سِیل (SEAL)

پانی میں رہنے والا نرم و ملائم اور نہایت چکنے جسم اور کالے رنگ کا جانورسِیل کہلاتا ہے۔ اس کا جسم لمبا اور درمیان سے موٹا ہوتا ہے اور منہ پر لمبی مونچھیں ہوتی ہیں۔ یہ خشکی پر بھی آ جاتاہے اور جب خشکی پر لیٹتا ہے تو اپنے پاؤں جسم کے نیچے چھپا لیتا ہے۔ اسی لئے اِس کو تارپیڈو بھی کہا جاتاہے۔ اس کے جسم کی کھال کے نیچے چربی کی موٹی سی تہہ ہوتی ہے جو نہ صرف اس کا جسم گرم رکھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ ایسی توانائی بھی فراہم کرتی ہے کہ اِسے جلدی جلدی کھانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
سیل کی اکثر اقسام میں چھوٹا سا سر اور چھوٹی سی ناک ہوتی ہے۔ ایک خاص قسم کی ناک پر جھلّی دار سرخ رنگ کی تھیلی ہوتی ہے جسے وہ پھُلا کر اپنے سر سے بھی اونچا کر سکتا ہے۔ وہ پریشانی میں تھیلی کو پُھلا لیتا ہے جو ایک سرخ غبارے کی طرح لگتی ہے اور اس سے یہ دشمنوں کو ڈرانے کا کام لیتا ہے۔ اِس کے نتھنے درز نما ہوتے ہیں جنہیں پانی میں تیرنے کے دوران بند کرلیا جاتا ہے۔ آنکھیں بڑی اور چمکدار ہوتی ہیں۔ سیل کی زیادہ تر اقسام میں سونگھنے کی طاقت بہت کم ہوتی ہے۔ اس کی مونچھیں بہت حسّاس ہوتی ہیں جن سے خوراک کی تلاش میں مدد ملتی ہے۔ اس کی چاروں ٹانگوں کے اختتام پر چپّو کی طرح کے فلیپر ہوتے ہیں۔
سیل کی عام عمر 40 سال ہوتی ہے اور اس کی اکثر اقسام گروپوں میں رہنا پسند کرتی ہیں۔ یہ ہر موسم بہار میں بچوں کی پیدائش کیلئے ساحل پر آتے ہیں۔ جب مادہ سیل اپنے بچوں کو خوراک پہنچانے آتی ہے تو وہاں کئی سو بچے ہوتے ہیں لیکن ہر سیل اُن میں سے صرف اپنے ہی بچے کو خوراک مہیا کرتی ہے۔ اگرچہ اُن کی سونگھنے کی صلاحیت اچھی نہیں ہوتی تاہم وہ اپنے بچے کو بو سے پہچانتی ہے۔ چار ماہ کی عمر کا بچہ آزاد زندگی گزارنے لگتا ہے۔
سیل کے دانت نوکیلے اور تیز ہوتے ہیں لیکن چونکہ ہموار نہیں ہوتے اس لئے یہ اپنی غذا کو چبا نہیں سکتا اور چھوٹی مچھلیوں کو تو ثابت ہی نگل جاتا ہے۔ انسان اِس کی چربی، ہڈیاں اور گوشت حاصل کرنے کے لئے اِس کا شکار کرتا چلا آیا ہے۔ بعض ممالک میں اِس کی نسل کی حفاظت کی خاطر اب اِس کے شکار پر پابندی عائد ہے۔
سیل کی کچھ اقسام میٹھے پانی میں بھی پائی جاتی ہیں۔ سب سے بڑا سیل جو ’’ہاتھی سیل‘‘ کہلاتا ہے وہ لمبائی میں ساڑھے چھ میٹر تک بڑا ہوتا ہے اور وزن کے لحاظ سے وہیل کے بعد سب سے بڑا سمندری جانور ہے۔ یہ انٹارکٹیکا میں پایا جاتا ہے۔ یہ معلوماتی مضمون مکرمہ عفت مسعود صاحبہ کے قلم سے ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ نومبر98ء میں شامل اشاعت ہے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/TywLE]

اپنا تبصرہ بھیجیں