافظ مظفر احمد صدر مجلس انصاراللہ پاکستان کی زیرصدارت اس اجلاس کا انعقاد تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم طوبان آفرین صاحب آف ملائشیا نے کی۔ آیات کریمہ کا انگریزی ترجمہ مکرم جلال الدین لطیف صاحب نے پڑھ کر سنایا۔ مکرم مرزا عبدالباسط صاحب آف لندن نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا منظوم کلام ’’باغ میں ملّت کے ہے کوئی گُلِ رعنا کھلا‘‘ ترنم سے پیش کیا۔
ذکرحبیب۔ دعوت الی اللہ کے آئینہ میں
اس اجلاس کے پہلے مقرر مکرم مولانا عبدالماجد طاہر صاحب ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن تھے۔ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوت الی اللہ کے لئے جوش کو بیان کرکے انصار کو بھی اس میدان میں آگے بڑھنے کی تلقین کی۔
آپ نے بتایا کہ اگرچہ دین اسلام اپنے دلائل اور تعلیم کی رُو سے دیگر ادیان پر حاوی ہے تاہم اس کی کامل طور پر دنیا بھر میں اشاعت ایسے وقت کو چاہتی تھی جب دنیا ایک گلوبل ویلیج (Global Village) کی شکل اختیار کرلے۔ چنانچہ یہ وقت مسیح موعودؑ کے دَور میں آیا جو آنحضورﷺ کے بروز کامل تھے اور آپؑ کو بھی تبلیغِ دین کا وہی جوش عطا ہوا تھا جو انبیاء کا ہی خاصا ہے۔ آپؑ نے بارہا فرمایا کہ ’’اِس راہ میں اگر مجھے اپنی جان بھی قربان کرنی پڑے تو کوئی فکر نہیں‘‘۔ ایک بار فرمایا کہ ’’خطرہ ہوتا ہے کہ تبلیغ کے جوش کی وجہ سے میرا دماغ نہ پھٹ جائے‘‘۔
مقرر موصوف نے حضرت اقدسؑ کی نثر اور نظم میں سے ایسے کئی اقتباسات اور اشعار پیش کئے جن سے حضور علیہ السلام کے جوش کا اندازہ ہوتا تھا۔ مثلاً ایک بار فرمایا: ’’جب کوئی دینی ضروری کام آپڑے تو مَیں اپنے اوپر کھانا پینا اور سونا حرام کردیتا ہوں جب تک وہ کام نہ ہوجاوے‘‘۔
چنانچہ قادیان کے ہندو لالہ ملاوامل کے ساتھ حضور علیہ السلام کے تعلق کا آغاز بھی حضورؑ کی تبلیغ کا ہی نتیجہ تھا۔
پھر جب بٹالہ کے قدرت اللہ نے اسلام ترک کرکے عیسائیت قبول کرلی تو حضورؑ اس قدر بے قرار ہوئے کہ آپؑ نے منشی نبی بخش صاحب کو بھیجا کہ اُن کو واپس اسلام میں لائیں اور یہ دلائل پیش کریں۔ فرمایا کہ اگر میری ضرورت ہو تو مَیں بھی وہاں آجاؤں گا۔ تاہم منشی صاحب کی کوشش کامیاب ہوئی اور قدرت اللہ مسلمان ہوگیا۔
ایک بار حضورؑ کو شدید کمزوری اور ضعف کا غلبہ تھا۔ آپؑ نے قریب بیٹھنے والوں سے فرمایا کہ اگر انہیں اسلام پر کوئی اعتراض یاد ہو تو وہ کیا جائے۔ جب کسی کو یاد نہ آیا تو پھر رسول مقبول ﷺ کی مدح میں نعت سننی شروع کی اور اس کے بعد ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے ایسا جوش پیدا ہو اکہ دورہ جاتا رہا ۔
حضرت اقدسؑ کی دلی تمنّا تھی کہ اسلام کا ساری دنیا میں بول بالا ہو۔ چنانچہ ایک بار جب حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت اقدسؑ سے کرکٹ کا میچ دیکھنے کے لئے میدان میں آنے کی درخواست کی تو حضورؑ نے فرمایا: تمہارا گیند تو گراؤنڈ کے باہر نہیں جائے گا لیکن مَیں وہ کرکٹ کھیل رہا ہوں جس کا گیند ساری دنیا میں جائے گا۔
اسی طرح ایک بار کسی نے جوش سے حضورؑ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور ایک مناظرہ میںکامیابی اور مخالف کی پسپائی کی خبر پہنچائی۔ آپؑ کو اطلاع دی گئی تو آپؑ نے مسکراکر فرمایا کہ ہم سمجھے کہ شاید وہ یہ خبر لائے ہیں کہ یورپ مسلمان ہوگیا ہے۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے تھے کہ ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے جو زبانی نہیں بلکہ عملی طور پر کچھ کرکے دکھانے والے ہوں اور اپنی زندگیاں وقف کریں۔ آپؑ نے مبلغین کے لئے جو خصوصیات بیان فرمائیں اُن میں رسول اللہﷺ کے صحابہ کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ قناعت کا مادہ سرفہرست ہے۔پھر تقویٰ کی خوبی ہو کیونکہ متقی میں قوّت جذب ہوتی ہے اور وہ اکیلا رہتا ہی نہیں۔ پھر صبر اور شکر کا شاندار مظاہرہ کرنے والے ہوں۔ اخلاقی حالت بھی اچھی ہو۔
حضرت مسیح موعودؑ کے بعض صحابہ رضوان اللہ علیہم نے حضور علیہ السلام کے ارشادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے واقعۃً تبلیغ کا حق ادا کردیا۔ چنانچہ حضرت عبیداللہ صاحب ماریشس تشریف لے گئے تو دسمبر 1923ء میں صرف 32 سال کی عمر میں وہیں وفات پاکر دفن ہوئے۔ اسی طرح حضرت حافظ جمال احمد صاحبؓ کو ماریشس بھجوایا گیا تو انہوں نے اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر اپنی فیملی لے جانے کی اجازت چاہی۔ اس پر اُن کو جماعت کی مالی حالت کے پیش نظر بتایا گیا کہ فیملی لے جانے کی صورت میں اُنہیں کبھی واپس نہیں بلایا جاسکے گا۔ چنانچہ وہ فیملی سمیت ماریشس چلے گئے اور 1947ء میں وہیں وفات پاکر دفن ہوئے۔ اسی طرح حضرت مولوی ظہور حسین صاحبؓ آف بخارا نے جب ایران سے روس میں داخل ہونے کی کوشش کی تو جاسوس سمجھ کر گرفتار کرلئے گئے اور نہایت دردناک حالات سے گزرنا پڑا۔ دو سال کی سخت اذیّتناک قید کے دوران بھی آپؓ نے تبلیغ کا کام جاری رکھا اور کئی قیدیوں کو مسلمان کرلیا۔ قید کے دوران آپؓ کو ایسے مظالم کا نشانہ بنایا گیا کہ سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ آخر آپؓ کی دعا کے نتیجہ میں حضرت مصلح موعودؓ کو رؤیا میں اُن حالات کی خبر دی گئی جن میں حضرت مولوی صاحبؓ گرفتار تھے اور اس کے بعد پھر کوشش شروع ہوئی اور آپؓ کی رہائی عمل میں آئی۔
موصوف مقرر نے بتایا کہ وہ داعیان الی اللہ بھی تھے جو افریقہ میں پانچ سال تک صرف پتّے کھاکر گزارا کرتے رہے۔ اسی طرح وہ مبلغین بھی تھے جو تبلیغ کی پاداش میں بلند عمارتوں اور چلتی ہوئی بسوں سے نیچے گرادیئے گئے۔ لیکن اُن کے پائے استقامت میں لغزش نہ آئی اور عزم صمیم کے ساتھ اپنے مقصد کے لئے سرگرم عمل رہے۔
