درودشریف کے بارے میں جماعت احمدیہ پر ایک اعتراض کا جواب

ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ نومبر 2011ء میں مکرم ڈاکٹر مرزا سلطان احمد صاحب کا ایک تحقیقی مضمون شامل اشاعت ہے جو درودشریف کے بارے میں جماعت احمدیہ پر لگائے جانے والے ایک الزام کے مدلّل جواب کے طور پر رقم کیا گیا ہے۔
کسی بھی روحانی فیض کو حاصل کرنے کے لیے آنحضرتﷺ پر درود پڑھنا نہایت ضروری ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس حوالے سے متعدد بار زبانی اور تحریری طور پر واضح فرمایا ہے کہ آپؑ کو جو روحانی منصب عطا ہوا اُس کے پس منظر میں آنحضور ﷺ سے غیرمعمولی محبت ہی تھی۔ لیکن ایک معاند احمدیت متین خالد نے اپنے مضمون (مطبوعہ روزنامہ خبریں 7ستمبر 2011ء) میں انتہائی لغو حکایت یوں بیان کی ہے کہ 1974ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں اٹارنی جنرل نے جب حوالوں کے ساتھ یہ اعتراض اٹھایا تھا کہ احمدی کلمہ طیّبہ میں محمد سے نعوذباللہ بانی سلسلہ احمدیہ مراد لیتے ہیں تو احمدی وفد بالکل لاجواب ہوگیا تھا۔ مضمون نگار نے اپنی بات کی تائید میں درج ذیل حوالے بھی پیش کیے ہیں:
1۔ ’’اے محمدی سلسلہ کے برگزیدہ مسیح تجھ پر خدا کا لاکھ لاکھ درود اور سلام ہو۔‘‘ (سیرت المہدی جلد سوم)

2۔ ’’اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحمّدٍ وَ علٰی عَبۡدِکَ الۡمَسِیۡحِ الۡمَوۡعُوۡد۔‘‘

(الفضل قادیان 31؍جولائی 1937ء)

متین خالد نے اس کا ترجمہ یہ لکھا ہے: ’’اے اللہ! محمدﷺ اور اپنے بندے مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر درود و سلام بھیج۔‘‘
گویا متین خالد نے اپنے لغو مفروضے اور بے سروپا الزام کی تردید خود ہی دونوں حوالے درج کرکے کردی۔ دونوں میں صاف ظاہر ہے کہ محمدؐ سے مراد آنحضرت ﷺ ہی ہیں اور مسیح موعود سے مراد حضرت بانی سلسلہ احمدیہ ہیں۔
اب اسمبلی کی کارروائی کو بھی دیکھتے چلیں۔ 10؍اگست 1974ء کی کارروائی کے دوران اٹارنی جنرل نے حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ سے دریافت کیا کہ کیا قادیان میں کوئی پریس ضیاء الاسلام نام کا تھا۔ حضورؓ کے اثبات میں جواب دینے پر انہوں نے پوچھا کہ کیا اس میں کوئی رسالہ ’’درودشریف‘‘ نام کا شائع ہوا تھا؟ حضورؒ نے فرمایا: مَیں نے پڑھا نہیں مگر دیکھا ہے۔ پھر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس میں درود میں محمد کے بعد احمد آ جاتا ہے اور پھر آل محمد کے بعد آل احمد آجاتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے ایک فوٹوکاپی بھی پیش کی اور اپنی طرف سے ایک روایت بھی پڑھ کر سنائی کہ یہ درود بانی سلسلہ احمدیہ کی موجودگی میں بھی پڑھا گیا تھا مگر انہوں نے کبھی نہیں روکا۔ حضورؒ نے فرمایا کہ یہ کتاب تو احمدی کی لکھی ہوئی ہے لیکن جو درود آپ سنارہے ہیں وہ جماعت میں رائج نہیں اور جس کے نام کی روایت آپ نے بیان کی ہے وہ بھی جماعت میں معروف نہیں کہ اس کی سند مانی جائے۔ پھر جب حضورؒ کے سامنے اصل حوالہ آیا تو آپؒ نے فرمایا کہ اس اشاعت میں یہ درود ہے ہی نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کیا یہ بات غلط ہے؟ فرمایا: بالکل غلط ہے۔ اٹارنی جنرل نے پوچھا کہ کیا آپ کو ہدایت ہے کہ یہ درود پڑھیں تو اس پر آپ نے فرمایا کہ مَیں آج پہلی دفعہ یہ درود سُن رہا ہوں۔
جب وقفہ کے بعد کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو حضورؒ نے فرمایا کہ اس رسالہ کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے ہیں جو ہمارے پاس ہیں لیکن جو فوٹو کاپی ہمیں دی گئی ہے اس کی عبارت کسی ایڈیشن میں موجود نہیں۔ صفحہ نمبر بھی غلط ہے اور عبارت بھی غلط ہے۔
یہ بہت بڑی خفّت تھی جو سوال کرنے والوں کو اٹھانی پڑرہی تھی کہ جعل سازی پکڑی گئی تھی۔ سپیکر نے اُن کی خفّت مٹانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:

