قوموں کے عروج و زوال میں سائنس و ٹیکنالوجی کا کردار

ماہنامہ ’’خالد‘‘ جون 1999ء میں مکرم محمد زکریا صاحب کا انعام یافتہ مضمون شامل اشاعت ہے جو رسالہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ سے منقول ہے۔
رومن تہذیب کا مرکز روم تھا۔ یہ تہذیب اس علاقہ میں پھیلی جو اس وقت شام، ترکی، یورپ، قبرص، یونان، الجیریا اور مراکش کہلاتا ہے۔ 146 قبل مسیح میں روم امیرترین اور تعلیم یافتہ شہر تھا جہاں دوسرے ممالک سے عالم کھنچے چلے آتے تھے۔ خصوصاً یونان سے ماہرین طب بھی آئے۔
یونانیوں نے مشاہدات کو جمع کرکے سائنسی اصول وضع کئے اور رومن لوگوں نے انہیں کتابوں کی شکل دی۔ روم کا آغاز 753؍ق م میں ہوا۔ رومن مانے ہوئے انجینئر تھے اور ان کی یادگار عمارتیں آج بھی شاندار دَور کی یاد دلاتی ہیں۔ انہوں نے دھات، پتھر اور سیمنٹ کا خوب استعمال کیا۔ وہ علم کیمیا سے بھی آگاہ تھے اور سٹیل بنانا جانتے تھے۔
جب رومیوں نے یونان پر قبضہ کیا تو یونانی طب روم پہنچی۔ عظیم یونانی فزیشن Galen کو
علم الاعضاء پر دسترس حاصل تھی اور اُس نے پانچ سو کتب تحریر کیں۔ رومن بادشاہ جولیس سیزر کے حکم پر رومن کیلنڈر کا اجراء کیا گیا جس میں 365 دن تھے اور ہر چوتھا سال لیپ کا سال کہلاتا تھا۔ اُس نے رومن سلطنت کا نقشہ بھی تیار کروایا۔ تیسری صدی عیسوی سے رومن تہذیب زوال پذیر ہوئی اور 476ء میں جرمن قوم کے حملہ سے دم توڑ گئی۔
اگرچہ انسانی تہذیب کا آغاز دیگر علاقوں کی نسبت مشرق وسطیٰ میں صدیوں پہلے شروع ہوا۔ قدیم عراق کو ’’تہذیب کا گہوارہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے پہلے شہر آباد کئے گئے اور ثقافت و سائنس کی بنیاد رکھی گئی۔ بابل وہاں کا مرکزی شہر تھا۔ بابل کے مشہور بادشاہ حمورابی نے جائیداد، تجارت، فیملی، لیبر اور مزدوروں کے قوانین وضع کئے۔ قدیم عراق میں آباد سومیرین قوم نے لکھنا شروع کردیا تھا جس کیلئے مٹی کی تختیاں استعمال کی جاتیں اور اشاروں میں بات ہوتی۔ انہوں نے ریاضی کے اصول بھی وضع کئے، اعشاری نظام رائج کیا اور اعشاریہ کا استعمال شروع کیا۔ جیومیٹری کا استعمال بھی شروع کیا اور وزن اور لمبائی کی پیمائش کیلئے پیمانے بنائے۔ انہوں نے وقت کا حساب بھی لگایا اور سال کو سورج کے حساب سے 360 دنوں میں تقسیم کیا۔ جبکہ چاند کے حساب سے ساڑھے انتیس دن کا مہینہ ہوتا اور 354 دن کا سال ہوتا۔ وقت کی پیمائش آبی گھڑی سے کی جاتی تھی۔
قدیم عراق کے لوگ آسمان کے مطالعہ سے آگا ہ تھے اور چاند ستاروں کی حرکت کا ریکارڈ رکھتے تھے، گرہن کا ریکارڈ رکھتے تھے اور دم دار ستاروں سے بھی واقف تھے۔ دریاؤں میں سیلاب کی پیشگوئی کر سکتے تھے۔ یہ لوگ نباتات، حیوانات اور معدنیات کو مختلف اقسام میں تقسیم کرتے تھے۔ مچھلی کی سو سے زیادہ اقسام سے واقف تھے۔ پہیہ انہوں نے ایجاد کیا اور مٹی کے برتن، اینٹ، اوزار، موسیقی کے آلات، بیل گاڑی ایجاد کی۔ اون اور چمڑا رنگنے کی صنعت قائم کی۔ چمڑے سے جوتے اور مشک بناتے۔ کھجور سے الکحل اور جَو سے بیئر تیار کی۔ سبزی کے تیل سے صابن بنایا، خوشبودار تیل اور اگربتیاں، نیز دوائیں بنائیں۔ فصلیں اگائیں اور بیلوں کی مدد سے ہل چلایا، آبپاشی کیلئے نہریں کھودیں۔
قدیم عراق کی تہذیب کا زوال ایران کے بادشاہ سائرس دی گریٹ کے بابل پر حملہ سے 538 قبل مسیح میں ہوا۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/qGoVX]

اپنا تبصرہ بھیجیں