آخر میں مکرم مولانا عبدالماجد صاحب نے ایک اقتباس پیش کیا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آج عمر بڑھانے کا نسخہ تبلیغ ہی کو قرار دیا ہے۔
ابتلاؤں پر الٰہی جماعتوں کی استقامت اور اس کی برکات
اس اجلاس کی دوسری تقریر مکرم مولانا اخلاق احمد انجم صاحب کی تھی جس میں آپ نے الٰہی جماعتوں پر آنے والے ابتلاؤں کے نتیجہ میں نازل ہونے والی برکات کا احاطہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ابتلاؤں کے نتیجہ میں وہ قومیں تیار ہوتی ہیں جو دنیا کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ آغازِ اسلام میں بھی توحید کے مقابل جو آندھی چلی تو وہ کونسا دُکھ تھا جو آنحضورﷺ کو نہ دیا گیا۔ اُن مظالم کا تصوّر کرکے دل کانپ اٹھتا ہے لیکن وہ کوہِ وقار اپنے منصب کے ادا کرنے میں کبھی سست اور غمگین نہیں ہوا۔جس طرح شیریںپانی حاصل کرنے کے لئے زمین کو کھودنا پڑتا ہے اسی طرح مصائب اٹھائے بغیر وہ لذّت نہیں مل سکتی۔ لیکن اس کے لئے خدا کی محبت اور اُس پر توکّل بہت ضروری ہے۔
انبیاء کی بعثت کے آغاز سے قربانیوں کی تاریخ بھی شروع ہوتی ہے۔ یہی تاریخ ایک سو سال قبل قادیان میں بھی جاری ہوئی۔ بے شمار دوسرے مصائب کے ساتھ کابل میں جو دردناک واقعہ پیش آیا اُسے حضرت مسیح موعودؑ نے صدق و صفا کا راستہ قرار دیا اور حضرت سید عبداللطیف شہیدؓ کے بارہ میں فرمایا کہ وہ جوانمرد اور ربّ کریم کا محبوب تھا۔
خدا تعالیٰ ہر قربانی کا اجر دیتا ہے اور ان مظالم کا سامنا کرتے ہوئے حضورؑ نے بھی یہ دعویٰ فرمایا تھا کہ ’’اے تمام لوگو! سن رکھو، یہ اُس کی پیشگوئی ہے … وہ اس جماعت کو تمام دنیا میں پھیلادے گا اور غلبہ بخشے گا‘‘۔
بیرونی ابتلاؤں کے ساتھ ساتھ دینی جماعتوں میں اندرونی فتنے بھی جنم لیتے ہیں جن کے ساتھ بھی کامیابیاں وابستہ ہوتی ہیں۔ چنانچہ خلافت اولیٰ میں جب منافقین نے سر اٹھایا تو یورپ میں تبلیغ کی نوید ملی اور پہلا احمدی مبلغ لندن بھجوایا گیا۔ پھر خلافت ثانیہ میں انکارِ خلافت کے فتنہ کے نتیجہ میں فتوحات کا دروازہ کھل گیا۔ 1934ء میں احرار نے قادیان پر دھاوا بولا تو حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ تم سب مخالف متحد ہوجاؤ اور قادیان کے منافقوں کو بھی اپنے ساتھ ملالو لیکن یہ خدا کا لگایا ہوا پودا ہے۔ ساری قومیں مل کر اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتیں۔ چنانچہ اس ابتلاء کے نتیجہ میں تحریک جدید کا قیام عمل میں آیا۔ 1953ء کے فسادات ہوئے تو عدالتی کارروائی کی رپورٹ میں ثابت ہوگیا کہ یہ فتنہ مولوی کی کُوکھ سے پھوٹا ہے لیکن اس فتنہ کے نتیجہ میں جماعت کو وقف جدید کے قیام کی خوشخبری عطا ہوئی۔ 1974ء میں وسیع پیمانہ پر منظم مظالم کا بازار گرم کیا گیا تو خدا تعالیٰ احمدیوں کو دنیابھر میں پھیلا دیا۔ ساڑھے سات سو سال بعد سپین میں مسجد کی تعمیر ہوئی۔ مجلس نصرت جہاں سکیم کے تحت بے شمار طبّی اور تعلیمی ادارے قائم ہوئے۔
آج خلافت خامسہ میں بھی ظلم و جور کا بازار گرم ہے۔ 28مئی 2010ء کو لاہور کی دو مساجد میں 86 احمدیوں کو شہید کردیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد ایک ماں نے اپنے نو دس سالہ بچے کو اگلے جمعہ ہی مسجد میں بھیجا اور کہا کہ تم نے وہیں کھڑے ہوکر نماز ادا کرنی ہے جہاں پچھلے جمعہ تمہارے باپ نے شہادت پائی تھی۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے یہ واقعہ سن کر فرمایا تھا کہ جب تک احمدی ماؤں میں یہ روح زندہ رہے گی تب تک دنیا کی کوئی طاقت جماعت احمدیہ کو شکست نہیں دے سکتی۔
مقرر موصوف نے تاریخ احمدیت سے متعدّد واقعات بیان کرکے بتایا کہ ہر قربانی اور ابتلاء کے نتیجہ میں ترقیات کی نئی سیڑھیاں جماعت کو عطا ہوتی رہی ہیں۔ پس یہ مخالفتیں اور ظلم و جور جماعت کا بال بھی بیکا نہیںکرسکتیں ۔ ان کے پھل جماعت کی کامیابی کی صورت میں لگنے ہیں اور لگ رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اندر وہ رُوح زندہ رکھیں اور استقامت ، صبر اور دعاؤں کے ساتھ ایسی تکالیف کا مقابلہ کرتے چلے جائیں۔
الٰہی جماعتیں اور دعوت الی اللہ کی ذمہ داریاں
اس اجلاس کی تیسری تقریر مکرم حافظ مظفر احمد صاحب کی تھی جس میں آپ نے قرآن کریم، سنّت نبویﷺ اور حضرت مسیح موعودؑ کے ارشادات کے حوالہ سے انصار کو دعوت الی اللہ کی ذمہ داریاں ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی۔
مقرر موصوف نے قرآن کریم کے حوالہ سے بتایا کہ تبلیغ کے تین اصول بیان ہوئے ہیں۔ اوّل: تبلیغ خدا کی خاطر ہو۔ دوم: عمل صالحہ کا بہترین نمونہ بھی ہو۔ اور سوم: مسلمان امن و آشتی کا علمبردار رہے۔
آنحضورﷺ نے نہایت حکمت کے ساتھ دنیا کو امن کی دعوت دی اور اپنا بہترین نمونہ دکھایا بلکہ سابقہ انبیاء کے نمونے اپنی زندگی میں پیش کردیئے۔
قرآن کریم نے حضرت نوحؑ کی تبلیغ کو عزم و استقلال کا نمونہ ٹھہرایا ہے۔ آپؑ نے دن رات اعلانیہ اور مخفی، اجتماعی اور انفرادی، ہر سطح پر اتمام حجّت کردی۔ پھر حضرت ابراہیمؑ نے گھر سے تبلیغ کا آغاز کیا اور بادشاہ نمرود کو بھی تبلیغ کی۔ قوم کے ساتھ مناظرے بھی کئے۔ داعیان کی جماعت کی تربیت بھی کی جن کے ذریعہ لمبا عرصہ تک تبلیغ کا کام جاری رکھا۔ حضرت یوسفؑ نے جیل میں بھی تبلیغ جاری رکھی۔ حضرت صالحؑ نے ایک دَر بند ہونے پر تبلیغ کے نئے دروازے تلاش کئے۔ اونٹنی کو تبلیغ کے لئے استعمال کیا۔ حضرت موسیٰؑ نے جرأت کے ساتھ سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہا۔ ان سب انبیاء کے نمونے آنحضورﷺ میں جمع کردیئے گئے۔آپؐ نے حکمت کے ساتھ غرباء کو بھی اور امراء کو بھی تبلیغ کی۔ بادشاہوں کو بھی تبلیغی خطوط لکھے۔ کبھی بشیر بن کر خوشخبری دی اور کبھی نذیر بن کر ڈرایا۔ حتّٰی کہ ایک پہلوان رکانہ کے ساتھ بھی اس کے کہنے پر کُشتی کی اور تین بار اُس کو پچھاڑ دیا اور اُس نے اسلام قبول کرلیا۔حج اور میلوں کے دنوں میں وہاں جاتے اور تبلیغ کرتے۔ طائف میں لہولہان ہوگئے۔ اس حالت میں ایک باغ میں پناہ لی جہاں ایک خادم ترس کھاکر انگوروں کا خوشہ آپؐ کے لئے لایا تو آنحضورﷺ نے اس کو بھی تبلیغ کی اور وہ مسلمان ہوگیا۔ مدینہ آنے کے بعد نجران کے عیسائیوں کے ساتھ گفتگو کی، طائف کے مشرکین کو تبلیغ کی۔ یہودی خادم بیمار ہوا تو اُس کے گھر گئے اور اُس کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ خیبر کے میدان میں ایک حبشی چرواہا ملا تو اُسے تبلیغ کی اور وہ مسلمان ہوکر خیبر کی لڑائی میں ہی شہادت پاگیا۔ آپؐ کسی کو بھی تبلیغ کے حوالہ سے حقیر نہیں جانتے تھے۔
