سرزمین افغانستان اور شہداء احمدیت کی خونچکاں داستاں

زندہ قوموں کی ایک یہ نشانی بھی ہوا کرتی ہے کہ اس کے قلم کار اپنی قوم کی خاطر قربانیاں پیش کرنے والوں کے روشن کردار کو بیان کرنے اور اُن کی پاکیزہ یادوں کو ہمیشہ فزوں تر رکھنے کی کوشش کرتے چلے جاتے ہیں تاکہ آئندہ نسلوں کے لئے قربانیوں کے واقعات اور اُن قربانیوں کے پس پردہ عوامل نیز ان قربانیوں کے نتائج و اثرات کا تذکرہ بھی محفوظ ہوتا چلا جائے کیونکہ یہ ایسا ذخیرہ ہوتا ہے جو بلاشبہ کسی بھی قوم کے روشن مستقبل میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ کچھ ایسی ہی کامیاب کوشش مکرم سید حسن محمد خان صاحب نے اردو میں کتاب ’’سرزمین افغانستان اور شہداء احمدیت کی خونچکاں داستاں‘‘ کے عنوان سے لکھ کر کی ہے۔ مجلس انصاراللہ برطانیہ کے رسالہ ’’انصارالدین‘‘ جولائی واگست 2011ء میں ناصر محمود پاشا کے قلم سے اس کتاب پر تبصرہ شامل اشاعت ہے۔
الٰہی جماعتوں پر مخالفین کی طرف سے برپا کی جانے والی صعوبتوں میں جو روحانی انعامات مومنین کے لئے پوشیدہ ہیں، اُن میں شہادت بھی ایک عظیم الشان انعام ہے۔ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں یہ انعام سب سے پہلے جن خوش نصیبوں کے حصے میں آیا، وہ افغان قوم کے ایسے قابل قدر سپوت تھے جن پر اُن کی قوم کو بھی فخر تھا۔
حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہیدؓ اگرچہ جماعت احمدیہ کے پہلے شہید تو نہ تھے لیکن آپ ؓ کو ملنے والے اس روحانی انعام نے جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قلب صافی پر ضرب لگائی، اُس کا کسی قدر اظہار حضورؑ نے اپنی تصنیف ’’تذکرۃالشہادتین‘‘ میں نہایت دردناک الفاظ میں فرمایا ہے۔ اسی کتاب میں افغان قوم کے ایک اور مردِ جری حضرت مولوی عبدالرحمن صاحبؓ کا ذکرخیر بھی موجود ہے جنہیں دنیائے احمدیت کا پہلا شہید ہونے کا فخر حاصل ہوا۔ حضورؑ کی وفات کے بعد بھی افغانستان میں معصوم احمدیوں کی شہادتوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔
مذکورہ کتاب میں نہ صرف افغانستان کے احمدی شہداء کی معلوم شدہ تاریخ کو جمع کرنے کی کامیاب سعی کی گئی ہے بلکہ سرزمین افغانستان کی ابتدائی تاریخ، اس کی سیاست، حکومت، معاشرت اور بعض دیگر اہم تمدنی پہلوؤں کو بھی مختصراً بیان کیا گیا ہے۔ کتاب میں حضرت سید عبداللطیف صاحب شہیدؓ کے حالات، واقعاتِ شہادت و فضائل نیز شہادت کے بعد آپؓ کے خاندان کی نہایت اعلیٰ درجہ کی قربانیوں کا بھی بیان ہے۔ اسی طرح حضرت سید احمد نور کابلی صاحبؓ (جو مصنف کے نانا بھی ہیں اور جنہوں نے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر حضرت سید عبد اللطیفؓ شہید مرحوم کی لاش پتھروں کے ڈھیر سے نکالی تھی اورپہلے کابل میں اور پھر خوست میں تدفین کی تھی) کی زندگی کے واقعات اور اُن سے متعلق روایات کا ایمان افروز تذکرہ بھی محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ امر قابل تحسین ہے کہ اِس کتاب میں تمام تر ایسے حقائق کا ہی بیان ہے جو کہ مستند ذرائع سے حاصل کئے گئے ہیں۔ تحریر کی زبان سادہ اور سلیس ہے اور انداز بیان شستہ اور رواں ہے۔ یہ کتاب ایک تاریخی دستاویز کے طور پر محفوظ رکھنے کے قابل ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اِس کتاب کی تدوین میں جس مأخذ سے بھرپور استفادہ کیا گیا ہے وہ محترم بشیراحمد رفیق خانصاحب کی کتب ’’شہیدانِ راہِ وفا‘‘ اور ’’درس عبرت‘‘ ہیں۔
آئیے اِس ’’خونچکاں داستان‘‘ کے صرف اُن منتخب حصوں کا مطالعہ کرکے اپنے ایمان کی لَو بڑھائیں جن میں اُن بدقسمت بادشاہوں کے بدانجام کا ذکر ہے جن کے دَور میں معصوم احمدیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے اور بے گناہ خون سرزمین افغانستان پر ناحق بہایا گیا۔ لیکن اِس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے سنگدل دشمنوں پر آنے والے دردناک عتاب کی جو خبر دی تھی وہ آج تک پوری ہوتی چلی آرہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ اس قوم کو اپنے کئے ہوئے بداعمال پر ندامت کے ایسے آنسو بہانے کی توفیق عطا ہوجائے جو درگاہ الٰہی میں مقبول ہوکر افغان قوم کی خونی تاریخ کا رُخ موڑ دیں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ 600 ق م میں ایک قبیلے کاسردار ’’سوئل‘‘ نامی یوروشلم سے ہجرت کرکے افغانستان میں آباد ہؤا۔ اس کے ایک پوتے کا نام ’افغاناح‘ تھا جس کے نام پر اس ملک کانام افغانستان رکھا گیا۔
امیر عبدالرحمن خان 1844ء میں پیدا ہؤا۔ اُس کا بچپن جلا وطنی میں گزرا۔ یہ بھاری ڈیل ڈول ، سرخ و سفید رنگت اور لمبے قد کا مالک تھا ۔ ظاہری شکل و شباہت مسحور کن تھی اورپہلی ہی دفعہ دیکھنے اور ملنے سے لوگوں پر خوف طاری ہوجاتا تھا۔ انگریز مصنّف ہینری ایف مارٹن اپنی کتاب The Absolute Amir میںلکھتا ہے کہ امیر عبدالرحمن خان نے انگریزوں کی مدد سے حکومت حاصل کی لیکن بعد میں اُس نے انگریزوں کے ساتھ دو جنگیں لڑیں اور فتح حاصل کی۔ اس کے دَور میں ملک نے کافی ترقی بھی کی۔ تاہم وہ افغانستان کا ایک جابر اور ظالم بادشاہ تھا۔ اُس نے معمولی باتوں پر بھی مظالم کے پہاڑ توڑے اور سخت سزائیں دیں۔ ایک دفعہ اُسے کھانا کھاتے ہوئے نان میں نمک زیادہ محسوس ہؤا تو اُس نے نانبائی کو جلتے ہوئے تنور میں پھینک دیا اور خود اس وقت تک اس کا نظارہ کرتا رہا جب تک کہ نانبائی تنور میں جل کر راکھ نہ ہو گیا۔ اسی طرح وہ سینکڑوں افراد کو لوہے کے پنجروں میں بند کرکے شہر کی گزرگاہوں پر لٹکا دیتا اور وہ بد نصیب کئی دن بھوک پیاس اور دھوپ کی تمازت اور سردی گرمی کی اذیتیں برداشت نہ کرکے وہیں مرجاتے اور اُن کی لاشیں کئی کئی دن تک بند پنجروں میں ہی لٹکتی رہتیں۔ وہ اپنے مخالفین کو چالیس پچاس فٹ گہرے تاریک کنوؤں میں ڈال دیتا اور پھر کسی کو بھی معلوم نہ ہوتا کہ کب یہ لوگ مرے اور ان پر کیا گزرتی رہی۔ اُس نے 21 سال حکومت کی۔
