قرآن کریم کے حوالہ سے چند دلچسپ حقائق

یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/VJ5Mh]

(عبادہ عبداللطیف)
(مطبوعہ رسالہ انصارالدین مئی جون 2015ء)

قرآن کریم کے اعراب اور نقاط کا تاریخی جائزہ
سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
’’قرآن کریم وہ یقینی اور قطعی کلام الٰہی ہے جس میں انسان کا ایک نقطہ یا ایک شعشہ تک دخل نہیں اور وہ اپنے الفاظ اور معانی کے ساتھ خدائے تعالیٰ کا ہی کلام ہے‘‘۔
قدیم عرب میں اگرچہ اعراب و نقاط کا وجود تھا لیکن بعد کے کسی زمانہ میں اسے ترک کردیا گیا۔ حضرت ابن عباسؓ کی ایک روایت کے مطابق نقطوں کے موجد کا نام عامر بن جدرہ تھا جو قبیلہ بولان سے تعلق رکھتا تھا۔ قرآن کریم کی اوّلین کتابت میں بھی نقاط اور اعراب نہیں لگائے گئے تھے کیونکہ اُس وقت جو عربی خط رائج تھا وہ ان کے بغیر ہوتا تھا۔ اِس خط کی نسبت حیرہ سے ہے جو کوفہ سے تین میل کے فاصلہ پر ہے اور اب نجف کہلاتا ہے۔ بعد میں یہی خط ’’خطِ کوفی‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔
قوی قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں خطِ کوفی میں ہی قرآن کریم لکھا گیا۔ اگرچہ اُس زمانہ کا قرآن کریم کا کوئی نسخہ محفوظ نہیں ہے لیکن آنحضورﷺ کے بادشاہوں کے نام خطوط اور دیگر مصاحف بھی خط کوفی میں ہی لکھے گئے ہیں جو آج بھی محفوظ ہیں۔
حضرت عثمانؓ کے دَور میں لکھا جانے والا قرآن کریم کا نسخہ جو مصحفِ امام کہلاتا ہے، یہ بھی خطِ کوفی میں ہی لکھا گیا ہے۔ اس میں اعراب اور نقاط نہیں لگائے گئے لیکن اس کا تلفّظ وہی تھا جو آج بھی رائج ہے۔ اُس زمانہ میں نقاط اور اعراب کے بغیر پڑھنے پر لوگ پوری طرح قادر تھے بلکہ بسااوقات نقطے ڈالنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔
جب عجمی اقوام نے اسلام قبول کیا تو مادری زبان عربی نہ ہونے کی وجہ سے وہ قرآن کریم کی تلاوت میں غلطیاں کرنے لگے۔ اس پر حضرت علیؓ نے ابوالاسود دئلی کو چند قواعد بتاکر اس فن کی تدوین پر مامور کیا اور اس طرح ’’علم النحو‘‘ کے ابتدائی اصول وجود میں آئے۔ قرآن کریم پر نقاط اور اعراب لگانے کا کام بھی ابوالاسود کے ذریعہ ہی سرانجام پایا۔ ابوالاسود بصرہ کے قاضی تھے اور انہوں نے نقط مصاحف پر ایک رسالہ بھی تحریر کیا تھا۔ آپ 69ھ میں فوت ہوئے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ، حضرت ابن عمرؓ ، حضرت قتادہؓ، حضرت حسن بصری، ابن سیرین اور دیگر بہت سے علمائے سلف میں سے اکثر قرآن کریم پر نقاط یا دیگر علامات لگانا مکروہ بلکہ ایک طرح کی بدعت سمجھتے تھے۔
حضرت امام مالکؓ نیم خواندہ لوگوں یا بچوں کے لئے نقاط و علامات لگانا جائز سمجھتے تھے لیکن بالغوں کے لئے اسے جائز نہیں سمجھتے تھے۔ مگر لوگ آہستہ آہستہ نقطوں اور اعراب والے قرآن کی طرف راغب ہوتے گئے اور علماء نے بھی اس کو پسندیدہ قرار دیدیا۔
