تعارف: سہ ماہی ’’اسماعیل‘‘ لندن

 

سہ ماہی ’’اسماعیل‘‘ لندن

(مطبوعہ انصارالدین جولائی تا اگست 2012ء)
(مطبوعہ اخبار ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 31 اگست 2012ء)
(مطبوعہ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 12 اکتوبر 2012ء)

سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی وقف نَو کی مبارک تحریک میں شامل بچوں اور بچیوں کی تعلیم و تربیت کی طرف خصوصی توجہ ہے۔ آپ اپنے خطبات، خطابات اور مختلف مواقع پر ہونے والی وقف نَو کی کلاسز میں اس بارہ میں اپنی زرّیں ہدایات و رہنمائی عطا فرماتے ہیں۔ چند ماہ قبل حضور انور ایدہ اللہ کے ارشاد پر واقفاتِ نَو کے لئے مرکزی طور پر سہ ماہی رسالہ ’مریم‘ کا اجراء ہوا تھا۔ اور اب حضور انور کی ہدایت پر مرکزی طور پر واقفین نَو کے لئے ایک تعلیمی و تربیتی مجلہ سہ ماہی ’’اسماعیل‘‘ جاری کیا گیا ہے۔ چنانچہ اس کا پہلا شمارہ اپریل تا جون 2012ء شائع ہوکر دستیاب ہے۔ اس مجلہ کے نگران مکرم ڈاکٹر شمیم احمد صاحب انچارج شعبہ وقف نَو مرکزیہ لندن ہیں۔ یہ رسالہ اردو اور انگریزی زبان میں ہے۔ اس کے اردو حصہ کے مدیر مکرم محمود احمد ملک صاحب ہیں اور انگریزی حصہ کے مدیر مکرم وحید قریشی صاحب اور مینجر مکرم مسرور احمد صاحب ہیں۔ اور یہ رسالہ رقیم پریس اسلام آباد سے شائع ہوا ہے۔ یہ رسالہ خوبصورت کور ڈیزائن اور رنگین تصاویر سے بھی مزین ہے۔
اس رسالہ کے پہلے ایڈیشن میں قال اللہ تعالیٰ و قال الرسول صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کے علاوہ سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا رسالہ ’’اسماعیل‘‘ کے آغاز پر خصوصی پیغام بھی شامل ہے۔ ذیل میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا یہ خصوصی پیغام ہدیۂ قارئین ہے۔

’’بِسْم اللہ الرَّحْمٰنِ الرّحیم
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلیٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمؐ
وَ عَلیٰ عَبْدِہٖ الْمَسِیْحِ الْمَوْعُوْدؑ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔ ھوالنّاصر

