سر آئزک نیوٹن

سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 19؍فروری 1999ء میں فرمایا: ’’(الیگزنڈر) پوپ شاعر نے ایک ایسی بات کہی ہے، ایک سائنسدان کے متعلق جس کے متعلق میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جب سے دنیا بنی ہے کسی سائنسدان کو اتنا عظیم خراج تحسین پیش نہیں کیا گیا … اس کو غالباً کہا گیا کہ نیوٹن کی شان کے مطابق کوئی ایسا شعر کہو جو اس کے کتبے پر لکھا جائے … اس نے اس کی خاطر لکھا… قانونِ قدرت اور قانونِ قدرت کے راز رات کے اندھیرے میں لپٹے ہوئے تھے یعنی لاعلمی کے اندھیرے میں پڑے ہوئے تھے … خدا نے فرمایا Let Newton Be نیوٹن ہوجا اور روشنی پھیل گئی۔ اتنا عظیم الشان مقولہ ہے کہ آج تک کسی سائنسدان کو دنیا کے پردے پر ایسا عظیم خراج تحسین پیش نہیں کیا گیا ہوگا۔ اور واقعۃً سچا ہے کیونکہ دنیا کے بڑے بڑے عظیم الشان سائنسدان روشنی سے اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں یعنی خدا سے دُور چلے جاتے ہیں۔ نیوٹن وہ سائنسدان ہے جس نے اندھیروں سے خود بھی روشنی کی طرف سفر کیا اور روشنی کو پالیا۔ اس لئے اگر دنیا کے تمام سائنسدانوں میں کسی کو حقیقتاً ولی اللہ کہا جا سکتا ہے تو یہ نیوٹن تھا‘‘۔
حضور نے مزید فرمایا: ’’حضرت مسیح موعودؑ نے جو ہمیں علم کلام عطا کیا یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس کا فیض گزشتہ میں سفر کرکے نیوٹن کو پہنچا ہے‘‘۔
مزید فرمایا کہ ’’یہ آئزک نیوٹن ہے جس کے متعلق مَیں نے عرض کیا کہ جب سے دنیا میں علمی انقلابات آئے ہیں، ایسا انقلاب کسی سائنسدان کے ذریعے نہیں آیا جس میں دنیاوی علوم کی روشنی بھی پھیل گئی ہو اور روحانی علوم کی روشنی بھی پھیل گئی ہو، ایک نیوٹن تھا‘‘۔
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 28؍جون 1999ء میں مائیکل ہارٹ کے ایک انگریزی مضمون کا اردو ترجمہ مکرم عاصم بٹ صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔ اسی طرح ماہنامہ ’’خالد‘‘ جون 1999ء میں نیوٹن کے بارہ میں ایک مضمون مکرم راجہ برہان احمد صاحب طالع کے قلم سے شائع ہوا ہے۔ ان دونوں مضامین سے خلاصہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔
عظیم سائنسدان گلیلیو کا انتقال 1642ء میں ہوا اور جولین کیلنڈر کے مطابق اِسی سال کرسمس کے روز ’’وولزتھورپ‘‘ (انگلستان) کے مقام پر آئزک نیوٹن پیدا ہوئے۔ موجودہ گریگیرین کیلنڈر میں یہ تاریخ 4؍جنوری 1463ء بنتی ہے۔ آپ کے والد آپ کی پیدائش سے پہلے ہی وفات پاچکے تھے۔ آپ کی پیدائش Premature تھی۔ جب آپ کی عمر دو سال ہوئی تو آپ کی والدہ نے دوسری شادی کرلی اور نیوٹن کو دادی کے ساتھ رہنے کیلئے بھیج دیا۔ بارہ سال کی عمر میں آپ کو سکول میں داخل کروایا گیا۔ نیوٹن بچپن ہی سے ذہین تھے لیکن درسی تعلیم میں دلچسپی نہیں تھی۔ جب آپ سولہ برس کے ہوئے تو آپ کی والدہ دوبارہ بیوہ ہوگئیں چنانچہ انہوں نے آپ کو سکول سے اٹھاکر زراعتی کاموں پر لگادیا۔ لیکن سائنس میں دلچسپی کی وجہ سے آپ کا ذہن زمینوں کی طرف مائل نہ ہوسکا اور 18؍سال کی عمر میں کیمبرج یونیورسٹی کے ٹرینٹی کالج میں داخل ہوئے، 1665ء میں گریجوئیشن کی اور صرف 26؍ سال کی عمر میں آپ کیمبرج یونیورسٹی میں پروفیسر مقرر ہوئے۔ 1668ء میں آپ نے ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔
اُس زمانہ میں آپ کا حلیہ یوں تھا: چھوٹا قد، پیشانی کشادہ، چہرہ نمایاں، ناک لمبی، آنکھیںبھوری اور چمکدار، سر کے بال فیشن کے مطابق کندھوں پر گرے ہوئے، عمر تیس سال سے کم مگر بال پھر بھی سفید، طور طریق میں باحیا، کم گو اور درویش منش، مسکراہٹ ہردلعزیز۔
ہرچند کہ دوربین کی ایجاد کے بعد گلیلیو اور کوپرنیکس نے قدیم علوم کی کئی غلط فہمیاں دور کردی تھیں لیکن قوانین کا کوئی مجموعہ وضع نہیں کیا جاسکا تھا۔ نیوٹن نے روشنی کی ہیئت سے متعلق گرانقدر تجربات کئے اور انعطاف اور انعکاس کے قوانین دریافت کرنے کے ساتھ ساتھ معلوم کیا کہ سفید روشنی دراصل قوس قزح کے رنگوں کا مجموعہ ہے۔ چنانچہ انہوں نے 1668ء میں روشنی منعکس کرنے والی پہلی دوربین کا نقشہ اور ڈھانچہ تیار کیا اور صرف انتیس برس کی عمر میں اپنی شاندار دریافتوں کو برٹش رائل سوسائٹی کے سامنے پیش کردیا۔
نیوٹن نے علم الاحصاء (Calcalus) ایجاد کیا جس کے بعد جدید سائنس کی بیشتر کامیابیاں ممکن ہوسکیں۔ اسکے علاوہ نیوٹن کے قوانینِ حرکت نے بہت سے بنیادی مسائل حل کردیئے۔ کشش ثقل کا قانون بھی آپ ہی نے وضع کیا۔ ان قوانین کے نتیجہ میں سیاروں کی حرکت کے بارہ میں پیشگوئی کرنا ممکن ہوسکا۔ چنانچہ آپ کو علم فلکیات میں بھی سب سے عظیم شخصیت مانا جاتا ہے۔ علم حرکیات (Thermodynamic) اور علم صوتیات میں بھی نیوٹن نے گراں بہا اضافے کئے۔ اُس نے ریاضیات میں دو عددی کلیہ بھی دریافت کیا۔
نیوٹن تنقید سے بہت ڈرتے تھے اسی بنا پر اپنی تحقیقات کو منظر عام پر نہیں لاتے تھے۔ 1684ء میں ایک نوجوان ماہر فلکیات نے آپ سے ملاقات کی تو آپ کی تحقیق دیکھ کر حیران رہ گیا اور اس کی اشاعت کے لئے آپ کو مجبور کیا۔ چنانچہ تین جلدوں میں نیوٹن کے مسودات شائع ہوئے۔
1689ء میں نیوٹن کو کیمبرج یونیورسٹی کے لئے پارلیمینٹ رکن منتخب کرلیا گیا۔ 1701ء میں انہیں انگلینڈ کی ٹیکسال کا مہتمم بنادیا گیا اور 1703ء میں وہ رائل سوسائٹی کے صدر بن گئے۔ 1705ء میں آپ کو ملکہ برطانیہ نے ’’سر‘‘ کا خطاب دیا۔
نیوٹن نے اپنی زندگی سائنس کے لئے وقف کردی تھی اور اسی لئے شادی بھی نہیں کی۔ 20؍مارچ 1727ء کو 85 سال کی عمر میں اُن کا انتقال ہوگیا اور اُنہیں ’’ویسٹ منسٹر‘‘ کے گرجا میں دفنایا گیا۔ وہ پہلے سائنسدان تھے جنہیں یہ اعزاز ملا۔
نیوٹن کو مذہب سے بہت رغبت تھی جس کا ذکر حضور انور نے اپنی کتاب “Revelation, Rationality, Knowledge and Truth” میں بھی کیا ہے جو پڑھنے کے لائق ہے۔
نیوٹن کے کام کی اہمیت اور عظمت کی بدولت انہیں دنیا کا عظیم ترین سائنسدان کہا جاتا ہے۔ مشہور فرانسیسی مصنف والٹر لکھتا ہے:- ’’اگر دنیا کے تمام ذہین افراد کو ایک جگہ جمع کردیا جائے تو سرداری کا حقدار نیوٹن ہے‘‘۔
سائنسدان لائبنیز (جن کے ساتھ نیوٹن کی ایک معاملہ میں تلخ کلامی بھی ہوئی تھی) نے کہا کہ آفرینشِ دنیا سے نیوٹن تک علم ریاضیات کو پیش نظر رکھا جائے تو اکیلے نیوٹن کا کام باقی تمام علم سے زیادہ ہے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/n7veh]

اپنا تبصرہ بھیجیں