اس سلسلہ میں دوسرا قدم عبدالملک بن مروان نے اٹھایا۔ اسی طرح حجاج بن یوسف کی خدمات بھی قابل ذکر ہیں جس کی سرپرستی میں یہ کام ابوالاسود کے دو شاگردوں یحییٰ بن یعمر اور نصر بن عاصم نے آگے بڑھایا۔ نصر نے نقطے وضع کرکے حروف کے مابین اشتباہ کو ختم کردیا۔ آپ بصرہ کے قاری تھے۔
آغاز میں اعراب کی بجائے بھی نقاط ہی استعمال کئے جاتے تھے لیکن اُن کا رنگ سیاہ کی بجائے سرخ یا قرمزی ہوتا تھا۔ دوسری صدی ہجری کے وسط میں علم عروض کے بانی خلیل بن احمد نے اعراب کی خاص شکلیں وضع کیں۔ انہوںنے ہمزہ، تشدید اور اشمام کی اصطلاحات بھی ایجاد کیں۔ اس طرح عبارت کا پڑھنا نہایت آسان ہوگیا۔
عباسی دَور کے ایک وزیر ابن مقلہ نے جو تیسری صدی ہجری کے آخر اور چوتھی صدی ہجری کے اوائل کے ایک باکمال خطاط تھے، رسم الخط میں بہت سی انقلابی تبدیلیاں ایجاد کیں۔ انہوں نے چھ نئے خط بھی ایجاد کئے جن میں سے سب سے مشہور ’’خط نسخ‘‘ ہے جو 310ھ میں ایجاد ہوا اور اپنی عمدگی کی وجہ سے قرآن لکھنے کے لئے مخصوص ہوگیا۔
ساتویں صدی ہجری میں امیر علی تبریزی نے ایک خوبصورت خط ایجاد کیا جو ’’خط نستعلیق‘‘ کہلاتا ہے۔ یہ خط اردو زبان میں لکھنے کے لئے خاص طور پر بہت معروف ہوا۔
…ژ…ژ…ژ…
قرآن کریم کی رکوعات اور پاروں میں تقسیم کی تاریخ
قرآن کریم شروع سے آخر تک خدا کا کلام اور اُسی کی حفاظت میں ہے اور ساری امّت اس پر متفق ہے۔ قرآن کریم کو اندرونی طور پر سورتوں، آیات، منازل، رکوعات اور پاروں میں اور پھر پاروں کو ربع، نصف اور ثلث میں تقسیم کیا گیا ہے۔ آنحضورﷺ نے خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق قرآن کریم کی ترتیب اپنی زندگی میں قائم فرمادی تھی۔ اسی طرح منازل کا تصور بھی ملتا ہے لیکن حضورؐ کی زندگی میں رکوعات اور پاروں کی اصطلاحات کا ذکر نہیں ملتا۔
قرآن کریم کی رکوعات اور پاروں میں تقسیم کی تاریخ حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت سے شروع ہوتی ہے۔ آپؓ نے نماز تراویح کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ فی رکعت تیس آیات پڑھی جائیں تاکہ دس دن میں قرآن مکمل ہو اور پورے رمضان میں قرآن کے تین دور مکمل ہوں۔
آنحضرت ﷺ تہجد کے وقت آٹھ رکعات پڑھتے تھے اور بعض اوقات آپؐ نے اسے رات کے اوّل حصے میں بھی پڑھا۔ پس آٹھ رکعات تراویح پڑھنا سنت کے مطابق ہے لیکن چونکہ یہ نفل ہے اس لئے اگر کوئی زیادہ رکعات بھی پڑھنا چاہے تو ایسا کرسکتا ہے۔ چنانچہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ہی لوگ بیس رکعت پڑھنے لگے تھے تاکہ ہر رکعت کی قراء ت جلدی ختم ہو۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں ہی پانچ اور دس آیات کے بعد باقاعدہ نشان لگائے گئے۔
حضرت عثمانؓ نے کمزور لوگوں کا خیال کرتے ہوئے تراویح کی رکعت میں دس آیات پڑھنے کا حکم دیا۔ اس طرح ماہِ رمضان میں ایک دَور مکمل ہوتا تھا۔
انڈیا آفس لائبریری میں عثمانی عہد کا جو قرآن موجود ہے ، اس میں دس آیتوں کے بعد نشان ہے اور دو سو آیات کے بعد حاشیہ پر نشان ہے۔
