عجب طرح کے لوگ ہیں طبیعتیں بدل گئیں – نظم

ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ مئی 2011ء میں مکرم اطہر حفیظ فراز صاحب کی ایک غزل شامل اشاعت ہے۔ اس میں سے انتخاب پیش ہے:

عجب طرح کے لوگ ہیں طبیعتیں بدل گئیں
عنایتوں کے دَور میں ضرورتیں بدل گئیں
خیال بھی اسی طرح ، غزل بھی ہے اسی طرح
فصاحتیں بدل گئیں ، بلاغتیں بدل گئیں
کبھی جو دل کے درد تھے تو اب جہاں کے روگ ہیں
تڑپ اسی طرح سے ہے ، قیامتیں بدل گئیں
بلا کا حبس تھا یہاں ، بلا کا اب قرار ہے
عجیب سی ہوا چلی کہ سب رُتیں بدل گئیں
ابھی تو یاں پڑاؤ تھا ، تھیں منزلیں قریب تر
اے رہنما بتا کہ کیوں مسافتیں بدل گئیں
چکور کی تڑپ یہ ہے کہ چاند اس کے پاس ہو
یہ دَور اب نیا سا ہے حکایتیں بدل گئیں

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/AtyLx]

اپنا تبصرہ بھیجیں