سیرت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام

(مطبوعہ اسماعیل لندن اپریل تا جون 2014ء)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا بابرکت وجود ہمارے لئے ایک ایسا نمونہ ہے جس نے اپنے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ سنّت کو ایک بار پھر زندہ کرکے ہمیں دکھا دیا۔ پس آپؑ کی سیرت طیبہ کا بار بار بیان اور اس پر عمل کرنے کی سعی کرنا ایک نہایت بابرکت عمل ہے۔ بعض صحابہؓ کی بیان فرمودہ چند منتخب روایات ذیل میں پیش ہیں جو کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مہمان نوازی، بے تکلّفی اور سادہ انداز کے حوالہ سے حضرت ڈاکٹر عبداللہ صاحبؓ یہ واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ مَیں حضرت اقدسؑ سے نیاز حاصل کرنے کے لئے لاہور سے دو دن کی رخصت لے کر آیا۔ رات بٹالہ پہنچا اور رات وہاں گزار کر صبح پیدل قادیان روانہ ہوگیا۔ ابھی سورج نکلا ہی تھا کہ قادیان پہنچ گیا۔ حضورؑ ایک جگہ راستہ میں مل گئے۔ سلام کے بعد دریافت کرنے پر بتایا کہ رات بٹالہ گزار کر وہاں سے پیدل ہی آرہا ہوں۔ حضورؑ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: تمہیں تو بڑی تکلیف ہوئی ہوگی۔ پھر پوچھا: چائے پیوگے یا لسی۔ مَیں نے کہا: حضور! کچھ نہیں۔ فرمایا: تکلّف کی ضرورت نہیں، ہمارے گھر گائے ہے جو تھوڑا سا دودھ دیتی ہے۔ گھر والے چونکہ دہلی گئے ہوئے ہیں اس لئے اس وقت لسی بھی موجود ہے اور چائے بھی۔ مَیں نے کہا: حضور! لسی پی لوں گا۔ حضورؑ نے مجھے مسجد مبارک میں بھیج دیا۔ تھوڑی دیر بعد حضورؑ خود ایک ہانڈی اورچینی اٹھائے ہوئے دروازہ سے نکلے۔ حضورؑ نے ہانڈی میرے سامنے رکھ دی اور اپنے دست مبارک سے گلاس میں لسی ڈالنے لگے۔ اس پر مَیں نے خود گلاس پکڑ لیا۔ پھر کچھ دوست اَور بھی آگئے اور ہم سب نے لسی پی اور حضورؑ خود ہی برتن اٹھاکر واپس تشریف لے گئے۔ حضورؑ کے اخلاق کریمانہ کی یہ ایک مثال ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پاکیزہ زندگی معجزات سے بھرپور ہے اور ہر قدم پر ہمیں اللہ تعالیٰ کی خاص نصرت کے نظارے نظر آتے ہیں۔ حضرت اقدسؑ کے خادم حضرت نور احمد صاحب کابلیؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک سال بہت بارش ہونے پر ڈھاب کا پانی کناروں سے نکل آیا۔ میرا مکان ڈھاب کے کنارہ پر تھا اس لئے دیواروں تک پانی پہنچ گیا۔ قریب تھا کہ پانی مکان میں داخل ہوجاتا اور مکان گر جاتا کہ کسی نے حضور علیہ السلام سے میری پریشانی کا ذکر کردیا۔ صبح سیر کے وقت حضورؑ حضرت اماں جانؓ اور کچھ دیگر مستورات کے ساتھ میرے مکان میں تشریف لائے اور حالات دیکھ کر فرمایا: ’’اللہ اب رحم کرے گا، بارش بند ہونے پر دیواروں کے ساتھ مٹی ڈال لینا‘‘۔ حضورؑ نے جس دن یہ فرمایا اُس دن سے بارش ایک عرصہ تک بند رہی اور ہم نے مکان کے اردگرد مٹی ڈال لی۔ پھر بڑی بڑی بارشیں ہوئیں لیکن کبھی میرے مکان کو خطرہ محسوس نہیں ہوا۔