آنحضورﷺ نے تبلیغ کا آغاز انفرادی تبلیغ سے کیا۔ یہ دراصل ایسا انداز ہے جس کے بارہ میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ فرمایا کرتے تھے کہ جتنی مرضی پابندیاں لگ جائیں لیکن انفرادی تبلیغ کا ذریعہ کبھی ختم نہیں کیا جاسکتا۔
مخالفت بھی تبلیغ کا ذریعہ ہے چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ مہمانوں سے اُن کے علاقوں میں مخالفت کا بھی پوچھا کرتے تھے۔ چنانچہ کئی مخالفین آتے لیکن اسلام قبول کرلیتے۔
اسی طرح مظلومیت بھی بہت بڑی طاقت ہے۔ حضرت حمزہؓ نے یہی دیکھ کر اسلام قبول کیا تھا کہ ابوجہل نے ناحق آنحضورﷺ کو دُکھ پہنچایا ہے۔
ہجرت بھی اسلام کے لئے طاقت کا سبب بنی اور اسی کے نتیجہ میں مرکزِ اسلام مدینہ بھی عطا ہوا۔
آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ ندا دی ہے کہ زمین پر اب سچا مذہب صرف اسلام ہے۔ آپؑ نے فرمایا کہ ہمارے اختیار میں ہو تو ہم فقیروں کی طرح گھر بہ گھر پھر کر سچے دین کی تبلیغ کریں۔ حضرت مسیح موعودؑ کے بعد تبلیغ کا یہ سلسلہ خلافت کے ذریعہ جاری رہا اور جس طرح حضرت اقدسؑ نے ملکہ وکٹوریہ کو تبلیغ فرمائی تھی، اسی طرح حضور انور نے بھی امن کے قیام کی خاطر دنیا کے اہم ممالک کے سربراہان کو خطوط لکھے۔ نیز کئی ممالک کی پارلیمنٹس کے علاوہ کیپیٹل ہِل اور یورپین پارلیمنٹ سے خطاب فرمائے اور ان خطابات اور خطوط کے نتیجہ میں امن کا سفیر کہلائے۔
حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ دعوت الی اللہ کی کامیابی کے لئے اپنے دل میں درد پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ لوگ ہدایت پاجائیں۔
یہ اجلاس دعا کے ساتھ اختتام کو پہنچا جو مکرم حافظ مظفر احمد صاحب نے کروائی۔
ایک اسیر راہ مولیٰ کے رات دن
اگلے اجلاس کی صدارت مکرم چودھری وسیم احمد صاحب صدر مجلس انصاراللہ یوکے نے کی۔ پہلے مکرم محمد الیاس منیر صاحب مربی سلسلہ جرمنی نے اپنے دَورِ اسیری کے حوالہ سے نہایت ایمان افروز واقعات بیان کئے۔ آپ کو اکتوبر 1984ء میں اس واقعہ کے بعد گرفتار کرلیا گیا تھا جس میں مکرم رانا نعیم الدین صاحب نے مسجد احمدیہ ساہیوال میں اپنی حفاظت میں گولی چلائی تھی۔ اس کے نتیجہ میں گیارہ احمدیوں پر سراسر جھوٹا مقدمہ درج کرکے فیصلے میں مکرم رانا صاحب اور مکرم الیاس منیر صاحب کو سزائے موت اور چار احمدیوں کو سات سات سال قید بامشقّت سنائی گئی۔ جھوٹے گواہوں کی مدد سے سماعت جاری تھی کہ فیصلہ سے قبل ہی عدالت نے احمدیوں سے دریافت کیا کہ کیا وہ رحم کی اپیل کرنا چاہتے ہیں۔ احمدیوں کا فیصلہ تھا کہ ضیاء جیسے فرعونوں کے سامنے ہمارے سر کٹ تو سکتے ہیں لیکن جُھک نہیں سکتے۔یہ فیصلہ ایسا تھا جو توثیق کے لئے جب گورنر غلام جیلانی کے پاس گیا تو انہوں نے اس کو مسترد کرتے ہوئے نظرثانی کا حکم جاری کیا۔ اس پر ضیاء نے یہ معاملہ اپنے ہاتھ میں لے کر نئے فیصلہ میں سزائے موت پانے والوں کے جرمانہ کی سزا میں اضافہ کردیا اور سات سال کی قید پانے والوں کی سزا کو عمر قید میں بدل کر جرمانہ میں بھی اضافہ کردیا۔ اور پھر یہ فیصلہ ضیاء الحق نے اپنے دستخطوں سے جاری کیا۔
مقرّر موصوف نے اس دوران جماعت کے عمومی ردّعمل اور خصوصاً حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ کی ہدایات اور دعاؤں سے طے ہونے والے مراحل کا ذکر کیا۔ حضورؒ نے ایک طرف تو اسیرانِ راہ مولیٰ کو ’’تذکرۃالشہادتین‘‘ کا کثرت سے مطالعہ کرنے کی تحریک فرمائی اور خطوط میں ڈھارس دیتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ ’’بہت دعا کریں کہ میرا اور اس پیاری جماعت کا سر ہر ابتلا میں بلند رہے اور کبھی غیراللہ کے سامنے نہ جھکے‘‘۔ دوسری طرف حضورؒ نے اپنے مولیٰ کے حضور دعاؤں اور آہ و فغاں کی انتہا کردی۔
ضیاء الحق کے فیصلہ کے بعد اسیران کو کال کوٹھڑی میں بند کردیا گیا۔ اسیران نے رحم کی اپیل کی بجائے فیصلہ کو چیلنج کیا تو نظرثانی کی درخواست مسترد کرکے دونوں کو سزائے موت پانے والوں کو پھانسی گھاٹ میں بند کردیا گیا اور بتایا گیا کہ سات دن بعد پھانسی دیدی جائے گی۔ مکرم الیاس منیر صاحب نے بیان کیا کہ ایسے وقت میں مَیں نے پھانسی کے مقام پر جاکر بالکل بے خوف ہوکر سارے نظام کو اچھی طرح دیکھا اور پھر ایک روز اپنی آنکھوں کے سامنے موت کو سرپٹ بھاگتے ہوئے بھی دیکھا۔ اسیری کے دوران متعدد بار خوابوں میں مشکلات سے نجات کے نظارے بھی اللہ تعالیٰ نے دکھائے۔
اسیری میں تبلیغ کے مواقع بھی ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ اس وجہ سے ہمیں مارا پیٹا بھی گیا، قید تنہائی میں بھی ڈالا گیا، بیڑیاں بھی لگائی گئیں۔ صوبائی انتظامیہ کو ہمارے خلاف درخواستیں دی گئیں۔ دھمکیاں بھی دی جاتیں۔ جب ایک غریب آدمی کی درخواست پر ہم نے اُسے اپنے کھانے میں شریک کرلیا تو مخالفین نے اُسے لعن طعن کرکے ہم سے دُور کردیا۔ ایک شخص کے کہنے پر مَیں نے اُسے قرآن پڑھانا شروع کیا تو بھی یہی ردّعمل دیکھنے میں آیا۔ پھر حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کو ہماری جیل سے رہائی کی قبل از وقت خوشخبری دیدی گئی اور جس دن ہماری باعزت رہائی عمل میں آئی تو رمضان کو گزرے تین چار روز ہوئے۔ حضورؒ نے مسجد میں فرمایا کہ اس رمضان میں مَیں نے بہت دعا کی کہ خدایا اگلا رمضان ان کو جیل میں نہ آئے۔