اپریل1896ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فارسی زبان میں امیر عبدالرحمن کو خط لکھا جس میں اُس کو توجہ دلائی کہ وہ اسلام کی حمایت میں آپؑ کا ساتھ دے۔ مگر اس مغرور اور متکبّر انسان نے اپنی طاقت کے گھمنڈمیں آکر اس خط کوٹھکرادیا اور جواب میں ’’اینجا بیا‘‘ یعنی ’ادھر تو آئے‘ کے الفاظ استعمال کئے۔ اور پھر حضورؑ کے الہام اِنِّی مُھِیۡنٌ مَنۡ اَرَادَ اِھَانَتَکَ کا مصداق بنا۔ خدائی تقدیر کے تحت 10 ستمبر 1901 ء کو اُس پر فالج کا حملہ ہؤا جس سے وہ محض لاشہ کی طرح ہوگیا۔ نہ پہلو بدل سکتا تھا اورنہ بات کرسکتا تھا۔ہندوستان اورافغانستان کے بڑے بڑے حکماء اور ڈاکٹروں کے علاج کے باوجود وہ عبدالرحمن جو ظاہری مردانہ حسن کا ایک اعلیٰ نمونہ تھا ایک مشت استخوان بن کررہ گیا۔ بیماری نے اس کے دماغ کو بھی متأثر کردیا ۔ نقرس کی تکلیف بھی ہوگئی اور مرنے سے چند دن قبل اس کے پاؤں مفلوج ہوگئے جن سے شدید بدبو خارج ہوتی تھی۔ بالآخر 3؍ اکتوبر 1901ء کو اُس کی موت ہوگئی۔
امیر عبدالرحمن خان کے بعد اس کابڑا بیٹا ولی عہد ا میر حبیب اللہ خان افغانستان پر تخت نشین ہؤا۔ سردار نصراللہ خان اُس کا چھوٹا بیٹاتھا جو ایک کنیزکی اولاد تھا لیکن تختِ شاہی کے لالچ میں وہ مُلّائوں کی سرپرستی کیاکرتا تھا۔ لیکن حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیفؓ نے (جو عبدالرحمن کے بچوں کے اتالیق اور عام لوگوں میں بھی مذہبی وجاہت کے سبب ہردلعزیز تھے)، جب حبیب اللہ خان کو شاہی خلعت پہنائی اور دستاربندی کی تو سردار نصراللہ خان کے دل میں آپؓ سے بدلہ لینے کے لئے آگ سلگنے لگی۔
امیر حبیب اللہ خان کی تاجپوشی کی مذہبی رسومات حضرت صاحبزادہ عبداللطیف ؓ نے ادا کیں۔ عوامی تاجپوشی چند دن کے بعد کی گئی جس میں امیر نے اپنے چھوٹے بھائی سردارنصراللہ خان کو اپنا نائب مقرر کیا۔
مسٹر آرنلڈ فلیچر اپنی کتاب”Afghanistan high way of conquest” میں لکھتا ہے کہ امیر حبیب اللہ خان کی سب سے بڑی کمزوری اُس کی جنسی بے راہروی تھی۔ اُس کے اپنی بے شمار بیویوں اور لونڈیوں سے ایک سو سے زیادہ بچے پیدا ہوئے۔
