سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الرابع کے بارہ میں خاندان کی بعض خواتین کے انٹرویوز

ماہنامہ ’’مصباح‘‘ ربوہ کی خصوصی اشاعت ’’سیدنا طاہر نمبر‘‘ میں سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کی بعض خواتین کے انٹرویوز بھی شامل اشاعت ہیں جن میں انہوں نے حضورؒ کی سیرت کے حوالہ سے آپ کی محبت و شفقت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔
٭ حضرت سیدہ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ بیان فرماتی ہیں کہ میرے ساتھ حضورؒ کا بہت گہرا تعلق تھا، لیکن بے تکلّفی کے ساتھ احترام کا پہلو ہمیشہ مدّنظر رکھا۔ سب سے ہنسی مذاق کرتے لیکن کبھی کسی کی دلآزاری نہ کی۔ بہنوں، بیوی، بیٹیوں کا بے حد خیال رکھتے۔ بہت مہمان نواز تھے۔ ملازمین کے ساتھ مل کر کام کرتے اور اُن کی ضروریات کا پورا خیال رکھتے۔ خود بے حد محنت کے عادی تھے۔ صبح صبح دودھ کی بالٹی پکڑ کر سائیکل پر زمینوں پر جاتے اور پھر واپس آکر نہاکر نماز پڑھنے چلے جاتے۔
٭ محترمہ صاحبزادی امۃالباسط صاحبہ بیان فرماتی ہیں کہ حضورؒ بچپن سے ہی بہت نڈر اور بہادر تھے۔ ایک بار چڑیا گھر کی سیر کے دوران چھلانگ لگاکر شیر کے جنگلے میں چلے گئے۔ حضرت مصلح موعودؓ کے پہرہ دار مکرم عبدالاحد خان صاحب نے دوڑ کر آپؒ کو باہر نکالا۔ سب گھبرائے ہوئے تھے لیکن آپؒ کے چہرہ پر خوف کے کوئی آثار نہ تھے۔ پھر آپؒ اتنے شرارتی تھے کہ جب ہم لڑکیاں اپنے گڈے گڑیا کی شادی کرتیں تو آپ اپنے دوستوں کے ساتھ آتے اور ہمارا پکا ہوا کھانا کھاجایا کرتے۔ ایک روز ہم نے کمرہ بند کرکے شادی کا اہتمام کیا تاکہ لڑکوں کی مداخلت کا امکان نہ رہے۔ ابھی کھانا شروع کرنا ہی تھا کہ یوں محسوس ہوا کہ دروازہ پر حضرت مصلح موعودؓ تشریف لائے ہیں۔ ہم نے کنڈی کھول دی۔ دیکھا تو حضورؒ تھے۔ آپؒ نے ایک بکرا پکڑا ہوا تھا جس سے ڈر کر لڑکیاں بھاگ گئیں اور حضورؒ نے اپنے دوستوں کے ساتھ شادی کے کھانے مزے سے کھائے۔
آپ بیان فرماتی ہیں کہ ایک بار مَیں نے سوال و جواب کی مجالس کے حوالہ سے حضورؒ سے پوچھا کہ کبھی پھنسے بھی ہو۔ فرمایا: ایک بار پھنسنے لگا تھا جب ایک آدمی نے کہا کہ آپ جو کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تین دن کے بعد سولی سے زندہ اُتر آئے تو آپ اپنا ایک آدمی ہمارے سپرد کردیں۔ ہم اُسے ایک گھنٹہ کے لئے سولی پر لٹکادیں گے، اگر وہ زندہ اُتر آیا تو آپ کو سچا مان لیں گے۔ یہ سن کر پہلے مَیں گھبرایا لیکن اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور مَیں نے کہا کہ آپ مانتے ہیں کہ حضرت یونسؑ مچھلی کے پیٹ میں تین دن تک رہے۔ آپ اپنا ایک آدمی دیدیں، ہم اُسے مچھلی کو کھلواتے ہیں، اگر وہ زندہ بچ گیا تو ہم تمہیں سچا مان لیں گے۔
حضورؒ نہایت مضبوط عزم اور بلند حوصلہ کے مالک تھے۔ دوسروں کا بے حد خیال رکھتے۔ آپؒ کی ایک بچی اُس وقت فوت ہوئی جب کچھ ہی دیر بعد آپؒ کی بیگم حضرت سیدہ آصفہ بیگم صاحبہ کے بھائی کا ولیمہ تھا۔ آپؒ نے اپنی بیوی کی خوشی کی خاطر ظاہر نہیں ہونے دیا کہ بچی فوت ہوگئی ہے۔ فنکشن ختم ہونے پر بتایا۔ اسی طرح ایک اَور بچی جلسہ سالانہ کے آخری دن وفات پاگئی۔ آپؒ جلسہ کی ڈیوٹیوں سے فارغ ہوکر لوگوں کو دوائیں دیتے رہے۔ پھر حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب نے آکر فرمایا کہ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ جنازہ پر آپؒ کا انتظار کر رہے ہیں۔ لوگ یہ سن کر شرمندہ ہوئے لیکن آپؒ کو خیال تھا کہ بچی تو فوت ہو ہی گئی ہے مگر جو لوگ دُور دُور سے آئے ہیں، اُن کو دوائیں ضرور دینی ہیں۔
خصوصاً نماز پڑھنے کا آپؒ کو بہت خیال رہتا۔ اگر مسجد میں نماز باجماعت نہ پڑھ سکتے تو کئی بار ہمارے ہاں آجاتے اور ہمیں شامل کرکے نماز باجماعت پڑھتے۔ بہت سادہ طبیعت تھی۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی بیماری کے دوران مَیں بھی اسلام آباد میں تھی۔ آپؒ کو اپنا کچھ ہوش نہ تھا، شدید گرمی میں ڈرائینگ روم کے ایک طرف ایک تکیہ لے کر سوجاتے۔ کھانے کو کچھ مل جاتا تو کھا لیتے، خود نہ مانگتے۔ شیخوپورہ کے ایک غیرازجماعت گھرانہ میں ٹھہرے تو اُن کے گھر والی نے کہا کہ اس نے بہت بڑا آدمی بننا ہے کیونکہ اتنی سادہ طبیعت بڑے آدمیوں کی ہی ہوسکتی ہے۔
پاکستان بننے کے بعد جب ہمارا رتن باغ میں قیام تھا تو جودھا مَل بلڈنگ کے میدان میں مہاجرین کے خیمے لگے ہوئے تھے۔ ایک مرتبہ جمعداروں نے ہڑتال کردی تو حضرت مصلح موعودؓ نے خدام کو حکم دیا کہ خود لوگوں کے گھروں کی صفائی کردیں تاکہ بیماریاں نہ پھیلیں۔ حضورؒ اس کام میں پیش پیش تھے۔ ایک مہاجر عورت کہنے لگی: بچے! تُو تے بڑے گھر دا لگدا ایں، تیرے اُتے کی آفت آئی اے؟
آپ مزید بیان فرماتی ہیں کہ حضورؒ نے بچپن سے تاوفات ہر موقع پر میرا خیال رکھا۔ محترم میر داؤد احمد صاحب کی وفات کے بعد اس قدر دلجوئی فرمائی کہ مَیں اس صدمہ کے اثر سے خدا تعالیٰ کے فضل سے جلد ہی باہر نکل آئی۔ میرا اور بچوں کا ہر طرح سے خیال رکھا۔ پھر داماد غلام قادر شہید کی شہادت کے واقعات کے بعد بھی ہمدردی، شفقت اور دلجوئی کا سلوک ایک شفیق باپ کی طرح رکھا۔
٭ محترمہ صاحبزادی امۃالنصیر صاحبہ نے بیان فرمایا کہ میرا اور حضورؒ کا صرف چار ماہ کا فرق تھا۔ آپؒ چھوٹی بہنوں کے ساتھ خوب کھیلتے، مذاق بھی کرتے لیکن مجھے یاد نہیں کہ کبھی لڑائی کی ہو یا کسی کی دلآزاری کی ہو۔ شعر و شاعری میں دلچسپی تھی اور جب سب مل کر شعر سناتے تو آپؒ کئی بار فی البدیہہ مزاحیہ شعر کہہ دیتے۔ بڑی بہنوں کا بہت احترام کرتے۔کبھی وقت ضائع نہ کرتے۔
٭ محترمہ صاحبزادی طاہرہ بیگم صاحبہ نے بیان فرمایا کہ حضورؒ بے حد محنتی انسان تھے لیکن اَنتھک محنت کرنے کے باوجود اتنے ہشاش بشاش ہوتے اور خوشدلی سے ملتے کہ اپنی تھکن کا اظہار تک نہ ہونے دیتے۔ جہلم میں ہمارے ہاں کبھی کبھی تشریف لاتے تو بہت جلدی میں ہوتے اور صرف چائے پی کر آگے روانہ ہوجاتے۔
آپ مزید بیان کرتی ہیں کہ ایک دوپہر مَیں نے خواب دیکھا کہ حضورؒ فرماتے ہیں: ’’آپا طاہرہ، آپا طاہرہ! یہ چونّی لے لو‘‘۔ مَیں چونّی لے کر تکیہ کے نیچے رکھ لیتی ہوں تو آنکھ کھل جاتی ہے۔ امی جان نے اس خواب کی تعبیر یہ بتائی کہ حضورؒ کی بیٹی کا رشتہ مانگو کیونکہ چونّی سے مراد لڑکی ہوتی ہے۔ چنانچہ سیفی اور شوکی کا رشتہ ہوگیا۔ بعد میں اکثر فرماتے: میری چونّی کا کیا حال ہے؟
آپ نے محترمہ بی بی آچھی (حضرت سیدہ صاحبزادی آصفہ بیگم صاحبہؒ) کے حوالہ سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ حضورؒ کو mumps نکلے ہوئے تھے اور 103 تک تیز بخار تھا لیکن میرے روکنے کے باوجود بھی خدام کے پروگرام میں شرکت کے لئے اسلام آباد چلے گئے۔ اپنی بالکل پرواہ نہیں کرتے تھے، ہر وقت کام کی دھن تھی۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/wzpjn]

اپنا تبصرہ بھیجیں