مجلس انصاراللہ یوکے کی متفرق مساعی
اس کے بعد مجلس انصاراللہ برطانیہ کے قائد تبلیغ مکرم شکیل احمد بٹ صاحب اور قائد مال مکرم عبدالمنان ا ظہر چوہدری صاحب نے اپنے اپنے شعبہ جات میں کارکردگی کی رپورٹس پیش کیں اور مکرم حافظ مظفر احمد صاحب نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ریجنل قائدین اور مقامی زعماء میں سندات امتیاز تقسیم کیں۔
اس کے بعد مکرم ڈاکٹر اعجازالرحمن صاحب نائب صدر مجلس انصاراللہ یوکے نے مجلس انصاراللہ برطانیہ کی متفرق سرگرمیوں اور اُن کے خوش کُن نتائج پر مختصراً روشنی ڈالی۔ آپ نے بیان کیا کہ اس وقت انصار اللہ یوکے کی Charity Walk for Peace جماعت کے تعارف کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
اس کے بعد مکرم فیصل مبارک صاحب آف مانچسٹر نے حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کا نعتیہ منظوم کلام ’’اِک رات مفاسد کی وہ تیرہ و تار آئی‘‘ پیش کی۔
قاتلانہ حملہ سے معجزانہ شفاء
مکرم شفقت صاحب آف ڈاور (ربوہ) نے ایک ذاتی واقعہ بیان کیا کہ جب احمدی ہونے کی وجہ سے چنیوٹ میں اُن پر ٹوکہ سے حملہ کرکے گردن میں گہرا گھاؤ لگایا گیا تو گردن کا بڑا حصہ کٹ گیا۔ چنیوٹ ہسپتال والوں نے بتایا کہ یہ چند منٹ سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ کوشش کرکے فیصل آباد لے جاؤ۔ چنانچہ فیصل آباد پہنچے تو ڈاکٹر نے پہلے تو مایوسی کا اظہار کیا بعد میں ساڑھے پانچ گھنٹے کا آپریشن کیا اور 17 بوتلیں خون کی انہیں لگائی گئیں۔ ڈاکٹر نے آپریشن کے بعد بتایا کہ اگر یہ زندہ بھی رہا تو یادداشت ختم ہوجائے گی اور بایاں حصہ فالج زدہ ہوجائے گا۔ ساری عمر لقویٰ کے باعث منہ کھلا رہے گا اور بائیں آنکھ بند نہیں ہوسکے گی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے غیرمعمولی فضل کیا اور خلیفۂ وقت کی دعاؤں سے معجزانہ صحت عطا فرمائی۔
لاہور میں دہشتگردی کی کہانی۔ ایک شامی احمدی کی زبانی
اس اجلاس کی آخری تقریر ڈاکٹر محمد المسلم الدروبی صدر جماعت احمدیہ شام (سیریا) کی تھی جو 28مئی 2010ء کے دہشتگردی کے واقعہ کے وقت احمدیہ مسجد دارالذکر لاہور میں موجود تھے۔
آپ نے بتایا کہ اگرچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو الہاماً بتایا گیا کہ شام کے بزرگ اور صلحاء آپؑ کے لئے دعا کرتے ہیں تاہم حضور علیہ السلام کے زمانہ میں شام کے کسی شخص کو قبولِ احمدیت کی توفیق نہیں ملی تھی۔ ایک لمبے عرصہ بعد پہلے شامی شخص نے جس کا تعلق Tripoli سے تھا، احمدیت قبول کی۔ 1925ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے شام کا دورہ فرمایا اور وہاں کے علماء کو دعوت الی اللہ کی لیکن انہوں نے پیغام قبول کرنے کی بجائے مخالفت میں پورا زور لگادیا۔ تاہم آج مَیں عینی شاہد ہوں کہ خدا کے فضل سے وہ پیشگوئیاں پوری ہوچکی ہیں۔
حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمسؓ پہلے مبلغ تھے جنہیں شام بھجوایا گیا اور آپؓ کی قربانی، محنت اور دعاؤں سے بہت سے شامیوں نے احمدیت قبول کرلی۔ آپؓ کے واپس آنے کے بعد محترم منیرالحصنی صاحب شام کے پہلے امیر مقرر ہوئے۔اس دَور میں احمدیت کو ترقیات عطا ہوئیں لیکن عوام اور حکومت کی طرف سے بھی مخالفت بھی زورشور سے ہونے لگی۔ کئی احمدیوں کو مشق ستم بنایا گیا اور بہت سے احمدیوں کو اسیرانِ راہ مولیٰ ہونے کی سعادت ملی۔ 1989ء میں مجھے بھی 25 روز جیل میں گزارنے کا موقع ملا جب مَیں صد سالہ جوبلی جلسہ دیکھ کر لندن سے واپس پہنچا۔ سنگین حالات کے پیش نظر حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے شام کے احمدیوں کو غیرضروری طور پر متحرّک ہونے سے منع فرمادیا۔
حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ نے خدائی اشاروں کو دیکھتے ہوئے ہمیں پھر تبلیغ کی طرف توجہ کرنے کی ہدایت فرمائی۔ 2007ء میں مجھے جماعت احمدیہ شام کا صدر مقرر کیا گیا۔ ہم نے تازہ جذبہ کے ساتھ دعوت الی اللہ کا آغاز کیا تو اللہ تعالیٰ نے غیرمعمولی کامیابیاں بھی عطا فرمائیں لیکن عوام اور حکومت نے مخالفت اور ظلم میں بھی انتہاء کردی۔
2010ء میں مجھے پاکستان جانے کا موقع ملا۔ 28 مئی کو مَیں دارالذکر لاہور میں نماز جمعہ ادا کرنے پہنچا۔ مَیں محراب کے سامنے کھڑا ہوکر نوافل ادا کرنے میں مصروف ہوگیا۔ یہ میری زندگی کے عجیب نوافل تھے کہ نصف گھنٹہ روحانیت کے ایسے ماحول میں گزرا جو میری زندگی میں پہلی بار آیا تھا۔ اس مختصر وقت میں مَیں نے جتنی بھی دعائیں کرنے کی توفیق پائی، خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے میری ہر دعا کو شرفِ قبولیت بخشا۔ یہ نماز واقعی ایک عجیب پُرسرور تجربہ تھا۔
جب حملہ شروع ہوا تو مَیں پہلی صف میں بیٹھا تھا۔ امام نے سب کو لیٹنے اور درودشریف پڑھنے کا کہا لیکن اُن کے اردو میں الفاظ مجھے سمجھ نہیں آرہے تھے اس لئے انہوں نے مجھے ہاتھ سے لیٹنے کا اشارہ کیا۔ اسی اثناء میں میرے قریب ہی ایک زوردار دھماکہ ہوا اور میری ایک ٹانگ شدید زخمی ہوگئی اور مَیں خون میں نہا گیا۔ وہاں دہشتگردی کے گھناؤنے کھیل کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا۔ شدید فائرنگ اور دھماکوں کے دوران بھی احمدیوں کی طرف سے کوئی شور یا آہ و فغاں نہیں تھا بلکہ خاموشی سے سب درودشریف اور استغفار میں مشغول تھے۔ جب بھی کسی تہ خانہ میں یا دوسرے کمرہ میں جانے کا اشارہ ہوتا تو کسی دھکم پیل کے بغیر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے عمل ہوتا۔ ایک نوجوان کے پاس پانی کی بوتل تھی جو اُس نے آگے پکڑائی تو شدید گرمی کے باوجود لوگ صرف ایک ایک گھونٹ پی کر آگے دوسرے کو پکڑانے لگے۔ یہ ایثار دیکھ کر عجیب احساس ہوتا تھا۔ اسی دوران دوسرے دھماکہ سے میری دوسری ٹانگ بھی زخمی ہوگئی۔ جب دہشتگردوں کی گولیاں تھم گئیں تو زخمیوں کو باہر نکالا جانے لگا۔ مجھے بھی سہارا دے کر باہر لایا گیا۔ مسجد کا فرش شہداء کی لاشوں سے بھرا ہوا اور بہے ہوئے خون سے سرخ تھا۔ پھر مجھے باہر لایا گیا تو اندر سے ایک نوجوان میرا موبائل فون لے کر آیا اور مجھے پکڑا کر بتایا کہ یہ مَیں نیچے تہ خانہ میں بھول آیا تھا۔ پھر مجھے ہسپتال لے جایا گیا۔ ہسپتال کے عملہ کے ایک فرد نے فون کرنے کے بہانے سے مجھ سے فون لیا اور پھر وہ فرد مجھے دوبارہ نظر نہیں آیا اور نہ ہی فون ملا۔ اس وقت مجھے احمدیوں اور غیروں کے درمیان فرق کا صحیح اندازہ ہوا۔
