خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 25؍فروری 2005ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال خدا تعالیٰ کی نگاہ میں اس قدر پسندیدہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے حکم دیا کہ آئندہ لوگ شکر گزاری کے طور پر آپؐ پر درود بھیجیں۔
(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ سیرت اور آپ ؐکے شمائل کے مختلف پہلوؤں کا دلربا تذکرہ)
خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ 25؍فروری 2005ء (25تبلیغ 1384ہجری شمسی)بمقام مسجد بیت الفتوح۔مورڈن،لندن۔

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُواللہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَکَرَاللہَ کَثِیْرًا
(سورۃ الاحزاب: 22)

گزشتہ دو تین خطبات سے میں نے سیرت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مضمون شروع کیا ہوا ہے۔جس کی فوری وجہ بعض معترضین اسلام اور مخالفین اسلام کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض بیہودہ الزامات تھے۔ لیکن اب میر ا خیال ہے کہ آپؐ کی سیرت اور آپؐ کے شمائل کے مختلف پہلوؤں کو لے کر کچھ بیان کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور آپؐ کا اعلیٰ خلق اتنا وسیع ہے اور ہر طرف پھیلا ہوا ہے اور اس کے کئی پہلو ہیں جن کو مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ ہر خلق کی اتنی بیشمار مثالیں ہیں کہ ان کو سلسلہ خطبات میں بھی بیان کرنا ممکن نہیں۔ لیکن میں نے سوچا ہے کہ ان اعلیٰ ترین اخلاق کے نمونوں کی چند مثالیں پیش کروں گو اس کے لئے بھی کئی خطبے درکار ہوں گے۔ بہرحال اپنے اس پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادات، آپؐ کے اطوار اور سیرت کا مضمون یقینا ہم سب کے لئے باعث برکت ہو گا۔ اور جہاں یہ ہمارے لئے برکت اور آپؐ کی سیرت کے پہلوؤں کو اپنی یادداشت میں تازہ کرنے کا موجب ہو گا، ہمارے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کا باعث ہو گا وہاں غیروں کے سامنے ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی چند جھلکیاں بھی آ جائیں گی۔ ان کو بھی پتہ لگے گا کہ وہ نبی کن اعلیٰ اخلاق کا مالک تھا۔ گو کہ پہلے بھی پتہ ہے لیکن پھر بھی گہرائی میں جا کر دیکھنا نہیں چاہتے۔ پرانی باتیں ان کوبھول جاتی ہیں۔
یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یقینا تمہارے لئے اللہ کے رسول میں نیک نمونہ ہے۔ ہر اس شخص کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہے اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہے۔ تو ہر ایسا شخص جو اللہ کا خوف رکھتا ہے اس کو آخرت کا یقین ہے اور اگر اس کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہو کر حساب کتاب کا خوف ہے، اگر وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا بننا چاہتا ہے تو اس کو لازماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونہ کی پیروی کرنا ہو گی کیونکہ یہ اعلیٰ نمونے، یہ اعلیٰ اخلاق، یہ اعلیٰ مثالیں صرف اور صرف حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی مل سکتی ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ ان نمونوں پر تم نے کیوں قائم ہونا ہے؟ اس لئے قائم ہونا ہے، فرماتا ہے، حکم دیتا ہے کہ اگر خلق عظیم پر کوئی شخص ہے تو وہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔جیسا کہ فرمایا

وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔(القلم:5)

(یعنی تو اپنی تعلیم اور اپنے عمل میں اعلیٰ درجہ کے اخلاق پر قائم ہے۔)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں : یعنی اپنی ذات میں تمام مکارم اخلاق کا ایسا متمم اور مکمل ہے کہ اس پر زیادہ متصور نہیں۔ کہ یہ جو اعلیٰ اخلاق ہیں اتنے مکمل آپ میں پائے جاتے ہیں کہ اس سے زیادہ کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ فرمایا کیونکہ لفظ عَظِیْم محاورہ عرب میں اس چیز کی صفت میں بولا جاتا ہے جس کو اپنا نوعی کمال پورا پورا حاصل ہو۔ یعنی جو بھی صفت ہے اس میں و ہ انتہا ئی حد تک پہنچی ہو۔آپ فرماتے ہیں کہ بعضوں نے کہا ہے کہ عَظِیْم وہ چیز ہے۔ جس کی عظمت اس حد تک پہنچ جائے کہ حیطہ ادراک سے باہر ہو جائے۔ یعنی عَظِیْم چیز وہ ہوتی ہے کہ عقل اس کو سوچ نہیں سکتی، اس کا احاطہ نہیں کر سکتی، اس تک پہنچ ہی نہیں سکتی۔
تو یہ ہیں وہ عظیم اخلاق ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کے اعلیٰ معیار تک تمہاری عقل و سوچ پہنچ ہی نہیں سکتی۔ وہ سوچ سے باہر ہیں۔ اور جب وہ ایک مومن کی سوچ سے باہر ہوجائیں تو ایک ایسا آدمی جو مومن نہیں ہے، اس کی سوچ تو ان تک پہنچ ہی نہیں سکتی۔ وہ تو ہرایسے پہلو کی اپنی سوچ کے مطابق اپنی ہی تشریح کرے گا۔ اور اگر کرے گا بھی تو اگر اچھائی کی طرف بھی جائے تواس کا ایک محدود دائرہ ہو گا۔ ہمیں بہرحال یہ حکم ہے کہ تم بہرحال اپنی استعدادوں کے مطابق ان اخلاق کی پیروی کرنے کی کوشش کرو۔ اللہ تعالیٰ کی اس زبردست گواہی کے باوجود کہ آپؐ عظیم خلق پر قائم ہیں اور اللہ کا قرب پانے کے لئے، آپؐ کے نقش قدم پر چلنا ضروری ہے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہمیشہ اپنے آپ کو عاجز بندہ ہی سمجھا ہے۔ چنانچہ ایک دعا جو آپؐ مانگا کرتے تے وہ آپؐ کے اس خلق عظیم کو اور بلندیوں پر لے جاتی ہے۔ اور بے اختیار آپ کے لئے درود و سلام نکلتا ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے :کہ اے اللہ! جس طرح تو نے میری شکل و صورت اچھی اور خوبصورت بنائی ہے اسی طرح میرے اخلاق و عادات بھی اچھے بنا دے۔ (مسند احمد بن حنبل جلد 6صفحہ 150مطبوعہ بیروت)
دیکھیں خوبصورت شکل و صورت پر بے اختیار اللہ تعالیٰ کے حضور شکر کے جذبات نکل رہے ہیں۔ اور ساتھ یہ بھی کہ اے خدا! تو نے کہہ تو دیا کہ یہ نبی خلق عظیم پر قائم ہے۔ لیکن میں بشر ہوں اس لئے میرے اخلاق و اطوار ہمیشہ اچھے ہی رکھنا۔ ان پاک نمونوں کو قائم کرنے کی جوذمہ داری تو نے میرے سپرد کی ہے اس کو مجھے احسن طور پر بجا لانے کی توفیق بھی دینا۔ تو دیکھیں یہ اعلیٰ اخلاق اور عاجزی کی انتہا۔ اللہ تعالیٰ آپؐ کو فرما رہا ہے کہ تم خلق عظیم پر قائم ہو، امت کو فرما رہا ہے کہ اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرو۔ لیکن آپؐ یہ دعا مانگ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ! میرے اخلاق و عادات و اطوار ہمیشہ اچھے ہی رکھنا۔ دنیاداروں میں دیکھ لیں اگر کوئی افسر کسی کی تعریف کر دے تو دماغ آسمانوں پہ چڑھ جاتا ہے کہ مَیں پتہ نہیں کیا چیزبن گیا ہوں۔
