مجلس انصاراللہ برطانیہ کا سالانہ اجتماع 2012ء

مجلس انصاراللہ برطانیہ کی سالانہ مجلس شوریٰ اور سالانہ اجتماع 2012ء

(محمود احمد ملک۔ ناظم رپورٹنگ)

(مطبوعہ انصارالدین ستمبر اکتوبر 2012ء)

مجلس انصاراللہ برطانیہ کو خدا تعالیٰ کے فضل سے امسال اپنا تیسواں سالانہ اجتماع منعقد کرنے کی توفیق ملی۔ الحمدللہ علی ذٰلک۔ یہ اجتماع اپنی تمام تر بابرکت روایات کے ساتھ بتاریخ 5 تا 7 اکتوبر 2012ء بروز جمۃالمبارک، ہفتہ اور اتوار، مسجد بیت الفتوح مورڈن میں منعقد ہوا۔

پہلا روز ۔ 5؍ اکتوبر 2012ء

پہلے روز مسجد بیت الفتوح مورڈن میں نماز تہجد کی باجماعت ادائیگی کے ساتھ اجتماع کے پروگرام کا آغاز ہوا ۔ مسجد بیت الفتوح کے احاطہ میں قیام پذیر افراد کے علاوہ مسجد کے قریب رہنے والے افراد میں سے بھی ایک تعداد نے مسجد میں آکر نماز تہجد باجماعت میں شمولیت کی۔ نماز فجر کے بعد درس القرآن ہوا۔ اور صبح آٹھ بجے ناشتہ پیش کیا گیا۔ اسی دوران مجلس شوریٰ کے لئے نمائندگان اور زائرین کی رجسٹریشن کا آغاز کردیا گیا تھا۔
مجلس شوریٰ میں 98 مجالس کے 98 زعماء اور 187 نمائندگان شامل ہوئے۔ نیز چند زائرین نے بھی مجلس شوریٰ کی کارروائی سے استفادہ کیا۔

سالانہ مجلس شوریٰ کا انعقاد

5 اکتوبر2012ء بروز جمعۃالمبارک۔ صبح 10 بجے طاہر ہال (مسجد بیت الفتوح مورڈن) میںمجلس انصاراللہ برطانیہ کی 21ویں سالانہ مجلس شوریٰ کا انعقاد ہوا۔ پروگرام کا آغاز مکرم چودھری وسیم احمد صاحب، صدر مجلس، کی زیرصدارت تلاوت قرآن کریم اور آیات کریمہ کے انگریزی ترجمہ سے ہوا۔ جس کے بعد مکرم صدر صاحب نے نمائندگان کو مجلس شوریٰ کے مقاصد اور پیش نظر بعض مسائل سے آگاہ کیا اور نمائندگان کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔ بعد ازاں دعا کے بعد گزشتہ سال 2011ء کی منظورشدہ تجاویز پر عملدرآمد کی رپورٹس متعلقہ قائدین نے پیش کیں۔ پھر قائد عمومی نے ایسی تجاویز پڑھ کر سنائیں جو بوجوہ امسال مجلس شوریٰ میں مشورہ کے لئے پیش نہیں کی گئیں۔ اس کے بعد تین سب کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جن کا تعلق تربیت نومبائعین، تبلیغ اور مال سے تھا۔ اس کے ساتھ ہی دوپہر کے کھانے اور نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے وقفہ ہوا۔
نمائندگان نے مسجد بیت الفتوح مورڈن میں سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطبہ جمعہ سنا اور نماز جمعہ حضور انور کی اقتداء میں ادا کی۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے فوراً بعد سب کمیٹیوں کے اجلاسات شروع ہوئے اور بعد ازاں طاہر ہال میں دوبارہ اجتماعی کارروائی کا آغاز ہوا جس میں سب کمیٹیوں کے چیئرمین نے اپنی رپورٹس پیش کیں اور نمائندگان نے بحث کے بعد ان کے بارے میں اپنی رائے دی۔ مجلس شوریٰ کی سفارشات سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت اقدس میں بھجوائی جائیں گی اور حضور انور کی منظوری و ہدایت کے مطابق اُن سفارشات پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ انشاء اللہ
مکرم صدر صاحب کے مختصر خطاب کے ساتھ ہی قریباً 6 بجے شام مجلس شوریٰ کی کارروائی دعا کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچی۔

سالانہ اجتماع کی کارروائی

مجلس انصاراللہ برطانیہ کے 30ویں سالانہ اجتماع کے لئے رجسٹریشن کا آغاز شام پانچ بجے سے کیا جاچکا تھا۔ نماز مغرب و عشاء کے بعد جھنڈا لہرانے کی تقریب ہوئی۔ مکرم رفیق احمد حیات صاحب، امیر جماعت احمدیہ برطانیہ، نے ’’لوائے انصاراللہ‘‘ اور مکرم چودھری وسیم احمد صاحب، صدر مجلس انصاراللہ برطانیہ، نے برطانیہ کا قومی پرچم لہرایا۔ جس کے بعد مکرم امیر صاحب نے دعا کروائی۔
افتتاحی اجلاس کا آغاز مکرم امیر صاحب یوکے کی زیرصدارت تلاوت قرآن کریم کے ساتھ ہوا جو مکرم سید نصیر احمد شاہ صاحب نے کی۔ مکرم منصور ساقی صاحب نے آیات کریمہ کا انگریزی ترجمہ پڑھ کر سنایا۔ جس کے بعد مکرم صدر صاحب مجلس انصاراللہ برطانیہ نے انصار سے اُن کا عہد دہروایا۔ اور پھر مکرم مرزا عبدالباسط صاحب نے کلام محمود کی درج ذیل نظم کے چند اشعار خوش الحانی سے پڑھ کر سنائے:

بڑھتی رہے خدا کی محبت خدا کرے
حاصل ہو تم کو دید کی لذّت خدا کرے

مکرم امیر صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ اس اجتماع کا مقصد یہی ہے کہ ایسے معاملات پر غور کیا جائے جو نہ صرف انصاراللہ بلکہ عام احمدی بھی اُن کا سامنا کررہے ہیں۔ اس وقت اسلام کو سنگین مسائل کا سامنا ہے جس کی ایک وجہ مسلمانوں کا کردار ہے اور اسی وجہ سے اکثر مسلم ممالک بھی بدنظمی اور لاقانونیت کا شکار ہیں۔ مکرم امیر صاحب نے بہت سے اہم افراد سے اپنی ملاقاتوں کا بھی تذکرہ کیا اور بتایا کہ عام تأثر یہ ہے کہ مغرب کے لوگ خدا سے دُور جارہے ہیں اور ہر مذہب پر ہی تنقید کرتے ہیں۔ مغربی دنیا میں اکثر ایسے لوگ جو مذہبی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن وہ کسی عقیدہ پر عمل پیرا نہیں ہیں۔ چرچ کا بھی یہی حال ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ملکہ برطانیہ کو جو کتاب ’’تحفۂ قیصریہ‘‘ بھجوائی تھی اُس میں یہ اصول پیش فرمایا تھا کہ ہر ایسا مذہب جو نبیوں کے ذریعہ سے تعلیم دیتا ہے وہ سچا ہے۔ مکرم امیر صاحب نے خلافت کی برکات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ہمیں نہ صرف خلیفۂ وقت کو دعا کے لئے عرض کرنا چاہئے بلکہ اُن کے لئے خود بھی دعائیں کرنی چاہئیں۔ اس کے بعد مکرم امیر صاحب نے دعا کروائی۔
مکرم امیر صاحب کی تقریر کے بعد مکرم رانا مشہود احمد صاحب مربی سلسلہ یوکے نے تقریر کی ۔ آپ کی تقریر کا موضوع تھا : ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہؓ کا قیامِ عبادت‘‘۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’سارا گھر غارت ہوتا ہو تو ہونے دو مگر نماز کو ترک مت کرو‘‘۔ (ملفوظات جلد سوم صفحہ 591)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہؓ نے جس طرح حضرت مسیح موعودؑ کے قیام عبادت کے ارشادات کو عملی جامہ پہنایا وہ ہم سب کے لئے قابل تقلید ہے۔ حضرت حافظ معین الدین صاحبؓ اگرچہ ظاہری بینائی سے محروم تھے لیکن آپؓ کا دل مسجد میں اٹکا ہوا تھا۔ اذان سنتے ہی مسجد پہنچ جاتے۔ امام الصلوٰۃ رہنے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ آپؓ کے پیش نظر ہمیشہ حدیث رہی جب ایک نابینا صحابی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ بعض اوقات جب موسم خراب ہو اور کوئی مسجد تک لانے والا نہ ہو تو راستہ ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے شدید تکلیف ہوتی ہے۔ اس صحابی کے عرض کرنے پر آنحضور ﷺ نے انہیں مسجد آکر نماز باجماعت ادا کرنے سے رخصت عطا فرمادی۔ لیکن پھر پوچھا کہ کیا تمہیں اذان کی آواز آتی ہے؟ اُن کے اثبات میں جواب دینے پر آنحضور ﷺ نے انہیں مسجد میں آکر نماز ادا کرنے کی ہدایت فرمائی۔
حضرت بابا صفی الدین صاحبؓ بھی ظاہری بینائی سے محروم تھے لیکن آپؓ نے نماز باجماعت سے شدید بیماری کے علاوہ کبھی ناغہ نہیں کیا۔ حضرت بابا کرم الٰہی صاحبؓ پانچ سال تک بینائی سے محروم رہے اور آپؓ دیواروں کے سہارے چل کر مسجد جاتے اور نماز باجماعت میں شامل ہوتے رہے۔ حضرت حافظ حامد علی صاحبؓ کی باجماعت نمازوں اور نوافل کی ادائیگی کی تعریف تو حضور علیہ السلام نے خود فرمائی ہے۔ یہی حال حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ ، حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی اور دیگر صحابہ کا تھا۔ حضرت چودھری سر محمد ظفراللہ خان صاحبؓ سے جب کسی نوجوان نے کہا کہ مغربی ممالک میں نماز فجر کی وقت پر ادائیگی ایک مشکل کام ہے تو حضرت چودھری صاحبؓ نے فرمایاکہ اگرچہ مجھے اپنی مثال دیتے ہوئے سخت حجاب محسوس ہوتا ہے لیکن تربیت کی خاطر یہ بتاتا ہوں کہ گزشتہ پچاس سال میں یورپ میں قیام کے دوران مَیں نے نماز فجر تو اپنی جگہ کبھی نماز تہجد بھی قضا نہیں کی۔ پس یہی لوگ آج ہمارے لئے قابل احترام نمونہ ہیں۔
مکرم رانا صاحب کی تقریر کے بعد یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا اور پھر حاضرین کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔

دوسرا روز۔ 6؍ اکتوبر 2012ء

پہلے روز کی طرح اجتماع کا دوسرا دن بھی نماز تہجد کی باجماعت ادائیگی کے ساتھ شروع ہوا۔ مسجد بیت الفتوح کے احاطہ میں قیام پذیر مہمانوں کے علاوہ مسجد کے قریب رہنے والے حمدیوں میں سے بھی ایک تعداد نے مسجد میں آکر نماز تہجد باجماعت میں شمولیت کی۔ نماز فجر کے بعد درس الحدیث کا پروگرام تھا۔ بعد ازاں حاضرین کے لئے ناشتہ کا انتظام تھا۔
قریباً دس بجے صبح طاہر ہال میں آج کا پہلا سیشن مکرم ڈاکٹر تنویر عارف صاحب، ناظم نارتھ ویسٹ ریجن، کی زیرصدارت تلاوت قرآن کریم سے شروع ہوا۔ اس کے بعد چند علمی مقابلہ جات منعقد ہوئے جن میں تلاوت قرآن کریم، حفظ قرآن، نظم خوانی کے مقابلے شامل تھے۔
اس کے بعد اگلے اجلاس کی صدارت مکرم سید امتیاز احمد صاحب، ریجنل ناظم مڈلینڈ، نے کی۔ اس سیشن میں انگریزی میں فی البدیہہ تقریر کا مقابلہ منعقد ہوا۔
دوسرا اجلاس
سالانہ اجتماع کا دوسرا باقاعدہ اجلاس قریباً بارہ بجے شروع ہوا جس کی صدارت مکرم مرزا نصیر احمد صاحب استاذالجامعہ یوکے نے کی۔ تلاوت قرآن کریم، اس کے ترجمہ اور نظم کے بعد مکرم ڈاکٹر اعجازالرحمن صاحب نائب صدر صف دوم نے انگریزی زبان میں ایک علمی تقریر کی جس میں اسلامی تعلیمات کا بعض دیگر مذاہب کی تعلیمات سے موازنہ کیا اور اسلامی تعلیم کی برتری ثابت کی۔ آپ نے بتایا کہ آجکل اسلام پر دو طرف سے حملہ ہورہا ہے یعنی ایک طرف تو قرآن کریم کی بے ادبی اور تضحیک کرنے کی کوشش کی جارہی اور دوسری طرف آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو استہزاء کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ چونکہ یہ حملے بنیادی طور پر عیسائیوں اور یہودیوں کی طرف سے کئے جارہے ہیں اس لئے مَیں ان دونوں مذاہب کی تعلیمات کے حوالہ سے ثابت کروں گا کہ اسلامی تعلیم اور اسلام کا نبی ہر پہلو سے مقدّم اور برتر ہیں اور کس طرح یہ لوگ دھوکہ دے کر قرآن جیسی مقدّس کتاب اور آنحضور ﷺ جیسے مقدّس رسول پر حملے کرتے ہیں۔
عیسائیوں کا دعویٰ ہے کہ قرآن جہاد اور لڑائی کی تعلیم دیتا ہے جبکہ بائبل محبت اور امن کا تعلیم دیتی ہے۔ فاضل مقرر نے متعدد حوالوں سے ثابت کیا کہ بائبل مفتوحہ شہروں میں مردوں کو تہ تیغ کرنے اور عورتوں اور بچوں کو غلامی میں جکڑنے کا حکم دیتی ہے۔ جبکہ قرآن کریم نے مفتوحہ علاقوں میں مذہبی آزادی کی ضمانت دی ہے۔ بائبل کی تعلیم ہے کہ جو کسی اَور کی عبادت کا حکم دے تو اُسے قتل کردیا جائے۔ ایسے قصبہ کو تباہ کردیا جائے اور جلادیا جائے اور دوبارہ آباد نہ کیا جائے جہاں کوئی گروہ ایسا ہو جو ایسے خدا کی عبادت کا حکم دیتا ہو جس کے بارے میں پہلے کوئی علم نہ ہو۔ اسی طرح جادوگروں اور مستقبل کا حال بتانے والے قیافہ شناسوں کو بھی بائبل میں پتھر مار کر قتل کرنے یعنی سنگسار کرنے کا حکم ہے۔ حتّٰی کہ بائبل یہ بھی کہتی ہے کہ باغی بچوں کو بھی پتھر مار کر ہلاک کردیا جائے۔
بائبل کے مطابق حضر ت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ وہ امن کا قیام تلوار کے زور پر کریں گے۔ دوسری طرف قرآن و سنت نبوی کی روشنی میں جو امن قائم کیا جاتا رہا ہے اُس کی تعریف غیرمسلموں نے بھی کی ہے۔
اس اجلاس کی دوسری تقریر مکرم مرزا نصیر احمد صاحب کی دعوت الی اللہ کے موضوع پر تھی۔ آپ نے بتایا کہ ہر مذہب ہی تبلیغی مذہب ہوتا ہے اور اسلام بھی بنیادی طور پر ایک تبلیغی مذہب ہے۔ قرآن کریم نے اسلام کا تبلیغی نظریہ یہ بیان فرمایا ہے کہ اے رسول! جو کچھ ہم نے تجھ پر نازل کیا ہے اُسے آگے بیان کر۔ یعنی صرف وحی ہی نہیں بلکہ ہر وہ نعمت آگے پہنچانا فرض ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے۔ نبی کی پیروی میں یہی فریضہ ہر مومن پر بھی عائد ہوتا ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ تم وہ بہترین امّت ہو جو لوگوں کے فائدہ کے لئے بنائی گئی ہے کیونکہ تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہو۔ نیز یہ بھی حکم ہے کہ مومنوں کو اُن کے فرائض یاد کروانے کے لئے بھی ایک جماعت ہو جو معروف باتوں کا حکم دیتی رہے۔ چنانچہ فرمایا کہ ایسے پلیٹ فارم کی طرف بلاؤ جس کے نتیجہ میں اخلاق قائم ہوں۔
تبلیغ کے لئے ایک نہایت ضروری چیز حکمت ہے۔ وعظ اور نصیحت کو بہترین رنگ میں کرنے کا حکم ہے۔ تبلیغ میں دوسرے شخص کو یہ باور کروانا پڑتا ہے کہ ہم تمہارے خیرخواہ ہیں اور خیرخواہی کی طرف بلارہے ہیں۔ ایسا کرنا عملی لحاظ سے بھی ضروری ہے چنانچہ آپ کے ہمسایہ کو بھی یہ علم ہو کہ جب بھی اُس کو ضرورت پڑے گی تو آپ اُس کی مدد سے غافل نہیں ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ نے جب وحی کے ذریعہ آنحضور ﷺ کو خبر دی کہ آپ کا دین مکمل کردیا گیا ہے اور اس کا نام اسلام ہے۔ اُسی دن حضرت عمرؓ نے یہود سے اس بات کا ذکر کیا تو یہود نے کہا کہ اگر یہ آیت ہمارے ہاں نازل ہوتی تو ہم آج کے دن کو عید کا دن قرار دیدیتے۔ حسن اتفاق تھا کہ وہ دن یوم عرفۃ تھا یعنی اگلے دن عید تھی۔
آنحضور ﷺ نے اپنے آپ کو خاتم النبیین قرار دیا ہے۔ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ مَیں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے۔صلح حدیبیہ سے واپس آتے ہوئے آنحضورﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اب آپ دنیا کے بادشاہوں کو بھی تبلیغ کریں گے۔ چونکہ تبلیغ میں حکمت نہایت اہم چیز ہے اس لئے آنحضرت ﷺ نے بادشاہوں کے نام خطوط لکھنے کے لئے ایک مہر تیار فرمائی جسے ایک انگوٹھی میں نصب فرمایا۔ اس مہر پر ’’محمد رسول اللہ‘‘ تحریر تھا۔ یہ آپؐ کا نہایت دانشمندانہ انداز تھا جس میں شوکت اور حکمت یکجا کردی گئی تھی۔
اس اجلاس کے اختتام کے بعد نماز ظہر و عصر اور کھانے کا وقفہ ہوا۔
تیسرا اجلاس
شام تین بجے کے بعد تیسرے اجلاس کی کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن کریم اور اس کے ترجمہ سے ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت مکرم اخلاق احمد انجم صاحب مربی سلسلہ نے کی۔ نظم کے بعد آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعوت الی اللہ کے موضوع پر تقریر کی۔ آپ نے بتایا کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو ’’جری اللہ‘‘ کا خطاب عطا فرمایا۔ اُس زمانہ میں ہندوستان میں عیسائیت کا بھرپور زور تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُن کے خلاف نبرد آزما ہوئے۔ آپؑ کے پادری بٹلر اور دیگر پادریوں اور عیسائی راہنماؤں سے معرکے (مناظرے) ہوئے، آپؑ نے اسلام کی تائید میں قلمی جہاد کرتے ہوئے اَن گنت مضامین تحریر فرمائے۔ اُسی زمانہ میں ’’براہین احمدیہ‘‘ جیسی کتاب تصنیف فرمائی۔ قرآن کریم کو الٰہی کلام اور مکمل کتاب کے طور پر اور آنحضور ﷺ کا افضل نبی ہونا ثابت کیا۔ آپؑ کے قلمی جہاد کے نتیجہ میں مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی جبکہ دشمن میں صف ماتم بچھ گئی۔ آپؑ نے بیس ہزار سے زائد اشتہار دنیا بھر میں تبلیغ کے نکتہ نظر سے بھجوایا۔
