طیارہ بردار بحری بیڑہ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 9؍جولائی 2004ء میں مکرم پروفیسر طاہر احمد نسیم صاحب نے طیارہ بردار بحری بیڑے کے بارہ میں معلومات بیان کی ہیں۔
بحری بیڑے کو ائرکرافٹ کیرئیر کہتے ہیں۔ عام طور پر اس کی لمبائی ساڑھے تین سو میٹر ہوتی ہے اور اس میں تقریباً ایک سو طیارے، چھ ہزار کی تعداد میں پائلٹ ۔ بحری جہاز کا عملہ اور دیگر فوجی جوان اور اور کارکنان موجود ہوتے ہیں۔ اس کی کئی منزلیں ہوتی ہیں۔ اوپر والا Deck یاتختہ جہازوں کے اڑانے اور لینڈ کرنے کے کام آتا ہے۔ اس سے نچلی منزل میں جہازوں کو سٹور کیا جاتا ہے اور اسی جگہ ان کی سروس اور مرمت کا بندوبست بھی ہوتا ہے۔ بیڑے میں جہازوں کے پائلٹوں اور دیگر کارکنان کے لئے رہائش، ضروریات کے کمرے، کھانے پینے کا راشن، جہازوں کا اسلحہ بارود اور راکٹ وغیرہ سب کچھ موجود ہوتا ہے۔ اس جہاز کا سارا سسٹم ایٹمی ری ایکٹر کی بدولت ہر لحاظ سے خود کفیل ہوتا ہے۔ نیز میزائل بھی موجود ہوتے ہیں جو زمین سے زمین اور زمین سے فضا اور فضا سے فضا اور فضاسے زمین اور زیر آب آبدوزوںکو نشانہ بنانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ چونکہ اس کی رفتار زیادہ تیز نہیں ہوتی اور اس کا اپنا دفاعی نظام زیادہ لمبے فاصلوں کا نہیں ہوتا اس لئے اس کی حفاظت اور مدد کیلئے اس کے جلو میں ایٹمی آبدوزیں، بمبار طیارے اور فائٹر جہاز بھی ہوتے ہیں۔
بیڑے کا رن وے چونکہ بنیادی طور پر ہوائی طاقت کا مرکز ہوتا ہے اس لئے اس میں جہاز وں کی کارکردگی سب سے زیادہ نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔ عام حالات میں ہوائی جہاز نچلی منزل میں ہینگرز کے اندر محفوظ کھڑے ہوتے ہیں۔ بوقت ضرورت جہاز کو Elevators کے ذریعہ اوپر کی منزل پر لایا جاتا ہے۔ رن وے کی لمبائی تین سوفٹ ہوتی ہے جبکہ عام طور پر جہاز کو اترنے اور پرواز کرنے کے لئے تین ہزار فٹ کے رن و ے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ ایک تو ہوائی جہاز کواڑاتے اورلینڈ کراتے وقت بحری بیڑا پوری رفتار سے چلتی ہوئی ہوا کے مخالف رخ پر چلایا جاتا ہے۔ ہوا کی رفتار میں اضافہ ہونے سے جہاز کم رفتار پر ہی پرواز کے قابل ہوجاتا ہے۔ دوسرے رن وے کے آخر پر منجنیق بھی لگی ہوتی ہے جو غلیل کے اصول پر کام کرتے ہوئے جہاز کو مزید دھکا دے دیتی ہے۔
اس کے علاوہ رن وے کے سرے پر لمبے رُخ کے تار لگے ہوئے ہیں۔ جہاز کے لینڈ کرتے وقت جہاز میں سے Hookیاکنڈے سے باہر نکلتے ہیں جو تاروں کے ساتھ پھنس جاتے ہیں اور یوں ان سے رگڑ کھاتے یہ کنڈے جہاز کو کم جگہ کے اندررک جانے میں مدد دیتے ہیں۔ مزید انتظام یہ کیا جاتا ہے کہ لینڈ کرنے والا رن وے بحری جہاز سے باہر کی طرف کو ایک تکون کی صورت میں نکلے ہوئے حصہ پر بنایا جاتا ہے تاکہ اگر پائلٹ اپنے جہاز کو پورے کنٹرول کے ساتھ عین رن وے کے چھوٹے سے حصہ میں روک نہ سکے تو وہ آگے کھڑے دوسرے جہازوں میں نہ جا لگے۔ ایسی صورت میں پائلٹ جہاز کو دوبارہ ہوا میں اٹھا لیتا ہے کیونکہ آگے کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔
طیارہ بردار بیڑے میں پرواز کرنے اورلینڈ کرنے کے خاص سسٹم کے علاوہ عام طور پر خاص قسم کے طیارے استعمال ہوتے ہیں جنہیں V/STOL طیارے کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ مخفف ہے Vertical/Short Take off and Landing کا۔ یہ جہاز چاند پر اترنے والے مصنوعی سیارے کی مانند اپنی نچلی جانب تیز دباؤ سے گیس خارج کرکے مخصوص جگہ پر اترنے اور وہیں سے بغیر دوڑنے کے پرواز کر جانے کے اصول پر عمل کر سکتا ہے۔ نیز اس طیارے میں بمبار اور فائٹردونوں صلاحیتیں موجود ہیں۔
بیڑے کے داہنی جانب اس کا مرکزی ڈھانچہ جسے Island کہا جاتا ہے واقع ہے جس میں بیڑے کا کنٹرول سسٹم، مواصلاتی رابطہ کا یونٹ، ریڈار اور ایٹمی ری ایکٹر واقع ہے۔ بحری بیڑے میں اپنی توپوں اور راکٹوں کے علاوہ اس کا پورا Carrier Task Force کا قافلہ اس کے ہمراہ تیار چلتا ہے۔ اس قافلہ میں دیگر چھوٹے بحری جہاز، تباہ کن جنگی جہاز اور آبدوزیں شامل ہیں۔ اس طرح یہ طیارہ بردار بیڑہ اپنی ذات میں مکمل فوجی چھاؤنی کی حیثیت رکھتا ہے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/xqpWI]

اپنا تبصرہ بھیجیں