اب یہ اعتراض کرنے والے بتائیں جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اعتراض کرتے ہیں کہ کیا انسانی تاریخ میں اس جیسا عاجزی کا پیکر کوئی نظر آتا ہے۔ آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کی ہر وقت یہ کوشش ہوتی تھی کہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے اخلاق پر ڈھالیں۔ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے حکموں کے مطابق اپنی زندگی گزاریں اور یوں اپنی امت کے لئے کامل اور مکمل نمونہ بنیں۔ اور آپؐ نے یہ ثابت کر دکھایا۔
چنانچہ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق قرآن کے عین مطابق تھے وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی میں خوش ہوتے تھے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی ہوتی تھی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں تو اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں۔ (الشفاء لقاضی عیاض الباب الثانی۔الفصل العاشر۔الاخلاق الحمیدہ۔صفحہ 173)
اور یہ کوئی چند ایک یا دس بیس واقعات نہیں ہیں جن سے آپؐ کے اخلاق کا ہمیں پتہ چلتا ہے۔ اور اس بارے میں صرف آپؐ کی بیوی کی ہی گواہی نہیں ہے۔ گھریلو زندگی کا اندازہ کرنے کے لئے بیوی کی گواہی بھی بہت بڑی گواہی ہوتی ہے اور بیوی بچوں کی گواہیوں سے ہی کسی کے گھر کے اندرونی حالات کا اور کسی کے اعلیٰ اخلاق کا پتہ لگتا ہے۔ لیکن آپؐ کے اعلیٰ اخلاق کے بارے میں تو ہزاروں مثالیں مختلف طبقات کے لوگوں سے مل جاتی ہیں۔ خادم جو گھر کے اندر خدمت کے لئے ہو، گھر کے حالات سے بھی باخبر رہتا ہے اور باہر کے حالات سے بھی باخبررہتا ہے۔انہیں خدام میں سے ایک حضرت انسؓ تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سے سب سے زیادہ اچھے اخلاق کے مالک تھے۔ حضرت انسؓ کا یہ بیان بھی ہے کہ اتنا عرصہ مَیں نے خدمت کی، 12-10سال جوخدمت کی، کبھی آج تک کسی بات پر، میری کسی کوتاہی پر، میری کسی غلطی پر سخت الفاظ مجھے نہیں کہے۔
پھر آپ کے اعلیٰ اخلاق کے بارے میں ایک اور روایت میں حضرت براء بن عاذب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت اور خوش اخلاق تھے۔(بخاری کتاب المناقب۔باب صفۃ النبی ؐ)
اعلیٰ اخلاق کا اظہار چہروں سے بھی ہوتا ہے۔ اگر کوئی ہر وقت اپنے چہرے پر بدمزگی طاری کئے رکھے اور سنجیدگی اور غصہ ظاہر ہو رہا ہو تو اندر جیسے مرضی اچھے اخلاق ہوں، دوسرا دیکھنے والا تو ایک دفعہ پریشان ہو جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی کیفیت بھی کیا ہوتی تھی۔ روایات میں آتا ہے کہ ہر وقت چہرے پر مسکراہٹ ہوتی تھی۔
حضرت عبداللہ بن حارثؓ بیان کرتے ہیں کہ :مَیں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ متبسم اور مسکرانے والا کوئی نہیں دیکھا۔ (الشفاء لقاضی عیاض۔الباب الثانی۔الفصل السادس عشر۔حسن عشرتہ)
پھر ایک صحابی حضرت قیسؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے جریر بن عبداللہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سناکہ اسلام لانے کے زمانے سے(یعنی جب سے وہ مسلمان ہوئے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کبھی بھی ملنے سے منع نہیں فرمایا۔ اور آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم جب بھی انہیں دیکھتے تو مسکرا دیا کرتے تھے۔ (البخاری۔کتاب المناقب باب ذکر جریر بن عبداللہ البجلی)
