عہدنبوی کے افریقن مسلمان

عربوں کے افریقہ کے ساتھ تجارتی روابط زمانہ قدیم سے چلے آ رہے ہیں۔ ایک دفعہ جب مکہ میں قحط کے آثار تھے تو اہل حبشہ کے ایک تجارتی قافلہ کو مکہ کے بدقماش لوگوں نے لُوٹنے کی کوشش کی تو چند معززین نے مداخلت کرکے قافلہ کو بچایا۔ جب اس واقعہ کی اطلاع شاہ حبشہ نجاشی کو ہوئی تو اُس نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر اہل حبشہ کے تجارتی قافلوں کو تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو تجارتی تعلقات منقطع کردیئے جائیں گے۔ اس پر اہل مکہ نے سفارتی سطح پر نجاشی سے معذرت کی اور تجارتی قافلوں کی حفاظت کی ضمانت کے طور پر اپنا ایک آدمی بطور یرغمال دربار نجاشی میں بھیجا۔
غلاموں کی خریدوفروخت کے سلسلہ میں بھی حبشیوں کی کثیر تعداد مکہ اور مدینہ میں موجود تھی جو غلامانہ زندگی بسر کر رہی تھی۔
چند غلامانِ محمدؐ کا اجمالی تذکرہ مکرم محمد اشرف کاہلوں صاحب کے قلم سے روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 12؍دسمبر 1998ء میں شامل اشاعت ہے۔
آنحضرتﷺ کے والد ماجد حضرت عبداللہ کی حبشی لونڈی حضرت ام ایمنؓ تھیں۔ جب رسول اللہﷺ کی والدہ ماجدہ کا وصال ابواء کے مقام پر ہوا تو ام ایمنؓ ہی آنحضورﷺ کو بحفاظت مکہ واپس لائیں اور آپؐ کی پرورش میں بھی حضرت ام ایمن ؓ کا بڑا ہاتھ رہا۔ انہوں نے قبول اسلام کی سعادت بھی پائی اور ان کی شادی آنحضرتﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت زیدؓ سے ہوئی۔ ان کے بطن سے حضرت اسامہؓ بن زیدؓ پیدا ہوئے۔ آنحضورﷺ کو ان سے بہت محبت تھی اور وہ بھی جانثار صحابیہ تھیں۔
حضرت بلالؓ نے غلام ہوتے ہوئے اسلام قبول کیا اور پھر جرأت مندی کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے آپؓ کو خرید کر آزاد کردیا۔ آپؓ کو مؤذن ہونے کا شرف بھی حاصل ہوا اور فتح مکہ کے موقعہ پر خاص یہ اعزاز بھی پایا کہ ’’امن‘‘ کا نشان ٹھہرے۔ جنگ بدر میں آپؓ کے ہاتھوں امیہ بن خلف قتل ہوا۔ رسول کریمﷺ نے اہم مالی ذمہ داریاں بھی آپؓ کے سپرد کیں۔ آپؓ حقیقی عاشق رسولؐ ثابت ہوئے اور ’’بلالی روح‘‘ محاورہ بن گیا۔ ایک دن آنحضورﷺ نے آپؓ سے پوچھا کہ تمہارا کونسا عمل ہے جس کے سبب مَیں نے جنت میں تمہارے قدموں کی آواز سنی ہے۔ آپؓ نے عرض کی، حضورؐ! میں جب بھی وضو کرتا ہوں دو رکعت نفل ضرور ادا کرتا ہوں۔
حضرت انجشہؓ دورانِ سفر اہل بیت کی خدمت اور حفاظت پر مامور تھے۔ حدی خواں تھے اور آواز سریلی سحر انگیز تھی۔ آپؓ کو حدی خوانی میں ایسا کمال حاصل تھا کہ آپؓ کی آواز پر اونٹوں کی رفتار میں اضافہ ہو جاتا تھا۔ ایسے ہی ایک موقعہ پر جب خواتین بھی قافلہ میں شامل تھیں، آنحضورﷺ کے لب مبارک سے یہ کلمہ نکلا ’’یَا اَنۡجَشَہ رُوَیۡدَکَ بِالۡقَوَارِیر‘‘، انجشہ دیکھنا! آبگینوں کو آہستہ لے کر چل۔