لندن۔ 25-4-12
پیارے واقفینِ نَو السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الحمدللہ کہ آپ کا پہلا رسالہ حسن اتفاق سے اس وقت سامنے آرہا ہے جب اس تحریک کے 25سال بھی پورے ہورہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ا س کو ہر لحاظ سے بابرکت کرے۔ اس کا نام ’’اسماعیل‘‘ رکھا گیا ہے جو ان قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جو حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ علیھا السلام نے دیں اور ایک وادی غیرذی زرع میں اپنی زندگی گزاری اور دین کے لئے قربانی کے اعلیٰ معیار قائم کئے۔ اسی طرح ہر واقفِ نَو سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے وقف نَو کے عہد کو جو اُن کے ماں باپ نے اُن کی پیدائش سے بھی پہلے کیا اور جس کی تجدید انہوں نے خود کی، اس کو اُس اعلیٰ معیار کے ساتھ نبھانے کی کوشش کریں گے جس کی مثال حضرت اسماعیل علیہ السلام نے ہمارے سامنے رکھی اور اُن کی قربانیوں کو قبول کرتے ہوئے اُن کی نسل سے اللہ تعالیٰ نے اس انسان کامل کو پیدا کیا جس نے عظیم روحانی انقلاب پیدا کیا اور جنگل کے رہنے والے بدّئووں کو تعلیم یافتہ انسا ن بنایا اور پھر باخدا اور خدانما انسان بنادیا اور پھر انہوں نے بھی دین کی خاطر وہ قربانیاں دیں کہ جو اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھی جانے والی ہیں۔ وہ ایک باقاعدہ نظام میں شامل نہ ہونے کے باوجود ہر وقت اپنی زندگیاں دین کے لئے وقف رکھتے اور ہر قربانی کے لئے ہمہ وقت مستعد رہتے۔
ہر وقفِ نَو جو عملاً وقف کے ایک باقاعدہ نظام میں شامل ہوتا ہے کہ نہیں یعنی جماعت کے مستقل کارکن کی حیثیت سے کام کرتا ہے یا نہیں وہ وقف زندگی بہرحال ہے اور اس کا ہر قول وفعل وقف زندگی کے اعلیٰ معیاروں کے مطابق ہونا چاہئے جس میں سب سے بڑی چیز تقویٰ ہے ۔ا سے ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھیں کہ ہم نے تقویٰ پر قائم رہنا ہے اور ہرکام اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرنا ہے ۔ اپنی نمازوں کی بھی حفاظت کرنی ہے اور قرآنی تعلیم پر غور و تدبر کرکے اس کو اپنی زندگیوں پر لاگو کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کو ہماری اصلاح کے لئے مسیح موعود اور مہدی معہود بنا کر بھیجا ہے اور جن کی بیعت میں آکر ہم نے یہ عہد کیا ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدّم رکھیں گے لیکن یہ ہم اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ ہم اپنی زندگی کے ہر قول اورفعل کو قرآنی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے تابع گزارنے کی کوشش نہیں کرتے۔اگر ہماری زندگیاں قرآن وسنت کے مطابق اور ان کی جو تشریح اس زمانے کے امام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کی ہے اس کے مطابق گزریں توتبھی ہم اپنے وقف کے عہد کو حقیقی طورپر نبھا سکتے ہیں ۔ خاص طور پر اس معاشرے میں جہاں آزادی کا دور دورہ ہے ا ور آزادی کے نام پر اخلاقی بے راہ روی ہر جگہ عام نظر آتی ہے۔ اس میں ہم نے اپنے آپ کو ہر لحاظ سے سنبھال کر رکھنا ہے اور ایک نمونہ قائم کرنا ہے تاکہ دوسرے نوجوان بھی ا ور بچے بھی ہمیں دیکھ کرہم سے نمونہ حاصل کریں۔ اوراس طرح ہم ہراحمدی بچے اور جوان کے لئے ایک نیک نمونہ بنتے ہوئے ان کی اصلاح کا موجب بننے والے ہوں ۔ پس اس بات کو ہمیشہ یادرکھیں کہ ہم نے اپنی زندگیاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیمات اور ارشادات کی روشنی میں حقیقی اسلامی نمونہ کے مطابق گزارنی ہیں اور یہ تبھی ممکن ہوگا جب آپ ہمیشہ خلافت سے وفا کا تعلق رکھیں گے اور خلیفہ وقت کی ہر نصیحت پر بھر پور عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔اور ہر بات کا مخاطب سب سے پہلے اپنے آپ کو سمجھیں گے۔ اگر آپ یہ کرلیں تو آپ اس عہد کو نبھانے والے بنیں گے جو آپ نے بحیثیت وقف نَو خداتعالیٰ سے کیا یا آپ کے والدین نے آپ کی پیدائش سے بھی قبل آپ کو وقف کرکے کیا۔ اللہ آپ کو اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین‘‘
……………………
اس رسالہ کا اردو حصہ 50 صفحات پر جبکہ انگریزی حصہ 46 صفحات پر مشتمل ہے۔ اردو اور انگریزی حصہ میں خلفاء کرام کے ارشادات و ہدایات کے علاوہ متعدد دلچسپ، مفید اور معلوماتی مضامین شامل ہیں۔ یہ رسالہ ہر واقف نَو کو ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔اس رسالہ کے حصول کے لئے حسب ذیل پتہ پر رابطہ کیا جاسکتا ہے:
Waqf-e-nau Department Central
16 Gressenhall Road,
London SW18 5QL, UK

پرنٹ
The short URL of the present article is: http://mahmoodmalik.zindgi.uk/gyRBJ

اپنا تبصرہ بھیجیں