سعداللہ پور میں احمدیت

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 22 دسمبر 2011ء میں مکرم سیف اللہ وڑائچ صاحب نے ایک مضمون میں اپنے گاؤں سعداللہ پور (سابق ضلع گجرات) میں احمدیت کے قیام کی مختصر تاریخ اور اس حوالہ سے حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحبؓ کی تبلیغی کاوشوں کا ذکر کیا ہے۔
راجیکی سے تین کوس کے فاصلہ پر موضع سعدﷲ پور وڑائچاں دریائے چناب کے کنارے پر ہیڈ خانکی اور ہیڈ قادرآباد کے درمیان واقع ہے۔ اس وقت یہ گاؤں ضلع منڈی بہاؤالدین کا حصہ ہے۔ کسی زمانہ میں گاؤں کا ماحول بہت بہتر تھا اور آپس میں بھائی چارہ کی فضا قائم تھی۔ قدرتی چراگاہ، پُرفضا ماحول، گھنے جنگل اور وافر شکار۔ دریا کے کنارے پر ہونے کی وجہ سے پتن بھی تھا اور آمدورفت بذریعہ کشتی ہو تی تھی۔ 1982ء تک مسجد بھی اکٹھی تھی۔ پھر احمدیوں نے علیحدہ تعمیر کرلی جس کا افتتاح حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے اپنی خلافت سے چند ماہ قبل کیا۔ پہلے قبرستان بھی اکٹھا تھا۔ 1966ء میں میرے دادا محترم خان محمد صاحب نے سڑک کنارے اپنی ذاتی زمین میں دفن کئے جانے کی وصیت کی۔ بعد میں یہی جگہ سرکاری طور پر احمدیہ قبرستان قرار پائی۔ جبکہ 2004ء میں مشترکہ قبرستان میں ایک احمدی کی تدفین پر 18احمدیوں کو مقدمہ کا سامنا کرنا پڑا۔
سعدﷲپور میں 3دسمبر1848ء کو سکھوں اور انگریزوں کے درمیان جنگ رام نگر لڑی گئی جس میں راجہ شیر سنگھ نے انگریز جرنیل لارڈ گلف کو شکست دی تھی۔ انگریز فوج کے 23؍افسر مارے گئے اور 56 شدید زخمی ہوئے۔ آج بھی ایک سنگ مرمر کا صلیب کے نشان والا لمبا پتھر سعدﷲپور میں اُن مرنے والوں کی یاد میں نصب ہے۔ جنگ کے وقت میرے پڑدادا چوہدری عبدﷲ خان وڑائچ اس گاؤں کے نمبردار تھے۔ اور انہوں نے سکھوں کی ہر طرح سے امداد کی تھی۔ انگریزوں سے نفرت کی وجہ سے لوگ اُن سے بہت محبت کرتے تھے۔ علاوہ ازیں پتن کی وجہ سے مسافروں کی دیکھ بھال بھی وہی کیا کرتے تھے۔ اُن کا لنگر بھی جاری رہتا تھا۔ اُن کی وفات کے تقریباً 3-4 ماہ بعدمیرے دادا پیدا ہوئے۔ جس زمانہ میں حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحبؓ سعدﷲ پور گئے تھے اس وقت میرے دادا خان محمد نمبردار تھے۔
حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحبؓ (بیعت 1897ء) کے چچا حضرت نظام دینؓ کے بیٹے حضرت میاں غلام علی صاحبؓ سعدﷲ پور میں ٹیچر تھے۔ دونوں باپ بیٹا نے 1898ء میں بیعت کرلی تھی۔ حضرت مولا نا راجیکی صاحبؓ ان کے ہاں اکثر آتے رہتے تھے۔ سعداﷲ پور کے امام مسجد مولوی غوث محمد تھے جو کہ اہل حدیث تھے۔ ایک دن حضرت مولانا صاحبؓ نے اُن کو حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت سمجھانے کی کوشش کی تو وہ غصے میں آگئے اور مولانا صاحبؓ اور حضرت مسیح موعودؑ کی شان میں گستاخانہ الفاظ استعمال کئے۔ مولانا صاحب نے وہ رات مسجد میں گزاری اور خدا کے حضور گڑگڑا کر دعائیں کرتے ہوئے سوگئے۔ اس رات کھانا بھی نہ کھایا۔ صبح منہ اندھیرے غوث محمد صاحب وہاں آئے اور معافی کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ مَیں ابھی بیعت کرتا ہوں۔ راجیکی صاحب نے معاملہ پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ رات مَیں نے خواب دیکھا کہ قیامت کا دن ہے اور مجھے دوزخ میں ڈالے جانے کا حکم ہوا۔ فرشتے آگ کی بنی ہوئی گرزیں لے کر کھڑے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم نے مسیح موعود کی شان میں گستاخی کی ہے، لہٰذا اب چلو جہنم اور سزا بھگتو۔ مَیں نے کہا کہ میں توبہ کرتا ہوں آپ مجھے چھوڑ دیں۔ لہٰذا میں اسی وقت جاگ گیا اور سیدھا آپ کے پاس آیا ہوں۔ اس واقعہ کے بعد سعدﷲ پور میں کئی لوگ احمدی ہوگئے۔ لیکن مولوی غوث محمد صاحب کا داخلہ مسجد میں بند کر دیا گیا اور پھر وہ اپنے گھر کی بیٹھک میں ہی احمدی احباب کے ساتھ نمازیں پڑھنے لگے۔ 1903ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سفرِ جہلم کے دوران چند احباب نے جہلم میں حاضر ہوکر بیعت کرنے کی سعادت پائی۔ ان میں مضمون نگار کی دادی اپنے ایک چھوٹے بیٹے (مضمون نگار کے چچا) کے ہمراہ بھی شامل تھیں جنہوں نے اپنے خاوند کی سخت طبیعت کی وجہ سے بعد میں بھی کافی عرصہ اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھا اور چندہ بھی خاموشی سے ادا کرتی رہیں ۔ مضمون نگار کے دادا محترم چوہدری خان محمد صاحب کو اصحابِ احمدؑ میں شامل ہونے کی سعادت نہ مل سکی اور وہ 1914ء میں احمدی ہوئے۔ سعدﷲپور میں صحابہ کی تعداد قریباً 22 تھی۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/F4QwK]

اپنا تبصرہ بھیجیں