مجلس انصاراللہ برطانیہ کا سالانہ اجتماع 2013ء

مجلس انصاراللہ برطانیہ کے سالانہ اجتماع کا بابرکت انعقاد

(رپورٹ: ناصر پاشا)

(مطبوعہ انصارالدین ستمبر اکتوبر 2013ء)

مجلس انصاراللہ برطانیہ کو خدا تعالیٰ کے فضل سے امسال اپنا اکتیسواں سالانہ اجتماع منعقد کرنے کی توفیق ملی۔ الحمدللہ علی ذٰلک۔ یہ اجتماع اپنی تمام تر بابرکت روایات کے ساتھ بتاریخ 27 تا 29؍ستمبر 2013ء بروز جمۃالمبارک، ہفتہ اور اتوار، مسجد بیت الفتوح مورڈن میں منعقد ہوا۔
پہلا روز ۔ 27؍ستمبر 2013ء
پہلے روز مسجد بیت الفتوح مورڈن میں نماز تہجد کی باجماعت ادائیگی کے ساتھ اجتماع کے پروگرام کا آغاز ہوا ۔ نماز فجر کے بعد قرآن کریم کا درس دیا گیا۔ صبح آٹھ بجے ناشتہ پیش کیا گیا۔ اسی دوران مجلس شوریٰ کے لئے نمائندگان اور زائرین کی رجسٹریشن کا آغاز کردیا گیا تھا۔ مجلس شوریٰ میں 309 نمائندگان اور مرکزی عاملہ کے افراد شامل ہوئے۔ یہ مجلس انصاراللہ برطانیہ کی 22ویں سالانہ مجلس شوریٰ تھی۔ پروگرام کا آغاز مکرم چودھری وسیم احمد صاحب، صدر مجلس، کی زیرصدارت تلاوت قرآن کریم اور آیات کریمہ کے انگریزی ترجمہ سے ہوا۔ جس کے بعد مکرم صدر مجلس نے حضرت مصلح موعودؓ کے ارشادات کی روشنی میں مجلس شوریٰ کے مقاصد اور نمائندگان کی ذمہ داریاں بیان کیں۔ بعد ازاں گزشتہ سال کی منظورشدہ تجاویز پر عملدرآمد کی رپورٹس متعلقہ قائدین نے پیش کیں۔ پھر قائد عمومی نے ایسی تجاویز پڑھ کر سنائیں جو بوجوہ امسال مجلس شوریٰ میں مشورہ کے لئے پیش نہیں کی گئیں۔ اس کے بعد تین سب کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جن کا تعلق تربیت، جنرل اور مال سے تھا۔ اس کے بعد ایک خصوصی اجلاس حضور انور ایدہ اللہ کی ہدایت پر مکرم رانا مشہود احمد صاحب جنرل سیکرٹری جماعت احمدیہ کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں آئندہ دو سال کی میعاد کے لئے صدر مجلس اور نائب صدر صف دوم کا انتخاب کروایا گیا۔ انتخاب کی باقاعدہ کارروائی سے قبل حاضرین کو حضور انور ایدہ اللہ کا وہ اہم خطاب سنوایا گیا جو حضور انور جماعت احمدیہ برطانیہ کی مجلس شوریٰ کے اختتامی اجلاس میں ارشاد فرمایا تھا۔
دوپہر کے کھانے اور نماز جمعہ کی ادائیگی کے فوراً بعد سب کمیٹیوں کے اجلاسات شروع ہوئے اور بعد ازاں طاہر ہال میں دوبارہ اجتماعی کارروائی کا آغاز ہوا جس میں سب کمیٹیوں کے چیئرمین نے اپنی رپورٹس پیش کیں اور نمائندگان نے بحث کے بعد ان کے بارے میں اپنی رائے دی۔ مجلس شوریٰ کی سفارشات سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت اقدس میں بھجوائی جائیں گی اور حضور انور کی منظوری و ہدایت کے مطابق اُن سفارشات پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ انشاء اللہ
