سلائی مشین ۔ ایک مفید ایجاد

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 8؍مارچ 2006ء میں سلائی مشین کی ایجاد سے متعلق ایک تفصیلی معلوماتی مضمون شامل اشاعت ہے۔
1755ء میں ایک جرمن Charles Weisenthal نے درزیوں کی سہولت کے لئے دہری نوکدار سوئی تیار کی تھی ۔ لیکن سلائی مشین کی ترقی میں پہلا واقعہ اس وقت رونما ہوا جب انگلستان کے تھامس سینٹ نے 1790ء میں ایک مشین ایجاد کی جو کپڑے پر بخیہ لگانے کے علاوہ ٹانکا بھی لگا سکتی تھی۔ یہ مشین رضائی یا لحاف میں نگندے بھی ڈال سکتی تھی۔ اس میں موجودہ دور کی سلائی مشین والی کچھ خصوصیات بھی موجود تھیں۔ ابتدائی دور میں تھامس سینٹ کا خیال تھا کہ سلائی مشین ہاتھ سے سلائی کی حرکات کے تکراری عمل کو مدنظر رکھ کر ہی تیار کی جاسکتی ہے۔ یہ ایک بنیادی غلطی تھی جو مزید چالیس سال جاری رہی۔ آخر 1830ء میں فرانس کے ایک غریب درزی Barthelemy Thimonier نے پہلی مشین ایجاد کی جو صحیح معنوں میں سلائی کا کام کرتی تھی۔
تھمونیئر فرانسیسی صوبہ Loire کے ایک صنعتی قصبہ سینٹ ایٹائن (St. Eteinne) میں کام کرتا تھا۔ وہ اکثر ان عورتوں کی قوت برداشت پر حیرت کا اظہار کیا کرتا تھا جو تمام دن کروشیہ کی مدد سے کشیدہ کاری کرتی رہتی تھیں۔ اُنہیں دیکھ دیکھ کر ہی اُسے ایسی مشین بنانے کا خیال آیا۔ 1830ء تک اس نے اپنی انتھک کوششوں کا ثمر حاصل کر لیا۔ اس کی سلائی مشین کی بنیادی خوبی اس کی سوئی کا نوک سے اوپر کی جانب خمدار ہونا تھی۔ یہ سوئی ایک پیڈل سے حرکت کرتی تھی جو پاؤں کی حرکت سے کام کرتا تھا۔ سوئی کی ہر بار اوپر نیچے حرکت سے مشین ایک ٹانکا لگاتی تھی۔اسی مشین کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے بعد میں سلائی مشینیں بنائی گئیں۔ تھمونیئر نے اپنی اس ایجاد کو پیٹنٹ بھی کروایا۔ پھر اس نے پیرس جاکر وہاں کے Sevres نامی کوچے میں اپنی ایک ورکشاپ بنالی۔ اس کا یہ کاروبار چمک اٹھا اور جلد ہی اس کی ورکشاپ میں بیس کاریگر کام کرنے لگے۔ پیرس کے درزیوں نے پہلے تو تھمونیئر کی ایجاد کو ایک مذاق سمجھا لیکن جلد ہی انہیں اندازہ ہوگیا کہ یہ سلائی مشین ان کی روزی کے لئے واقعی ایک خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔ ایک دن یہ لوگ طیش میں اُس کی ورکشاپ پر حملہ آور ہوئے۔ تھمونیئر کی ورکشاپ میں اسّی مشینوں پر فوجی کپڑوں کی سلائی کا کام جاری دیکھ کر مخالفین نے ورکشاپ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا اور تھمونیئر کو بری طرح زخمی کر دیا۔
تھمونیئر کا کاروبار تباہ ہوگیا اور وہ اپنی ایک مشین بغل میں دباکر پیرس کی گلیوں میں کسی درزی کے پاس نوکری ڈھونڈنے پر مجبور ہوگیا۔ لیکن جب کسی نے بھی اُس سے تعلق نہ رکھا تو وہ مجبوراً اپنے آبائی قصبہ چلاگیا۔ وہاں اُس نے مزید تحقیق کی اور جلد ہی ایسی مشین تیار کی جو ایک منٹ میں 300 بخئے لگا سکتی تھی۔ اس امید پر کہ انگریز کارخانہ دار اس کی اس ایجاد میں دلچسپی لیں گے، تھمونیئر نے انگلستان میں اپنی ایجاد کے حقوق فروخت کر دئیے۔ اس نے اپنی زندگی کے آخری ایام فرانس میں انتہائی غربت کی حالت میں گزارے۔ تھمونیئر کا انتقال 1857ء میں ہوا۔
اُسی زمانہ میں دو امریکی بھی سلائی مشین کی ایجاد کی کوششوں میں مصروف تھے۔ ایک نیو یارک کا Walter Hunt جس نے سیفٹی پن بھی ایجاد کی تھی۔ دوسرا Elias Howe جو میسا چیوسٹس کا رہنے والا تھا۔ ہنٹ کی مشین میں تھمونیئر والی مشین کی طرح ایک خمیدہ سوئی اوپر نیچے حرکت کرتی تھی لیکن اس نے نوک کے قریب سوئی میں سوراخ بھی بنایا ہوا تھا اور ایک شٹل بھی تھا جس کے نتیجہ میں ایک ایسا ٹانکہ لگتا تھا جو بہت مضبوط ہوتا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے اس نے طویل عرصہ تک اپنی ایجاد کو پیٹنٹ نہ کروایا چنانچہ وہ 1850ء کے عشرہ کے دوران امریکہ میں سلائی مشین سازی کے حقوق کی قانونی کوششوں میں براہ راست شامل نہ ہوسکا۔
