فلاحی تنظیم ہیومینٹی فرسٹ

1992ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں جماعت احمدیہ کو ایک عالمگیر رفاہی تنظیم قائم کرنے کا ارشاد فرمایا اور اس کا نام ہیومینٹی فرسٹ (Humanity First) منظور فرمایا۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کے ’’خدمت خلق‘‘ کے حوالہ سے شائع ہونے والے سالانہ نمبر 2011ء میں مکرم احمد مستنصر قمر صاحب کے قلم سے اس عالمی رفاہی تنظیم کے تحت سرانجام دیئے جانے والے چند شاندار کارناموں کا ذکر کیا گیا ہے۔
اس تنظیم کا پہلا اہم اور بڑا کام 1993ء میں سابق یوگوسلاویہ (بوسنیا ، سربیا ، کوسووو وغیرہ) کی جنگ کے دوران متأثرین کے لئے امدادی اشیاء کے قافلے بھجوانا تھا۔ اوّلاً کروشیا، بوسنیا، ہنگری اور سلووینیا کے مہاجرین کو امدادی اشیاء روانہ کی گئیں ۔ 1994ء میں ہیومینٹی فرسٹ کو ایک بین الاقوامی رفاہی تنظیم کے طور پر برطانیہ میں رجسٹرڈ کروالیا گیا۔ اس وقت (2011ء) تک ہیومینٹی فرسٹ دنیا کے 33 ممالک میں رجسٹرڈ ہو چکی ہے۔ اور 46ملکوں میں انسانی بہبود کے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے جن میں صاف پانی کی فراہمی بھی شامل ہے۔ چنانچہ افریقہ کے انتہائی غریب ممالک میں واٹر پمپس کی تنصیب کا کام بعض دیگر بین الاقوامی اداروں مثلاً Oxfam, Water Aid, Aquabox, World Water Work, نیز IAAAE (انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف احمدی آرکیٹیکٹس اینڈ انجینئرز) کے تعاون سے جاری ہے۔ اب تک 12ملکوں میں 430خصوصی طور پر لگائے گئے ہینڈ پمپس سے تقریباًچار لاکھ افراد استفادہ کر رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ IAAAE کے تعاون سے شمسی توانائی کی مدد سے چلنے والے ہینڈ پمپس پر تحقیق جاری ہے۔ اسی طرح کئی ملکوں میں فلٹریشن پلانٹس لگائے گئے ہیں جن میں برازیل، ہیٹی اور پاکستان بھی شامل ہیں جہاں تقریباً دس لاکھ افراد اس سہولت سے فائدہ حاصل کر رہے ہیں ۔
ہیومینٹی فرسٹ کے منصوبہ ’’اطعام المساکین‘‘ کے تحت کسی بھی بڑی آفت کی صورت میں مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ضرورتمند افراد کو کچھ عرصہ کے لئے بِلامعاوضہ خوراک مہیا کی جاتی ہے۔ اس پروگرام کے تحت زیادہ تر کام دنیا کے غریب اور پسماندہ ممالک جیسے گیمبیا، سیرالیون، مالی، برکینا فاسو ، لائبیریا، آئیوری کوسٹ، ساؤ تومے ، ٹوگو اور بینن میں ہو رہا ہے۔ بعض جگہوں پر ایک قطعہ زمین میں کوئی فصل بو کر اس کا کچھ حصہ فصل پر کام کرنے والے غریب ہاریوں اور دیگر ضرورتمندوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح امریکہ میں بھی ایک پروگرام Organic Farm کے نام سے جاری ہے جس میں غریب اور بیروز گار افراد خود کھیت میں فصل کا بیج بوتے اور کاشت کرتے ہیں اور حاصل ہونے والی فصل کا ایک بڑا حصہ انہی افراد میں تقسیم کر دیا جاتاہے۔
کینیڈا اور انگلستان میں بھی بیروز گار اور مستحق افراد کو کھانے کے پیکٹس بنا کر ہیومینٹی فرسٹ کے پروگرام Food Bankکے ذریعے تقسیم کئے جاتے ہیں ۔
افریقہ کے شدید گرم ممالک میں زرعی اجناس کے ضائع ہونے کے خطرہ کے پیش نظر لوگ اپنی اجناس سستے داموں بیچنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ ہیومینیٹی فرسٹ نے وہاں صحرائی ریفریجریٹر کی تکنیک متعارف کرائی ہے جس میں کسانوں کی زرعی اجناس زیادہ دیر تک تروتازہ رہتی ہیں ۔