جب اللہ تعالیٰ کے حکم پر آپؑ نے مسیح و مہدی ہونے کا دعویٰ فرمایا تو مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی آپؑ کی مخالفت پر اُتر آئی۔ وہی محمد حسین بٹالوی جو چند ہی سال پہلے آپؑ کو چودہ صدیوں میں اسلام کی عظیم ترین خدمت کرنے والوں میں سرفہرست بیان کیا کرتا تھا اب آپ کو باغی اور مہدی سوڈانی سے زیادہ خطرناک قرار دینے لگا۔ آپؑ پر مقدمات قائم ہوئے لیکن آپؑ نے کسی خوف کے نتیجہ میں تبلیغ کو نہیں روکا بلکہ عظمتِ اسلام اور آنحضورﷺ کی شان میں تبلیغی جہاد جاری رکھا۔ کئی شہروں کے سفر اختیار فرمائے اور لیکچر دیئے۔ آپؑ کی اسلام کے لئے کی جانے والی دفاعی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے لارڈ بشپ نے خطرہ کا اظہار بھی کیا۔
آپؑ نے اپنے مخالفین کو مخالفت سے باز رکھنے کے لئے فرمایا کہ کذاب کی ہلاکت کے واسطے اس کا کذب ہی کافی ہے اور دعویٰ کرنے والا صادق ہے تو پھر ساری دنیا کی مخالفت کے باوجود بھی وہ کامیاب ہوگا۔ آپ نے برطانیہ کی ملکہ کو دو بار دعوتِ حق دی اور دو کتب ’’ستارہ قیصریہ‘‘ اور ’’تحفہ قیصرہ‘‘ تصنیف فرمائیں۔ آپؑ نے ملکہ کو جلسہ مذاہب عالم کے انعقاد کی تجویز بھی دی۔ آپؑ نے امیرِ کابل کو بھی دعوت حق دی اور یہ بھی فرمایا کہ اگر اُسے آپؑ کے دعویٰ میں شک ہو تو وہ اسلام کی خدمت کے میدان میں ہی آپؑ کی مدد کرے۔ قادیان سے جاری ہونے والے دو اخبار ’’الحکم‘‘ اور ’’البدر‘‘ بھی آپؑ کے دست و بازو ثابت ہوئے۔ اسی طرح اردو اور انگریزی میں ایک رسالہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ بھی جاری فرمایا۔ گویا تبلیغ کا کوئی بھی ذریعہ اور طریقہ ایسا نہیں تھا جسے آپؑ اختیار فرماسکتے تھے اور آپؑ نے اُسے اختیار نہیں فرمایا۔ نیز مغربی ممالک میں تبلیغ کے لئے بے مثال جدوجہد فرمائی۔
آج ہمارے لئے بھی تبلیغ کے تمام راستے موجود ہیں۔ زبان پر عبور نہ ہونا ایک بہانہ ہے۔ ہم اپنے تمام روزمرّہ کام کرتے ہیں۔ غیروں سے بات شروع کرنے کے لئے محض موجودہ حالات کے حوالہ سے بات شروع کی جاسکتی ہے۔ اس راستے میں اگر تکالیف بھی آئیں تو برداشت کرنی چاہئیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک بار فرمایا کہ گالیوں سے بھرے ہوئے خطوط آتے ہیں، بیرنگ بھی ہوتے ہیں جن کا محصول دینا پڑتا ہے اور اُن میں نہایت فحش باتیں کہی گئی ہوتی ہیں۔ جب مَیں صبر کرتا ہوں تو تمہارا فرض ہے کہ تم بھی صبر کرو اور اُن کی گالیاں اور منصوبے مجھے کبھی تھکا نہیں سکتے۔ مقدمات قائم ہوئے اور قتل کا الزام لگا لیکن ہر روک اور مخالفت ناکام ہوئی اور خدا نے مجھے کامیاب و کامران کیا۔
تبلیغ پریزنٹیشن
اس کے بعد مکرم شکیل بٹ صاحب قائد تبلیغ مجلس انصاراللہ یوکے نے تصاویر کی مدد سے ایک پریزنٹیشن دی۔ آپ نے بتایا کہ اپنے دین سے وفا کا تقاضا اور ہماری ذمہ داری یہی ہے کہ ہم تبلیغ سے پیچھے نہ ہٹیں۔ اس مقصد کے لئے مجلس انصاراللہ کے تحت دیہات اور شہروں میں قرآن نمائشیں اور مجالس سوال و جواب بھی جاری ہیں۔ ہفتہ وار رپورٹس حضور انور ایدہ اللہ کی خدمت میں بھجوائی جاتی ہیں نیز تبلیغ نیوز لیٹر بھی شائع کیا جاتا ہے جو اب رسالہ ’’انصارالدین‘‘ کا حصہ بنادیا گیا ہے۔ آپ نے ایسے افراد کو سٹیج پر بلاکر اُنہیں خیالات کے اظہار کا موقع بھی دیا جنہیں تبلیغ کے میدان میں غیرمعمولی خدمت کی توفیق عطا ہوئی ہے۔
مکرم کلیم انجم صاحب نے بتایا کہ وہ ایک گاؤں میں ایک سٹور کے سامنے گزشتہ ڈیڑھ سال سے تبلیغی سٹال لگارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب ہم پہلی بار یہاں پہنچے تھے تو ہمیں پتہ نہیں تھا کہ سٹال لگانے کی اجازت کس سے حاصل کرنی ہے۔ آخر ایک سٹور کے سامنے مناسب جگہ دیکھ کر ہم نے سٹور مینیجر سے بات کی۔ اُس نے ہمارے پمفلٹ دیکھے تو متأثر ہوکر نہ صرف اجازت دی بلکہ یہ بھی کہا کہ ہم آئندہ بھی ہر ہفتہ یہاں سٹال لگاسکتے ہیں اور اس کے لئے کسی اَور سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
مکرم بشارت احمد سروعہ صاحب نے بتایا کہ مَیں بالکل اَن پڑھ ہوں۔ صرف دعا کرکے گھر سے نکلتا ہوں۔ مختلف سکولوں اور اداروں سے رابطے کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ غیرمعمولی کامیابیاں عطا فرماتا ہے۔
مکرم مبین بلوچ صاحب ایک مجلس کے زعیم ہیں۔ آپ نے دعا کے ثمرات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ایک روز سٹال کے لئے سامان لے کر ہائی سٹریٹ پر پہنچا لیکن سوائے ایک دوست کے کوئی اور وہاں پر موجود نہیں تھے جس سے بڑی پریشانی ہوئی اور دعا کا موقع ملا۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک اجنبی احمدی دوست وہاں آگئے جو فرانسیسی تھے۔ انہوں نے سٹال دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا اور پوچھا کہ کیا وہ بھی ڈیوٹی دے سکتے ہیں۔ میرے اثبات میں جواب دینے کے بعد وہ وہاں کھڑے ہوگئے اور آنے والوں سے گفتگو کرنے لگے۔ کچھ ہی دیر میں ایک فرانسیسی خاتون سٹال پر آئیں تو اُس دوست کے ساتھ اُس خاتون کی فرنچ زبان میں تفصیلی گفتگو ہوئی۔ یہ دیکھ کر مجھے یقین ہوگیا کہ دعا کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی غیرمعمولی مدد آتی ہے۔
مکرم ڈاکٹر تنویر عارف صاحب ریجنل ناظم نارتھ ویسٹ نے بتایا کہ ریجنل مبلغ کے ساتھ میرا مضبوط تعلق ہے اور چھ افراد پر مشتمل ایک ٹیم ہم نے تیار کی ہے جو سارے ریجن میں سٹالز لگانے میں مدد کرتی ہے۔ اس ٹیم میں یعنی تبلیغی کاموں میں نومبائعین کو شامل کرنے سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔
مکرم پیر بشارت احمد صاحب نے اولمپک کھیلوں کے دوران چار لاکھ کی تعداد میں “Love for All” والے پوسٹ کارڈز کی تقسیم کے حوالہ سے نہایت ایمان افروز واقعات سنائے۔ آپ نے بتایا کہ جو بھی قانون وہاں کی مقامی سیکورٹی بناتی وہی قانون ہمارے فائدہ کا موجب ہوجاتا۔ کئی سیکورٹی والے خود بھی کارڈز مانگتے اور پسند کرتے۔ اگر کسی قسم کی مشکل پیش آتی تو اللہ تعالیٰ اُس کے حل کے سامان بھی خود ہی پیدا فرمادیتا۔
مکرم ناظم رسول بٹ صاحب نے بھی تبلیغ کے حوالہ سے بعض ایمان افروز واقعات پیش کئے۔

