رابندرناتھ ٹیگور

رابندرناتھ ٹیگور برصغیر کا ایک عظیم شاعر، ناول نگار، ڈرامہ نگار، مضمون نگار، موسیقار، مصور اور ماہر تعلیم تھا اور پہلا ایشیائی تھا جسے نوبیل انعام دیا گیا۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 7؍مئی 2007ء میں ٹیگور کے بارہ میں ایک مختصر مضمون شامل اشاعت ہے۔
ٹیگور 7؍مئی 1861ء کو کلکتہ میں پیدا ہوا۔ وہ ذات کا برہمن اور ایک وسیع المشرب مذہبی شخص تھا۔ اس نے کوئی تعلیمی ڈگری حاصل نہیں کی تاہم خداداد صلاحیتوں کی بنا پر گھر پر ہی بنگالی ، سنسکرت اور انگریزی کی تعلیم حاصل کرکے مشہور قلمکار بن گیا۔ 1890ء میں اس کی نظموں کا پہلا مجموعہ ماناشی (Manashi) منظر عام پر آیا جس نے اُسے بنگالی کا صف اوّل کا شاعر بنادیا۔
1891ء میں اُس نے اپنے باپ کی وسیع و عریض جائیداد کا انتظام سنبھالا لیکن شاعری کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور اس کے کئی مجموعے منظر عام پر آئے۔
1901ء میں اس نے کلکتہ سے تقریباً سومیل کے فاصلے پر Shanti Niketan نامی ایک مدرسہ کی بنیاد ڈالی جہاں اس نے تعلیم و تدریس کے نئے طریقے متعارف کروائے۔ 1924ء میں یہ ادارہ وشوا بھارتی یونیورسٹی بنادیا گیا۔
1902ء سے 1907ء کے درمیانی عرصہ میں اس کی بیوی اور دو بچوں کے انتقال کے باعث اس کی شاعری میں حزن و ملال دکھائی دینے لگا جس نے اس کی شہرت میں مزید اضافہ کیا۔ 1910ء میں اس کی بنگالی شاعری کا مجموعہ ’’گیتان جلی‘‘ شائع ہوا۔ جس کی تعریف و توصیف نامور شعراء اور نقادوں نے کی۔ اسی کتاب پر 1913ء میں ٹیگور کو ادب کا نوبیل انعام ملا۔
1915ء میں حکومت برطانیہ نے اُسے سر کے خطاب سے نوازا جو اس نے 1919ء میں جلیانوالہ باغ کے سانحے کے بعد واپس کردیا۔ مگر چند سال بعد اسے یہ خطاب استعمال کرنے کی اجازت مل گئی۔ ٹیگور نے اگرچہ ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں بھرپور حصہ نہیں لیا مگر وہ سیاسیات سے لاتعلق بھی نہیں رہا۔ 1947ء میں بھارت آزاد ہوا تو ٹیگور کی ایک نظم بھارت کا قومی ترانہ قرار پائی۔ 25 برس بعد بنگلہ دیش نے بھی اُسی کی ایک نظم کو اپنے قومی ترانہ کے طور پر اپنایا۔ اسی طرح سری لنکا کا قومی ترانہ بھی ٹیگور ہی کی ایک نظم کو بنیاد بنا کر تحریر کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیگور کو آفاقی شاعر کہا جاتا ہے۔
ٹیگور نے شاعری کے علاوہ بنگالی نثر کو بھی عروج تک پہنچایا اور اسے سنسکرت کے غلبہ سے نکال کر آسان اور عام فہم بنگالی میں لکھنے کا رواج ڈالا۔ اس نے بنگالی گیتوں کو بھی اپنی تحقیقی صلاحیتوں سے مالامال کیا۔ اس نے بنگالی ادب میں مختصر کہانیوں اور تھیٹر میں اوپیرا کو متعارف کروایا۔ جس کے باعث ہندوستان کی لوک روایات اور کلاسیکی فنون کو ایک نیا جنم ملا۔
ٹیگور کو مصوری سے بھی شغف تھا۔ 1928ء میں 67 برس کی عمر میں اس نے مصوری کا باقاعدہ آغاز کیا اور 1930ء تک چار سوسے زیادہ تصویریں بنائیں جن کی نمائش فرانس، انگلستان، جرمنی اور روس میں ہوئی۔
ٹیگور نے 160 سے زیادہ کتابیں تصنیف کیں جن میں سے بیشتر دنیا کی متعدد زبانوں میں منتقل کی جاچکی ہیں۔
7؍اگست 1941ء کو ٹیگور کے انتقال کے بعد اس کے گھر کو ایک میوزیم میں تبدیل کردیا گیا جہاں اس کی زندگی کے مختلف ادوار کی تصاویر، اس کی پینٹنگز، اس کے آخری خطوط، اس کی کتابیں اس کی روزمرہ استعمال کی اشیاء، نوبیل انعام میں ملنے والا تمغہ اور سند اور اس کے بارہ میں شائع ہونے والے مضامین اور کتابوں کو محفوظ کرلیا گیا ہے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/jrV8F]

اپنا تبصرہ بھیجیں