ایلیاس ہاؤ نے بھی اپنے تجربات کی مدد سے ہنٹ کی طرح ہی مشین ایجاد کی۔ تاہم یہ اُس سے بہتر بھی تھی۔ 1846ء میں وہ اپنی ایجاد کے حقوق محفوظ کروانے کے بعد لندن چلا گیا اور اس نے برطانوی حقوق ولیم تھامس نامی ایک شخص کے ہاتھ فروخت کردئیے جو عورتوں کی شمیضیں بنانے کا کام کرتا تھا۔ ہاؤ چند سال لندن میں رہا اور 1850ء تک وہ واپس نیویارک چلا گیا۔ ہاؤ کو نیو یارک واپس آنے کے لئے کرایہ اکٹھا کرنے کی خاطر اپنی امریکی ایجاد کے حقوق کو لندن میں رہن رکھنا پڑا تھا۔ بعد میں اس نے یہ حقوق دوبارہ حاصل کر لئے۔ امریکہ پہنچ کر اُسے معلوم ہوا کہ اس کی غیرموجودگی میں بہت سی نئی ایجادات کے حقوق محفوظ کرائے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک ایجاد Allen Wilson کی تھی۔ ولسن کی مشین سادہ لیکن زیادہ عملی نوعیت کی تھی۔ اسی طرح Isaac Merritt Singer نے ایک ایسی مشین کے حقوق محفوظ کروائے تھے جو بنیادی طور پر ہاؤ کی مشین جیسی تھی لیکن اس سے زیادہ عملی اور عمدہ خصوصیات کی حامل تھی۔ 1851ء کے سلائی مشین کے امریکی موجدوں میں Seymour اور William Grover کے نام بھی آتے ہیں جنہوں نے دہرا زنجیری ٹانکا اختراع کیا تھا۔
اب ہاؤ نے دوسری مشینوں کو ترقی دینے کی کوششیں شروع کردیں۔ 1854ء میں بوسٹن کی عدالت میں ہاؤ کا اپنے حریفوں کے ساتھ ایک تنازعہ چل نکلا۔ دعویٰ یہ تھا کہ اگرچہ سنگر نے ہاؤ کے نظریہ کو مدنظر رکھ کر اپنی مشین ایجاد کی تھی لیکن ہاؤ کی مشین بیک وقت صرف چند انچ تک مسلسل بخیہ لگا سکتی تھی لیکن سنگر کی مشین مسلسل بخئے لگاتی تھی اور مارکیٹ میں اُسی کی مشین کو پسند کیا جاتا تھا۔ یہ درحقیقت سلائی مشین سازوں اور موجدوں کے مابین ایک تلخ اور متشدد کشمکش تھی جو امریکی عدالتوں اور پریس میں جاری رہی۔ آخرکار تمام فریقوں کے مابین ایک معاہدہ طے پاگیا۔یہ معاہدہ ’’سلائی مشین کارپوریشن‘‘ کے قیام سے ممکن ہوا جس میں ہر مشین کی فروخت میں سے رائیلٹی پانچ موجدوں کو دی جانی تھی۔ لیکن ہاؤ کو اس بات کی خبر نہ تھی کیونکہ وہ 1867ء میں پیرس میں انتقال کر چکا تھا۔ انتقال سے قبل اسی سال اسے لجن آف آنر کا تمغہ بھی دیا گیا۔
سلائی مشین یقینا ایک ایسی مشین تھی جو ہر گھر میں استعمال ہوسکتی تھی۔ اسی وجہ سے یہ مشین گھریلو استعمال کی پہلی شے تھی جو قسط وار خریداری کے نظام کے تحت بڑی تعداد میں فروخت کی گئی۔ آج دنیا کی بے شمار چیزوں (بوٹ، پیراشوٹ، صوفہ سیٹ وغیرہ) کی سلائی کے لئے 2000 سے زائد اقسام کی سلائی مشینیں استعمال کی جاتی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی مشین سات سوئیوں والی سلائی مشین ہے جو سات قطاروں کی شکل میں دہرا زنجیری بخیہ لگاتی ہے۔ یہ مشین ایک منٹ میں 20000 بخیے لگاتی ہے۔ ایک مشین ایسی بھی ہے جس کا وزن ایک ٹن ہے۔ ایک ایسی سلائی مشین بھی موجود ہے جو تیل صاف کرنے میں استعمال ہونے والے خاص مادوں پر ٹیڑھے میڑھے بخیئے لگاتی ہے۔ ایک اور قسم کی مشین کتابوں کے صفحات کی سلائی کر کے انہیں اکٹھا جوڑتی ہے۔ ہوزری کے کارخانوں میں استعمال ہونے والی مشینوں کی نظر نہ آنے والی سوئیاں ایک سیکنڈ میں 80 دفعہ اوپر نیچے حرکت کرتی ہیں۔
ایک ایسی سلائی مشین بھی ایجاد ہو چکی ہے جو سوئی کے بغیر ٹانکا لگاتی ہے۔ اس حیران کن مشین میں بلند فریکوینسی والی برقی روکی حرارت سے بالکل ایسے سوراخ بنتے ہیں جیسے سوئی سوراخ بناتی ہے۔ اس قسم کی مشینیں پلاسٹک والے مادوں کی سلائی کے لئے خاص طور پر موزوں ہوتی ہیں۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/ZXLnA]

اپنا تبصرہ بھیجیں