حضرت اُمّ معبدؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو یوں بیان کرتی ہیں کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم دور سے دیکھنے میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ خوبصورت تھے اور قریب سے دیکھنے میں انتہائی شیریں زبان اور عمدہ اخلاق والے تھے۔ (الشفاء لقاضی عیاض الباب الثانی الفصل الثالث : نظافتہ صفحہ 152)۔ دیکھ کے ہی پتہ لگ جاتا تھا کہ یہ شخص نرم خو، نرم دل ہے۔ جو حسن دور سے دیکھنے پر ہر ظاہری حسن کو ماند کر دیتا تھا۔ کوئی بھی حسین چہرہ دیکھنے میں اس چہرے کے مقابلے کا نہیں تھا۔ یہ حسن صرف ایسا حسن نہیں تھا جو دور سے ہی حسین نظر آتا ہو کہ واسطہ پڑنے پر کچھ اور نکلے۔ بلکہ اس حسین چہرے سے جب ملاقات کا موقع پیدا ہوتا تھا تو آپؐ کے اعلیٰ اخلاق، آپؐ کی نرم اور میٹھی زبان اس حسن کو چار چاند لگا دیا کرتے تھے اور حضرت اُمّ معبدؓ نے یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق کا بڑ اخوبصورت نقشہ کھینچا ہے کہ قریب سے دیکھنے سے انتہائی شیریں زبان اور عمدہ اخلاق والے تھے۔
لوگوں سے معاملات کے بارے میں حضرت علیؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کا ذ کر کرتے ہوئے فرمایا کہ:
آپؐ لوگوں میں سب سے زیادہ فراخ سینہ تھے۔ اور گفتگو میں لوگوں میں سب سے زیادہ سچے تھے۔ اور ان میں سب سے زیادہ نرم خو تھے اور معاشرت اور حسن معاملگی میں سب سے زیادہ معزز اور محترم تھے۔(الشفاء لقاضی عیاض الباب الثانی الفضل السادس العشر حسن عشرتہ صفحہ184) یعنی آپؐ میں بہت ہی زیادہ وسعت حوصلہ تھی۔ باوجود سچے ہونے کے اگر کسی معاملے میں آپ سے کوئی بدکلامی کرتا تو پھر بھی آپؐ صبر و تحمل کا مظاہرہ فرماتے تھے۔ چنانچہ جب ایک دفعہ آپ سے ایک یہودی نے واپسی قرضہ کا مطالبہ کیا اور قرضے کی مدت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی اور یہ مطالبہ اس سے پہلے ہی کر دیا تھا اور سختی بھی کی بلکہ آپ کی گردن میں کپڑا کھینچا تب بھی آپؐ نے انتہائی نرمی سے اس سے گفتگو فرمائی اور میعاد کا حوالہ نہیں دیا بلکہ اس کا مطالبہ پورا کر دیا۔ آپؐ کا حسن، آپ ؐ کے اعلیٰ اخلاق، آپؐ کا صدق آپؐ کے چہرے سے چھلکا کرتا تھا اور ہر اس شخص کو نظر آتا تھا جو تعصب کی عینک اتار کر دیکھتا تھا۔
چنانچہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: جب مَیں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک چہرہ دیکھا تو میں جان گیا کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سکتا۔(سنن دارمی کتاب الاستئذان باب فی افشاء السلام)۔
اب اسلام لانے سے پہلے یہ بڑے یہودی عالم تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو کسی نیکی کی وجہ سے حق کی پہچان کروائی تھی اور جب انہوں نے انصاف کی نظر سے دیکھا تو پہچان لیا کہ یقینا یہ ایسے شخص کا چہرہ ہے جو یقینا سچا اور اللہ تعالیٰ کے خُلق پر قائم ہے۔ آپؐ کی مجالس کی خوبصورتیاں اور حسن سلوک کے نظارے اب دیکھیں۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھے اخلاق کا مالک کوئی بھی نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ یا اہل خانہ میں سے جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً اس کی بات کا جواب دیتے اور حضرت جریر بن عبداللہؓ نے بتایا کہ مَیں نے جب سے اسلام قبول کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی مجھے دیکھا یا نہیں بھی دیکھا مگر مَیں نے ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسکراتے ہوئے ہی پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہؓ کے ساتھ مزاح بھی فرمایا کرتے تھے اور ان میں گھل مل جاتے تھے۔ اور ان سے باتیں بھی کرتے تھے اور ان کے بچوں سے خوش طبعی بھی فرماتے تھے۔ (یعنی ہنسی مذاق کی باتیں بھی کیا کرتے تھے)۔ انہیں اپنی آغوش میں بھی بٹھا لیتے تھے اور ہر ایک کی پکار کا جواب بھی دیتے تھے۔ہر ایک جو بلاتا تھا اس کا جواب بھی دیتے تھے خواہ وہ آزاد ہو(ایک آزاد آدمی ہو) یا غلام ہو(یا لونڈی ہو) یا مسکین ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شہر کے دور کے حصے میں بھی مریض کی عیادت کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے او ر معذور کا عذرقبول فرما لیا کرتے تھے۔(الشفاء لقاضی عیاض الباب الثانی الفصل السادس عشر: حسن عشرتہ صفحہ 186)
پھر حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص بات کرنے کے لئے آپؐ کے کان سے منہ لگاتا تو آپؐ سر کو پیچھے نہ ہٹاتے تھے یہاں تک کہ وہ خود پیچھے ہٹ جاتا۔ جب بھی کسی نے آپؐ کے دست مبارک کو پکڑا تو آپؐ نے کبھی اپناہاتھ نہ چھڑایا جب تک وہ خود نہ چھوڑ دیتا۔ صحابہ کرامؓ سے مصافحہ کرنے میں آپؐ پہل فرمایا کرتے تھے۔ جب بھی کوئی شخص ملتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہلے سلام کرتے۔ اپنے ساتھیوں کے درمیان پاؤں پھیلا کر نہیں بیٹھتے تھے جس سے دوسروں کو تنگی ہو۔ جو شخص آپؐ کے پاس حاضر ہوتا آپؐ اس کی عزت کرتے اور بعض اوقات اس کے لئے کپڑا بچھا دیتے یا وہی تکیہ دے دیتے جو آپؐ کے پاس ہوا کرتا تھا اور آپ اصرارفرمایا کرتے تھے کہ وہ اس پر بیٹھے۔ صحابہ کو ان کی کنیت اور ان کے پسندیدہ ناموں سے بلایا کرتے تھے۔ کسی کی بات کو ٹوکتے نہ تھے۔ اگر کوئی شخص آپؐ کے پاس ایسے وقت میں آ جاتا کہ آپؐ نماز میں مشغول ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو مختصر فرما دیا کرتے تھے۔ اس کی ضرورت کو پوری کرنے کے بعد پھر نمازمیں مشغول ہوجایا کرتے تھے۔ نزول ِقرآن، وعظ و نصیحت اور خطبہ کے وقت کے علاوہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ متبسم اور ہشاش بشاش نظر آتے تھے۔(الشفاء لقاضی عیاض الباب الثانی الفصل السادس عشر: حسن عشرتہ صفحہ 186)۔
دیکھیں اتنے بوجھ، اتنی ذمہ داریاں، اتنی فکریں، دشمنوں کی طرف سے بے شمار چرکے اور تکلیفیں ، ان باتوں کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے اپنے ربّ کے حضور حاضر ہیں لیکن جب کوئی ملنے آگیا تو اعلیٰ اخلاق کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی بات پہلے سن لی جائے۔ فوراً عبادت کو مختصر کیا اور مسکراتے ہوئے تشریف لے آئے کہ ہاں بتاؤ کیا حاجت ہے، کیا ضرورت ہے۔ تو یہ سب کچھ اس لئے برداشت کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی تعلیم کے مطابق یہ اعلیٰ اخلاق دنیا میں قائم کرنے ہیں، لوگوں کے لئے نمونہ بننا ہے۔
پھر دیکھیں وہ نظارہ کہ لوگ لائنوں میں لگے کھڑے ہیں کہ تبرک حاصل کر لیں اور آپؐ بڑی خوش اخلاقی کے ساتھ ان کی اس خواہش کو پورا فرما رہے ہیں اور ان میں بھی بہت بڑا طبقہ بچوں اور غرباء پر مشتمل ہوتا تھا۔
چنانچہ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ مدینہ منورہ کے رہنے والے خدمت گزار اپنے برتنوں میں پانی بھر کر لاتے اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز سے فارغ ہو کر ان کے برتنوں میں ہاتھ ڈبوتے حالانکہ بسا اوقات صبح کے وقت سخت سردی بھی ہوا کرتی تھی۔ یہ لوگ برکت کی خاطرایساکرتے تھے، کہ پانی کا تبرک لے کر جائیں۔ (الشفاء لقاضی عیاض الباب الثانی الفصل السادس عشر: حسن عشرتہ صفحہ 186)
پھردیکھیں گھر میں کیا زندگی تھی۔ ایک آواز پر سارا شہر بخوشی آپؐ کی خدمت کے لئے دوڑا چلا آتا، اکٹھا ہو سکتا تھا، جمع ہو سکتا تھالیکن کیونکہ اعلیٰ نمونے قائم کرنے تھے اس لئے اپنے ذاتی کاموں میں کسی سے مدد نہیں لی۔
ہشام بن عروہؓ اپنے والد حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کسی شخص نے پوچھا کہ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کوئی کام کاج کیا کرتے تھے؟ حضرت عائشہؓ نے کہا :ہاں۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم اپنی جوتی خود مرمت کر لیتے تھے، اپنا کپڑا سی لیتے تھے اور اپنے گھر میں اسی طرح کام کیا کرتے تھے جس طرح تم سب لوگ اپنے گھروں میں کام کرتے ہو۔(مسند احمد جلد 6صفحہ 167 و 121)
آج کل دیکھیں 99فیصد مرد ایسے ہیں کہ اگر قمیص کا بٹن ٹوٹ گیا ہو یا کوئی ٹانکا اکھڑا ہو تو بیویوں کے ناک میں دم کیا ہوتا ہے۔ آپؐ خود لگا لیا کرتے تھے۔ بلکہ بعض دفعہ تو گھر میں جھاڑو بھی دے لیا کرتے تھے۔
آپؐ کی سادگی اور اعلیٰ اخلاق کی تصویر ایک اور روایت میں ذرا تفصیل سے اس طرح کھینچی گئی ہے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بڑی سادہ تھی۔ آپؐ کسی کام کو عار نہیں سمجھتے تھے۔ اپنے اونٹ کو خود چارہ ڈالتے، گھر کا کام کاج کرتے، اپنی جوتیوں کی مرمت کر لیتے، کپڑے کو پیوند لگا لیتے، بکری کا دودھ دوہ لیتے، خادم کو اپنے ساتھ بٹھاکر کھانا کھلاتے۔ آٹا پیستے ہوئے اگر وہ تھک جاتا تو اس میں اس کی مدد کرتے۔ بازار سے گھر کا سامان اٹھا کر لانے میں شرم محسوس نہ کرتے۔ امیر غریب ہر ایک سے مصافحہ کرتے۔ سلام میں پہل کرتے۔ اگر کوئی معمولی کھجوروں کی دعوت دیتا تو آپؐ اسے حقیر نہ سمجھتے اور قبول کرتے۔ آپؐ نہایت ہمدرد، نرم مزاج، اور حلیم الطبع تھے۔ آپؐ کا رہن سہن بہت صاف ستھرا تھا۔ بشاشت سے پیش آتے۔ تبسم آپؐ کے چہرے پر چھلکتا رہتا۔ آپؐ زور کا قہقہہ لگا کر نہیں ہنستے تھے۔ خدا کے خوف سے فکر مند رہتے تھے لیکن ترش روئی اور خشکی نام کو نہ تھی۔ منکسرالمزاج تھے لیکن اس میں بھی کسی کمزوری، پس ہمتی کا شائبہ تک نہ تھا۔ بڑے سخی تھے لیکن بے جا خرچ سے ہمیشہ بچتے۔ نرم دل رحیم و کریم تھے۔ ہر مسلمان سے مہربانی سے پیش آتے۔اتنا پیٹ بھر کر نہ کھاتے کہ ڈکار لیتے رہیں۔ کبھی حرص و طمع کے جذبہ سے ہاتھ نہ بڑھاتے بلکہ صابر و شاکر اور کم پر قانع رہتے۔ (اسدالغابہ جلد اول صفحہ29۔ رسالہ قشیریۃ صفحہ 75)۔اور یہ صبر و شکر اور وقار اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی فطرت میں بچپن سے ہی پیدا کر دیا تھا۔چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ جب آپؐ کی چچی بچوں کو کھانا وغیرہ یا کوئی اور چیز دیا کرتی تھیں تو آپؐ وقار سے ایک طرف بیٹھے رہتے تھے اور بلانے پر پھر بڑے باوقار طریقے سے جا کر کوئی چیز لیا کرتے تھے۔
پھر آپؐ کا حسن کلام ہے یعنی آپؐ کس طرح گفتگو فرمایا کرتے تھے۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ: حضورصلی اللہ علیہ وسلم اس طرح ٹھہر ٹھہر کر گفتگو فرمایا کرتے تھے کہ اگرکوئی شخص آپؐ کے الفاظ کو گننا چاہے تو گن سکتا تھا۔(سنن ابی داؤد کتاب العلم باب فی سرد الحدیث)۔ یہ ٹھہراؤ اس لئے تھا کہ لوگ سمجھ جائیں اور کسی قسم کا ابہام نہ رہے۔ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ اس بات کی سمجھ نہیں آئی۔ لیکن اگر اس کے باوجود بھی کوئی دوبارہ پوچھتا تھا تو آپؐ بڑے تحمل سے بیان فرمایا کرتے تھے۔ بلکہ روایات میں آتا ہے کہ بعض دفعہ تو آپؐ اہم باتوں کو کئی کئی دفعہ دوہرایا کرتے تھے۔