پاکستان میں احمدیوں پر مظالم

اس اجلاس کے دوسرے حصہ میں مکرم منصور کاہلوں صاحب نائب صدر مجلس انصاراللہ برطانیہ نے پریزنٹیشن دی۔ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یورپ میں تبلیغ کی خواہش اور اس کے حوالہ سے انصارکی ذمہ داریوں پر مختصراً روشنی ڈالی نیز حضور انور ایدہ اللہ کے ارشادات بیان فرمائے۔ پھر تبلیغ کے طریقۂ کار کا ذکر کیا اور یورپ میں مذہبی آزادی کو ایک نعمت قرار دیتے ہوئے اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی تلقین کی۔ آپ نے پاکستان میں قانونی پابندیوں اور اس کے نتیجہ میں احمدیوں پر ہونے والے ظلم و ستم کا اجمالی ذکر کیا اور سٹیج پر چند انصار کو مدعو کیا جنہوں نے مختصر طور پر اپنے ذاتی حوالوں سے بعض مظالم کی تفصیل بیان کی۔
مکرم محمد محمود خان صاحب نے بتایا کہ میرا تعلق لاہور سے ہے اور لاہور میں ہماری دو مساجد پر ہونے والے حملوں سے ایک ماہ قبل حضور انور ایدہ اللہ نے یہ تحریک کی تھی کہ لاہور کے پانچ لاکھ افراد تک احمدیت کا پیغام مجلس انصاراللہ پہنچائے۔ ابھی اس سلسلہ میں پروگرام بنائے جارہے تھے کہ یہ اندوہناک سانحہ رونما ہوگیا لیکن اس کے نتیجہ میں لاکھوں لوگوں تک خودبخود احمدیت کا پیغام پہنچ گیا۔ مَیں 56 شہداء کو ذاتی طور پر جانتا ہوں جن میں میرے والد بھی شامل ہیں۔ آپ نے مختلف شہداء کا مختصر ذکرخیر بھی کیا اور اُن کے جذبۂ قربانی پر روشنی ڈالی۔
پھر مکرم رانا غلام سرور صاحب آف شیخوپورہ نے سیدنا حضرت مصلح موعود
رضی اللہ عنہ کا پاکیزہ کلام اپنی خوبصورت آواز میں پیش کیا:

دشمن کو ظلم کی برچھی سے تم سینہ و دل برمانے دو
یہ درد رہے گا بن کے دوا تم صبر کرو وقت آنے دو

