’لالیاں ‘میں جماعت احمدیہ کا قیام

ربوہ سے نو میل کے فاصلہ پر واقعہ قصبہ لالیاں میں احمدیت کے نفوذ کے بارہ میں مکرم ڈاکٹر محمد حیات صاحب کا مضمون ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ جون 1995ء میں شائع ہوا ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دور میں یہاں کی جامع مسجد کے امام مولوی تاج محمود صاحب نے قادیان کا سفر اختیار کیا اور 9؍اگست 1904ء کی مجلس میں حضورؑ سے نماز میں لذت اور سرور کے حصول کے لئے درخواستِ دعا کی۔ آپ مشہور گدّی نشین پیر محمود صاحب چچھ ہزاروی کے مرید تھے اور ان کے ایماء پر ہی آپ نے قادیان کا سفر کیا تھا۔
اگرچہ آپ سے پہلے1894ء میں کسوف و خسوف کا نشان دیکھنے کے بعد تحقیق کی غرض سے تین احباب کا وفد پاپیادہ قادیان روانہ ہوا۔ جب یہ تین احباب بٹالہ پہنچے تو مولوی محمد حسین بٹالوی کے شاگردوں نے انہیں قادیان کا راستہ بتانے کی بجائے بھٹکانے کی کوشش کی اور کہا کہ جس نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے اس نے تو سات دعوے کئے ہیں تم کس کس پر ایمان لاؤ گے۔ اس پر حضرت شیخ امیر دین صاحبؓ نے جواب دیا کہ اگر اس نے سات دعوے کئے ہیں تو وہ پھر بھی سچا ہے کیونکہ اس نے ساری دنیا کے مذاہب کا مقابلہ کرنا ہے اس لئے اس کے اور دعوے بھی ہوں گے۔ اس پر وہ لاجواب ہوگئے لیکن قادیان کا راستہ نہ بتایا۔
بہرحال جب یہ وفد قادیان پہنچا تو اس وقت حضرت اقدسؑ مسجد مبارک میں ایک مجلس میں تشریف فرما تھے اور بعض سوالات کے جوابات ارشاد فرما رہے تھے۔ ان کا حضورؑ سے تعارف ہوا تو انہوں نے بٹالوی صاحب کے شاگردوں والا واقعہ عرض کیا۔ حضورؑ نے فرمایا: ’’دیکھو یہ کیسا اَن پڑھ شخص ہے، اس نے کیسا جواب دیا، لاجواب کردیا، اس کو کس نے سکھایا، اس کو خدا نے سکھایا۔‘‘ حضورؑ نے یہ الفاظ تین مرتبہ دھرائے۔
تین روز بعد واپسی سے قبل اس وفد نے بیعت کی درخواست کی جس پر حضورؑ نے فرمایا ’’ابھی کچھ روز اور ہمارے پاس رہیں اور تسلی کرلیں‘‘۔ یہ سن کر حضرت شیخ صاحبؓ آبدیدہ ہوگئے اور اپنے پاؤں حضور کو دکھاتے ہوئے عرض کی کہ اتنی لمبی مسافت سے ہمارے پاؤں سوج گئے ہیں، ہم نے آپؑ کو سچا مہدی پایا ہے۔ نہ جانے زندگی ساتھ دے یا نہ دے، ہماری بیعت قبول فرمائیں۔ اس پر حضور کے دستِ مبارک پر بیعت ہوئی اور لالیاں میں جماعت احمدیہ کا قیام عمل میں آیا۔
اگرچہ اس وفد سے پہلے بھی حضرت غلام محمد صاحبؓ نے 1892ء کے قریب بیعت کی تھی اور اسی طرح لالیاں کے ہی ایک اور صاحب حضرت شیخ امیر دین صاحبؓ نے جو محکمہ پولیس میں ملازم تھے، حضورؑ کے سفر سیالکوٹ کے دوران بیعت کی تھی تاہم تین افراد پر مشتمل اس وفد کے قبولِ احمدیت سے ہی لالیاں میں جماعت کا باقاعدہ قیام عمل میں آیا۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/3LRzs]

اپنا تبصرہ بھیجیں