“When, I think, the denial comes there is no need of explanation”
یعنی جب تردید ہوگئی ہے تو وضاحت کی ضرورت نہیں۔

دراصل رسالہ ’’درودشریف‘‘ کا مطالعہ ہی اس اعتراض کو باطل کردیتا ہے کیونکہ کتاب کے آغاز میں وہی مسنون درودشریف درج کیا گیا ہے جو نماز میں پڑھاجاتا ہے اور پھر اس کو پڑھنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔
جب اللہ وسایا نے اس کارروائی کا تحریف شدہ متن شائع کیا تو 10؍اگست کی اس کارروائی میں بھی وہ حصّہ غائب کردیا جس میں سوال کرنے والوں کو واضح خفّت اٹھانی پڑی تھی۔ اللہ وسایا نے اپنی کتاب ’’پارلیمنٹ میں قادیانی شکست‘‘ میں اس حوالے کو رسالہ ’’درودشریف‘‘ کی بجائے ’’الفضل‘‘ کا حوالہ بنادیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اللہ وسایا کی کتاب کا دیباچہ خود متین خالد نے تحریر کیا ہے جس میں اس (’’تحریف شدہ‘‘) دستاویزکی تعریف میں زمین و آسمان ایک کردیے ہیں۔
دراصل متین خالد کا اندازِ تحریر کچھ ایسا ہے کہ جس اعتراض کو رقم کرتے ہوئے وہ کوئی حوالہ پیش کرتا ہے تو وہی حوالہ متین خالد کے الزام کی تردید کررہا ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں اس کی تحریر کچھ بے ربط اور مبہم ہوتی ہے اس لیے یہ واضح نہیں ہوتا کہ اصل اعتراض کیا ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں جو دو اعتراض کیے جاتے ہیں اُن میں پہلا یہ ہے کہ احمدیوں نے مسنون درودشریف کے علاوہ اپنا علیحدہ درود بنارکھا ہے۔ اس اعتراض کا ردّ تو جماعت احمدیہ کا ایک سو سے زائد زبانوں میں موجود لٹریچر ہی کردیتا ہے۔
متین خالد کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ درود شریف کی طرز پر احمدی بانی سلسلہ احمدیہ پر درود پڑھتے ہیں۔
واضح ہو کہ احادیث میں اور سلف صالحین کی روایات میں ایسے کئی مختلف درود بیان ہوئے ہیں جن میں برکت کے لیے اس دعا (درودشریف) میں آنحضرتﷺ کے ساتھ اَور لوگوں کو بھی آپؐ کے طفیل شامل کیا گیا ہے۔
پھر درود کی ایسی کتب موجود ہیں جن میں مختلف کتب سے چالیس چالیس مختلف قسم کے درود جمع کیے گئے ہیں۔ مثلاً کتاب ’’فضیلت و شان درودوسلام‘‘ مؤلفہ محمد شریف مغل۔
اس کتاب میں احادیث میں بیان کردہ چالیس قسم کے مختلف درود جمع کیے گئے ہیں۔
سنن ابوداؤد کی حدیث میں آنحضورﷺ نے ایک درود میں ازواج مطہرات اور اپنی اولاد کو بھی شامل فرمایا۔ حضرت حسن بصری نے ایک ایسے درود کو پڑھنے کی تاکید کی تھی جس میں آنحضورﷺ کے ساتھ آپؐ کے اصحاب، اولاد، ازواج، ذرّیت وغیرہ کو شامل کیا گیا ہے۔ جہاں تک صَلِّ علیٰ کے الفاظ کے ساتھ کسی کا نام لینے کا تعلق ہے تو اس کی کئی مثالیں بھی احادیث میں موجود ہیں۔ صحیح مسلم میں ہے کہ جب بھی آنحضورﷺ کے پاس کوئی قوم صدقہ لے کر آتی تھی تو آپؐ انہی الفاظ میں اس کے لیے دعا کرتے تھے۔ چنانچہ جب حضرت ابو اوفیٰ آپؐ کے پاس صدقہ لے کر آئے تو آپؐ نے فرمایا:

اللّٰھُمَّ صَلِّ علٰی اٰلِ ابی اوفیٰ۔

الغرض اس مضمون میں مکرم ڈاکٹر مرزا سلطان احمد صاحب نے متین خالد کے اعتراضات کے مدلّل جوابات کئی پہلوؤں سے دے کر معترضین کو غیرمتین ٹھہرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/fSkLq]

اپنا تبصرہ بھیجیں