قدرتی آفات کے نتیجے میں یتیم ہونے والے بچوں کی دیکھ بھال کرنا بھی اس تنظیم کے مقاصد میں سے ایک ہے۔ چنانچہ برکینافاسو، بینن، گیمبیا، سیرالیون، پاکستان اور انڈونیشیا میں اس پر کام جاری ہے۔ بینن میں 50 یتامیٰ کی پرورش کے لئے ایک عمارت کی تعمیر جا ری ہے ۔ بعض ممالک میں 5یا 6 یتامیٰ کو خبرگیری کے لئے کسی سمجھدار خاتون کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔
’’تعلیمی خدمت‘‘ کے منصوبہ کے تحت افریقہ اور جنوبی امریکہ کے پسماندہ علاقوں کے غریب طلباء کو سکول کی فیس، کتب، یونیفارم اور دیگر اخراجات مہیا کئے جاتے ہیں ۔ کئی مقامات پر فنی تعلیم کی سہولت مہیا کی جارہی ہے۔ پسماندہ ملکوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم کو عام کرنے کے لئے بھی ہیومینٹی فرسٹ کردار ادا کر رہی ہے اور اس وقت تنظیم کے زیر انتظام 17آئی ٹی انسٹیٹیوٹ مختلف ممالک میں جاری ہیں ۔ بعض افریقی ممالک میں MCSE تک تعلیم مہیا کی جارہی ہے جبکہ نائیجر، یوگنڈا، نائیجیریا، مالی، غانا، آئیوریکوسٹ، برکینا فاسو، بینن، کوسوو، گیانا، انڈونیشیا، سیرالیون اور گیمبیا میں قائم آئی ٹی سنٹرز سے اب تک بیس ہزار سے زائد طلباء تعلیم مکمل کر چکے ہیں ۔
پاکستان، انڈونیشیا، میسی ڈونیا اور ہیٹی کے علاوہ کئی افریقی ممالک میں ہیومینٹی فرسٹ تعلیم کے میدان میں مختلف سہولیتں فراہم کررہی ہے۔ نیز یوکے اورفرانس کی بعض یونیورسٹیوں کے تعاون سے افریقہ کے بعض سکولوں میں لائبریریاں قائم کی جارہی ہیں ۔ اسی طرح مختلف سکولوں میں سائنس لیبارٹریوں کے قیام کے لئے بھی تعاون کیا جاتا ہے۔
دنیابھر میں ہر سال کئی ہزار ٹن امدادی سامان تقسیم کیا جاتا ہے جس میں ادویات، گھر بنانے کا سامان، نیز اشیائے خورونوش شامل ہیں ۔ ٹوگو، لائبیریا، سیرالیون، تنزانیہ وغیرہ میں میڈیکل آلات بھی فراہم کئے گئے ہیں ۔
قدرتی آفات کے متأثرین کی وسیع پیمانہ پر مدد کی جاتی ہے۔ چنانچہ سونامی 2004ء کے بعد انڈونیشیا، بھارت اور سری لنکا میں قابل قدر امداد بہم پہنچائی۔ اسی طرح 2005ء میں آنے والے قطرینہ اور ریٹا طوفان کے بعد امریکہ کی گلف کوسٹ اور ملحقہ علاقوں میں ، گیانا میں 2005ء میں آنے والے سیلاب، ترکی میں 1999ء میں آنے والے کئی شدید زلزلوں ، بھارتی صوبہ گجرات میں آنے والے ہلاکت خیز زلزلے اور 2005ء میں پاکستان کی تاریخ کے بدترین زلزلہ کے بعد ہیومینٹی فرسٹ نے دنیابھر سے ریسکیو اور میڈیکل ٹیمیں نیز ادویات ، خوراک اور رہائش کی سہولتیں متأثرہ علاقوں میں بھجوائیں گئیں ۔
ہیومینٹی فرسٹ کے تحت نادار عورتوں کے لئے افریقہ میں سلائی سکھانے کے 6 سنٹر کام کر رہے ہیں ۔ آنکھ کے موتیا کے علاج کے لئے افریقہ کے کئی ملکوں میں آپریشن کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ صرف سیرالیون میں اب تک تقریباً ایک ہزار افراد کا اس سلسلے میں کامیاب آپریشن کیا جا چکا ہے۔ 1991ء میں سیرالیون کی خانہ جنگی اور 1993ء میں بوسنیا جنگ کے متأثرین میں خوراک اور طبّی امداد کے علاوہ (ہاتھ یا ٹانگ سے محروم ہوجانے والوں کو) مصنوعی اعضاء بھی فراہم کئے گئے۔
ہیومینٹی فرسٹ میں شامل ہوکر رضاکارانہ خدمت کرنے نیز عطیات دینے کا طریق، تنظیم کی ویب سائٹ www.humanityfirst.org پر درج ہے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/7oifR]

اپنا تبصرہ بھیجیں