خلافت رابعہ میں پوری ہونے والی چند عظیم الشان پیشگوئیاں

جماعت احمدیہ برطانیہ کے سیدنا طاہر نمبر میں خلافت رابعہ میں پوری ہونے والی چند عظیم الشان پیشگوئیاں (مرتبہ :عبد القدیر + شفیق احمد ججہ) درج کی گئی ہیں-
دعوت اللہ زمین کے کناروں تک
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا 1897ء کا الہام ہے: ’’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا‘‘ ۔
حضور علیہ السلام نے تحریر فرمایا: ’’وہ زمانہ چلا آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا اس سلسلہ کی دنیا میں بڑی قبولیت پھیلائے گا اور یہ سلسلہ مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب میں پھیلے گا‘‘۔
(تحفہ گولڑویہ ۔روحانی خزائن جلد 17ص 182)
’’جماعت کی تعداد تین لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور دن بدن ترقی ہو رہی ہے اور یقینا کروڑوں تک پہنچے گی۔‘‘
(لیکچر لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد20ص 250)
خلافت رابعہ میں جماعت احمدیہ دنیا کے تمام براعظموں میں پھیلی اور80 سے بڑھ کر 175 ممالک میں قائم ہو گئی اور چند سال میں 16کروڑ نئے لوگ جماعت میں شامل ہوئے۔ اور مسیح موعود کا پیغام ایم ٹی اے کے ذریعہ زمین کے کونے کونے میں پہنچ گیا۔
آسمانی منادی
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے وجود میں پوری ہونے والی پیشگوئی کا ایک سلسلہ احمدیہ ٹیلی ویژن سے متعلق ہے جس میں ایک آسمانی منادی کا ذکر ہے جس کی تصویر اور آواز دنیا بھر میں بیک وقت دیکھی اور سنی جائے گی۔ صرف ایک نمائندہ پیشگوئی درج کی جاتی ہے۔
حضرت امام رضا علی بن موسیٰ سے پوچھا گیا آپ میں سے امام قائم کون ہو گا۔ فرمایا میرا چوتھا بیٹا،لونڈیوں کی سردار کا بیٹا جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ زمین کو ہر ظلم سے مطہر کردے گا……یہ وہی ہے جس کے لئے زمین سمیٹ دی جائے گی۔اور یہی وہ ہے جو آسمان سے بطور ایک منادی صدا کرے گا۔جس کو اللہ تعالیٰ تمام اہل ارض کو سنا دے گا۔
(بحارالانوار جلد52 ص321 (از شیخ محمد باقر مجلسی)
آدھا عربی میں آدھا انگریزی میں
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قریباً 1880ء کا کشف ہے فرماتے ہیں: ’’ایک دفعہ میں نے خواب میںدیکھا تھا کہ ایک شخص میرا نام لکھ رہا ہے تو آدھا نام اس نے عربی میں لکھا ہے اور آدھا انگریزی میں لکھا ہے۔انبیاء کے ساتھ ہجرت بھی ہے ۔ لیکن بعض رویا نبی کے اپنے زمانہ میں پورے ہوتے ہیں اور بعض اولاد یا کسی متبع کے ذریعہ سے پورے ہوتے ہیں‘‘۔
(الحکم10ستمبر1905ء)
حضور نے ہجرت بھی کی اور پھر ایم ٹی اے پر لقاء مع العرب پروگرام میں انگریزی اور عربی گفتگو کے ذریعہ دعوت الی اللہ کی توفیق پائی۔ نیز عربی رسالہ ’’التقویٰ ‘‘اور انگریزی رسالہ ’’ریویو آف ریلیجینز‘‘ لندن سے باقاعدگی سے جاری ہوئے۔
لندن میں مدلّل تقریر
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ میں نے دیکھا کہ میں شہر لندن میں ایک منبر پر کھڑا ہوں اور انگریزی زبان میں ایک نہایت مدلل بیان سے اسلام کی صداقت ظاہر کر رہاہوںبعد اس کے میں نے بہت سے پرندے پکڑے۔ میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ اگرچہ میں نہیں مگر میری تحریریں ان لوگوں میں پھیلیں گی اور بہت سے راستباز انگریز حق کا شکار ہوجائیں گے‘‘۔
(ازالہ اوہام حصہ صفحہ516 طبع اوّل1891ء )
موعود ذرّیت
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:- ’’اس مسیح کو بھی یاد رکھو جو اس عاجز کی ذریت میں سے ہے جس کا نام ابن مریم بھی رکھا گیا ہے‘‘۔
(ازلہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 ص318)
مخالفانہ کتاب دھوئی گئی
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی 10 ستمبر1903ء کی رؤیا ہے کہ خواب میں کسی مخالف کی کتاب کو پانی سے دھو رہے ہیں اور ایک شخص پانی ڈال رہا ہے یہاں تک کہ سفید کاغذ نکل آیا۔ یہ رویا وائٹ پیپر کے متعلق حضور کے خطبات ’’زھق الباطل‘‘ سے پوری ہوئی۔
(ضمیمہ خالد جون 1985ء)
بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیںگے
حضرت مسیح موعودؑ کا 1868ء کا الہام ہے: ’’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے پھر بعد اس عالم کشف میں وہ بادشاہ بھی دکھلائے گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے‘‘۔
(براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد ۱ص622)
خلافت رابعہ میں بیسیوں بادشاہ احمدی ہوئے اور کئی ایک نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کپڑے کا تبرک بھی حضورؒ سے جلسہ سالانہ پر حاصل کیا۔ 2002ء کے جلسہ سالانہ بینن پر کئی بادشاہ گھوڑوں پر سوار ہو کر جلسہ میں شامل ہوئے۔
بعد گیارہ۔انشاءللہ
۱۱دسمبر 1900ء کا الہام ہے بعد گیارہ انشاءاللہ۔
یہ الہام کئی رنگوں میں پورا ہوا۔حضور کی خلافت کے11سال بعد 1993ء میں لندن میں عالمی بیعت کی تقریب کا آغاز ہوا۔ لندن سے مسلم ٹیلی وژن احمدیہ انٹرنیشنل کا آغاز، ہفت روزہ الفضل انٹرنیشنل کا اجراء اور ریویو آف ریلیجنز کی نئے انداز میں اشاعت جنوری 1994ء میں شروع ہوئی اور ساہیوال کے اسیران راہ مولیٰ کی رہائی 20 مارچ 1994ء کو عمل میں آئی۔
مصلح موعود جیسا
حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: خدا نے مجھے بتایا ہے کہ وہ ایک زمانہ میں خود مجھ کو دوبارہ دنیا میں بھیجے گا اور میں پھر کسی شرک کے زمانہ میں دنیا کی اصلاح کے لئے آؤں گاجس کے معنے یہ ہیںکہ میری روح ایک زمانہ میں کسی اور شخص پر جو میرے جیسی طاقتیں رکھتا ہو گانازل ہو گی اور وہ میرے نقش قدم پر چل کر دنیا کی اصلاح کرے گا۔‘‘
(الفضل ۱۹؍فروری ۱۹۵۶ء)
عالمی درس قرآن
حضرت مصلح موعودؓ نے عالمی درس قرآن کی پیشگوئی بھی فرمائی
(الفضل13 جنوری 1938ء)
انقلاب عظیم
حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے 1970ء میں پیشگوئی فرمائی تھی: اگلے 23 سال کے اندر اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق اس دنیا میں ایک عظیم الشان انقلاب پیدا ہونیوالا ہے۔
(الفضل15 جولائی1970ء )
70 میں23 جمع کئے جائیں تو یہ93 بنتے ہیں۔ اسی سال عالمی بیعت کے سلسلہ کا آغاز ہوا اور اسی سال کے آخر میں مسلم ٹیلی وژن احمدیہ کے اجراء کا اعلان حضورؒ نے فرمایا۔
ہومیوپیتھی کی ترویج
حضرت مسیح موعود کو الہام ہوا: عندی معالجات اور 18؍اکتوبر 1902ء کو حضرت اماں جان نے خواب میں دیکھا کہ شیخ رحمت اللہ کی طرف سے ایک صندوق دوائیوں سے بھرا ہوا آیا ہے۔جس میں ڈبیاں ہیں۔شیشاں ہیں۔
یہ رویا حضورؒ کے زمانہ میں ہومیوپیتھی کی ترویج حضور کی شفاء اور دواؤں پر مشتمل ڈبے کل عالم میں بھجوانے سے پوری ہوئی۔
(الفضل 16؍اگست99ء ص 2)
خادم دین پیدا ہوں گے
7 فروری 1921ء کے روز مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب نے حضرت مصلح موعودؓ کے ساتھ حضرت سیدہ ام طاہرؓ کا نکاح پڑھاتے ہوئے فرمایا: ’’میں بوڑھا ہوگیا ہوں۔ میں چلا جاؤں گا مگر میرا ایمان ہے کہ جس طرح سے پہلے سیدہ سے خادم دین پیدا ہوئے اسی طرح اس سے بھی خادم دین پیدا ہوں گے۔ یہ مجھے یقین ہے جو لوگ زندہ ہوں گے وہ دیکھیں گے۔‘‘
(الفضل 14فروری 1921ء)
خلیفہ بننے کی پیشگوئی
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نوراللہ مرقدہ نے حضرت ام طاہر کو مخاطب کرتے ہوئے ایک مرتبہ فرمایا:- ’’مجھے خداتعالیٰ نے الہاماً بتایا ہے کہ طاہرایک دن خلیفہ بنے گا‘‘۔
(ایک مردخداصفحہ۲۰۸)
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نوراللہ مرقدہ فرماتے ہیں:-
’’ان بشارتوں میں سے ایک یہ ہے کہ میں نے دیکھا کہ میں بیت الدعاء میں بیٹھا تشہد کی حالت میں دعا کررہا ہوں کہ الٰہی! میرا انجام ایسا ہو جیسا کہ حضرت ابراہیمؑ کا ہوا۔ پھر جوش میں آکر کھڑا ہوگیا ہوں اور یہی دعا کررہا ہوں کہ دروازہ کھلا ہے اورمیرمحمداسماعیل صاحب اس میں کھڑے روشنی کررہے ہیں۔ اسماعیل کے معنی ہیں خدانے سن لی اور ابراہیمی انجام سے مراد حضرت ابراہیم ؑ کا انجام ہے کہ ان کے فوت ہونے پر خدا تعالیٰ نے حضرت اسحاق ؑ اور حضرت اسماعیلؑ دوقائمقام کھڑے کردیئے۔ یہ ایک طرح کی بشارت ہے جس سے آپ لوگوں کو خوش ہوجانا چاہیے‘‘۔
(عرفانِ الٰہی۔انوارالعلوم جلد۴ صفحہ ۲۸۸)
غیر معمولی لمبے دن
حدیثوں میں پیشگوئی ہے کہ دجال کے زمانہ میں غیر معمولی لمبے دن ہو گے اس لئے وقت کا اندازہ کر کے نماز پڑھنا۔ حضور نے1993ء میں قطب شمالی کے بلند ترین مقامات کا دورہ فرمایا جہاں 24 گھنٹے دن رہتا ہے۔حضور نے پانچ نمازیں قافلہ کے ساتھ باجماعت ادا کیں اور جمعہ بھی پڑھایا۔
قتل کی سازش
حضرت مسیح موعود علیہ السلا م کا ایک رؤیا درج ذیل ہے :-
’’مکرریہ کہ ۱۸؍اکتوبر ۱۸۹۲ء کے بعد ۷؍دسمبر ۱۸۹۲ء کو ایک اور رؤیا دیکھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ مَیں حضرت علی کرّم اللہ وجہہ بن گیا ہوں۔ یعنی خواب میں ایسا معلوم کرتا ہوں کہ وہی ہوں او رخواب کے عجائبات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض اوقات ایک شخص اپنے تئیں دوسرا شخص خیال کرلیتا ہے۔ سو اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ مَیں علی مرتضیٰ ہوں اور ایسی صورت واقع ہے کہ ایک گروہ خوارج کا میری خلافت کا مزا حم ہورہا ہے یعنی وہ گروہ میری خلافت کے امر کو روکنا چاہتا ہے او راُس میں فتنہ انداز ہے۔تب میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس ہیں اور شفقت اور تودّوسے مجھے فرماتے ہیں: یَا عَلِیُّ دَعْھُمْ وَاَنْصَارَ ھُمْ وَزرَاعَتَھُمْ یعنی اے علی!ان سے اور ان کے مددگاروں اور ان کی کھیتی سے کنارہ کر اور ان کو چھوڑدے اور ان سے منہ پھیرلے اور میں نے پایا کہ اس فتنہ کے وقت صبر کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو فرماتے ہیں اور اعراض کے لئے تاکید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ توہی حق پر ہے مگر ان لوگوں سے ترک خطاب بہتر ہے اور کھیتی سے مراد مولویوں کے پیروؤں کی وہ جماعت جو ان کی تعلیموں سے اثر پذیر ہے جس کی وہ ایک مدت سے آبپاشی کرتے چلے آئے ہیں۔ پھر بعد میں اس کے میری طبیعت الہام کی طرف منحدر ہوئی اور الہام کے رو سے خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا کہ ایک شخص مخالف میری نسبت کہتا ہے: ذَرُوْنِیْ اَقْتُلْ مُوْسٰی یعنی مجھ کو چھوڑتامیں موسیٰ کو یعنی اس عاجز کو قتل کردوں اور یہ خواب رات کے تین بجے قریباً بیس منٹ کم میں دیکھی تھی اور صبح بدھ کا دن تھا۔ فالحمدللہ علی ذالک‘‘
(آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد۵صفحہ ۲۱۹۔۲۱۸ حاشیہ)
21 ؍دسمبر1902ء کا الہام ہے کہ: تم پر ایسا زمانہ آنے والا ہے جو مسیح کے زمانہ کی طرح ہوگا۔
19؍جنوری 1903ء کے رؤیا میں حضور نے دیکھا کہ فرعون ایک لشکر کثیر کے ساتھ تعاقب میں ہے مگر آپ فرماتے ہیں کہ میرا ربّ میرے ساتھ ہے۔
تمام خلفاء میں سے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع واحد خلیفہ تھے جن کو خلافت کی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قانونی پابندیاں لگا کر روکنے کی کوشش کی گئی اور پھر ایک شخص کے قتل کا الزام لگاکر آپ کے قتل کی سازش تیار کی گئی اور تعاقب بھی کیاگیامگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بچا لیا۔ اور سمندر پار لے گیا۔
(خطبہ 5 جولائی 1985ء)
قرآن مجید کی آیت ذَرُوْنِیْ اَقْتُلْ مُوْسٰی کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا-:
یہ جو ہے آیت فرعون کا یہ کہنا کہ موسیٰ کو قتل کردوں۔ ایسا ہی زمانہ جماعت احمدیہ پرآنے والا تھا جس کا میں ذکرکررہاہوں کہ آچکا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ایک الہام میں بڑی وضاحت سے یہ بات مذکور ہے۔ ایک تحریر ہے لمبی جس میں پہلے فرماتے ہیں۔ ’یَا عَلِیُّ دَعْھُمْ وَاَنْصَارَ ھُمْ وَزرَاعَتَھُمْ‘کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے علی کہہ کر مخاطب فرمایااور کہا کہ ان کو چھوڑدے، ان سے اعراض کر۔ وَاَنْصَارَھُمْ اوران کے مددگاروں سے بھی وَزرَاعَتَھُمْ اور جو وہ کھیتی اُگا رہے ہیں۔ یہ تحریر ہے اس کے بعد فرماتے ہیں،’’پھر بعداس کے میری طبیعت الہام کی طرف منحدر ہوئی اور الہام کے رُو سے خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا کہ ایک شخص مخالف میری نسبت کہتا ہے: ذَرُوْنِیْ اَقْتُلْ مُوْسٰی یعنی مجھ کو چھوڑ تا میں موسیٰ کو یعنی اس عاجز کو قتل کردوں اور یہ خواب رات کے تین بجے قریباً بیس منٹ کم میں دیکھی تھی اور صبح بدھ کا دن تھا۔ فالحمدللہ علی ذالک‘‘
اب دیکھیں پہلے اس سے بیان فرمایا علی والا مضمون اور چھوڑ دے، ان کو اللہ تعالیٰ آپ ہی سنبھال لے گا۔ اس کے بعد الہام کی طرف طبیعت منتقل ہوئی اور یہ الہام ہوا ذَرُوْنِیْ اَقْتُلْ مُوْسٰی۔ لیکن علی کے تعلق سے یہ بات واضح کرتی ہے کہ چوتھے خلیفہ کے وقت میں یہ واقعہ ضرور ہونے والا ہے اور بھی بہت سے شواہد ہیں جو بتا رہے ہیں کہ اسی زمانہ میں ہوگا اور چونکہ ہوچکا ہے اس لئے اس استنباط کو فرضی نہیں قرار دیا جاسکتا۔ واقعات کی بعینہٖ یہی شہادت ہے۔
(ترجمۃ القرآن کلاس۲۴۳۔ ریکارڈشدہ ۲۸؍اپریل ۱۹۹۸ء)
روسی علاقوں میں احمدیت
حضرت مصلح موعودؓ کی ایک رویا میں ذکر ہے کہ فوجیوں کے خطرہ کی وجہ سے حضور کو ہجرت کرنی ہوگی ۔ اور ام طاہر کے بیٹے کے ذریعے روس کے علاقوں سے احمدیت کا تعلق قائم ہو گا۔
(خطبہ جمعہ 23 فروری 15 جون1990ء)
ہجرت کی پیشگوئی
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے فرمایا:-
کچھ عرصہ پہلے میں نے خطبہ میں حضرت مصلح موعودؓ کے ایک رؤیا کا ذکر کیا تھا کہ وہ کسی خوف کی وجہ سے جگہ چھوڑ کر کسی اور ملک میں جانے پر مجبور ہوئے ہیں… اس میں ایک پیشگوئی مضمر تھی۔ آپؓ نے یہ لکھا ہے کہ جب مَیں نے خطرہ محسوس کیا تو مَیں بالا خانے پر اس غرض سے گیا کہ اپنی اہلیہ ام طاہر کو بھی جگادوں اور اُن کو بھی ساتھ لے چلوں۔وہاں مَیں نے دیکھا کہ اُن کے ساتھ ان کاایک بچہ لیٹا ہوا ہے۔ اب وہ بچہ جو حضرت مصلح موعود کے ذہن میں موجود نہیں تھا، اچانک اس طرح دکھایا جانا خود اپنی ذات میں ایک اعجازی رنگ رکھتا ہے اور پھر اس سے دلچسپ بات یہ ہے کہ فرماتے ہیں کہ جب مَیں نے بچے کو اٹھایا تو وہ لڑکا بن گیا تو اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ موجود بچوں کی طرف اشارہ کرنا مراد نہیں تھا بلکہ کسی ایسے بچے کی طرف اشارہ کرنا مراد تھی جو خدا کی تقدیر میں دین کے کام آنے والا تھا او راس کا لڑکا بن جانا بتاتا ہے کہ بعد میں اس میں کوئی تبدیلی پیدا ہونی تھی…
دوسری بہت دلچسپ بات جو دوبارہ پڑھنے سے سامنے آئی وہ یہ تھی کہ جو خطرہ تھا وہ فوجیوں کی طرف سے تھا اور اُن فوجیوں کی تعیین نہیں ہے کہ کون ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ مَیں اچانک گھر سے باہر دیکھتا ہوں تو کچھ فوجی افسرگویا بدنیتی کے ساتھ وہاں کھڑے ہیں اور مجھے ان کی طرف سے خطرہ محسوس ہوتا ہے تو مَیں زمین پر اُترکر جانے کے بجائے جس طرح پہاڑوں پر گھر بنے ہوتے ہیں کہ اوپر کی منزل کا بھی بالابالا تعلق ہوتا ہے۔ مَیں بالائی رستے سے نکل گیا ہوںاور یہ میری ہجرت کے عین مطابق ہے یعنی بالائی رستے سے یہاں فضائی رستے کے ذریعے رخصت ہونا اور خاموشی سے رخصت ہونا مراد ہے۔
(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۵؍جون ۱۹۹۰ء)
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۷؍جنوری ۲۰۰۳ء میں فرمایا:-
۱۸۹۷ء کا الہام ہے ’’’’نَفَخْتُ فِیْکَ مِنْ لَّدُنِّیْ رُوْحَ الصِّدْقِ … میں جو لفظ لَدُنْ کا ذکر ہے۔ اُس کی شرح کشفی طور پر یوں معلوم ہوئی کہ ایک فرشتہ خواب میں کہتا ہے کہ یہ مقام لَدُنْ جہاں تجھے پہنچایا گیا ، یہ وہ مقام ہے جہاں ہمیشہ بارشیں ہوتی رہتی ہیں اور ایک دم بھی بارش نہیں تھمتی۔‘‘ (تذکرہ صفحہ ۲۹۹ مطبوعہ ۱۹۶۹ء)
اب انگلستان میں بھی ایک Ludgateہے جہاں مذہبی بحثیں ہوتی رہتی ہیں اور انگلستان کے Ludgate کی تشریح مجھے سمجھ آئی ہے کہ یہی مراد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے غلاموں کو Ludgate پر بحثوں کے دوران عظیم الشان فتح نصیب ہوگی۔
(الفضل یکم اپریل۲۰۰۳ء)
حضرت کرشن علیہ السلام
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ فرمودہ ۷ ۱؍ جنوری ۲۰۰۳ء میں فرمایا:-
’’حضرت مسیح موعود کا ایک کشف ہے: ایک بار ہم نے کرشن جی کو دیکھا وہ کالے رنگ کے تھے اور پتلی ناک، کشادہ پیشانی والے ہیں۔ کرشن جی نے اٹھ کر اپنی ناک ہماری ناک سے اور اپنی پیشانی ہماری پیشانی سے ملا کرچسپاں کردی۔‘‘
(الحکم جلد۱۲نمبر۱۷مورخہ۶مارچ۱۹۰۸ء صفحہ۷ ، تذکرہ صفحہ۳۸۱ مطبوعہ ۱۹۶۹ء)
اب مجھے نیوزی لینڈمیں جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں بھی یہی رسم دیکھی۔ مجھے اس وقت سمجھ نہیں آئی کہ کیا قصہ ہے۔ لیکن حضرت مسیح موعودؑ کی یہ عبارت پڑھ کر مجھے پتہ چلاکہ پرانے زمانہ کے لوگوں میں یہ رواج تھا۔جب میں وہاں کے سرداروں سے ملا توانہوں نے اٹھ کر میری پیشانی کے ساتھ اپنی پیشانی او رمیرے ناک کے ساتھ اپنی ناک رگڑی۔ یہ تعجب تو ہوا تھا اس وقت لیکن سمجھ نہیں آئی تھی۔ اب اس کشف کو پڑھ کر سمجھ آئی ہے کہ یہ پرانا رواج چلا آرہا ہے‘‘۔
(الفضل یکم اپریل ۲۰۰۳ء)

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/tUBUn]

اپنا تبصرہ بھیجیں