بعد میں مجھے بتایا گیا کہ میری ٹانگوں کے اندر کتنے سپلنٹرز ابھی تک موجود ہیں اور یہ بھی ہڈی بھی فریکچر ہوچکی ہے۔ میرا آپریشن کیا گیا۔ آپریشن سے قبل ڈاکٹر نے آکر مجھ سے معذرت کی کہ میرے ساتھ یہ سلوک کرنے والے واقعی انسانیت کے دشمن ہیں۔ مَیں سوچنے لگا کہ پاکستانی قوم میں ابھی بھی اچھے لوگ موجود ہیں۔
مقرّر موصوف نے کہا کہ احمدیوں پر حملہ کرنے والے دہشتگرد دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اسلام کے مبلغ ہیں حالانکہ وہ نفرت پھیلانے کا کام کرتے ہیں اور اُن کا عمل اس بات کا گواہ ہے کہ یہ گھناؤنا کردار بھی شدید نفرت کا ہی نتیجہ ہے۔
شہدائے احمدیت کے حوالہ سے مشاعرہ کا انعقاد
آج کا آخری پروگرام ایک مختصر مشاعرہ کا انعقاد تھا جو شہدائے احمدیت کے حوالہ سے منعقد کیا گیا تھا۔ اس مشاعرہ میں نظامت کے فرائض معروف شاعر مکرم مبارک احمد صدیقی صاحب نے سرانجام دیئے۔ شعراء میں اُن کے علاوہ مکرم راجہ محمد سلیمان صاحب (جرمنی)، مکرم خواجہ عبدالمومن صاحب (ناروے)، مکرم ڈاکٹر وسیم احمد طاہر صاحب (جرمنی)، مکرم آدم چغتائی صاحب (برمنگھم) اور مکرم عبدالقدوس طاہر صاحب شامل تھے۔ وقت کی کمی کی وجہ سے مقامی شعراء کو اس شعری نشست میں شامل نہیں کیا گیا۔
رات قریباً سوا سات بجے یہ پروگرام اختتام کو پہنچا جس کے بعد نماز مغرب و عشاء ادا کی گئی اور پھر کھانا پیش کیا گیا۔
اتوار 20ستمبر 2015ء
اتوار کے روز بعد دوپہر محترم چودھری وسیم احمد صاحب صدر مجلس انصاراللہ یوکے کی زیرصدارت منعقد ہونے والے اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم معید حامد صاحب نے کی۔ آیات کریمہ کا انگریزی ترجمہ مکرم سلیمان ہاشم صاحب نے پیش کیا اور مکرم خالد بٹ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا منظوم کلام ’’اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال‘‘ ترنم سے پڑھا۔
صف دوم کے انصار کا کردار اور ذمہ داریاں
اس اجلاس کی پہلی تقریر مکرم ٹومی کالون صاحب نائب صدر صف دوم کی تھی جنہوں نے صف دوم کے انصار کی ذمہ داریوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
آپ نے بتایا کہ صف دوم کے انصار نسبتاً بہتر صحت کے مالک ہوتے ہیں اور جسمانی مشقّت کی خدمت بہتر انداز میں کرسکتے ہیں نیز قربانیاں پیش کرنے کا اُن کا معیار بھی بہت عمدہ ہوتا ہے۔ عموماً صف دوم کے انصار وہ ہیں جو اس ملک میں پیدا ہوئے یا لمبے عرصہ سے یہاں مقیم ہیں اور معاشرتی طور پر سرگرم عمل ہیں۔ چنانچہ اُن کی انگریزی زبان بھی بہتر ہے اور وہ دعوت الی اللہ اور دیگر پروگراموں میں بھی زیادہ بہتر انداز میں خدمت کرسکتے ہیں۔ یہی وہ انصار ہیں جنہوں اللہ تعالیٰ کے فضل سے آئندہ مجلس انصاراللہ اور جماعت احمدیہ کی خدمت کی توفیق پانی ہے اس لئے ان کو اپنی ذمہ داریوں کو خاص طور سمجھنا چاہئے اور خلیفۂ وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی اور اپنی آئندہ نسلوں کی تعلیم و تربیت اور اخلاقی و روحانی ترقیات کے لئے کوشاں رہنا چاہئے۔
دعوت الی اللہ کے میدان میں تجربات
اس اجلاس میں دوسری تقریر مکرم جاوید حیدر حمید صاحب کی تھی جنہوں نے دعوت الی اللہ کے میدان میں اپنے تجربات کو مختصراً بیان کیا اور اپنی تبلیغی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بہت سی تاریخی تصاویر بھی حاضرین کو دکھائیں۔ انہوں نے بتایا کہ میرے والد چودھری حمید احمد لائلپوری صاحب 1961ء میں برطانیہ آئے تھے اور مَیں نے اس ملک میں احمدیت کی حیرت انگیز ترقیات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کی البم میں ایسی تصاویر ہوں گی جو اُس کی اور اُس کے خاندان کے احمدیت کے ساتھ مضبوط روابط کی عکاس ہوں گی۔
دو سال قبل مجھے یہ ہدایت ملی کہ چیریٹی واک سے جمع ہونے والی کچھ رقم ایسی کونسلز کی چیریٹیز کو دینے کا اہتمام کیا جائے جہاں احمدیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے تاکہ وہاں کے مقامی مستحق افراد بھی ہماری طرف سے جمع کی جانے والی رقم سے استفادہ کرسکیں۔ چنانچہ ایسی تقاریب کا اہتمام کیا گیا اور ان کونسلوں کے تمام کونسلرز کو دونوں کتب “Life of Muhammad” اور “Pathway to Peace” تحفۃً دی گئیں۔ مجھے حیرانی اس بات پر تھی کہ ان تقاریب کے انعقاد کے لئے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی اور ایسے محسوس ہوتا تھا کہ جیسے یہ کام خودبخود ہورہے تھے اور ہم صرف دعائیں کرتے ہوئے یہ نظارے دیکھتے رہے۔
خدا تعالیٰ نے حقیقی اسلام کا پیغام پہنچانے کا غیرمعمولی انتظام فرمایا۔ کونلسز کے اجلاسات میں انسانیت کی خدمت کے لئے چیریٹی کی رقم بھی پیش کی گئیں۔ جماعت کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا گیا۔ شجرکاری کی مہم اور بسوں پر محبت اور امن کے پیغامات کی تشہیر کا بھی بہت فائدہ ہوا۔نمائشیں اور سٹالز بھی لگائے گئے۔بے شمار افراد نے یہ اظہار کیا کہ انہیں مسلمانوں میں کسی ایسے پُرامن فرقے کی موجودگی کا علم ہی نہیں تھا اور وہ احمدیت کی متأثرکُن تعلیم سے بے خبر تھے۔ چنانچہ مقامی اور ضلعی کونلسز میں منعقد ہونے والی ایسی میٹنگز کے نتیجہ میں تعلقات میں غیرمعمولی وسعت پیدا ہوئی اور بہت سی مثبت سرگرمیوں نے جنم لیا۔ ہمیں اپنا مؤقف پیش کرنے کے لئے کئی میٹنگز بھی ترتیب دی گئیں جن میں کونسلرز نے اپنے تعلق سے مہمانوں کو دعوت دی کہ وہ ہماری بات سنیں۔ الحمدللہ یہ بہت بڑی کامیابی تھی۔ کئی مہمانوں نے بعد ازاں ہمارے جلسہ سالانہ میں بھی شرکت کی۔
مقرّر موصوف نے انگریزی زبان بولنے والے انصار کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ ارشاد یاد دلایا جس میں حضور علیہ السلام اس تمنّا کا اظہار فرمایا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ آپؑ کو انگریزی کا علم عطا فرمادے تو آپؑ اپنی ساری زندگی انگریزی بولنے والے ممالک میں تبلیغ کرتے ہوئے گزار دیں گے۔ چنانچہ آج ہمارا فرض ہے کہ ہم حضور علیہ السلام کی تڑپ کو سامنے رکھ کر اِس ملک میں تبلیغ کریں۔ اس کے علاوہ اب برطانیہ میں ہر نیشنیلٹی اور ہر زبان بولنے والے لوگ موجود ہیں اسلئے تمام انصار کے لئے اپنی زبان میں دعوت الی اللہ کرنے کے مواقع بھی موجود ہیں۔ اور یہ بات بھی اہم ہے کہ تبلیغ کرنے والوں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے جو انعامات عطا ہوتے ہیں اُن کا مشاہدہ ہم ہر روز کرتے ہیں۔
قرآن کریم کی پاکیزہ تعلیم کے اثرات
اس اجلاس کی تیسری تقریر مکرم عارف احمد صاحب آف سپن ویلی کی تھی۔ آپ نے بھی اپنے تبلیغی تجربات کو بیان کیا۔ آپ نے بتایا کہ امریکی پادری Terry Jones کی طرف سے قرآن کریم کے خلاف چلائی جانے والی مُہم نے میری زندگی کا رُخ بدل کر رکھ دیا اور پھر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کی روشنی قرآن کریم کے نسخوں اور تعلیمات کو پھیلانے کے لئے زیادہ سے زیادہ نمائشوں کا اہتمام کرنے کا جذبہ مجھ میں پیدا ہوگیا۔ چنانچہ سب سے پہلے مَیں نے سپن ویلی میں ایسی نمائش لگانے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ نمائش لگانا بہت مشکل معلوم ہوتا تھا لیکن آغاز میں ہی مجھے اندازہ ہوا کہ یہ کام میری سوچ کی نسبت سے بھی بہت آسان تھا۔ پہلے کونسل سے رابطہ کرکے ٹاؤن ہال کی بُکنگ کروائی اور پھر مہمانوں یعنی اپنے دوستوں کو بذریعہ فون مدعو کرنا شروع کیا۔ کونسلرز، ممبر پارلیمنٹ اور میئر وغیرہ کو بذریعہ ای میل دعوت دی اور نمائش کے لئے مواد جمع کرنا بھی شروع کردیا۔
اسی اثناء میں مُلّاؤں نے کونسل پر نمائش کینسل کرنے کے لئے دباؤ ڈالا اور متنبّہ کیا کہ اس نمائش کے لگانے سے فساد بھڑک اُٹھے گا۔ مُلّاؤں نے MP پر بھی دباؤ ڈالا کہ وہ نمائش دیکھنے نہ جائے۔ ان حالات میں نمائش مُلتوی کردی گئی لیکن ہم نے لائبریریوں میں اور انفرادی ملاقاتوں کے ذریعہ سے قرآن کریم اور اس کی صحیح تعلیم سے متعلق لٹریچر لوگوں کو دینا شروع کیا۔ اس کا ردّعمل بہت خوش کُن تھا۔ خاتون پادری نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر بھی آیا ہے۔ چنانچہ ایسے شہر میں جہاں پہلے بعض احمدیوں کا خیال تھا کہ لائبریریوں میں قرآن کریم یا جماعت کی کتب قبول نہیں کی جاتیں، وہاں کی گیارہ لائبریریوں میں ہم نے قرآن کریم کے قریباً 30 نسخے رکھوائے جو شکریہ کے ساتھ قبول کئے گئے۔
پھر ہم نے کتاب “Life of Muhammad” کی تقسیم بڑے پیمانے پر شروع کی۔ اس کا ردّعمل اتنا مثبت تھا کہ مقامی کونسلرز کی حمایت ہمیں حاصل ہوگئی۔ اسی دوران ہم نے میئر کو چیریٹی کے لئے چیک بھی پیش کیا۔ میئر، کونسلرز اور دیگر مقامی رہنماؤں کی طرف سے نہایت حوصلہ افزا پیغامات موصول ہوئے۔ سب ہی نے دل کھول کر قرآن کریم کی تعلیم اور آنحضور ﷺ کی حیات مبارکہ کو سراہا اور حضور انور ایدہ اللہ کی کتاب “World Crisis…” کو بہت پسند کیا گیا۔ چرچ اور کونسل سے تعلق رکھنے والے کئی افراد (بشمول میئر آف ڈرہم) ازخود ہماری مسجد میں آئے۔ Durham کی لائبریریوں کے کونسلر انچارج نے لائبریریوں میں رکھوائی گئی کتب پر بہت عمدہ خیالات کا اظہار کیا۔ یورپین پارلیمنٹ کے رکن نے کتب ملنے پر شکریہ ادا کیا۔
موصوف نے بتایا کہ ان تبلیغی کاموں کے نتیجہ میں روحانی سکون حاصل ہوتا ہے اور مادی دنیا سے دل اُچاٹ ہونے لگتا ہے۔ آپ اپنی فیملی کو بھی اس کام میں شامل کرلیں تو سب کی تربیت ہونے لگتی ہے۔ افطار پارٹیاں، عید ملن پارٹیاں، کافی مارننگ کے نتیجہ میں اسلام کی حقیقی تعلیم کو اپنے معاشرہ میں خوب پھیلانے کی کوشش کرنی چاہئے اور حقیقی معانی میں انصاراللہ بن جانا چاہئے۔
انٹرنیٹ کے نقصانات سے بچاؤ میں والدین کا کردار
اس اجلاس کی چوتھی تقریر مکرم نثار آرچرڈ صاحب سیکرٹری تربیت جماعت احمدیہ یوکے کی تھی۔ آپ نے گرافس اور اعدادوشمار کی مدد سے انٹرنیٹ اور دیگر اسی قسم کی ایجادات کے بارہ میں نہایت مفید امور حاضرین کے سامنے پیش کئے۔ آپ کی تقریر کا عنوان تھا: ’’انٹرنیٹ کے فوائد و نقصانات اور والدین کا کردار‘‘۔
مکرم آرچرڈ صاحب نے بتایا کہ انٹرنیٹ کی مدد سے نئی چیزوں اور ڈیزائن وغیرہ کی تخلیق کے علاوہ رابطوں کی بھی بہت آسانی ہوگئی ہے۔ بینکنگ اور بزنس سے متعلقہ امور نبٹانے بھی آسان ہوگئے ہیں۔ لیکن ان فوائد کے ساتھ جو نقصانات پہنچ رہے ہیں اُن کی فہرست کافی طویل ہے۔ نیز موبائل فون بھی آجکل اسی زمرے میں آتا ہے جس کی مدد سے ای میل، پیغام رسانی (Messaging)، سوشل سائٹس پر جانے اور ویڈیو گیمز کھیلنے کا شوق بڑھ جاتا ہے۔ بچوں میں انٹرنیٹ کے ذریعہ کیا منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 26 فیصد بچوں کا خیال ہے کہ جو کچھ وہ انٹرنیٹ پر دیکھتے ہیں اس کا علم اُن کے والدین کو نہیں ہونا چاہئے۔ اسی طرح 55 فیصد بچوں نے اپنا نام اور دیگر معلومات اجنبی لوگوں کو مہیا کیں۔
آپ نے بتایا کہ دراصل انٹرنیٹ اور موبائل وغیرہ نشہ کا رنگ اختیار کرچکے ہیں۔ اس کے خطرات کے نتیجہ میں غیرمناسب جنسی مواد تک رسائی، نفرت، نسل پرستی اور تشدّد میں اضافہ وغیرہ شامل ہیں۔ بچے مذہب سے دُور اور آزادی کی طرف جارہے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ اگر اخلاقی تعلیم موجود ہے تو پھر مذہب کی کیا ضرورت ہے۔ والدین اور گھر سے رابطہ میں مسلسل کمی آرہی ہے۔ حضرت چودھری سر محمد ظفراللہ خان صاحبؓ فرمایا کرتے تھے کہ لوگوں کے پاس بچے پیدا کرنے کے لئے تو وقت ہے لیکن بچوں کی دیکھ بھال کے لئے وقت نہیں ہے۔
مکرم آرچرڈ صاحب نے بتایا کہ آج ضرورت ہے کہ بعض چیزیں گھر میں ایسی اختیار کی جائیں جو فیملی یونٹ کو تقویت دیں۔ ان میں MTA دیکھنے کے علاوہ نماز باجماعت کا قیام بھی شامل ہے۔ اسی طرح کھانا اکٹھے کھانے کی روایت بھی ڈالنی چاہئے۔
اپنی تقریر کے آخر میں آپ نے انٹرنیٹ کے استعمال کے متعلق انصار کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھنے کے لئے ایک سنہرا اصول بیان کیا اور کہا کہ انٹرنیٹ کے استعمال کا ایک ہی معیار ہونا چاہئے یعنی جو چیز ایک ناصر کے لئے دیکھنا ٹھیک ہے وہی چیز اُس کے بچوں کے لئے دیکھنا بھی ٹھیک ہے۔ اس طرح انصار کو اپنی اخلاقی اور روحانی ترقی کی طرف بھی توجہ ہوگی۔ نیز انصار بھائیوں کو یہ بات بھی ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہئے کہ نماز فحشاء اور ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔
مکرم نثار آرچرڈ صاحب کی تقریر کے مؤثر مواد اور چارٹس کی مدد سے اعدادوشمار کے منفرد بیان کو حاضرین نے بہت سراہا۔
مہمان نمائندگان کی تقاریر
٭ اس کے بعد مکرم افتخار احمد صاحب صدر مجلس انصاراللہ جرمنی نے مختصر تقریر میں جرمنی میں جماعتی ترقیات پر مختصر روشنی ڈالی۔ عمارات کی خرید، اخبارات میں جماعت کے تعارف اور تبلیغی سرگرمیوں کو بیان کیا۔
٭ پھر مکرم انور احمد رشید صاحب صدر مجلس انصاراللہ سویڈن نے اپنے ملک میں مجلس کے تحت ہونے والے چند امور بیان کئے۔ مسجد کی تعمیر اور فِن لینڈ کے زیرانتظام ایک خودمختار ریاست کے طور پر موجود ایک جزیرہ میں (جہاں کی زبان سویڈش ہے) تبلیغی کوششوں اور کامیابیوں کا ذکر بھی کیا۔
٭ مکرم رائے عبدالقدیر صاحب صدر مجلس انصاراللہ ناروے نے اپنے ملک میں مسجد کی تعمیر کے بعد سے ہر ماہ کے تیسرے منگل کو ہونے والے ’اوپن ڈے‘ کی کامیابی کا ذکر کیا۔ آپ نے یہ بھی بتایا کہ حضور انور کے ارشاد کے بعد اب ناروے کے انتہائی شمال میں واقع علاقہ میں بھی مسجد کی تعمیر کے منصوبہ پر عملدرآمد ہورہا ہے۔
٭ مکرم Miljuan Hadjiran صاحب نمائندہ صدر مجلس انصاراللہ ملائشیا نے بھی اپنی مختصر تقریر میں ملائشیا میں تبلیغ پر پابندی اور دیگر مشکلات کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 39؍احمدیوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے الزام میں ایک مقدمہ کا سامنا ہے۔ انہوں نے احباب جماعت سے دعا کی درخواست کی کہ خداتعالیٰ جماعت احمدیہ ملائشیا کے لئے خیروعافیت کے حالات پیدا فرمائے۔ آمین۔
٭ مجلس انصاراللہ غانا کے نائب صدر اوّل مکرم محمد افورن صاحب نے بھی اپنے ملک کے حوالہ سے مختصر خطاب کیا ۔ آپ نے بتایا کہ احمدیت کا پیغام 1921ء میں غانا میں پہنچا تھا چنانچہ چھ سال بعد اس مدّت پر ایک سو سال مکمل ہونے پر وہاں صدسالہ جوبلی کے انعقاد کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ آپ نے پروگرام کی کامیابی کے لئے دعا کی درخواست کی اور یہ بھی بتایا کہ پہلے غانا میں ایک ٹی وی سٹیشن کے قیام کی کوششیں کی جارہی تھیں کہ اس دوران مقامی ٹی وی چینل سے بہت کامیاب معاہدہ طے پاگیا ہے۔
موصوف نے غانا کے مقامی روایتی کپڑے سے تیار کردہ ایک خوبصورت یادگاری سووینئر بھی مکرم چودھری وسیم احمد صاحب صدر مجلس انصاراللہ یوکے کو پیش کیا۔
٭ اس اجلاس کی آخری تقریر مکرم ڈاکٹر چودھری اعجاز الرحمن صاحب نائب صدر اوّل مجلس انصاراللہ یوکے کی تھی۔ آپ نے سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ کے پُرشوکت الفاظ میں انصار کو اُن کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔
٭ نماز اور طعام کے وقفہ کے بعد مکرم شمیم احمد خان صاحب (انچارج دفتر مجلس انصاراللہ مرکزیہ) نے مختلف علمی و ورزشی مقابلہ جات میں دوم اور سوم آنے والے انصار میں انعامات تقسیم کئے۔
ایثار و قربانی کی زندہ حکایات
اس اجلاس کے آخر میں مکرم چودھری وسیم احمد صاحب صدر مجلس انصاراللہ یوکے نے مختصر مگر بہت پُراثر تقریر کی۔ آپ نے ایثار و قربانی کی چند روایات بیان کرتے ہوئے توجہ دلائی کہ آج ہمیں بھی اُنہی مقدّس وجودوں کے نقش قدم پر چلنے کی ضرورت ہے۔
آپ نے بتایا کہ کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلسہ سالانہ پر آنے والے مہمانوں کے لئے اپنا بستر بھی دے دیا اور خود سخت سردی کی ساری رات یونہی بیٹھ کر گزار دی۔ اسی طرح لنگرخانہ کے بجٹ کے ختم ہونے پر حضرت امّاں جانؓ نے اپنا زیور پیش کردیا۔
1922ء کی مجلس شوریٰ میں حضرت مصلح موعودؓ نے ارشاد فرمایا کہ چونکہ بجٹ کے مطابق چندہ اکٹھا نہیں ہوسکا اس لئے نظارتیں اپنے بجٹ میں 30 فیصد کمی کریں۔ اس کے بعد ایک خصوصی کمیٹی نے مزید کمی کی اور پھر حضرت مصلح موعودؓ نے خود جائزہ لے کر بجٹ میں مزید کٹوتی کی۔ وہ دَور ایسا تھا جب جماعت کے ملازمین کو پانچ پانچ ماہ سے تنخواہیں نہیں مل سکی تھیں۔ ایسے میں کسی مخیّر شخص نے معمولی رقم ایک ایسے دوست کو دی جن کے گھر چند روز سے چولہا نہیں جلا تھا۔ ایثار کا یہ عالم تھا کہ اُس دوست نے اُس معمولی رقم میں سے نصف آگے ایک ایسے دوست کو پیش کردی جس کے بارہ میں وہ جانتا تھا کہ وہ کئی وقت کا بھوکا ہے۔ ایثار کے یہی مظاہرے ہر سطح پر جاری تھے۔ چنانچہ جب ایک دوست بھوک کی وجہ سے بیہوش ہوئے تو حضرت مصلح موعودؓ نے اپنا سارا کھانا اٹھاکر اس حکم کے ساتھ بھجوایا کہ اُس دوست کو ضرور کھلادیا جائے۔
مکرم صدر صاحب نے بتایا کہ آنحضور ﷺ کے دَور میں بھی صحابہ نے نہایت تنگی کا زمانہ دیکھا تھا۔ چنانچہ بعد میں ایک بار حضرت عبدالرحمن بن عَوف نے اپنا دسترخوان بھرا ہوا دیکھا تو روپڑے۔ دوسروں کے پوچھنے پر بتایا کہ مجھے اُحد کا وقت یاد آگیا تھا جب ہمارے پاس اپنے شہیدوں کے اوپر ڈالنے کے لئے پوری چادر بھی نہ ملتی تھی۔
حضرت مصلح موعودؓ نے جب مسجد فضل لندن کی تعمیر کے لئے احمدی خواتین کو مالی قربانی کرنے کی تحریک فرمائی تو ایک پٹھان عورت حضور کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں بتایا کہ اُس کی ہر چیز دفتر سے مِلی ہوئی ہے۔ اُس کے کپڑے، چادر حتّٰی کہ قرآن کریم بھی دفتر نے دیا ہے۔ اُس کے پاس سوائے ایک دو مرغیوں کے کچھ نہیں اور انہوں نے بھی اس موسم میں انڈے کم دیئے ہیں۔ پھر اُس نے دو روپے حضورؓ کی خدمت میں پیش کئے کہ یہ مسجد کی تعمیر کے لئے قبول فرمالیں۔
اسی طرح ایک ماں کے جذبات کا اظہار کرنے والا یہ واقعہ بھی ہے کہ جب حضرت مصلح موعودؓ نے فرقان فورس میں شمولیت کے لئے نوجوانوں کو تحریک فرمائی تو ایک وفد ضلع گوجرانوالہ پہنچا اور وہاں ایک مقام پر جب حضورؓ کا ارشاد حاضرین تک پہنچایا گیا تو کسی نے بھی حامی نہ بھری۔ اس پر پردہ کے پیچھے سے ایک بیوہ عورت نے اپنے اکلوتے بیٹے کو آواز دی کہ او فلاں! کیا تُو نے خلیفۃالمسیح کا پیغام نہیں سنا؟ اُٹھ اور لبیک کہہ۔
جب یہ واقعہ حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں تحریر کیا گیا تو حضورؓ فرماتے ہیں کہ میرا دل جذبات سے اسقدر مغلوب ہوگیا کہ مَیں نے کام چھوڑ کر دعا کی کہ اے خدا! میرا بھی حق ہے کہ مَیں قربانی کروں، تُو میرے بیٹے کی جان لے لیجیو لیکن اس ماں کا سہارا نہ چھیننا۔
مکرم صدر صاحب نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال میں دس ہزار مرتبہ انصار تبلیغ کے لئے باہر نکلے ہیں لیکن دراصل یہ صرف 700؍ انصار کی مساعی تھی۔ چنانچہ اگر انصار کی تعداد بڑھ جائے تو دعوت الی اللہ کے نہایت خوش کُن اثرات ظاہر ہوں گے۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اپنی ذمہ داریوں کا جائزہ لیں۔ ہماری میٹنگز آمدن، نشستن اور برخواستن نہیں ہونی چاہئیں۔آج جو لوگ جماعتی کاموں میں حصہ نہیں لیتے، اُن کی اولادیں آئندہ ملنے والے انعامات سے محروم ہوجائیں گی۔
پاکستان میں ہونے والے مظالم اور شہادتوں کا ذکر کرتے ہوئے مکرم صدر صاحب نے بتایا کہ احمدی شہیدوں کے خون ہم سے کچھ مطالبہ کرتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم یہ کہہ سکیں کہ تم سے خون مانگا گیا اور تم نے خون دیا، ہم سے وقت مانگا گیا اور ہم نے وقت پیش کیا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے انصار کے لئے ارشاد فرمایا تھا کہ وہ روزانہ نصف گھنٹہ یا ہر ماہ تین دن خدمت دین کے لئے پیش کریں۔ خداتعالیٰ ہمیں اس ارشاد پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
اختتامی اجلاس
سہ پہر3 بج کر 40 منٹ پر حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اجتماع گاہ میں تشریف لائے تو احباب نے پُرزور نعروں سے اپنے پیارے آقا کا استقبال کیا۔ حضور انور کی زیرصدارت اختتامی اجلاس کی کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم معاذ احمد نوید صاحب آف ملائشیا نے کی۔ مکرم جلال الدین لطیف صاحب آف امریکہ نے آیات کریمہ (سورۃالصّف:11-15) کا انگریزی ترجمہ پیش کیا۔ اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی اقتداء میں انصار نے اپنا عہد دہرایا۔ پھر مکرم اکبر بیگ صاحب آف جرمنی نے حضرت مصلح موعودؓ کے کلام ’’خدمت دین کو اِک فضل الٰہی جانو‘‘ سے چند اشعار پڑھ کر سنائے۔
اس کے بعد مکرم چودھری وسیم احمد صاحب صدر مجلس انصاراللہ یوکے نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ امسال 13 میں سے 12 علاقائی مجالس نے اپنے اجتماعات منعقد کرنے کی توفیق پائی۔ اس اجتماع کو پلاٹینم جوبلی کے حوالہ سے منانے کے لئے حضور انور ایدہ اللہ کی اجازت سے دیگر ممالک کے نمائندگان کو بھی اجتماع میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی چنانچہ 15 ممالک سے نمائندگان شامل ہوئے۔ اس اجتماع کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ آئندہ اجتماع کے انعقاد کے لئے کسی بڑی جگہ کی تلاش کرنی ہوگی۔
اس کے بعد علمی و ورزشی مقابلہ جات میں اوّل آنے والے انصار کے علاوہ اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر مختلف مجالس کے زعماء کو بھی سندات و انعامات حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے۔ امسال مجموعی کارکردگی کی بنیاد پر چھوٹے ریجنز میں ساؤتھ ویسٹ ریجن سرفہرست رہا۔ جبکہ بڑے ریجنز میں ساؤتھ ریجن اوّل، لندن ریجن دوم اور بیت النور ریجن سوم قرار پائے۔ چھوٹی مجالس میں اوّل مجلس براملے ولیوشم (Bromley & Lewisham)، دوم مجلس سوانسی (Swansea) اور سوم مجلس وُلورہیمپٹن (Wolverhampton) رہیں جن کے زعماء نے سنداتِ خوشنودی وصول کیں۔ جبکہ عَلمِ انعامی کے مقابلہ میں مجلس حلقہ مسجد فضل سوم آئی، مجلس ناربری (Norbury) دوم قرار پائی اور مجلس مچم (Mitcham) اوّل آکر علم انعامی اور سند خوشنودی کی حقدار ٹھہری۔ اللہ تعالیٰ یہ اعزازات ان مجالس کے لئے ہر پہلو سے بابرکت فرمائے۔ آمین۔
اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطاب فرمایا۔ اور پھر دعا کے ساتھ مجلس انصاراللہ برطانیہ کا یہ کامیاب اور بابرکت اجتماع اختتام پذیر ہوا۔
اللہ تعالیٰ اجتماع کے نیک اثرات کو جاری رکھے۔ شاملینِ اجتماع کو نیک راہوں پر چلنے اور اپنے پیارے آقا کی پاکیزہ نصائح پر عمل کرنے کی توفیق دے اور اجتماع کے انعقاد کے لئے مختلف پہلوؤں سے خدمت بجالانے والوں کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین

پرنٹ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں