سڑکوں پر آلودگی اور انسانی صحت – جدید تحقیق کی روشنی میں

سڑکوں پر آلودگی اور انسانی صحت – جدید تحقیق کی روشنی میں
(فرخ سلطان محمود)

سڑکوں پر بڑھنے والی آلودگی کی وجہ سے انسانی صحت جس طرح متاثر ہورہی ہے اس کا اندازہ درج ذیل رپورٹس سے کیا جاسکتا ہے:
٭ امریکہ میں انسانی صحت سے متعلق قائم ایک ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ پٹرول کے جلنے سے جو دھواں خارج ہوتا ہے اُس سے خون کو پمپ کرنے کی دل کی صلاحیت متأثر ہوتی ہے اور اس طرح دل کی دھڑکن بے قاعدگی کا شکار ہو جاتی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق بڑے شہروں میں رہنے والے ہر روز سانس کے ذریعے زہریلا دھواں اپنے پھیپھڑوں میں لے جاتے ہیں جس سے دل کی بیماریوں کے علاوہ دوسرے عوارض بھی لاحق ہوتے ہیں۔ کیونکہ پٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے انجن ایسے خطرناک کیمیائی اجزاء خارج کرتے ہیں جو انسانی جسم میں جاکر نہ صرف دل کے امراض کا باعث بنتے ہیں بلکہ دل کی کارکردگی متأثر ہونے سے فالج کے حملے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
٭ امریکی سائنسدانوں کے مطابق ڈیزل کا دھواں سرطان کا سبب بن سکتا ہے۔ ایک سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ڈیزل کا دھواں جسم کے ہر حصے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ خاص طور پر اس کے باریک ذرات خون میں شامل ہو کر کئی خطرناک بیماریوں کا سبب بنتے ہیں جن میں ایک سرطان بھی ہے۔ اوہائیو یونیورسٹی میں شعبہ انوائرنمینٹل ہیلتھ سائنسز کے معاون پروفیسر جو اس تحقیق کے سینئر مصنف بھی ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ ڈیزل کے بدبودار دھویں کا مستقل شکار رہنے والوں میں صرف دو ماہ کے قلیل عرصے میں ٹیومر کے ٹشوز بن جاتے ہیں۔
٭ طبی ماہرین نے ہائی بلڈ پریشر اور دل کے مریضوں کے لئے ٹریفک جام والی شاہراہوں پر سفر کرنا خطرناک قرار دیا ہے۔ برٹش ہارٹ ایسوسی ایشن کے اجلاس میں پیش کی جانے والی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں، سڑکوں کا شور شرابہ، گاڑی کے انجن پر مسلسل نظر رکھنے اور گیئر وغیرہ بدلنے سے پیدا ہونے والے جسمانی تناؤ سے بلڈپریشر میں اضافہ اور دل کی شریانوں میں کچھاؤ پیدا ہوجاتا ہے۔ ماہرین نے مزید کہا ہے کہ اس صورتحال میں پُرسکون رہنا ہی سب سے بہتر اور عمدہ احتیاطی تدابیر ہے۔ چنانچہ رش میں پھنسنے کی صورت میں گاڑی کے شیشے بند رکھیں۔ AC آن کر لیں اور اپنی توجہ کسی اور جانب کر لیں۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/ouhlx]

اپنا تبصرہ بھیجیں