مکرم صدر مجلس کے مختصر خطاب کے ساتھ ہی شام ساڑھے چھ بجے مجلس شوریٰ کی کارروائی دعا کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچی۔
سالانہ اجتماع کے لئے رجسٹریشن کا آغاز شام چار بجے سے کیا جاچکا تھا۔ نماز مغرب و عشاء کے بعد جھنڈا لہرانے کی تقریب ہوئی۔ مکرم رفیق احمد حیات صاحب، امیر جماعت احمدیہ برطانیہ، نے ’’لوائے انصاراللہ‘‘ اور مکرم چودھری وسیم احمد صاحب، صدر مجلس انصاراللہ برطانیہ، نے برطانیہ کا قومی پرچم لہرایا۔ جس کے بعد مکرم امیر صاحب نے دعا کروائی۔ افتتاحی اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم اور اس کے ترجمہ سے ہوا۔ صدر مجلس نے عہد دہرایا۔ نظم کے بعد مکرم امیر صاحب کا افتتاحی خطاب ہوا۔جس کے بعد مکرم مرزا محمد الدین ناز صاحب ایڈیشنل ناظر تعلیم القرآن صدر انجمن احمدیہ ربوہ نے ’’ذکرحبیب‘‘ کے موضوع پر ایک پُراثر خطاب کیا۔ دعا کے بعد حاضرین کو کھانا پیش کیا گیا۔ اس موقعہ پر حاضری 1205 تھی۔
دوسرا روز ۔ 28؍ستمبر 2013ء
علی الصبح اجتماعی تہجد ادا کی گئی۔ بعد نماز فجر درس ہوا۔ ساڑھے نو بجے علمی و ورزشی مقابلہ جات شروع ہوئے۔ کھانے اور نماز ظہر و عصر کے بعد تبلیغ سیشن منعقد ہوا جس کی صدارت مکرم صدر صاحب مجلس انصاراللہ یوکے نے کی۔ سیشن کے پہلے حصہ میں مکرم شکیل احمد بٹ صاحب قائد تبلیغ کی رپورٹ کے بعد بعض کامیاب داعیان الی اللہ نے اپنے تجارب بیان کئے۔ اس سیشن کے دوسرے حصہ میں مکرم مرزا نصیر احمد صاحب مربی سلسلہ نے تقریر کی اور پھر تین نواحمدیوں نے قبول احمدیت کی نہایت ایمان افروز داستانیں بیان کیں جن میں مکرم چودھری اللہ دتّہ پنّو صاحب (آف سیالکوٹ)، مکرم واحداللہ جاوید صاحب (آف شیخوپورہ) اور مکرم میاں فہیم احمد صاحب (سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل) شامل ہیں۔ اسی سیشن میں مکرم ڈاکٹر شاہ محمد جاوید صاحب (آف کوٹلی) نے اپنے بارہ سالہ بیٹے کے ہمراہ اپنے اغوا کی داستان اورطالبان کی قید سے رہائی کی ایمان افروز کہانی بیان کی۔ آخر میں مکرم چودھری منیر مسعود صاحب ناظم انصاراللہ لاہور نے پاکستان میں مظلوم احمدیوں پر ہونے والے مظالم پر کسی حد تک روشنی ڈالی۔
اس کے بعد کھانے اور نماز مغرب و عشاء کا اہتمام کیا گیا۔ آج کی اجتماع کی حاضری 1458 ریکارڈ کی گئی۔
تیسرا روز ۔ 29؍ستمبر 2013ء
آج بھی علی الصبح اجتماعی تہجد ادا کی گئی۔ بعد نماز فجر درس ہوا۔ ساڑھے نو بجے علمی و ورزشی مقابلہ جات شروع ہوئے۔ ساڑھے گیارہ بجے تربیت سیشن منعقد ہوا جس کی صدارت مکرم مولانا عطاء المجیب راشد صاحب امام مسجد فضل لندن نے کی۔ اس سیشن میں مکرم مولانا رانا مشہود احمد صاحب جنرل سیکرٹری جماعت احمدیہ یوکے، مکرم مولانا نسیم احمد باجوہ صاحب امام مسجد بیت الفتوح اور صدر مجلس نے تقاریر کیں۔ جس کے بعد کھانے اور نماز ظہر و عصر کے لئے وقفہ ہوا۔
شام ساڑھے تین بجے اجتماع کے اختتامی اجلاس کا آغاز مکرم مولانا عبدالوہاب بن آدم صاحب امیر و مبلغ انچارج جماعت احمدیہ غانا کی زیرصدارت ہوا۔ تلاوت قرآن کریم اور اس کے ترجمہ کے بعد مکرم صدر صاحب مجلس انصاراللہ یوکے نے عہد دہرایا۔ نظم کے بعد صدر اجلاس نے مقابلہ جات میں پوزیشن لینے والوں نیز مجالس کی دوڑ میں سبقت کا مظاہرہ کرنے والوں میں انعامات اور اسناد تقسیم کیں۔ اس کے بعد مکرم صدر مجلس انصاراللہ یوکے نے مختصر رپورٹ پیش کی اور پھر مکرم مولانا رانا مشہود احمد صاحب نے حاضرین کو یہ اطلاع دی کہ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مجلس شوریٰ کی سفارش منظور فرماتے ہوئے مکرم چودھری وسیم احمد صاحب کی منظوری آئندہ دو سال کے لئے بطور صدر مجلس عطا فرمائی ہے نیز مکرم ٹومی کالون صاحب کو نائب صدر صف دوم مقرر فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ اعزاز بابرکت فرمائے۔ امسال کارکردگی کے لحاظ سے علم انعامی کا حقدار مجلس نیومالڈن کو قرار دیا گیا جبکہ مجلس مورڈن دوم رہی۔
مکرم ڈاکٹر عبدالوہاب آدم صاحب کی تقریر کے ساتھ یہ اجتماع بخیروخوبی اختتام پذیر ہوا۔ امسال اجتماع کی رجسٹریشن کے مطابق 2261 انصار شامل ہوئے جبکہ گزشتہ سال یہ حاضری 2017 تھی۔ سالانہ اجتماع کے دوران جو علمی مقابلہ جات منعقد ہوئے ان میں تلاوت، نظم، تقریر اور فی البدیہہ تقریر کے مقابلہ جات شامل تھے۔ ان مقابلہ جات میں بنیادی طور پر اُن انصار نے حصہ لیا جو قبل ازیں علاقائی اجتماعات میں پوزیشن حاصل کرچکے تھے۔ اسی طرح ورزشی مقابلہ جات میں ایتھلیٹکس کے متعدد انفرادی مقابلہ جات کے علاوہ والی بال اور رسّہ کشی کے اجتماعی مقابلے بھی منعقد ہوئے۔ اجتماع کے موقع پر ایک خوبصورت قرآن نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا۔ یہ نمائش بہت پسند کی گئی اور خاص طور پر ایسے کارکنان نے اس سے خوب استفادہ کیا جو اپنی مجالس کے زیراہتمام مختلف مقامات پر نمائشیں لگارہے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے امسال رہائش اور خوراک کے شعبہ جات کی کارکردگی کو بھی سراہا گیا۔
امسال اجتماع کے ناظم اعلیٰ مکرم ڈاکٹر چودھری اعجاز احمد صاحب نائب صدر صف دوم تھے جنہوں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ انتظامات کو نہایت عمدگی سے ترتیب دیا۔ اللہ تعالیٰ یہ تقریب ہر پہلو سے بابرکت فرمائے اور تمام کارکنان نیز اس میں شامل ہونے والوں کو جزائے خیر سے نوازے۔ آمین

پرنٹ
The short URL of the present article is: http://mahmoodmalik.zindgi.uk/ijtB3

اپنا تبصرہ بھیجیں