1901ء میں حضرت عبدالرحمن صاحبؓ کی دردناک شہادت ہوئی اور 14 جولائی 1903ء کو حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحبؓ کو نہایت سفّاکی سے شہید کیا گیا۔ امیر حبیب اللہ مطمئن تھا کہ ان بزرگوں کی شہادت سے اُس نے مُلّائوں اور نام نہاد علماء کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ لیکن یہ اطمینان جلد ہی ختم ہوگیا جب 1907ء میں وہ ہندوستان کی سیاحت پرآیا اورکچھ عرصہ بعد افغانستان واپس لَوٹا تو اُنہی ملّاؤں نے اُس پر کفر کا فتویٰ لگایا اور اسے عیسائی اور مرتد قرار دیا اور اس کی بے راہروی پر اُسے طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا۔ یہ معاملہ اتنا بڑھا کہ مشرقی افغانستان میں اُس کو مرتد و کافر قرار دے کر بغاوت برپا کر دی گئی۔ کئی سال وہ باغیوں سے برسرپیکار رہا۔ فروری 1919ء میں جب وہ شکار کے لئے خیمہ میں مقیم تھا تو ایک رات کسی نامعلوم قاتل کی گولی کا نشانہ بن کر ہلاک ہوگیا۔
امیر امان اللہ خان 21؍ فروری 1919ء کو بادشاہ بنا۔ وہ 2فروری 1891ء کو پیدا ہوا تھا۔ ظاہری علوم کے کے علاوہ اُسے سات زبانوں پر عبور حاصل تھا جن میں پشتو اور فارسی کے علاوہ عربی، ترکی، اردو، فرانسیسی اورانگریزی شامل تھیں۔ یہ مردانہ حسن کابھی ایک کامل نمونہ تھا۔ تبحرعلمی، علم دوستی اور کثرت سے زبانیں جاننے اوربولنے پر قدرت رکھنے کی وجہ سے اپنے عوام اور یورپین سفارتکاروں اور سیاحوں میں اس کی شہرت روز افزوں تھی۔
امیر حبیب اللہ کی ہلاکت پر اگرچہ سردار نصر للہ خان نے امارت پر قبضہ کرلیا تھا لیکن امان اللہ خان نے کابل میں فوج کی مدد سے اپنی امارت کا اعلان کردیا اور پہلا فرمان نصراللہ خان کی گرفتاری کا جاری کیا۔ اگرچہ اُس نے مذہبی آزادی کا بھی اعلان کیا لیکن 1924ء میں تین احمدیوں کو بادشاہ کے فیصلہ کے مطابق ہی ناحق شہید کردیا گیا۔ اس پر 1926ء میں حضرت مصلح موعود ؓ نے امیر امان اللہ خان کے لئے ایک خط بطور اتمام حجت بصورتِ کتاب تحریر فرمایا جس کا نام ’’ دعوۃ الامیر‘‘ رکھا۔ لیکن احمدیوں کی شہادت کے نتیجہ میں اُسے اپنی حکومت مضبوط نظر آرہی تھی چنانچہ حضورؓ کی نصائح کا اُس پر کوئی اثر نہ ہوا۔
1927ء میں امیر امان اللہ نے یورپ کا دورہ کیا اور واپسی آکر افغان لڑکیوں کو مزید تعلیم کے لئے مغربی ممالک میں بھجوانے، سرکاری ملازمت کرنے والی عورتوں کو حکماً پردہ اتارنے اور مغربی لباس پہننے کے احکام صادر کئے۔ تعدّد ازواج ممنوع قراردیا۔ فوجیوں کو یورپین طرز کی معاشرت اختیار کرنے، داڑھیاں اُتروانے اور مغربی طرز کا ہیٹ پہننے کا حکم جاری کیا۔ جمعہ کے روز کی تعطیل کومنسوخ کرکے جمعرات کی چھٹی کاحکم جاری کیا۔ نیز پیری فقیری اور گدّی نشینی اور مزاروں پر چڑھاوے چڑھانے کو خلاف قانون قراردیا۔ اس پر ملّاؤں کی طرف سے شدید ردّعمل ہوا اور اُس کے خلاف کھلم کھلا بغاوت ہوگئی اور 24؍نومبر 1928ء کو کئی قبائل بھی بغاوت میں شامل ہوگئے۔ باغیوں نے بادشاہت کے لئے ایک بدنام زمانہ ڈاکو ’’بچہ سقہ‘‘ کا انتخاب کیا جو افغان فوج کا ایک معمولی سپاہی تھا اور ایک ماشکی کا بیٹا تھا۔ وہ کام سے چھٹی پر اپنے گاؤں جارہا تھاتو اس کی مڈھ بھیڑ ڈاکوؤں سے ہوگئی اور ان کے ساتھ لڑائی میں اس کے ہاتھ سے ایک ڈاکو مارا گیا۔ جس کے بعد وہ ڈاکوؤں کا سردار بن گیااور ملک بھر میں چوریا ں اورڈاکے مارنے شروع کردیئے۔ بادشاہ نے جب بچہ سقہ کی حمایت میں نعرے لگتے دیکھے تو اُس نے نہایت پریشانی میں اپنے مشیروں اور مُلّانوں کے مشورہ پر 14؍ جنوری1929ء کو اپنے چھوٹے بھائی عنایت اللہ خان کوتخت پر بٹھادیا اور خود پس پردہ چلا گیا تاکہ پھر مناسب وقت پر اپنی بادشاہت حاصل کرسکے۔ لیکن دراصل یہ مُلاّنوں اور بچہ سقّہ کی ملی بھگت اور ایک چال تھی۔ چنانچہ جب اُسے اس سازش کا علم ہؤا تو اسی گھبراہٹ میں اُس نے اپنی نئی اصلاحات کو واپس لینے کا اعلان کردیا ۔مگر پانی سر سے گز رچکا تھا۔ چنانچہ رات کی تاریکی میں فرار ہوکر پہلے اُس نے قندھار میں پناہ لی اور پھر چمن ، کوئٹہ اور پھر بمبئی سے ہوتا ہوا اٹلی پہنچا۔ شاہی خاندان کے قریباً ایک سو افراد اُس کے ہمراہ تھے جن کی بے سروسامانی کا یہ عالم تھا کہ کھانے اور پہننے کے لئے بھی اشیاء دستیاب نہ تھیں۔ اُس کی موت لمبے عرصہ کی جلاوطنی کے بعد 3؍اپریل 1960ء کو ہوئی۔
سردار نصراللہ خان جو امیر عبد الرحمن خان کی کنیز کے بطن سے 1874ء میں پیدا ہوا تھا، وہ اعلیٰ درجہ کا سفارتکار ہونے کے علاوہ باریش اورعالم دین بھی تھا۔ حضرت صاحبزادہ صاحبؓ کی شہادت میں اُس کا کردار انتہائی ظالمانہ تھا۔ آپؓ کی شہادت کے اگلے روز جب آپؓ کی پیشگوئی کے مطابق کابل اور نواح میں ہیضہ پھیلا اور سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے تو اُن میں نصر اللہ خان کی بیوی اور جواں سال بیٹا بھی شامل تھے۔ لیکن ان صدمات سے نصیحت حاصل کرنے کے بجائے اُس کے غلیظ دل میں شہید مرحوم ؓ کے خاندان کے خلاف غیظ و غضب اَور زیادہ بھڑک اٹھا اور اُس نے شہید مرحوم کے خاندان کو جیل میں بند کرکے بعد میں ترکستان کی طرف جلا وطن کردیا اور صاحبزادہ شہید کی لاش مبارک کو قبر سے نکلواکر غائب کروادیا۔ سردار نصراللہ کا انجام یہ ہوا کہ امیر امان اللہ نے اپنے باپ کے قتل کے جرم میں اُس کوگرفتار کرکے اُس کی جائیداد چھین لی اور بھاری زنجیروں کے ساتھ قید تنہائی میں ڈال دیا۔ پھر لمبے عرصہ کی پُرتعفّن قید کے بعد اُس کو دم گھونٹ کر ماردیا گیا اور لاش غائب کردی گئی۔
17؍جنوری 1929ء کو بچّہ سقّہ نے امیر عنایت اللہ خان کو قتل کرکے افغانستان کی باگ ڈور سنبھال لی اور امیرعبدالرحمن اور اُس کی نسل کی 52 سالہ بادشاہت کا دَور اپنے انجام کو پہنچا۔ بچّہ سقّہ کا زمانۂ حکومت زیادہ تر لُوٹ مار یا بد امنی پر ہی مبنی رہا جو 1931ء میں اختتام پذیر ہؤا۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/pu23s]

اپنا تبصرہ بھیجیں