مکرم رومان تبسم صاحب نے بتایا کہ مَیں مئی 2008ء میں برطانیہ میں قانون کی تعلیم حاصل کررہا تھا کہ اچانک دل اچاٹ ہونے کے نتیجہ میں مستقل طور پر واپس پاکستان چلا گیا۔ چونکہ بیس سال سے مَیں دارالذکر لاہور میں ڈیوٹی دیتا چلا آرہا تھا اس لئے 28مئی کے جمعہ کے روز بھی ڈیوٹی کا سلسلہ ایک بار پھر شروع کرنے کے لئے وہاں پہنچ گیا۔ وہاں گیٹ پر ڈیوٹی کے دوران میری ٹانگ میں بھی گولی لگی اور مَیں زخمی ہوگیا لیکن کوئی درد نہیں تھا اس لئے Main Hall میں چلا گیا تاکہ دوسروں کی مدد کرسکوں۔ وہاں کسی قسم کا کہرام نہیں مچا، کوئی چیخ و پکار نہیں ہوئی۔ لوگوں نے درودشریف پڑھتے ہوئے ظالموں کی گولیوں کو اپنی چھاتی پر لیا اور ہر کوئی ایک دوسرے کو بچانے کی کوششوں میں مصروف رہا۔
مکرم پروفیسر نواز چودھری صاحب کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ آپ نے بتایا کہ وہاں مشکل حالات کے باوجود جماعت دعوت الی اللہ کررہی ہے۔ مخالفت کی انتہا یہ ہے کہ مختلف مدارس میں اس حوالہ سے تحقیقی مقالے لکھے جارہے ہیں کہ احمدیت کی تبلیغ اور ترقیات کو کس طرح روکا جاسکتا ہے۔ مجھے وہاں ایک درجن سے زائد افراد کو احمدی کرنے کی سعادت عطا ہوئی جن میں میرے دو شاگرد بھی شامل ہیں۔ پھر ایک شخص کو مَیں دیکھتا تھا کہ وہ ہماری مسجد میں آکر خاموش بیٹھ جاتا ہے۔ اُس سے پوچھنے پر پتہ چلا کہ وہ احمدی نہیں ہے لیکن یہاں آکر سکون محسوس کرتا ہے۔ اُسے احمدیت کے بارہ میں بتایا تو اُس نے نہ صرف خود بیعت کرلی بلکہ ایک پُرجوش داعی الی اللہ بھی بن گیا۔ اسی طرح فیصل آباد کے ایک قریبی علاقہ کے گدّی نشین بھی احمدی ہوگئے۔ دراصل اُن کی والدہ محترمہ نے ایک خواب دیکھا اور اس کے نتیجہ میں پھر ربوہ کا سفر کیا جس کے بعد وہ احمدی ہوگئیں اور پھر کئی مزید افراد بھی احمدی ہوئے جن میں گدّی نشین بھی شامل تھے۔
فیصل آباد کے مکرم نصراللہ خان صاحب نے بتایا کہ مَیں 1983ء میں اُس وقت احمدی ہوا جب گورنمنٹ ٹیکنیکل کالج میں دوسرے سال کا طالبعلم تھا۔ جب میری بیعت کی منظوری کا خط گھر پہنچا تو میرے بھائی اور بھابھی نے میرا سامان نکال کر باہر رکھ دیا۔ میری درخواست پر بھائی نے مجھے گھر کے ایک کونے میں سیڑھیوں کے نیچے رہنے کی اجازت دیدی لیکن تیسرے دن ہی اپنی اہل حدیث بیوی کے مجبور کرنے پر مجھے ایک بار پھر گھر سے نکال دیا۔ پھر مَیں چند دن اُس احمدی فیملی کے ہاں مقیم رہا جن کی تبلیغ سے مَیں احمدی ہوا تھا اور پھر ہوسٹل میں منتقل ہوگیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد دعا کے نتیجہ میں فوراً ملازمت مل گئی اور ترقی بھی ہوتی چلی گئی حتّٰی کہ SDO بن گیا۔ پھر مجھے ایک بڑا گھر الاٹ ہوگیا لیکن اُس گھر پر ایک دوسرے شخص کی نظر تھی جس نے مولوی کو ساتھ ملاکر مجھ پر دباؤ ڈلوایا کہ قادیانی ہونے کی وجہ سے وہاں کا پانی پلید ہوجاتا ہے۔ پھر صرف دو ماہ میں مجھے 22 ٹرانسفر لیٹر ملے تو تنگ آکر مَیں جرمنی چلا آیا۔ جرمنی میں مجھے کینسر ہوگیا۔ مَیں روزانہ حضورؒ کو دعا کے لئے خط لکھتا۔ ڈاکٹر نے میری زندگی سے مایوسی کا اظہار کیا تو مَیں نے وصیت بھی لکھ دی اور اپنی بیوی کو بھی مطلع کردیا۔ اُس نے یہ بات میرے بھائیوں کو بتائی تو وہ کہنے لگے کہ اسے مرزائی ہونے کی سزا ملی ہے کہ یہ کینسر سے مر رہا ہے۔ جب مجھے یہ بات اُس نے لکھی تو مَیں نے اپنی بیوی کو جواباً خط لکھا کہ یہ تو انہوں نے مجھے میری زندگی کا سرٹیفکیٹ دیدیا ہے اور اب اللہ تعالیٰ ضرور مجھ پر فضل کرتے ہوئے شفا عطا فرمائے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مجھے معجزانہ طور پر صحت دی اور گزشتہ دس سال میں مَیں نے کوئی دوا استعمال نہیں کی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب بالکل ٹھیک ہوں حالانکہ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ مجھے اپنی بقیہ زندگی (جتنی بھی ہوگی) اس میں دوا لازماً مستقل طور پر استعمال کرنا پڑے گی۔
مکرم افتخارالحق خان صاحب کو احمدی ہونے کی بِنا پر کوئٹہ (پاکستان) میں اغوا کرلیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جس وقت کوئٹہ کی احمدیہ مسجد پر حملہ کرکے اسے سِیل کردیا گیا تھا۔ کلمہ طیبہ پر کالا پانی پھیرنے کے علاوہ نالی کا گند بھی پھیرا گیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو نیا مسجد کمپلکس تعمیر کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ لیکن مخالفین نے احمدیوں پر مظالم کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا تھا۔ چنانچہ ایک روز مجھے بھی میرے بچوں کے سامنے اغوا کرلیا گیا۔ کسی نامعلوم جگہ پر لے جاکر دھمکیاں دی گئیں اور تاوان طلب کیا گیا۔ اس سے پہلے وہ ایک احمدی کو اغوا کرنے کے بعد اسی طرح تاوان کا مطالبہ پورا کرنے کے باوجود شہید کرچکے تھے اس لئے مجھے بھی یقین تھا کہ اب مجھے اپنی زندگی کی قربانی کرنی ہے اور یہ مجھے بھی شہید کردیں گے۔ لیکن اس سوچ کے باوجود بھی مجھے کوئی پریشانی نہیں تھی اور کسی ایک روز بھی مَیں پریشانی کی وجہ سے نیند سے محروم نہیں ہوا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور معجزانہ طور پر میری رہائی عمل میں آگئی۔
دوسرے روز کا آخری سیشن
اس اجلاس کا موضوع تھا: ’’تبلیغ کے میدان میں انصار کی زمہ داریاں‘‘۔ اس اجلاس کی صدارت مکرم امیر صاحب یوکے نے کی جبکہ پہلے مقرر مکرم مولانا نسیم احمد باجوہ صاحب مربی سلسلہ تھے جنہوںنے انگریزی زبان میں تقریر کرتے ہوئے سب سے پہلے سورۃالصف کی اُس آیت کی تلاوت کی جس میں بیان فرمایا گیا ہے کہ اُس نے اپنے رسول کو دین حق کے ساتھ بھیجا ہے … (61:10)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات اور اپنی بعثت کی خبر سب سے پہلے کتاب ’’فتح اسلام‘‘ میں دی۔ مکرم باجوہ صاحب نے اپنی تقریر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعوت الی اللہ کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرنے کے بعد حضرت چودھری فتح محمد سیال صاحب رضی اللہ عنہ کے حالات پیش کئے جنہیں یورپ میں سب سے پہلا مبلغِ احمدیت بننے کی سعادت عطا ہوئی۔ آپؓ آج سے ایک سو سال پہلے برطانیہ پہنچے اور غیرمعمولی خدمات بجالائے۔
اس سلسلہ کی دوسری تقریر مکرم مولانا عطاء المجیب راشد صاحب، امام مسجد فضل لندن و مبلغ انچارج برطانیہ، کی تھی۔ یہ تقریر بھی انگریزی میں تھی۔ آپ نے خطبہ جمعہ کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور پھر نحن انصاراللہ کے حوالہ سے انصار کی ذمہ داریوں کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں چاہئے کہ آنحضورﷺ کی سیرت طیبہ کے روشن پہلوؤں کو اچھی طرح اس معاشرہ میں پھیلادیں۔
مکرم امیر صاحب نے ہجرت کے نتیجہ میں ہونے والی برکات کا ذکر کیا جن میں سرفہرست MTA ہے۔ آپ نے خلافت کی اہمیت بیان کی اور برطانیہ میں آئندہ ہونے والے جماعتی پروگراموں کا تفصیل سے ذکر کیا۔ آپ نے بتایا کہ امسال ہونے والے Book Fair میں جماعت کی نمائندگی کے نہایت خوشکُن نتائج نکلے ہیں۔ سینکڑوں افراد نے ہمارے سٹالز کا دورہ کیا جن میں ترکی، ملائشیا اور سعودی عرب کے وفود بھی شامل تھے۔ ترکی کے وفد نے اپنی قومی نمائش میںرکھنے کے لئے ہماری کتابیں خریدیں جبکہ ملائشیا کے وفد کا کتابیں خریدنے کا مقصد اُن کے تدریسی نصاب میں اس کے مضامین کا شامل کرنا تھا۔ سعودی عرب کے وفد کے سربراہ نے بتایا کہ وہ MTA دیکھتے ہیں اور احمدیت کے بارہ میں جانتے ہیں۔

تیسرا روز۔ 7؍ اکتوبر 2012ء

نماز تہجد کی باجماعت ادائیگی کے ساتھ اجتماع کے تیسرے دن کے پروگرام کا آغاز ہوا ۔ مسجد بیت الفتوح کے احاطہ میں قیام پذیر افراد کے علاوہ مسجد کے قریب رہنے والے احمدیوں میں سے بھی بعض نے مسجد میں آکر نماز تہجد باجماعت میں شمولیت کی۔ نماز فجر کے بعد ملفوظات سے درس پیش کیا گیا۔
پہلا اجلاس
قریباً پونے دس بجے صبح آج کا پہلا اجلاس مکرم سید امتیاز احمد صاحب ریجنل ناظم مڈلینڈ کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں علمی مقابلہ جات (تقریر اردو،
فی البدیہہ تقریر اور پیغام رسانی کے مقابلے) منعقد ہوئے۔ بعدازاں مکرم عبدالعزیز ڈوگر صاحب نے سٹیج پر آکر چند منٹ کے لئے خلافت کی برکات کے حوالہ سے احباب کو نصیحت کی۔ اس دوران میدان عمل میں چند ورزشی مقابلہ جات کا انعقاد بھی کیا گیا جن میں مختلف دوڑیں، گولہ پھینکنا، کلائی پکڑنا نیز باسکٹ بال اور فٹ بال وغیرہ شامل ہیں۔ان کھیلوں کے لئے مسجد بیت الفتوح کے سامنے کا میدان کونسل کی اجازت سے استعمال کیا گیا۔
دوسرا اجلاس
آج کا دوسرا اجلاس قریباً ساڑھے بارہ بجے مکرم صدر صاحب مجلس انصاراللہ کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اس اجلاس کا عنوان تھا: ’’استحکام خلافت کے حوالہ سے انصار کی ذمہ داریاں‘‘۔ تلاوت قرآن کریم، آیات کریمہ کے ترجمہ اور نظم کے پڑھے جانے کے بعد مکرم عبدالماجد طاہر صاحب ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن نے تقریر کرتے ہوئے مذکورہ موضوع پر نہایت تفصیل سے روشنی ڈالی۔ آپ نے بتایا کہ مقامِ خلافت وہ حبل اللہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے مومنین کی جماعت کو عطا فرمایا ہے تاکہ نبوت کی برکات جاری رہیں اور خوف کو امن میں تبدیل کردیا جائے۔ چنانچہ تمام خلفاء کرام نے خلافت کے استحکام کے لئے غیرمعمولی کوششیں فرمائیں اور اس کے راستہ میں آنے والی ہر مخالفت کو کچل کر رکھ دیا۔
خلافت کے خلاف پہلی سازش ہمیں حضرت خلیفۃالمسیح الاوّل ؓ کی زندگی میں نظر آتی ہے جب آپؓ نے 1909ء میں مجلس شوریٰ بلائی اور خطاب فرمانے کے لئے آپ مسجد کے پرانے حصہ میں کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ مَیں اُس حصہ میں کھڑا ہوکر مخاطب ہوں جو میرے میرزا کی مسجد کا حصہ ہے اور انجمن نے اسے تعمیر نہیں کیا۔ پھر آپؓ نے واضح طور پر ایسے عناصر کی سرزنش کرتے ہوئے انہیں دوبارہ بیعتِ خلافت کا ارشاد فرمایا جنہوں نے آپؓ کو تکلیف میں مبتلا کررکھا تھا۔ سازشی عناصر نے خلافت پر حملہ کرنے کے لئے یہ چالاکی بھی کی تھی کہ آپؓ کے فرمودات کو ’’خلیفۃالمسیح کے ارشادات‘‘ کی بجائے ’’میر مجلس‘‘ کا ارشاد کہا کرتے۔ تاکہ اس سے مراد یہ لی جائے کہ گویا صدر انجمن احمدیہ کی مجلس کا سربراہ ہونا خلیفۃالمسیح ہونے سے بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس سازش کو کچلنے کیلئے حضورؓ نے حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحبؓ کو اپنی جگہ میر مجلس نامزد فرمایا اور پھر سازشی عناصر کو چیلنج دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ اُن کے بنانے سے خلیفہ نہیں بنے اور نہ اُن کی خواہش کے مطابق اب وہ کرتہ اتار سکتے ہیں جسے خدا نے خود انہیں پہنایا ہے۔ اگرچہ حضورؓ کے ارشاد پر تمام سازشی عناصر دوبارہ بیعت کرنے پر مجبور ہوئے تاہم اُن کے دل کا بغض وعناد جاری رہا اور اس فتنہ نے حضورؓ کی وفات پر شدّت سے اپنا سر اٹھایا۔
حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے زمام خلافت سنبھالنے کے بعد ان تمام عناصر کا نہایت جرأت سے مقابلہ کیا جو خلافت کے مقام کو نہ سمجھنے کے نتیجہ میں یا اپنی ذہنی بیماری کی وجہ سے خلافت کو ایک دنیاوی عہدہ خیال کرتے تھے۔ آپؓ کی ساری زندگی جماعت کو یہی سمجھاتے ہوئے گزری کہ ’’تمہاری تمام ترقیات خلافت سے وابستہ ہیں‘‘۔ آپؓ کے دورِ خلافت میں جماعت کو خلافت کے حوالہ سے کئی ابتلاؤں کا سامنا کرنا پڑالیکن آپؓ نے خداتعالیٰ کی تائید کے ساتھ راہنمائی کرتے ہوئے تمام سازشوں کا قلع قمع فرمایا۔ پھر حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے واضح طور خلافت کی مضبوطی کے لئے حکومتوں کی ایسی چالوں کو بھی ناکام کردیا جو خلافت کو دنیاوی منصب خیال کرتے ہوئے اسے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ آپؒ نے یہ بھی فرمایا کہ سلسلۂ خلافت امّت واحدہ بنانے کے لئے ہے اور خلیفۂ وقت کبھی کسی زمینی سلطنت کا بادشاہ یا سربراہ نہیں بنے گا۔ آپؒ نے واضح فرمادیا کہ خلافت وہ حبل اللہ ہے کہ جو بھی اس سے ٹکر لے گا وہ ریزہ ریزہ ہوجائے گا۔ چنانچہ 1974ء میں خلافت کے مقابل آنے والوں کا انجام ہم سب کے سامنے ہے۔ جو شخص جماعت کے ہاتھ میں کشکول پکڑوانے کا دعویٰ کرتا تھا وہ اپنی جان کی امان کیلئے ملکوں ملکوں کشکول تھامے بھیک مانگتا رہا لیکن اس کی مراد بر نہ آئی۔ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے خلافت پر ہونے والے پہلے حملے کے نتیجہ میں جماعت کو یہ سمجھایا کہ کسی ایک خلیفہ کا کسی دوسرے خلیفہ سے مقابلہ کرنا جائز نہیں۔ ہر خلیفہ نے اپنی شاکلت کے مطابق اپنے حالات میں بہترین قدم اٹھایا جس کی تائید خدا تعالیٰ نے بھی کردی۔ حضورؒ کی ساری زندگی بھی ایسے عناصر کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے گزری جنہوں نے اپنی تمام تر دنیاوی طاقتوں کا سہارا لیتے ہوئے خلافت کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔ خلافت کو بچانے کی خاطر آپؒ کو اپنے وطن سے ہجرت بھی کرنا پڑی۔ اور وہ شخص جو جماعت کو کینسر کہتا تھا، اُسے چیلنج دیتے ہوئے آپؒ نے فرمایا کہ خدا کے فضل سے جماعت ایک ولی رکھتی ہے، جبکہ تمہارا کوئی ولی نہیں اس لئے تمہارا نام و نشان مٹادیا جائیگا اور تم ذلّت و رسوائی سے یاد رکھے جاؤگے۔ اور دنیا نے دیکھا کہ خلیفۃالمسیح کے یہ الفاظ بڑی شان سے پورے ہوئے۔
خلافت خامسہ کا انتخاب اپنی شان میں ایک ایسا واقعہ تھا جسے MTA کے ذریعہ دنیابھر میں دیکھا گیا۔ اسے دیکھنے والے اپنے بھی تھے اور غیر بھی۔ بعد میں غیروں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت تمہارے ساتھ ہے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے بار بار جماعت کے مختلف فورم پر یہ توجہ دلائی ہے کہ قدرت ثانیہ یعنی خلافت ایک بہت بڑا انعام ہے اور امام سے وابستگی میں ہی سب برکتیں ہیں۔ حضور انور فرماتے ہیں کہ ’’اگر آپ نے دنیا پر غالب آنا ہے تو اس حبل اللہ کو مضبوطی سے تھامے رکھیں‘‘۔ ’’آپ کی ہر ترقی کا راز خلافت سے ہی وابستہ ہے‘‘۔ خلافت کی مضبوطی کے حوالہ سے حضور انور نے یہ بھی فرمایا: ’’خلافت کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لئے ہر احمدی اپنی نمازوں کی طرف توجہ دے۔ اپنی اور اپنی اولاد کی نمازوں کی حفاظت کی طرف توجہ دے‘‘۔
اس تقریر کے بعد مکرم صدر صاحب مجلس انصاراللہ نے استحکام خلافت کے لئے انصار کے کردار کے حوالہ سے تقریر کی۔ آپ نے کہا کہ مجلس انصاراللہ کے بانی حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے مجلس انصاراللہ کی بنیاد رکھتے ہوئے خطبہ جمعہ میں فرمایا تھا کہ مَیں نے چار دیواریں تعمیر کی ہیں تاکہ جماعت مضبوط ہو۔کیونکہ کوئی عمارت چاروں دیواروں کے بغیر مضبوط نہیں ہوسکتی۔ جماعت کی عمارت کی یہ چار دیواریں انصاراللہ، خدام الاحمدیہ، اطفال الاحمدیہ اور لجنہ اماء اللہ ہیں۔
