غیروں کی نظر میں خلفائے احمدیت اور خلافتِ احمدیہ کا مقام

(فرخ سلطان محمود )
(مطبوعہ رسالہ انصارالدین یوکے مئی جون 2017ء)
(مطبوعہ رسالہ احمدیہ گزٹ کینیڈا مئی 2018ء)

(یوم خلافت کے حوالہ سے کی جانے والی ایک تقریر)

جیسا کہ ظاہر ہے، اس موضوع کے دو حصے ہیں۔
پہلے حصّہ کے مطابق اگر آج احمدیوں کو نصیب ہونے والی یہ نعمت کوئی خودساختہ خلافت نہیں ہے بلکہ واقعۃً خلافت علیٰ منہاج نبوت کے تحت عطا ہوئی ہے اور اسے لوگوں کے کسی گروہ نے منتخب نہیں کیا بلکہ یہ خداتعالیٰ کا براہ راست انتخاب ہے جو ہمارے ربّ کا ہم غلامانِ مسیح محمدی پر احسانِ عظیم ہے تو اس کا لازماً نتیجہ یہی نکلنا چاہئے کہ اس بابرکت مسند پر متمکّن ہونے والے بابرکت وجود اپنی ذات میں اور اپنے اخلاق میں اور اپنے علم میں اور اپنی معرفت میں اور اپنی روحانی استعدادوں میں ایسے روشن چراغ ہوں گے کہ جن کے سامنے دنیاوی علماء زانوئے تلمّذ تہ کریں گے اور مسند خلافت پر جلوہ افروز یہ پاکیزہ وجود ایسے گوہرِ یکتا ہوں گے جن کی دُوررَس نگاہیں بظاہر معمولی روزمرّہ معاملات سے لے کر عالمی مسائل کے لئے ایسے قابل عمل حل تجویز کرتی چلی جائیں گی جو خداتعالیٰ کی خاص تائید و نصرت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہوسکتے۔ خلفاء سلسلہ کی ذاتی صفات اگرچہ جُدا جُدا ہیں لیکن قدرِ مشترک کچھ ایسی ہے کہ یہ وجود الگ الگ نظر آنے کی بجائے ایک لڑی میں پروئے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور رشتۂ خلافت کا تسلسل کچھ ایسا نظر آتا ہے کہ ایک کے بعد دوسرے خلیفہ کی بابرکت ذات ایک روشن ستارے کی طرح نمایاں ہونے کے باوجود (نظامِ شمسی کے ہر سیارے کی طرح) اُس بابرکت آسمانی نظام سے منسلک بھی نظر آتی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی کامل اطاعت اور آپؐ سے بے مثال محبت کے طفیل عطا ہوا ہے۔
مذکورہ موضوع کا دوسرا حصّہ یہ بیان کرتا ہے کہ خلافتِ احمدیہ کی اہمیت کس قدر غیرمعمولی حیثیت کی حامل ہے۔ اور اس عظیم الشان آسمانی نظام یعنی خلافت احمدیہ کے زیرسایہ پرورش پانے کے نتیجے میں جماعت احمدیہ دیگر اقوام یا مذہبی گروہوں سے کیسے ممتاز نظر آتی ہے اور جس کا اظہار ہمارے غیر بھی کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً آج جماعت احمدیہ میں جو غیرمعمولی تنظیم، بے مثال اطاعت، لاجواب جرأت، نہایت درجہ وفاشعاری، باہمی محبت و اخلاص، اسلام کے لئے حقیقی غیرت اور امّت مسلمہ کی بہبود کے لئے خالص جوش نیز انسانی ہمدردی کے لئے سچّا جذبہ اور مخلوقِ خدا سے ہمدردی میں کمال اگر نظر آتا ہے تو بلاشبہ ان تمام عوامل اور جذبات کے پس پردہ ایک ایسا وجود دکھائی دیتا ہے جو اپنی بے نفسی کے باوجود اپنے ربّ پر توکّل کرتے ہوئے جب اپنی زبان سے کوئی کلمہ کہتا ہے تو خدا کے فرشتے اُس کے بیان کردہ عاجزانہ کلمات کو پورا کرنے کے لئے کُنْ فَیَکُوْن کے مطابق عمل شروع کردیتے ہیں۔
آئیے پہلے خلفائے کرام کی ذاتی صفات والے حصے کو لیتے ہوئے اِن بابرکت وجودوں کے بارے میں اُن کے ہم عصر چند راہنماؤں اور علمی شخصیات کے چند واقعات پر اختصار سے نظر ڈالتے ہیں۔

حضرت خلیفۃالمسیح الاوّل رضی اللہ عنہ

* خداتعالیٰ کی تقدیرِ خاص سے حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحبؓ جماعت احمدیہ کے پہلے خلیفہ منتخب ہوئے۔ حضورؓ کی علمی قابلیت تو اسی ایک بات سے عیاں ہے کہ آپؓ کے ہم عصر غیراحمدی مخالف علماء حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر یہ الزام بھی لگایا کرتے تھے کہ حضورعلیہ السلام کی عربی زبان میں تحریرفرمودہ معرکۃالآراء کتب دراصل مولوی نورالدین صاحب اور مولوی عبدالکریم صاحب نے تحریر کی ہیں۔ بلاشبہ یہ لغو بیانی حضرت مولوی صاحبؓ کی علمی حیثیت کی آئینہ دار ہے۔
* لیکن ایسے غیراحمدی علماء ، جو غیرمتعصّب تھے، وہ تو حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحبؓ کے اور آپؓ کے آسمانی علم کے عاشق تھے۔ چنانچہ جناب سر سید احمد خان صاحب جن کا نام ہندوستان کے مسلمان لیڈروں میں چوٹی کا ایک نام ہے اور خصوصاً سیاسی و علمی خدمات اور مدرسہ علی گڑھ کے حوالہ سے آپ کے نمایاں مقام کو اسلامی تاریخ ہمیشہ احترام کی نظر سے دیکھے گی۔ انہوں نے ایک بار کسی شخص کو اُس کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے جواباً لکھا کہ:
’’آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ جاہل پڑھ کر جب ترقی کرتا ہے تو پڑھا لکھا کہلاتا ہے مگر جب اور ترقی کرتا ہے تو فلسفی بننے لگتا ہے۔ پھر ترقی کرے تو اسے صوفی بننا پڑتا ہے جب یہ ترقی کرے تو کیا بنتا ہے؟ … اس کا جواب اپنے مذاق کے موافق عرض کرتا ہوں۔ جب صوفی ترقی کرتا ہے تو مولانا نورالدین ہو جاتا ہے۔‘‘
* سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اجازت سے حضرت مولوی نورالدین صاحب ؓ1894ء میں ایک بار ’’نواب صاحب آف بہاولپور‘‘ کے علاج کے سلسلہ میں بہاولپور تشریف لے گئے۔ وہاں محترم نواب صاحب اور حضرت خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں شریف نے آپؓ سے کہا: ’’دراصل تو ہم آپ سے ملاقات کرنا اور قرآن پاک کے معارف سننا چاہتے تھے۔ علاج تو آپ کو بلانے کا ذریعہ بن گیا‘‘۔ اس کے بعد محترم نواب صاحب نے آپؓکو ساٹھ ہزار ایکڑ زمین کی پیشکش کی کہ آپؓ وہیں رہ جائیں لیکن آپؓ یہ پیشکش ردّ کرکے اپنے آقا و مطاع کے قدموں میں قادیان حاضر ہوگئے۔
* حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحبؓ کے دیرینہ مراسم علامہ محمد اقبال کے استاد شمس العلماء جناب سید میر حسن صاحب کے ساتھ بھی تھے اور وہ آپؓ کے بہت مدّاح تھے۔ اسی طرح علامہ اقبال بھی آپؓ کی بہت عزت کرتے تھے اور اہم مسائل میں آپؓ سے ہی رجوع کرتے تھے۔ علامہ تو اپنی ذاتی صحت سے لے کر عائلی مسائل اور فقہی معاملات کے حل کے لئے بھی آپؓ کا دروازہ کھٹکھٹاتے اور آپؓ کی ارشاد فرمودہ ہدایات کی بِلاحیل و حجّت تعمیل کرتے۔ اس حوالہ سے تاریخ میں بہت سے واقعات موجود ہیں۔

حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ

سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ کے بارہ میں تو بے شمار ایسی روایات موجود ہیں کہ برّصغیر اور پھر پاکستان کے چوٹی کے سیاسی راہنماؤں اور دیگر فیلڈز سے تعلق رکھنے والے دانشوروں نے حضورؓ سے راہنمائی، مدد اور دعاؤں کی درخواست کی اور خوب خوب برکتیں سمیٹیں۔ چنانچہ بے شمار واقعات میں سے صرف دو تین واقعات بیان کرتا ہوں کہ
* جولائی 1931ء میں شملہ میں مسلمان رہنماؤں کا ایک اہم اجلاس ہوا جس میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اس اجلاس میں علامہ اقبال بھی موجود تھے جنہوں نے برملا کہا کہ کشمیر کمیٹی کا اتنا عظیم کام ہے جس کے لئے بہترین دماغ، بہترین وسائل اور قربانی کرنے والے کارکن درکار ہیں اور یہ تمام وسائل اور قائدانہ صلاحیتیوں کے مالک حضرت امام جماعت احمدیہ ہیں۔ اجلاس میں موجود خواجہ حسن نظامی اور دوسرے اکابرین نے یک زبان ہوکر علامہ اقبال کی تائید کی۔ اگرچہ حضورؓ نے اس تجویز سے اتفاق نہیںفرمایااور اصرار کیا کہ صدارت کسی اَور کے سپرد کردیں کام میری جماعت کردے گی۔ اس پر علامہ اقبال نے کہا کہ حضرت صاحب! جب تک آپ اس کام کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیں گے، یہ کام نہیں ہوگا۔ چنانچہ سب کے مجبور کرنے پر حضورؓ نے اس فیصلہ کو قبول فرمالیا۔
* سر ملک فیروز خان صاحب نون (جو پاکستان کے وزیراعظم بھی رہے) ہر ہفتے باقاعدگی سے حضورؓ کی خدمت میں سلام عرض کرتے اور حضورؓ کی طبیعت دریافت کرتے۔ آپ کا حضرت مصلح موعودؓ سے یہ عاشقانہ تعلق کئی ایسے احسانات کا نتیجہ تھا جو حضور نے اُن پر فرمائے تھے۔ مثلاً کہ اُن کی شادی کو چھ سات سال ہوچکے تھے لیکن اُن کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی تھی۔ لاہور میں رہائش تھی۔ 1925ء کی ایک صبح لیڈی نون صاحبہ نے اپنے ڈرائیور، نوکرانی اور خاندانی ملازم کو ہمراہ لیا اور قادیان کا سفر اختیار کیا۔ دوپہر ایک بجے یہ قافلہ قادیان پہنچا۔ لیڈی نون صاحبہ اور نوکرانی حضورؓ کے گھر میں چلی گئیں۔ حضورؓ اُس وقت نماز پڑھانے کیلئے گھر سے جانے والے تھے۔ لیڈی نون صاحبہ نے سارے حالات بیان کرکے عرض کی کہ آپؓ کا دوست سرفیروز خان تو اولاد کی خواہش میں دوسری شادی کرلے گا، میرے لئے دعا کریں۔ چنانچہ حضورؓ نے گھر کے افراد کے ساتھ اُسی وقت دعا کی۔ اور اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور اگلے ہی سال 1926ء میں ملک نور حیات خان صاحب نون پیدا ہوئے۔ یہ بچہ چار پانچ ماہ کا ہوا تو لیڈی نون صاحبہ پھر وہی قافلہ لے کر قادیان پہنچیں اور بچے کو حضورؓ کی خدمت میں پیش کرکے عرض کیا کہ یہ حضورؓ کی دعاؤں کا ثمرہ ہے، اس کے سر پر دست مبارک پھیریں کہ یہ بلند نصیبے والا ہو۔ بعد میں سر فیروز خان نون کے ہاں مزید دو بیٹے اور دو بیٹیاں بھی پیدا ہوئے۔ سبھی بااقبال ہوئے لیکن وہ بڑا بیٹا جس کے سر پر حضرت مصلح موعودؓ نے دست شفقت پھیرا تھا غیرمعمولی قابلیت کا وجود تھا۔ نہایت پاکیزہ اخلاق کا حامل ایسا سیاستدان جس نے کئی بار قومی اسمبلی کی رُکنیت حاصل کی اور متعدد محکموں کا سالہاسال کامیاب وزیر رہا۔
* حضرت مصلح موعودؓ کے عاشقوں میں بہت بڑی تعداد مختلف علوم کے چوٹی کے اُن ماہرین کی تھی جنہیں حضورؓ کے لیکچرز سننے یا کتب پڑھنے کا موقع ملا تھا۔ اور انہوں نے دل کھول کر حضورؓ کو خراج عقیدت پیش کیا۔
چنانچہ تفسیرکبیر کے بارہ میں علامہ نیاز فتح پوری لکھتے ہیں: ’’اس میں شک نہیں کہ مطالعہ قرآن کا بالکل نیا زاویۂ فکر آپ نے پیدا کیا ہے اور یہ تفسیر اپنی نوعیت کے لحاظ سے بالکل پہلی تفسیر ہے جس میں عقل کو بڑے حسن سے ہم آہنگ دکھایا گیا ہے۔ آپکے تبحر علمی، آپکی وسعت نظر، آپکی غیرمعمولی فکر و فراست، آپکا حسن استدلال، اس کے ایک ایک لفظ سے نمایاں ہے‘‘۔

حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ

حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کی وفات کے بعد حضرت مرزا ناصر احمد صاحبؒ اس منصبِ جلیلہ پر فائز ہوئے۔ حضور رحمہ اللہ کی صورت اور شخصیت بھی حد درجہ متأثرکُن تھی۔
* اُس دَور میں لالیاں کی ایک بارسوخ شخصیت جناب مہر حبیب سلطان لالی صاحب کی تھی جو سیاسی طور پر بھی بہت بااثر اور مالی طور پر چالیس مربع اراضی کے واحد مالک تھے۔ 1970ء کے انتخابات میں حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے ان کے حریف کی حمایت کی تھی لیکن اس کے باوجود حضورؒ کی روحانی شخصیت کا اُن پر غیرمعمولی اثر تھا۔ کچھ عرصہ بعد اُن کا ایک بیٹا فوت ہوگیا تو اس حادثہ کے چند دن بعد انہوں نے حضورؒ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ حضورؒ نے مصروفیت کے باوجود اُن کو وقت دیدیا کہ وہ معزز ہمسایہ اور غمزدہ ہیں۔ جب وہ حضورؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضورؒ کے گھٹنوں کی طرف ہاتھ بڑھائے۔ حضورؒ نے ازراہ شفقت اُن کے ہاتھ تھام لئے، اُن کو اپنے سینے سے لگایا اور صوفہ پر تشریف رکھنے کا ارشاد فرمایا لیکن وہ خاموشی سے انتہائی ادب اور عجز سے حضورؒ کے سامنے قالین پر بیٹھ گئے۔ حضورؒ نے فرمایا یہ طریق دین کی تعلیم کے خلاف ہے، مجھے جو بھی ملنے آتا ہے، چھوٹا ہو یا بڑا، امیر ہو یا غریب، ہم سب اکٹھے بیٹھتے ہیں آپ صوفہ پر تشریف رکھیں۔ لیکن حضورؒ کے غیرمعمولی احترام کی وجہ سے باوجود کوشش کے وہ کچھ بول نہ سکے جبکہ آنکھیں آبدیدہ ہوگئیں۔ آخر حضورؒ کے اصرار پر وہ صوفے پر بیٹھ گئے لیکن چند ہی لمحوں بعد پھر قالین پر بیٹھ گئے اور کہنے لگے کہ مَیں آپ کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا، مجھے یہیں بیٹھنے کی اجازت دیں۔ اُن کے اصرار پر حضورؒ خاموش ہوگئے۔
معزز مہمان نے اپنے بیٹے کی وفات کا ذکر کرکے کہا کہ میرا بیٹا ایک شہر میں بیمار ہوا اور دوسرے میں فوت ہوا۔ اب مَیں ان دونوں شہروں میں اپنے بچے تعلیم کے سلسلہ میں نہیں رکھنا چاہتا۔ مَیں نے خدا تعالیٰ سے رہنمائی کی دعا کی تھی تو میرے والد خواب میں آئے اور فرمایا کہ حضرت صاحب سے جاکر ملو۔ صبح مجھے سمجھ نہیں آئی کہ حضرت صاحب سے کون مراد ہیں۔ اگلی رات پھر والد صاحب آئے اور ناراضگی سے فرمایا کہ حضرت صاحب سے ملو اور بچے ربوہ داخل کراؤ۔ اتنا کہہ کر وہ شدّت غم سے مغلوب ہوگئے۔ حضور نے اُن سے نہایت محبت اور شفقت کا سلوک فرمایا اور مکان وغیرہ کا انتظام کرنے کی ہدایت فرمادی۔
اس شفقت کے دو سال بعد 1974ء میں جب احمدیوں کے خلاف ہنگاموں کی وجہ سے لالیاں کی پولیس نے اپنی ذمہ داری سے بچنے کے لئے وہاں کے سارے احمدیوں کو ربوہ پہنچادیا تو مہر حبیب سلطان لالی صاحب اپنے سسر مکرم مہرمحمد اسماعیل لالی صاحب کے ہمراہ اُسی رات ربوہ آکر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ لالیاں کے لوگ شرپسند نہیں ہیں اور جب تک ہم زندہ ہیں، لالیاں میں کسی احمدی پر زیادتی نہیں ہوگی۔ چنانچہ حضورؒ کی اجازت سے لالیاں سے آنے والے احمدیوں سے فوری طور پر رابطہ کیا گیا اور راتوں رات اُن کو ٹریکٹر ٹرالیوں کے ذریعہ مع سامان واپس لالیاں پہنچا دیا گیا۔
مہر صاحب اُن تکلیف دہ حالات میں بھی حضورؒ کے چہرہ کی مسکراہٹ سے بہت حیران ہوئے۔ اور بعد میں بھی بار بار حضورؒ کی جرأت اور بہادری کی تعریف کیا کرتے تھے۔
* حضور کے چہرے کی مسکراہٹ اور بِلاخوف طرزعمل پر حیرت کا اظہار اُس مارشل لاء افسر نے بھی کیا تھا جس نے 1953ء کے ہنگاموں کے بعد حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کو قید کی سزا پڑھ کر سنائی تھی۔ یہ سزا مارشل لاء کی ایک عدالت کی طرف سے ایک خاندانی خنجر رکھنے کے جرم میں دی گئی تھی۔ اُس فوجی افسر نے بعد میں بتایا کہ جب بھی عدالتوں کی طرف سے کسی کو سزا سنائی جاتی تو اُس شخص کو جاکر بتانے کی ڈیوٹی میری تھی۔ بڑے بڑے علماء اور سیاسی لیڈر جب اپنی سزائیں سنتے تو شور مچاتے اور گالیاں بکتے۔ لیکن جب مَیں نے مرزا صاحب کو عدالتی فیصلہ پڑھ کر سنایا تو آپ نے خاموشی سے عدالتی فیصلہ سُنا اور پھر پوچھا کہ اب مَیں جاؤں۔ آپ نے ایک لفظ بھی احتجاج کا نہیں کہا اور نہ ہی کوئی دھمکی وغیرہ دی۔ تب مَیں نے کہا کہ مرزا صاحب! چونکہ عدالت کا فیصلہ انگریزی میں ہے اور غالباً آپ کو سمجھ نہیں آئی کہ عدالت نے آپ کو قید کی سزا دی ہے۔ اس لئے مَیں آپ کو اِس عدالتی فیصلے کا اردو میں ترجمہ کرکے سنادیتا ہوں۔ وہ فوجی افسر کہا کرتا تھا مجھ پر حیرت کا دوسری بار پہاڑ ٹوٹا جب مرزا صاحب نے صرف یہ فقرہ کہا کہ مَیں آکسفورڈ یونیورسٹی کا گریجوایٹ ہوں۔
* مُلّا مفتی محمود صاحب اور بعض دوسرے مُلّاؤں کے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں کہ ہم تو قومی اسمبلی میں مرزا ناصر احمد کے خلاف بڑی کوششیں کرکے ماحول بنایا کرتے تھے لیکن مرزاناصر احمد جب اسمبلی میں آتے تو حالات یکسر بدل جاتے تھے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں:
اسمبلی میں قرارداد پیش ہوئی اور اس پر بحث کے لئے پوری اسمبلی کو کمیٹی کی شکل دے دی گئی۔ … جب اسمبلی ہال میں مرزا ناصر آیا تو قمیص پہنے ہوئے اور شلوار و شیروانی میں ملبوس بڑی پگڑی، طُرّہ لگائے ہوئے تھا اور سفید داڑھی تھی تو ممبران نے دیکھ کر کہا کیا یہ شکل کافر کی ہے اور جب وہ بیان پڑھتا تھا تو قرآن مجید کی آیتیں پڑھتا تھا اور جب آنحضور ﷺ کا نام لیتا تھا تو درود شریف بھی پڑھتا تھا اور تم اسے کافر کہتے ہو اور دشمن رسول کہتے ہو؟‘‘۔ (ہفت روزہ لولاک 28 دسمبر 1975ء)
مُلّا مفتی محمود صاحب نے یہ بھی بتایا کہ اُن دنوں کئی بار مَیں ساری ساری رات نہیں سو سکا کہ کس طرح اسمبلی کے ممبران کو قائل کروں اور وہ اس بات پر کسی طرح راضی ہوجائیں کہ ہماری بات مان کر قادیانیوں کے خلاف قرارداد پر دستخط کردیں۔
* پس حضور رحمہ اللہ کی شخصیت اور عالمانہ حیثیت نے جو اثر اسمبلی کے ممبران پر چھوڑا تھا، وہ زائل نہیں ہوسکا اور بہت سے ممبران نے بعد میں اپنے انٹرویوز میں برملا اس بات کا اظہار کیا۔ انہی میں ایک مہرغلام حیدر بھروانہ ممبر قومی اسمبلی بھی تھے۔ جو فیصلہ ہوجانے کے بعد ایک بار دو دیگر افراد کے ہمراہ حضورؒ سے ملاقات کے لئے تشریف لائے۔ تو ملاقات ختم ہونے پر اُن میں سے ایک صاحب جب باہر آئے تو بار بار اور بے ساختہ یہ کہا کہ سچے جھوٹے کا علم اللہ کو ہے لیکن اتنا خوبصورت پیر مَیں نے کبھی نہیں دیکھا، بہت ہی خوبصورت ہیں۔
* مہر غلام حیدر بھروانہ صاحب اسمبلی کے اندر ہونے والی کارروائی کے بارہ میں یہ بیان کیا کرتے تھے کہ حضورؒ نے اسمبلی میں جس طرح خطاب فرمایا ہے، یہ کسی انسان کے بس کی بات نہیں تھی، کتنی عجیب بات ہے کہ سوال کرنے والے تو تیاری کرنے کے بعد سوالات کرتے تھے لیکن جواب دینے والی شخصیت موقع پر ہی جواب دے رہی تھی بلکہ ساتھ آنے والے کوئی صاحب جب کوئی کتاب یا نوٹ آگے کرتے تو حضورؒ اشارہ سے فرماتے کہ رہنے دیں۔ آپؒ کے جوابات اور نورانی شخصیت سے ممبران اسمبلی بے حد متأثر ہوئے۔ آپ جب آتے تو سڑکوں پر یوں محسوس ہوتا کہ کوئی وائسرائے تشریف لارہے ہیں اور جب اسمبلی کے ہال میں داخل ہوتے تو دونوں ہاتھ اٹھاکر بلند آواز میں سلام کہتے تو بعض ممبران بے ساختہ کھڑے ہوجاتے۔ آپؒ کے نورانی چہرے اور ٹھوس دلائل سے مخالف ممبران سخت پریشان تھے اور بعض تو حضورؒ کی شخصیت اور دلائل سننے کے بعد جماعت احمدیہ کے حق میں مائل ہوتے جا رہے تھے۔

حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ

حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ کی عظیم الشان شخصیت اور آپ سے غیروں کی محبت اور عقیدت کے تو لندن کے ہم میں سے بہت سے لوگ گواہ ہیں۔ لیکن دو چار منفرد واقعات بیان کرتا ہوں جن سے یہ اندازہ ہوگا کہ سیاسی بصیرت کے حامل اس بابرکت وجود کو خداتعالیٰ نے خاص جرأت سے بھی نوازا تھا ۔ مثلاً
* جناب میر رسول بخش تالپور صاحب وزیراعظم بھٹو کی کابینہ میں سینئر وزیر تھے۔ وہ بتایا کرتے تھے کہ اُن کا خاندان صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کی بہت عزت کرتا ہے کیونکہ ایک بار اُن کے بڑے بھائی میر علی احمد تالپور کا بطور وزیر ، وزیراعظم بھٹو سے کابینہ کی میٹنگ میں اختلاف ہوگیا۔ اسی وقت اطلاع آئی کہ حضرت صاحبزادہ صاحب آئے ہیں تو بھٹو نے آپؒ کو وہیں کابینہ کے اجلاس میں ہی بلالیا۔ آپؒ نے آکر ماحول کو دیکھا تو وہیں بھٹو سے میر صاحب کے بارہ میں کہا کہ یہ سندھ کا ایک معزز خاندان ہے اور اختلاف کرنے پر ناراضگی اچھی نہیں لگتی۔ تالپور صاحب کہتے ہیں کہ اُس دن کے بعد سے ہماری والدہ محترمہ اور دیگر افراد خانہ میاں صاحب کی حق گوئی اور بزرگی کی بہت عزت کرتے ہیں۔
* مختلف علوم پر حضورؓ کی دسترس حضور کی کتب اور خطابات سے تو عیاں ہے ہی لیکن خلافت سے قبل بھی یہ گوہر واقعۃً یکتا تھا۔ چنانچہ مکرم چودھری غلام احمد صاحب مرحوم سابق امیر جماعت بہاولپور محکمہ آبپاشی میں ریونیو آفیسر تھے۔ بہاولپور میں ایک مجلس سوال و جواب کا اہتمام کیا گیا تو محکمہ آبپاشی کے چیف انجینئر کو مہمان خصوصی بنایا گیا۔ جب حضورؒ سے اُن کا تعارف ہوا تو حضورؒ نے آبپاشی کے بارہ میں باتیں شروع کیں۔ کچھ ہی دیر میں چیف انجینئر صاحب گھبراگئے تو حضورؒ نے اُن کی حالت کا اندازہ کرکے مجلس سوال و جواب شروع کردی۔ اگلے روز چیف انجینئر صاحب نے مکرم چودھری صاحب کو بلاکر کہا کہ مَیں تو سمجھا تھا کہ ربوہ سے تمہارا کوئی مولوی آئے گا لیکن وہ صاحب تو علم کا کوئی سمندر تھے، مَیں اس محکمے میں رہ کر وہ کچھ نہیں جانتا جو وہ جانتے تھے۔
* 1990ء کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں جب USSR کا شیرازہ بکھرا تو نوزائیدہ ریاستوں کے بعض محکموں کے وزراء کو برطانوی حکومت کی طرف سے لندن آکر ایک کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا۔ اس کانفرنس کے دوران ایک احمدی نے حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی اجازت سے اُن معززین میں سے بعض کو پیشکش کی کہ کانفرنس کے اختتام پر اگر کوئی تین چار روز کے لئے ہماری میزبانی قبول کرلے تو ہم لندن کی سیر بھی اُسے کروادیں گے۔ قریباً بیس افراد نے یہ پیشکش قبول کی۔ اُن کی رہائش کا انتظام مسجد فضل کے سامنے نمبر 41 گیسٹ ہاؤس میں کیا گیا تھا۔
پروگرام کے مطابق تیسرے دن عصر کے بعد اُن کی حضور رحمہ اللہ سے ملاقات کا انتظام کیا گیا تھا۔ مکرم کلیم خاور مرحوم اور خاکسار کو بھی ان معززین کی میزبانی کا موقعہ ملا۔ تیسرے دن صبح جب وہ سیر کے لئے روانہ ہوئے تو وہ پہلے دو دنوں کی طرح رات گئے تک خوب enjoy کرنا چاہتے تھے۔ لیکن عصر سے ایک گھنٹہ قبل جب ہم نے اُنہیں واپس چلنے کے لئے کہا تو اُن کے چہروں پر ناگواری کے آثار ظاہر ہوئے اور بعض نے تو اظہار بھی کیا کہ وہ کسی ملاقات کے پروگرام کے لئے تو نہیں آئے تھے وغیرہ۔ بہرحال جب ہم واپس گیسٹ ہاؤس پہنچے تو ہمارے مہمانوں میں سے اکثر کا موڈ آف تھا۔ اسی اثناء میں حضور رحمہ اللہ تشریف لے آئے۔ حضورؒ نے بات چیت سے قبل فرداً فرداً تعارف حاصل کیا۔ پھر فرمایا کہ آپ کی ریاستیں ابھی آزاد ہوئی ہیں اور اپنی قوم کی رہنمائی کے لئے آپ منتخب ہوئے ہیں۔ اس کے بعد حضورؓ نے انہیں امورِ مملکت چلانے، ترقیاتی پروگرام بنانے، عوام کی فلاح سے متعلق، فنانس کو کنٹرول کرنے کے بارے میں، نیز بیرونی دنیا خصوصاً بڑی طاقتوں سے روابط سے متعلق اور بے شمار دیگر امور کے متعلق ایسے انداز سے راہنمائی فرمائی اور ایسے انمول ارشادات فرمائے کہ مہمانوں کے چہرے حیرت اور بشاشت سے چمکنے لگے۔ پھر سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوگیا جو کافی دیر تک جاری رہا۔ حیرت یہ تھی کہ حضور کی بیان فرمودہ ساری بات میں کہیں بھی مذہب یا جماعت احمدیہ کے حوالہ سے ذکر نہیں کیا گیا بلکہ خالصتاً امورِ سلطنت اور خصوصاً اُن شعبوں کے حوالہ سے بات ہوئی جو اُن وزراء کے سپرد تھے۔ ایک نصیحت یہ بھی تھی کہ ترقیاتی کاموں کی منصوبہ بندی کرنے میں جلدبازی نہ کریں- بلکہ نوزائیدہ مملکت کے تمام حالات کے ساتھ ساتھ اپنے منصوبہ کا بھی تمام زاویوں سے جائزہ لیں کیونکہ جتنی بہترین منصوبہ بندی ہوگی اتنا ہی آسان اس سکیم کو عملی جامہ پہنانا ہوگا اور ہر چیز آپ کے کنٹرول میں رہے گی-
جب یہ محفل ختم ہوئی تو وہ مہمان اتنے مسرور اور مطمئن تھے کہ بار بار یہ اظہار کررہے تھے کہ اگر ہم اس ملاقات سے محروم رہ جاتے تو پھر لندن آنے کا کوئی بھی فائدہ نہیں تھا۔ اور وہ سب اگلے روز اپنی روانگی تک اس بات پر شکرگزار ہوئے جارہے تھے کہ حضور نے اپنے اتنے قیمتی وقت سے ہمیں بہت سا وقت عنایت فرمادیا اور ایسی معلومات دیں جو شاید کہیں سے نہ مل سکیں۔
* کچھ ایسے ہی بھرپور جذبۂ تشکّر کا احساس خاکسار نے بوسنیا کے اُن لیڈروں میں بھی دیکھا تھا جو بوسنیا کی آزادی کے ساتھ ہی سربیا کی ظالمانہ جارحیت کا شکار ہونے والے نوزائیدہ ملک کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے تھے۔ اُن کی Exile Govt کے کئی لیڈر لندن میں مقیم تھے اور اپنے ملک کی حالتِ زار دیکھتے ہوئے دن رات تڑپ رہے تھے۔ انتہائی پریشانی اور کسمپرسی کا شکار ہونے کے باوجود ایک جنون کے ساتھ اپنی قوم کی بقاء اور تحفظ کے لئے سرگردان تھے۔ ایسے نازک وقت میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ نے نہ صرف اُن لیڈروں کو نہایت گرانقدر مشوروں سے نوازا اور ہر قسم کی اخلاقی حمایت نہایت جرأت مندانہ انداز میں مہیا فرمائی بلکہ بوسنین مہاجرین کے سر پر بھی دست شفقت رکھا۔ نہ صرف جماعت کو اُن سے ہمدردانہ سلوک کرنے کی طرف بار بار توجہ دلائی بلکہ ذاتی طور پر بھی اُن مظلوموں کی دادرسی کے لئے اپنی طاقت سے بڑھ کر خدمت کی توفیق پائی۔
اُس زمانہ میں حضور رحمہ اللہ کے ارشاد پر بوسنین حکومت کے لئے اشتہارات، پمفلٹس اور دیگر لٹریچر وغیرہ کی تیاری کے سلسلہ میں خاکسار کو بھی خدمت کی توفیق ملتی رہی۔ یہ بوسنین لیڈر بارہا مرکزی شعبہ کمپیوٹر واقع Hardwick Way Lodnon میں تشریف لایا کرتے۔ اکثر رات گئے تک وہاں کام میں مصروف رہتے۔ چونکہ خاکسار کی رہائش بھی اسی بلڈنگ میں تھی اس لئے ان کے ساتھ کئی دن اور راتیں اکٹھے کام کرنے کا موقع ملتا رہا- اپنے ملک بوسنیا میں خانہ جنگی کے افسوسناک حالات پر پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے وہ حضوررحمہ اللہ کی گرانقدر شفقتوں پر دل سے احسان مندی کا اظہار بھی کرتے۔ اہم بات یہ بھی تھی کہ اُس دَور کی ساری امدادی سرگرمیوں میں کہیں بھی مذہب کا اظہار نہیں تھا بلکہ خدا کی خاطر محض اپنے ایسے مسلمان بھائیوں کی دلجوئی اور مدد کرنا مقصود تھا جو اپنے ہی وطن سے بے سروسامانی کے عالم میں ہجرت کرنے پر مجبور کردیئے گئے تھے اور دوسری طرف مغربی ممالک میں اگرچہ انہیں خوش آمدید کہا گیا تھا لیکن درپردہ چرچ کے ذریعہ اُن کی خدمت ایسے انداز سے کی جارہی تھی کہ اُن کے دل میں عیسائیت کی ہمدردی کی تعلیم لاشعور میں بٹھادی جائے۔ ایسے نہایت تکلیف دہ حالات کا شکار مسلمانوں کی مدد کے لئے جب کوئی اسلامی ریاست نہ صرف عملاً سامنے نہیں آرہی تھی بلکہ کسی مسلمان لیڈر کو اپنی زبان سے بھی اپنے مظلوم بوسنین مسلمان بھائیوں کی ہمدردی کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ چنانچہ واقعۃً ساری دنیا میں صرف حضورؒ کی ہی ذات تھی جن کی مسلسل دعاؤں اور نہایت قیمتی مشوروں سے خداتعالیٰ نے بوسنین مسلمانوں کے لئے امن کے حالات پیدا فرمادیئے۔

سیّدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی امن کے لئے کی جانے والی مساعی اور دیگر عالمی مسائل کے حوالہ سے نیشنل اور انٹرنیشنل فورمز پر ہونے والے خطابات اور پیغامات کے بعد مقتدر نمائندگان اور اعلیٰ مراتب پر فائز سامعین و قارئین والہانہ انداز میں یہ اظہار کرتے ہیں کہ ہرطرح کے مسائل پر حضورانور کی دُوربین نگاہ اور اُن کے حل کے لئے بیان کی جانے والی ہدایات کو ایسے فورمز پر بیان کرنا نہ صرف معاملہ فہمی کی غیرمعمولی قابلیت، منصف مزاجی کی اہلیت اور وسیع النظر بصیرت کا متقاضی ہے بلکہ اس کے لئے ایسی جرأت بھی چاہئے جو دیگر اکثر مذہبی اور سیاسی راہنماؤں میں مفقود نظر آتی ہے۔ مختلف ممالک کی پارلیمنٹس کے نمائندگان، یورپین پارلیمنٹ اور امریکہ کے کیپٹل ہِل میں حضور انور کے خطابات کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ مسلمہ کی جانب سے پیش کی جانے والی اسلامی تعلیمات جب میڈیا کے ذریعہ لاکھوں لوگوں تک پہنچیں تو خداتعالیٰ کے فضل سے احمدیوں کو ایسا مقام عطا ہوا ہے کہ مُلّا فضل الرحمن کے بقول آج مغربی ممالک میں اُسی اسلام کو حقیقی اسلام سمجھا جاتا ہے جو قادیانی پیش کرتے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مغرب میں مسلمان قادیانیوں کو ہی سمجھا جاتا ہے۔
اس حوالہ سے اہم مناصب پر فائز بے شمار افراد کے تأثرات تاریخ میں محفوظ ہوتے چلے جارہے ہیں۔ لیکن ذیل میں چند ایسے منتخب تأثرات پیش کئے جاتے ہیں جو 2012ء میں یورپین پارلیمنٹ میں حضورانور کے خطاب سے متأثر ہوکر وہاں موجود بعض اہم شخصیات نے کہے:
* Bishop Dr. Amen Howard جو جنیوا (سوئٹزرلینڈ) سے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطاب میں شمولیت کے لئے آئے تھے، موصوف انٹرفیتھ انٹرنیشنل کے نمائندہ اور رفاہی تنظیم Feed a Family کے بانی صدر بھی ہیں۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا: ’’یہ شخص جادوگر نہیں لیکن ان کے الفاظ جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔ لہجہ دھیما ہے لیکن ان کے منہ سے نکلنے والے الفاظ غیرمعمولی طاقت، شوکت اور اثر اپنے اندر رکھتے ہیں۔ اس طرح کا جرأت مند انسان مَیں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔ آپ کی طرح کے صرف تین انسان اگر اس دنیا کو مل جائیں تو امن عامہ کے حوالے سے اس دنیا میں حیرت انگیز انقلاب مہینوں نہیں بلکہ دنوں کے اندر برپا ہوسکتا ہے اور یہ دنیا امن اور بھائی چارہ کا گہوارہ بن سکتی ہے۔ مَیں اسلام کے بارے میں کوئی اچھی رائے نہیں رکھتا تھا۔ اب حضور کے خطاب نے اسلام کے بارے میں میرے نقطۂ نظر کو کلیۃً تبدیل کردیا ہے‘‘۔
* سوئٹزرلینڈ سے آنے والے جاپانی بدھ ازم کے نمائندہ Jorge Koho Mello جو کہ راہب بھی ہیں، کہتے ہیں: ’’آپ کو (یعنی حضور انور کو) جو علم، دانائی اور حکمت ودیعت کی گئی ہے کاش کہ لوگ اس علم اور دانائی سے فائدہ اٹھائیں۔… حضور کے ساتھ ملاقات کے لمحات میرے لئے قیمتی ترین لمحات ہیں جن کو مَیں کبھی فراموش نہیں کرسکتا‘‘۔
* آنریبل Fouad Ahidar ممبر بیلجیم نیشنل پارلیمنٹ نے برملا اس بات کا اظہار کیا کہ حضور انور کا یورپی پارلیمنٹ میں خطاب ہم تمام مسلمانوں کے لئے فخر کی بات ہے۔ حضور کے خطاب نے ہمارے سر بلند کردیئے ہیں۔
* وزارت داخلہ بیلجیم کے نمائندہ Jonathan Debeer نے کہا کہ حضور انور کے خطاب نے ہم سب کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ ہم نے اس سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ یہ خطاب ہم سب کے لئے انسپائرنگ ہے۔
* ناروے کے ایک ممبر پارلیمنٹ اور کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی کے صوبائی سیکرٹری نے برملا اس بات کا اظہار کیا کہ ’’جماعت احمدیہ بہت خوش نصیب ہے کہ ان کو ایسا عظیم رہنما ملا ہے۔ حضور انور کا خطاب اور تقریب کا انتظام بہت اعلیٰ تھا۔ بغیر فعّال اور مؤثر لیڈرشپ کے ایسا ممکن نہیں ہے‘‘۔
* حکومت فرانس کی داخلہ اور خارجہ وزارتوں کے نمائندہ Mr. Eric بھی شامل ہوئے۔ انہوں نے حضور انور کے خطاب کے تمام اہم پوائنٹس نوٹ کئے اور کہا کہ حضور انور کے خطاب میں فرانس کے لئے بہت رہنمائی ہے۔
* سپین کی رُکن پارلیمنٹ محترمہRocio Lopezنے لکھا کہ اس تقریب نے دوستی اور بھائی چارہ کے اثرات چھوڑے ہیں۔ برسلز کے اس پروگرام نے ایک متحرک جماعت کا علم دیا جو مسلسل تعمیری کاموں میں مصروف ہے۔ (constant renovation)۔ عزت مآب مرزا مسرور احمدکی قیادت میں ’محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں‘ جیسے ماٹو کے تحت مختلف قوموں سے تعلق رکھنے والے احمدی باہم مل جل گئے ہیں۔ دنیا جو اپنے نشے میں دھت چلی جارہی ہے اور جہاں امن اور محبت کاپیغام انتہائی اہم ہے، ایسی دنیا میں آپ لوگوں کے بارے میں جاننا ہی ایک اعزاز کی بات ہے۔ اس بات سے زیادہ کیا چیز خوبصورت ہو سکتی ہے کہ آپ کے امام سے کچھ تبادلہ خیال ہو جائے یا ان کی تشدد کے خلاف تقریر کوغور سے سنا جائے۔ میں آپ کے تصورات کی کامل تائید کرتی ہوں۔ میں اس مردِ خدا کی طرف سے عالمی انسانی حقوق کی بحالی اور دنیا میں امن کے قیام کی تمام باتوں سے اتفاق کرتی ہوں۔
* مزید کہ یہ CNN کی ویب سائٹ پر ریلیجین بلاگز (Religion Blogs) والے حصہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے یورپین پارلیمنٹ کے خطاب میں سے چند فقرات کو بطور Quote of the Day شائع کیا گیا۔
………………………………