مدینہ کے نواح میں حبشیوں کی ایک الگ کالونی تھی۔ جب رسول کریمﷺ ہجرت فرما کر ارض مدینہ میں رونق افروز ہوئے تو استقبال کرنے والوں میں اس بستی کے باسیوں کا بھی ایک دستہ شامل تھا۔ مدینہ میں موجود حبشیوں کی بھاری تعداد نے اسلام قبول کیا۔ ایک عید کے موقعہ پر حبشیوں نے اپنے فن کا پُرجوش مظاہرہ بھی کیا۔ جب حضرت عمرؓ نے انہیں روکنا چاہا تو آنحضورﷺ نے فرمایا ’’عمر! عید ہے‘‘۔ اور حبشیوں سے فرمایا ’’بنو ارفدہ! جاری رکھو‘‘۔ حضرت عائشہؓ نے بھی اسی قسم کے فن کو آنحضرتﷺ کی رفاقت میں دیکھا تھا۔
جو مسلمان حبشہ ہجرت کرگئے تھے اُن کی دعوت الی اللہ سے ستّر حبشی مسلمان ہوئے اور بعد ازاں ہجرت کرکے مدینہ آئے اور وہیں آباد ہوگئے۔ والیٔ حبشہ نجاشیؓ بھی مسلمان ہوئے اور آپؓ کے ایک بیٹے بھی مسلمان ہوئے جو حضرت علیؓ کے گہرے دوست بنے۔ خود حضرت نجاشیؓ نے آنحضورﷺ کی خدمت میں ایک نہایت قیمتی نیزہ بھجوایا جسے اسلامی تقریبات میں حضرت بلالؓ تھام کر آنحضورﷺ کے پاس کھڑے ہوتے۔
مسجد نبوی کی صفائی ایک حبشی بوڑھی عورت نہایت اخلاص سے کیا کرتی تھیں اور اسی وجہ سے آنحضورؐ کو بھی اُن سے ایک انس تھا۔ ایک روز آپؐ نے صحابہؓ سے دریافت فرمایا کہ وہ حبشی عورت کئی روز سے نظر نہیں آئی تو صحابہؓ نے بتایا کہ وہ بیمار ہوکر فوت ہوگئی ہیں، آپؐ کی تکلیف کی خاطر یہ ذکر آپؐ سے نہیں کیا گیا۔ اس پر آنحضرت ﷺ ناراض ہوئے کہ آپؐ کو اطلاع کیوں نہیں دی گئی۔ چنانچہ آپؐ نے متوفیہ کی قبر پر جاکر دعا کی۔
جنگ خیبر کے موقعہ پر ایک حبشی غلام نے اسلام قبول کیا۔ اُس وقت اُن کے پاس اُن کے مالک کے جانوروں کا ایک ریوڑ بھی تھا۔ آنحضورﷺ کی ہدایت پر انہوں نے ریوڑ کو مالک کے گھر کی طرف ہانک دیا۔ بعد میں یہی حبشی غلام آنحضورﷺ کی طرف سے سرکاری اونٹوں اور بھیڑوں کے انچارج مقرر ہوئے۔ ایک رات سرکاری چراگاہ پر ڈاکوؤں نے حملہ کیا اور انہیں شہید کردیا۔
وحشی نامی ایک حبشی مکہ میں غلامی کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ ابوسفیان کی بیوی نے جنگ بدر میں کفار کی عبرتناک شکست کے بعد وحشی کو آزاد کرنے کی یہ شرط رکھی کہ وہ جنگ میں حضرت حمزہؓ کو شہید کردے۔ چنانچہ غزوہ احد میں حضرت حمزہؓ اُسی کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ فتح مکہ کے موقعہ پر وحشی نے دربار نبویؐ میں حاضر ہوکر اسلام قبول کرلیا اور حضرت ابوبکرؓ کے دورِ خلافت میں اُسی کے ہاتھوں مسیلمہ کذاب مارا گیا۔
اہل حبشہ نے مسلمانوں سے جو حسن سلوک کیا، آنحضورﷺ نے ہمیشہ اسے یاد رکھا۔ چنانچہ فرمایا ’’اہل حبشہ کو امن میں رہنے دو، جب تک وہ امن میں رہتے ہیں‘‘۔ چنانچہ مسلمان فاتحین نے حبشہ کو کبھی اپنے مفتوحہ علاقوں میں شامل نہیں کیا۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/XvtSa]

اپنا تبصرہ بھیجیں