بعد میں یہ خیال پیدا ہوا کہ آیات کی گنتی کو مدنظر رکھنے کی بجائے مضمون کو پیش نظر رکھا جائے اور جہاں مضمون مکمل ہو وہاں پر وقف کیا جائے۔ اس طرح قرآن کریم کے 540 رکوعات قائم ہوئے۔ اس طریق پر قرآن کریم بیس رکعات کی تراویح میں 27؍رمضان کی رات ختم ہوجاتا تھا جو عام طور پر لیلۃالقدر خیال کی جاتی ہے۔ بعد کے علماء نے رکوع کا نشان ’’ع‘‘ مقرر کیا۔ اس کو رکوع اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ حصہ تلاوت کرنے کے بعد نمازی رکوع میں جاتا ہے۔
پارہ کا تصور بھی غالباً نماز تراویح کی وجہ سے پیدا ہوا اور ایک دن تراویح میں پڑھا جانے والا قرآن کریم کا حصہ ایک جزء قرار پایا۔ بعد میں ایک ماہ میں تلاوت قرآن کرنے کی غرض سے اسے باقاعدہ تیس حصوں میں تقسیم کیا گیا ۔ا س عمل کی بنیاد اس حدیث پر ہے جس میں حضرت عبداللہؓ بن عمرو کو آنحضورﷺ نے فرمایا تھا کہ قرآن کو ایک مہینے میں ختم کیا کرو۔ حضرت عثمانؓ نے اپنے عہد میں جو قرآن لکھا وہ تیس جزو پر مشتمل تھا۔
تابعین کے دور میں ہر پارہ کا نام تجویز کیا گیا۔ مصر اور المغرب یعنی مراکش کے علماء کا دیگر علماء سے قرآن کریم کے جملہ حروف کی گنتی اور مضمون کے ختم ہونے میں اختلاف کی وجہ سے بعض پاروں کی ابتداء اور انتہاء میں بھی اختلاف ہے۔ چنانچہ عرب ممالک اورالمغرب میں شائع ہونے والے نسخوں اور برصغیر پاک و ہند میں شائع ہونے والے نسخوں کے بعض پاروں کی ابتداء اور انتہاء میں فرق ہے۔ مثلاً:
1۔ پاک و ہند میں ساتواں پارہ وَاِذَاسَمِعُوا سے شروع ہوتا ہے جبکہ مصر اور عرب ممالک میں ایک آیت پہلے لَتَجِدَنَّ اَشَدَّالنَّاسِ سے شروع ہوتا ہے۔
2۔ پاک و ہند میں چودھواں پارہ رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ سے اور مصر و عرب ممالک میں ایک آیت پہلے الٓر سے شروع ہوتا ہے۔
3۔ پاک و ہند میں بیسواں پارہ اَمَّنْ خَلَقَ سے اور مصر و عرب ممالک میں تین آیات پہلے فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖ سے شروع ہوتاہے ۔
4۔ پاک و ہند میں اکیسواں پارہ اُتْلُ مَا اُوْحِیَ سے اور مصر و عرب ممالک میں ایک آیت بعد وَلَاتُجَادِلُوا سے شروع ہوتا ہے۔
5۔ پاک و ہند میں تئیسواں پارہ وَمَالِیَ لَا اَعْبُدُ سے اور مصر و عرب ممالک میں چھ آیات بعد وَ مَا اَنْزَلْنَا عَلیٰ قَوْمِہٖ سے شروع ہوتا ہے۔
6۔ پاک و ہند میں چھبیسواں پارہ حٰمٓ سے اور مصر و عرب ممالک میں وَبَدَالَہُمْ سے شروع ہوتا ہے۔
باقی پاروں میں اتفاق ہے۔
جماعت احمدیہ کی طرف سے شائع ہونے والے قرآن کریم کے نسخوں میں پاک و ہند میں رائج پاروں اور رموزواوقاف وغیرہ کو اپنایا گیا ہے۔
ابتداء میں بعض صحابہؓ نے قرآن کریم کی رکوعات و پارہ میں تقسیم کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا۔ حضرت عبداللہؓ بن مسعود بھی اسے ناپسند کرتے تھے۔ صحابہؓ کی تقلید پر بعض تابعین نے بھی اسے ناپسند کیا مگر بعد میں ان کے مستحب ہونے کے قائل ہوگئے۔
امام زرکشی کہتے ہیں کہ قرآن کریم کو پاروں میں تقسیم کرنے کا مقصد مدارس میں قرآن کی تعلیم دینے میں آسانی پیدا کرنا تھا۔

پرنٹ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں