خود گلے کا ہار ہوجائیں گے گل – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 20؍مئی 2004ء میں شامل اشاعت مکرم محمد افتخار احمد نسیم صاحب کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے:

خود گلے کا ہار ہوجائیں گے گل
تو اگر کانٹوں میں رہنا سیکھ لے
عشق کی منزل کٹھن ہے تو مگر
کار زاروں سے گزرنا سیکھ لے
آنکھ کے پانی میں پنہاں سوزِ دل
ترجبیں سجدے میں کرنا سیکھ لے
غیر بھی تیرے ہی اپنے ہیں، اگر
غیر کے دکھ پر تڑپنا سیکھ لے

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/GNikA]

اپنا تبصرہ بھیجیں