حضورؑ نے ایک بار حضرت منشی اروڑے خان صاحبؓ سے فرمایا کہ دعا دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک عام دعا ہے جو کہنے والوں کے لئے اور بوجہ ہمدردی سب کے لئے ہوتی ہے لیکن ایک خاص دعا ہے جو اُس وقت تک نہیں کی جاسکتی جب تک کوئی شخص ہمارے دل میں اپنا درد نہ پیدا کردے۔ پس خاص دعا کرانے والے کو چاہئے کہ ہمارے سامنے رہ کر اور پاس آکر جس طرح اُس سے ہوسکے ہمارے دل میں درد پیدا کرے۔ مَیں جب کسی کے لئے خاص دعا کرتا ہوں تو پھر خدا تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس کا جواب دیتا ہے مگر جب اپنی بیماری کے متعلق دعا کرتا ہوں تو اُس کا جواب نہیں ملتا جس کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ مسیح دو زرد چادروں میں آئے گا اس لئے خداتعالیٰ کو اپنے رسول ﷺ کی زبان کا اس قدر پاس ہے کہ مَیں اپنی بیماری کے متعلق جو دعا کرتا ہوں تو اس کا جواب نہیں ملتا۔
حضرت سراج الدین صاحب ؓ بیان فرماتے ہیں کہ جب حضرت مولانا عبدالکریم صاحبؓ کا کاربنکل کا آپریشن ہوا اور اُن کی حالت نازک ہوگئی کہ ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ مزید علاج بے سود ہے۔ حضورؑ کو اطلاع ہوئی تو آپؑ نے عام حکم دے دیا کہ سب دعائیں کریں اور خود بھی بیت الدعا میں دروازہ بند کرکے دعا میں مشغول ہوگئے۔ اُسی وقت مولوی صاحبؓ کی حالت سنبھلنے لگی اور وہ ہوش میں آگئے۔ اُسی شام ہم اُن سے ملنے گئے تو دیکھا کہ چند ہی گھنٹوں میں اُن کی حالت بدل چکی تھی۔ اگرچہ میرا اُن سے بہت تعارف نہ تھا لیکن انہوں نے نہ صرف پہچان لیا بلکہ کسی کے پوچھنے پر میرا نام اور گاؤں کا نام وغیرہ بھی بتادیا۔
حضرت مولوی محب الرحمٰن صاحبؓ بیان فرماتے ہیں کہ مَیں اپنے والد حضرت منشی حاجی حبیب الرحمٰن صاحبؓ کے ہمراہ قادیان گیا۔ حضرت اقدس علیہ السلام نے ہمارے لئے چائے بھجوائی۔ والد صاحب جلدی جلدی چائے پی کر نیچے چلے گئے کیونکہ حضورؑ نے سیر پر جانا تھا اور انتظار فرما رہے تھے۔ کچھ دیر بعد والد صاحب بھاگتے ہوئے میرے پاس آئے اور بتایا کہ حضورؑ میرا انتظار فرما رہے ہیں۔ مَیں نیچے پہنچا تو حضورؑ سیر کو چل پڑے۔ چونکہ مَیں کافی چھوٹا تھا اس لئے کچھ دُور جاکر مجھے واپس جانے کا حکم دیا تاکہ تھک نہ جاؤں۔
حضرت سید میر حامد شاہ صاحبؓ بیان فرماتے ہیں کہ مَیں نے قادیان سے رخصت ہونے کی اجازت حضور علیہ السلام سے ایک رقعہ گھر بھیج کر طلب فرمائی تو آپؑ نے فرمایا: ہم ابھی باہر آتے ہیں۔ حضورؑ کے دیدار کی خاطر وہاں اَور بھی کئی لوگ اکٹھے ہوگئے۔ کچھ دیر بعد حضورؑ دودھ کا بھرا ہوا ایک لوٹا ہاتھ میں پکڑے تشریف لائے۔ رومال میں کچھ مصری بھی تھی اور گلاس حضرت مرزا محمود احمد صاحبؓ کے ہاتھ میں تھا۔ پوچھا: شاہ صاحب کہاں ہیں؟ مَیں نے آگے بڑھ کر عرض کیا: حاضر ہوں۔ فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ مَیں اُسی وقت زمین پر بیٹھ گیا۔ حضورؑ نے دودھ کا گلاس بھرا، مصری ملائی اور مجھے پلایا۔ پھر دوسرا گلاس عنایت فرمایا۔ پھر تیسرا گلاس بھرا تو مَیں نے عرض کی کہ حضور! اب تو پیٹ بھر گیا ہے۔ فرمایا: ایک اَور پی لو۔ مَیں نے وہ گلاس بھی پی لیا۔ پھر حضورؑ نے جیب سے چھوٹی چھوٹی بسکٹیں نکالیں اور فرمایا: یہ جیب میں ڈال لو، راستہ میں اگر بھوک لگی تو یہ کھانا۔ پھر فرمایا: چلو آپ کو چھوڑ آئیں۔ مَیں نے عرض کی: حضورؑ تکلیف نہ فرمائیں، مَیں سوار ہوجاتا ہوں۔ لیکن حضورؑ مجھے ساتھ لے کر روانہ ہوگئے۔ دوسرے لوگ بھی ہمراہ تھے۔ کافی دُور پہنچ کر حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ نے میرے کان میں فرمایا کہ آگے ہوکر رخصت لے لو، جب تک تم اجازت نہ مانگو گے، حضورؑ بڑھتے چلے جائیں گے۔ اس پر مَیں نے آگے بڑھ کر اجازت مانگی تو حضورؑ اپنے سامنے سوار کرکے پھر واپس تشریف لے گئے۔
حضرت حافظ نبی بخش صاحبؓ بیان فرماتے ہیں کہ جب کبھی مہمان زیادہ ہوتے تو حضور علیہ السلام گول کمرہ کے فرش پر مہمانوں کے ساتھ کھانا کھاتے۔ کئی دفعہ مَیں نے حضورؑ کے ساتھ ایک ہی برتن میں کھانا کھایا۔ آپؑ بوٹیاں اٹھاکر میرے سامنے رکھتے جاتے اور خود بہت کم کھاتے اور ریزہ ریزہ مونہہ میں ڈالتے رہتے۔ مَیں نے چودہ پندرہ سال کی عمر میں قادیان جانا شروع کیا۔ حضور علیہ السلام کھانا اندر سے لاکر دیتے۔ قہوہ ہر وقت تیار رہتا اور پاس ہی مصری بھی رکھی ہوتی۔ ہم جتنا چاہتے پیتے تھے۔
حضرت مرزا دین محمد صاحبؓ بیان فرماتے ہیں کہ حضورؑ کے پاس جب حافظ معین الدین صاحبؓ آتے تو آپؑ کے کہنے پر مَیں روٹی لے کر آتا۔ حضورؑ اپنا سالن بھی اُن کے سالن میں ملادیتے اور اپنا کھانا اُن کو دیدیتے۔ اگر پھر بھی حافظ صاحبؓ کی مزید کھانے کی خواہش ہوتی تو حضورؑ میرا کھانا بھی اُن کو دیدیتے اور بعد میں مجھے پیسے دیتے کہ کابلی چنے بھنوالاؤ۔ جب مَیں لاتا تو آپؑ ایک دو دانے ہی مونہہ میں ڈالتے۔
حضرت پیر حاجی احمد صاحب ؓ کا بیان ہے کہ 1889ء میں بارہا قادیان گیا۔ باوجود مہمانوں کی کثرت کے حضورؑ خود اپنے گھر سے کھانا اٹھاکر لاتے اور سب کے ساتھ مل کر کھاتے۔
حضرت مولوی حکیم انوار حسین صاحبؓ فرماتے ہیں کہ 1892ء میں مَیں پہلی بار قادیان آیا تو حضورؑ مہمانوں کے ساتھ ہی کھانا تناول فرمایا کرتے تھے اور کھانا کھاتے کھاتے اُٹھ کر اندر تشریف لے جاتے اور کبھی اچار اور کبھی چٹنی لاکر مہمانوں کے سامنے رکھتے لیکن خود بہت کم کھاتے تھے۔
ایک بار چند لوگوں کے لئے لنگرخانہ میں بٹیر پکائے گئے تو کسی اَور مہمان نے بھی دو بٹیر حاصل کرنے کی خواہش کی لیکن اُنہیں نہ دیئے گئے۔ حضرت حافظ حامد علی صاحبؓ نے یہ ماجرا حضور علیہ السلام کی خدمت میں عرض کردیا تو حضورؑ نے فرمایا کہ (جس دوست نے دو بٹیر لینے کی خواہش کی تھی) انہیں فوراً بٹیر بھجواؤ اور یہ بھی فرمایا کہ کل سب کے لئے بٹیر پکائے جائیں۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/yLKXz]

اپنا تبصرہ بھیجیں