لال بیگ (کاکروچ)

لال بیگ ایک چھوٹا سا کیڑا ہونے کے باوجود عالمی سطح پر اپنی شناخت کا مالک ہے اور دنیا میں تقریباً ہر جگہ موجود ہے۔ یہ اتنا سخت جان ہے کہ کیڑے مارنے کی معمولی ادویات کو خاطر میں نہیں لاتا حتی کہ بعض دفعہ اس کو بظاہر مرا ہوا چھوڑ کر جب آپ پیچھے ہٹتے ہیں تو یہ دوبارہ رینگتا ہوا نظر آتا ہے۔ مرطوب آب و ہوا میں پرورش پانے والے اس کیڑے کے بارہ میں مکرم ضیاء اللہ مبشر صاحب کا ایک مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 7؍اگست 1999ء میں شامل اشاعت ہے۔
ایک مادہ لال بیگ اپنی زندگی میں عموماً دو ہزار انڈے دیتی ہے۔ لال بیگ کے بالوں، پاؤں اور چہرے کے حصہ سے الرجی اور دمہ کے امراض پھیلتے ہیں جبکہ ان کی دشمن ادویات کا چھڑکاؤ، جلد کے امراض اور کینسر تک کی بیماریوں کے امکانات پیدا کردیتا ہے۔ لال بیگ دن کو اکثر چھپا رہتا ہے اور اندھیرے میں زیادہ نکلتا ہے۔ جاپان میں ایسے گروہ یا افراد جو چھپ کر مجرمانہ کارروائیاں کرتے ہیں اُن کو بھی لال بیگ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جاپان میں لال بیگ سے نجات پانے کا جو تیربہدف نسخہ استعمال ہوتا ہے وہ افادۂ عام کیلئے درج ذیل ہے:
اجزاء: بورک ایسڈ= 500 گرام، گندم کا میدا (یا آٹا)= 300 گرام، انڈہ ایک عدد، پیاز درمیانے سائز کا ایک عدد، دودھ = قریباً آدھا پاؤ۔
ترکیب: بورک ایسڈ، میدہ، پیاز (گرائینڈ کرکے) اور انڈہ باری باری ملالیں اور پھر دودھ سے اسے گوندھ لیں۔ ذرا سخت رکھیں۔ پھر رس گلّہ سائز کے گولے بنائیں۔ یہ گولے جب خشک ہو جائیں تو جہاں لال بیگ کی موجودگی کا امکان ہے تین چار رکھ دیں۔ انشاء اللہ جلد ہی آپ اس سے نجات پالیں گے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/pEByj]

اپنا تبصرہ بھیجیں