خلافت احمدیہ کی اہمیت


پس اس امر میں کوئی شک نہیں کہ خداتعالیٰ جس وجود کو بھی اس منصب جلیلہ پر فائز فرماتا ہے، دنیا میں اُس کے ظاہری مقام اور روحانی استعدادوں میں غیرمعمولی ترقیات بھی عطا فرماتا ہے۔
اور اب آخر میں ایک واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں جس کا تعلق اس مضمون کے دوسرے حصہ سے ہے یعنی خلافت کے نتیجہ میں خداتعالیٰ نے احمدیوں پر جو افضال نازل فرمائے ہیں، اُنہیں وہ لوگ کس طرح دیکھتے ہیں جو اس نعمتِ عظمیٰ سے محروم ہیں۔ یہ واقعہ خاکسار نے 1995ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں تحریر کیا تھا اور پھر حضورؓ کے ارشاد کی روشنی میں اسے چند اخبارات و رسائل کی زینت بنایا گیا۔
1987ء میں جب خاکسار (محمود احمد ملک) لاہور میں زیرتعلیم تھا اور وہاں احمدیہ ہوسٹل ’’دارالحمد‘‘ میں قیام تھا تو میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ ’’لاہوری جماعت ‘‘ کے پاس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جو تبرکات موجود ہیں، اُن کی زیارت کی جائے۔ چنانچہ ہوسٹل کے قریب ہی واقع غیرمبائعین احمدیوں کے مرکز ’’دارالسلام‘‘ میں پہنچا۔ وہاں کئی ممتاز افراد سے میری ملاقات ہوئی جن میں (سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحبزادے) جناب عبدالمنان عمر صاحب بھی شامل تھے۔ لیکن خاکسار کا مستقل رابطہ جس شریف النفس دوست کے ساتھ تھا وہ وہاں کی مرکزی لائبریری کے انچارج تھے اور جن کا نام غالباً قاضی عبدالاحد صاحب تھا۔ وہ وہاں کی مسجد میں امامت کے فرائض بھی سرانجام دے رہے تھے۔ لمبے عرصہ سے لاہوری جماعت میں شامل تھے اور نسبتاً بہت معقول آدمی تھے۔ میرا زیادہ تر وقت قاضی صاحب کے پاس لائبریری میں ہی گزرتا۔ اکثر اُن کے ساتھ بہت ہی دلچسپ گفتگو ہوا کرتی۔ ایک روز جب ہم دونوں ان کے قبرستان کے ساتھ سے گزرے تو میں نے پوچھا کہ کیا یہ آپ کا بہشتی مقبرہ ہے- موصوف نے بتایا کہ ان کے پاس بہشتی مقبرہ نہیں ہے- میں نے عرض کیا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں رسالہ الوصیت میں دو بشارتیں دی تھیں- ایک خلافت کی اور دوسری بہشتی مقبرہ کی- اور آپ نے ان دونوں کو قبول نہیں کیا-
اسی طرح ایک روز اُن کے پاس لائبریری میں ہی بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں ایک ایسے صاحب بھی آگئے جنہوں نے یہ معلوم ہوتے ہی کہ مَیں ربوہ سے آیا ہوں، نہایت دریدہ دہنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بدکلامی شروع کی اور سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ کی ذات گرامی سے متعلق تو خصوصاً بکواس کی انتہا کردی۔ میرے لئے یہ صورتحال بڑی عجیب تھی۔ قاضی صاحب نے اُن سے بارہا خاموش ہوجانے کے لئے کہا اور بار بار یہ بھی کہا کہ ایسا کلام کرنا ہماری تعلیم نہیں ہے اور یہ بہت ہی زیادتی ہورہی ہے، نہ صرف ایک مہمان کے ساتھ بلکہ اُن لوگوں (یعنی خلفائے کرام) کے ساتھ بھی جو یہاں موجود ہی نہیں ہیں اور خدا کو پیارے ہوچکے ہیں…۔ بہرحال جب قاضی صاحب کی ساری کوششیں اُن صاحب کو خاموش نہ کرواسکیں تو مَیں اُٹھ کر دوسری طرف چلا گیا۔ کچھ دیر بعد اُس شخص کو (غالباً جبراً) رخصت کرکے قاضی صاحب میرے پاس تشریف لائے اور بہت معذرت کرنے لگے۔ تب مَیں نے اُن سے کہا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران میرے مشاہدہ کا خلاصہ یہی ہے کہ آپ کے اکثر ساتھی محض ذاتی تعصب اور شدید بغض کے نتیجہ میں ہمارے خلفائے کرام کے بارہ میں بدزبانی کرتے ہیں۔ اور میرا خیال ہے کہ جس کسی کے خلاف جس خلیفہ کے زمانے میں کوئی تعزیری کارروائی کرتے ہوئے اخراج کی سزا ہوئی تو وہ اُسی خلیفہ سے ذاتی دشمنی میں بڑھنے لگا اور بدزبانی کرنے لگا۔
مَیںنے کہا کہ ان لوگوں کی بد زبانی کا معاملہ تو مَیں اللہ تعالیٰ پر ہی چھوڑتا ہوں۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ اب تک میں آپ کے پاس صرف اس لئے آتا رہا ہوں کہ ہماری بحث علمی بنیادوں پر تھی۔ لیکن آج حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کے بارے میں جو الفاظ آپ کے چند دوستوں نے آپ کے سامنے کہے ہیں، مَیں آئندہ آپ کے پاس بھی نہیں آئوں گا۔ لیکن آخری بار آپ سے صرف یہ پوچھتا ہوں کہ کیا یہی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وہ تعلیم ہے جس کی طرف آپ مجھے اور دوسرے احمدیوں کو بلاتے ہیں؟۔
میری بات سن کر وہ بہت شرمندہ ہوئے اور اگرچہ انہوں نے مجھے آئندہ آنے کے لئے تو نہیں کہا لیکن یہ ضرور کہنے لگے کہ ’’میںنے تو کبھی ایک لفظ بھی آپ کے بزرگوں کے خلاف نہیں کہااور یہ بھی کبھی نہیں کہا کہ آپ ہمارے ساتھ آجائیںاور آپ نے ہمیں جو باتیں بھی بتائی ہیں وہ سب درست ہیں‘‘۔ مَیں نے اُن کے بیان پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں، اُس کا تو یہی مطلب ہوا کہ دل سے آپ بھی یہی جانتے ہیں کہ حقیقی احمدیت کا مرکز ربوہ میں ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ ’’یہ تو میں نہیں کہہ سکتا۔ … لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ کا تعلق جس طرف اب ہے، آئندہ بھی اُسی طرف رہے‘‘۔ مَیں ابھی اُن کے فقروں کو سمجھنے کی کوشش کررہا تھا کہ انہوں نے کہا کہ ’’ اصل میں تو احمدیت اور حضرت مسیح موعودؑ کا نام ہی ہے جو ہم دونوں لیتے ہیں‘‘۔
مَیں نے عرض کیا کہ آپ کا شمار لاہوری جماعت کے بزرگ علماء میں ہوتا ہے اور آپ یہاں پر امامت کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں، یہاں کے سب لوگ آپ سے نہایت محبت اور عزت سے ملتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف آپ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مَیں دراصل آپ کی نسبت احمدیت کی حقیقی تعلیم کے زیادہ قریب ہوں، تو پھر آپ بھی کیوں ہمارے ساتھ شامل نہیں ہوجاتے۔ اس پر وہ کہنے لگے کہ میری بہت سی مجبوریاں ہیں جو میں ہی جانتا ہوں۔ تیس سال سے یہاں ہوں۔ (پھر انہوں نے اپنے بچوں کے حوالے سے اور اپنی بعض ذاتی مجبوریوں کا ذکر بھی کیا)۔
تب مَیں نے پوچھا کہ مجھے صرف اتنا بتا دیں کہ ایسی کیا وجہ ہے کہ آپ مجھے یہ نصیحت کررہے ہیں کہ مَیں جہاں ہوں، وہیں رہوں۔ اس پر قاضی صاحب نے بڑے تأسف اور کرب کے ساتھ (جس کا شدید اظہار ان کے چہرے سے عیاں تھا) یہ جواب دیا کہ:’’آپ کے پاس خلافت ہے اور ہم اس سے محروم ہیں‘‘۔
قاضی صاحب کی یہ بات سن کر خوشی سے میرے جذبات قابو میں نہ رہے۔ کیونکہ دراصل یہی تو وہ نتیجہ تھا جس تک پہنچنے کے لئے گھنٹوں ہماری بحث ہوا کرتی تھی۔ پھر مَیںنے ان سے کہا آپ یقینا درست فرما رہے ہیں لیکن اب براہ کرم یہ بھی بتا دیں کہ آپ خلافت کو کیوں مقدّم سمجھتے ہیں۔ اور ایسا کیا ہے جو خلافت نے ہمیں دیا ہے اور آپ اُس سے محروم ہیں۔ انہوں نے فوراً جواب دیا کہ: ’’خلافت نے آپ کو جو جرأت دی ہے وہ ہمارے پاس نہیں ہے۔اور باوجود ضیاء الحق کے آرڈیننس کے بھی آپ لوگوں نے اپنی تبلیغ اور دوسری سر گرمیوں میں کمی نہیں کی بلکہ آپ کے خلیفہ صاحب نے ہر مشکل وقت میں ایسا فیصلہ کیا ہے جس نے آپ کی جماعت کے بچے بچے کو ہر قسم کی مشکل کا جرأت کے ساتھ مقابلہ کرنے کی ہمت دی ہے۔۔۔۔‘‘۔ پھر مَیں کچھ دیر اُن سے مزید باتیں کرتا رہا اور مجھے یہ معلوم کرکے نہایت درجہ مسرّت ہورہی تھی کہ ایک شریف النّفس غیرمبائع کے نزدیک خلافت کا کیا مقام ہے اور خلیفۂ وقت کا وجود کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔
کچھ دیر بعد میرے یہ پوچھنے پر کہ مذکورہ بالا نتیجہ تک پہنچنے کے پس منظر میں کونسا ایسا واقعہ یا حقیقت ہے جسے وہ فراموش نہیں کرسکتے، محترم قاضی صاحب نے اپنا ایک واقعہ بھی بیان کیا۔ وہ کہنے لگے کہ اُنہیں 1974ء میں احمدیوں کے خلاف ملک بھر میں ہونے والے فسادات کے دنوں میں راولپنڈی کی احمدیہ مسجد نُور کے قریب ہی کسی جگہ (اندرونِ محلہ) جانا تھا۔ لیکن وہ تنگ گلیوں میں سے گزرتے ہوئے، احمدیہ مسجد کے قریب پہنچ کر، کوشش کے باوجود بھی مسجد کو تلاش نہ کرسکے۔ کسی دوسرے شخص سے اس لئے ’’احمدیہ مسجد‘‘ کا نہیں پوچھا کہ کہیں وہ احمدیت کا ایسا دشمن نہ نکل آئے کہ اِن کے لئے مصیبت کھڑی کردے۔ لیکن جب تلاش کرتے ہوئے تھک گئے تو ایسے میں ان کی نظر ایک دس سالہ بچے پر پڑی۔ انہوں نے اُسے اکیلا دیکھ کر پوچھا کہ ’’بیٹے! یہاں مرزائیوں کی مسجد کہاں ہے؟‘‘ اس پر بچے نے پوچھا: ’’کیا آپ احمدی ہیں؟‘‘ وہ کہنے لگے کہ مَیں نے سوچا کہ ہوں تو احمدی ہی لیکن کہیں یہ بچہ شور کرکے مجھے پکڑوا نہ دے۔ اس لئے فوراً جھوٹ بول دیا اور کہا ’’ نہیں‘‘۔ تب اُس بچے نے کہا: ’’ میں احمدی ہوں، آئیے میں آپ کو اپنی مسجد میں لے جاتا ہوں‘‘۔ اور پھر وہ بچہ انہیں اپنے ساتھ لئے مسجد کی طرف چلنے لگا۔ ٹیڑھی میڑھی تنگ گلیوں میں کچھ چلنے کے بعد اُس نے دُور سے ہی احمدیہ مسجد کی نشاندہی شروع کردی۔ تب قاضی صاحب نے اُسے کہا کہ تم اب واپس جاؤ، آگے میں خود ہی چلا جاؤں گا۔
یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد قاضی صاحب بڑے دُکھ سے کہنے لگے کہ: ’’اُس بچے کی جرأت آج آپ کی ساری جماعت میں نظر آتی ہے اور ہم اس سے محروم ہیں۔ اسلئے میں دل سے آپ کو کہتا ہوں کہ ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہیں‘‘۔
پس میرے عزیزو! یہ خداتعالیٰ کا نہایت احسان ہے کہ ہم مسیح محمدی کے اُس سلسلۂ خلافت سے تعلق رکھتے ہیں جو حَبْلُ اللہ ہے۔ نہایت ادب سے یہ التجا ہے کہ اس نعمت عظمیٰ کی قدر پہچانیں، اپنی نگاہوں کو احترام کے ساتھ اُس وجود کے سامنے جھکادیں اور خلیفۂ وقت کے ہر حکم پر لبّیک کہنا اپنی سعادت سمجھ لیں۔

یہ سب اُسی کا کرم ہے دیارِ یار میں ہیں
وگرنہ ہم سے خطاکار کس شمار میں ہیں
خوشی سے کیوں نہ کریں ناز اپنی قسمت پر
وہ خوش نصیب جو اس محفلِ قرار میں ہیں
ملے ہیں سارے ثمر جس کی برکتوں کے طفیل
اسی رِدائے خلافت کے ہم حصار میں ہیں
یہ جان و دل سبھی تجھ پر نثار ہیں آقا
ترے غلام ہیں ہم ، تیرے اختیار میں ہیں

وَآخِرُدعونا ان الحمدُ لِلہ ربّ العالمین

پرنٹ
The short URL of the present article is: http://mahmoodmalik.zindgi.uk/jjiGq

اپنا تبصرہ بھیجیں