قرآن کریم میں انصار کا نام دو دفعہ آیا ہے۔ ایک جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کے ضمن میں اور ایک جگہ انصارِ مدینہ کے حوالہ سے۔ چنانچہ آج کے انصار کی بھی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ انصار مدینہ کی طرح تبلیغ، تعلیم و تربیت اور دیگر ڈیوٹیوں کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں۔ مالی جہاد میں بھی حصہ لیں اور تزکیہ کرنے میں بھی مدد کریں۔ دین کو دنیا پر ہمیشہ مقدّم رکھیں اور یاد رکھیں کہ اصل وقت امتحان کا وقت ہوتا ہے۔ حضرت سید عبداللطیفؓ شہید کو جب مقتل کی طرف لے جایا جانے لگا تو کسی نے کہا کہ اپنے بیوی بچوں سے مل لیں لیکن آپؓ نے فرمایا کہ میرا اُن سے کیا تعلق، اللہ کا حکم آن پہنچا ہے سو مَیں جاتا ہوں۔ گویا اگر کوئی حقیقی تعلق رکھا تو وہ اپنے ربّ سے ہی رکھا اور اُسی کی خاطر زندگی گزاری اور اُسی کی خاطر جان قربان کی۔ انصار مدینہ نے بھی شہادت کو شیریں پھل کی طرح قبول کیا۔ آنحضور ﷺ نے میدان احد میں شہید ہونے والے ایک نوجوان حضرت عثمان بن مظعونؓ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جب آپؐ کے صاحبزادے ابراہیم کی وفات ہوئی تو اُن کی تدفین کے وقت آپؐ نے فرمایا کہ جاؤ اپنے بھائی عثمان بن مظعون کے پاس جنت میں۔
مکرم صدر صاحب نے زور دے کر کہا کہ تبلیغ کرنا ہر ناصر کا بنیادی فرض ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ کو تبلیغ کا اس قدر خیال تھا کہ آپؓ نے تحریک جدید کے قیام کے وقت مبلغین کی تعداد کے حوالہ سے فرمایا کہ مَیں راتوں کو حساب لگاتا ہوں کہ کتنی تعداد ہمیں آئندہ چاہئے ہوگی جو تبلیغ اور تعلیم و تربیت کی ذمہ داریاں ادا کرسکے، پانچ ہزار، دس ہزار۔ پھر آبادی کا حساب کرتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ بیس لاکھ مبلغ چاہئیں۔ دنیا کے نزدیک یہ واہمہ ہوسکتا ہے لیکن میرے یہ خیالات ریکارڈ میں محفوظ ہوچکے ہیں اور عملی صورت اختیار کرنے والے ہیں۔
مکرم صدر صاحب نے انصار پر زور دیا کہ وہ حضور انور کے ارشاد کے مطابق پاکستانی احمدی بھائیوں کے لئے دو نفل ضرور ادا کیا کریں۔ اللہ تعالیٰ اُن کے لئے آسانی پیدا فرمائے۔ آپ نے اپنی تقریر کے اختتام پر حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی یہ ہدایت یاد دلائی جو حضور انور نے مجلس انصاراللہ یوکے کے اجتماع 2006ء کے موقع پر یوں ارشاد فرمائی تھی کہ ’’ہم موسیٰ کے ساتھیوں کی طرح یہ جواب نہیں دیں گے فَاذْھَبْ اَنْتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلَآ اِ نَّا ھٰھُنَا قَاعِدُوْن (سورۃ المائدہ:25) کہ تو اور تیرا رب جاکر دشمن سے لڑو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں ۔ نہیں بلکہ ہمارا جواب بھی وہی ہے جو مہاجرین دے چکے ہیں کہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے ، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور ہماری لاشوں کو روندے بغیر دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا … جیسا کہ مَیں نے شروع میں کہا تھاکہ انصار اللہ کے الفاظ پر غور کریں، اس عہد پرغور کریں جوآپ اپنے اجلاسوں اور اجتماعوں میں پڑھتے ہیں۔ آج آپ سے تلوار چلانے کا مطالبہ نہیں کیا جارہا ، جنگ میں اپنے آپ کو جھونکنے کا مطالبہ نہیں کیا جارہا ، توپوں او ر گولوں کے سامنے کھڑے ہونے کا مطالبہ نہیں کیا جارہا۔ مطالبہ ہے تو یہ ہے کہ اللہ کے حقوق ادا کرو، اس کی مخلوق کے حقوق ادا کرو۔ اپنی عبادتوں کے وہ نمونے قائم کرو جو خدام کیلئے بھی مثال بن جائیں اور اطفال کیلئے بھی مثال بن جائیں، وہ تمہاری بیویوں کیلئے بھی مثال بن جائیں اور تمہاری بچیوں کیلئے بھی مثال بن جائیں۔تمہاری مالی قربانیاں بھی ایسی ہوں جن کے نمونے سے دوسرے بھی فائدہ اٹھائیں‘‘۔
اس کے بعد مکرم امیر صاحب یوکے نے علمی اور ورزشی مقابلوں میں دوسری اور تیسری پوزیشن لینے والوں میں انعامات تقسیم کئے۔ تبلیغی پروگراموں کے حوالہ سے بھی حوصلہ افزائی کے انعامات دیئے گئے۔ اس کے ساتھ ہی کھانے کا وقفہ ہوا۔
اختتامی اجلاس کا انعقاد
اجتماع کا اہم ترین پروگرام اس کا اختتامی اجلاس تھا جس میں سیدنا حضرت امیرالمومنین خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہ شفقت تشریف لاکر انصار سے خطاب فرمایا۔ 7؍اکتوبر کو حضور انور ایدہ اللہ قریباً ساڑھے تین بجے مسجد بیت الفتوح میں تشریف لائے اور نماز ظہر و عصر پڑھائی۔ اس کے بعد حضور انور نے طاہر ہال کے باہر اپنے خدام میں رونق افروز ہوئے اور بعض گروپ تصاویر اتاری گئیں۔ پہلا گروپ برطانیہ کی تمام مجالس انصاراللہ کے زعماء اور ریجنل ناظمین پر مشتمل تھا۔ دوسرے گروپ میں نیشنل عاملہ کے اراکین تھے اور تیسرے گروپ میں اجتماع کمیٹی کے اراکین شامل ہوئے۔
گروپ تصاویر کے پروگرام کے بعد سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ طاہر ہال میں تشریف لائے جہاں تمام انصار اپنے آقا کی زیارت اور کلمات سے فیضیاب ہونے کے منتظر تھے۔ حضور انور کی آمد پر احباب نے نعرے بلند کئے اور حضور انور کے کرسیٔ صدارت پر رونق افروز ہونے کے بعد پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم ظفراللہ احمدی صاحب نے کی اور آیات کریمہ کا ترجمہ بھی پڑھ کر سنایا۔ اس کے بعد حضور انور نے انصار کا عہد دہرایا۔ اس کے بعد مکرم مرزا عبدالباسط صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے درج ذیل پاکیزہ منظوم کلام ’’اے خدا اے کارساز و عیب پوش و کردگار‘‘ سے چند اشعار پیش کئے۔ نظم کے اختتام پر حضور انور نے نظم پڑھنے کے انداز کی تعریف فرمائی کیونکہ یہ نظم ربوہ میں ہونے والے جلسوں اور اجتماعات میں پڑھی جانے والی نظموں کے انداز میں پڑھی گئی تھی۔ نظم کے بعد حضور انور نے علمی و ورزشی مقابلہ جات میں اوّل آنے والے انصار نیز حسنِ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی مجالس اور ریجن میں انعامات تقسیم فرمائے۔ ان مجالس کے زعماء اور ریجنل ناظمین نے حضور انور کے دست مبارک سے اعزازات وصول کئے۔ امسال بھی مجلس نیومالڈن اوّل آکر مسلسل دوسری بار علم انعامی کے اعزاز کی حقدار قرار پائی ۔ جبکہ دوم مجلس مسجد فضل اور سوم مچم قرار پائی۔ چھوٹی مجالس میں اوّل لیڈز، دوم لورپُول اور سوم سوانسی آئی۔ بڑے ریجنز میں اوّل لندن، دوم بیت الفتوح اور سوم ساؤتھ قرار پائے جبکہ چھوٹے ریجنز میں اوّل نارتھ ویسٹ، دوم ساؤتھ ویسٹ اور اسلام آباد سوم آئے۔
تقسیم انعامات کے بعد مکرم چودھری وسیم احمد صاحب صدر مجلس انصاراللہ یوکے نے اجتماع کے حوالہ سے رپورٹ پیش کرتے ہوئے اجتماع میں ہونے والے مختلف اہم پروگراموں کا تذکرہ کیا اور بتایا کہ اجتماع کمیٹی سات ہفتے پہلے قائم کی گئی تھی جس کے صدر مکرم مرزا عبدالرشید صاحب تھے اور انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ بہت محنت کرکے اس اجتماع کو کامیاب بنانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔
مکرم صدر صاحب نے اجتماع کے دوران ہونے والے مختلف علمی و ورزشی مقابلہ جات نیز دیگر اجلاسات میں ہونے والے پروگراموں اورشوریٰ کی کارروائی کا مختصراً ذکر کیا اور پھر اس اجتماع میں حاضرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے حوالہ سے یہ عرض کرنے کے بعد آج ہمیں خدا تعالیٰ کے فضل سے اجتماع کی حاضری کو دیکھتے ہوئے بیت الفتوح کامپلیکس چھوٹا ہوتا ہوا نظر آرہا ہے، حضور انور کی خدمت میں دعا کی درخواست کی اللہ تعالیٰ آئندہ سال ہونے والے اجتماع کے لئے اپنے فضل سے کوئی مناسب جگہ عطا فرمادے۔ امسال اجتماع میں شامل ہونے والے انصار کی کُل تعداد 2052 تھی جن کا تعلق 98 مجالس سے تھا۔ جبکہ گزشتہ سال کی حاضری 1735 تھی۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطاب

4:25 بجے سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطاب کا آغاز فرمایا۔ تشہدوتعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا کہ اس وقت میرے سامنے آپ انصار بیٹھے ہیں۔ آپ میں سے بہت سوں کے باپ دادا نے احمدیت قبول کی ہے اور بہت نسلوں سے آپ میں احمدیت چلی آرہی ہے۔ کئی ایسے بھی ہوں گے جو تیس چالیس سال سے خود احمدی ہیں اور اب تو لاکھوں کی تعداد میں ہورہے ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کئے گئے وعدوں کا نتیجہ ہے کہ آپؑ نے ترقی کرنی تھی۔
حضور انور نے فرمایا کہ نئے شامل ہونے والے اپنے واقعات بھی بیان کرتے ہیں کہ اُن کے قبول احمدیت کی کیا وجہ ہوئی اور پھر احمدی ہونے کے بعد اُن کے اندر کیا تبدیلی واقع ہوئی۔ مَیں اپنی جلسہ سالانہ یوکے کی دوسرے دن کی تقریر میں مختلف لوگوں کے واقعات بھی بیان کرتا ہوں لیکن اب واقعات کی کثرت کی وجہ سے ایک تقریر میں ان کا احاطہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ نئے شامل ہونے والوں کے ایمان اور ایقان کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کتنی جلدی ان لوگوں نے ترقی کی ہے۔
اس کے بعد حضور انور نے گزشتہ چند سالوں میں احمدیت کو قبول کرنے کی توفیق پانے والوں کے نہایت ایمان افروز واقعات بیان فرمائے۔ اور قریباً نصف گھنٹہ کے خطاب کے بعد اجتماعی دعا کروائی جس کے ساتھ ہی مجلس انصاراللہ برطانیہ کے ایک اَور کامیاب اجتماع کی کارروائی اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔
(حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطاب کا مکمل متن آئندہ اشاعت میں شامل کیا جائے گا)
متفرق امور
سالانہ اجتماع کے لئے دو مارکیاں مسجد بیت الفتوح کے کار پارک میں نصب کی گئی تھیں۔ ایک بڑی مارکی کو طعامگاہ کے طور پر اور دوسری مارکی کو نمائشگاہ کے طور پر زیراستعمال لایا گیا۔ اجتماع کے پروگرام کے لئے طاہر ہال میں سٹیج تیار کیا گیا تھا اور حاضرین کے لئے کرسیوں کا وسیع انتظام تھا۔ تاہم حاضری زیادہ ہونے کے باعث یہ وسیع انتظام بھی محدود دکھائی دیا۔
ناصر ہال، نور ہال اور دیگر کمرے مہمانوں کی رہائشگا ہ کے طور پر استعمال کئے گئے۔ سٹیج کے بیک گراؤنڈ کو سادہ مگر دیدہ زیب انداز میں تیار کیا گیا تھا جس پر یہ آیت کریمہ درج تھی: ’’وَجَاھِدْھُمْ بِہٖ جِہَادًا کَبِیْرًا‘‘ (25:53)۔ یعنی ’’اور اس قرآن کے ذریعہ ان سے ایک بڑا جہاد کر‘‘۔ اردو کے علاوہ انگریزی میں ترجمہ بھی درج تھا کہ: And strive against them by means of the Quran with a mighty striving.
اجتماع کے جن پروگراموں کی کارروائی اردو زبان میں تھی، ان کے انگریزی میں براہ راست ترجمہ کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔
اجتماع میں ایک نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا تھا جسے قرآن کریم کے عنوان سے اس طرح سے پیش کیا گیا تھا جسے دیکھ کر مجالس اپنی نمائشیں لگانے کے لئے راہنمائی حاصل کرسکیں۔ تین روز میں سینکڑوں افراد نے اس نمائش سے استفادہ کیا۔ اسی طرح ایک بکسٹال بھی لگایا گیا تھا جس میں خاص طور پر ایسی کتب نہایت ارزاں نرخوں پر دستیاب تھیں جو خالصتاً تبلیغی مقاصد کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔
روزانہ آنے والے حاضرینِ اجتماع کی کاروں کے لئے پارکنگ کا انتظام مسجد بیت الفتوح کے بالمقابل کونسل کی گراؤنڈ میں کیا گیا تھا۔ جبکہ اجتماع کے ایام میں وہاں قیام کرنے والے افراد کی کاریں مسجد بیت الفتوح کے احاطہ میں ہی پارک کرنے کا انتظام موجود تھا۔
اجتماع کے تینوں دن ہزاروں افراد کو بروقت گرم اور لذیذ کھانا مہیا کرنا یقینا قابل تعریف ہے۔ کھانے کا معیار اور وسیع مارکی میں میزوں پر بٹھا کر کھانا کھلانے کا انتظام نیز صفائی کا مناسب خیال بے شک انتظامی حسن کارکردگی کا ثبوت ہے۔
اللہ تعالیٰ اس اجتماع کو ہر پہلو سے بابرکت فرمائے۔ اس کے شاملین کو جزائے خیر سے نوازے اور ہم سب کو اپنی ذمہ داریوں کو احسن رنگ میں پورا کرنے کی توفیق عطا فرماتا چلا جائے۔ آمین

 

پرنٹ
The short URL of the present article is: http://mahmoodmalik.zindgi.uk/IHTrK

اپنا تبصرہ بھیجیں