آپ ؐ کے حسن کلام اور اعلیٰ اخلاق کے بارے میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: مَیں نے اپنے ماموں ہند بن ابی ہالہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کے انداز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ یوں لگتے جیسے کسی مسلسل اور گہری سوچ میں ہیں اور کسی خیال کی وجہ سے آپؐ کو کچھ بے آرامی سی ہے۔ آپؐ اکثر چپ رہتے، بلا ضرورت بات نہ کرتے۔ جب بات کرتے تو پوری وضاحت سے کرتے۔ آپؐ کی گفتگو مختصر لیکن فصیح و بلیغ،پُر حکمت اور جامع مضامین پر مشتمل،مگر زائد باتوں سے خالی ہوتی تھی۔ لیکن اس میں کوئی کمی یا ابہام نہیں ہوتا تھا۔ نہ کسی کی مذمت اورتحقیر کرتے، نہ توہین و تنقیض کرتے۔ چھوٹی سے چھوٹی نعمت کو بھی بڑا ظاہر فرماتے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے۔
شکر گزاری کا رنگ نمایاں تھا۔ کسی چیز کی مذمت نہ کرتے۔نہ اتنی تعریف جیسے وہ آپؐ کو بے حد پسند ہو۔ مزیدار یا بدمزہ کے لحاظ سے کھانے پینے کی چیزوں کی تعریف یا مذمت میں زمین و آسمان کے قلابے ملانا آپؐ کی عادت نہ تھی۔ ہمیشہ میانہ روی شعار تھا۔ کسی دنیوی معاملے کی وجہ سے نہ غصے ہوتے، نہ برا مناتے۔ لیکن اگر حق کی بے حرمتی ہوتی اور یا حق غصب کر لیا جاتا تو پھر آپؐ کے غصے کے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا تھا۔ جب تک اس کی تلافی نہ ہو جاتی آپؐ کو چین نہیں آتا تھا۔ حق کے لئے بہرحال سینہ سپر رہتے تھے اور وہ برداشت نہیں تھا کہ حق بیان نہ کیا جائے۔ اپنی ذات کے لئے کبھی غصے نہ ہوتے اور نہ اس کے لئے بدلہ لیتے۔جب اشارہ کرتے تو پورے ہاتھ سے کرتے صرف انگلی نہ ہلاتے۔ جب آپ ؐ تعجب کا اظہار کرتے تو ہاتھ کو الٹا دیتے۔ جب کسی بات پر خاص طورپر زور دینا ہوتاتو ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے اس طرح ملاتے کہ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر بائیں ہاتھ کے انگوٹھے کومارتے۔ جب کسی ناپسندیدہ بات کو دیکھتے تو منہ پھیر لیتے اور جب خوش ہوتے تو آنکھ کسی قدر بند کر لیتے۔ آپؐ کی زیادہ سے زیادہ ہنسی کھلے تبسم کی حد تک ہوتی۔ یعنی زور کا قہقہہ نہ لگاتے۔ ہنسی کے وقت آپؐ کے دندان مبارک ایسے نظر آتے تھے جیسے بادل سے گرنے والے سفید سفید اولے ہوتے ہیں۔(شمائل ترمذی۔باب کیف کان کلام رسول اللہ ﷺ)
حضرت براء بن عاذب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: مَیں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔آپ نے سرخ جوڑا دھاری دار پہنا ہوا تھا اور پٹکا باندھا ہوا تھا۔ آپؐ سے بڑھ کر خوبصورت مَیں نے کبھی کسی کونہیں دیکھا۔
حضرت براء بن عاذب رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک تلوار کی طرح(لمبا اور پتلا)تھا توآپؓ نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ چاند کی طرح(گول اور چمکدار) تھا۔(بخاری کتاب المناقب باب صفۃ النبی ﷺ)
عرب بھی مثالیں خوب تلاش کرتے ہیں۔ عربوں کے لئے تلوار اس زمانے میں ایک بہت اہم چیز تھی اور مردانگی اور مردانہ وجاہت کی نشانی بھی سمجھی جاتی تھی۔ انہوں نے شاید اسی لئے تلوار کی مثال دی۔ لیکن جس صحابی نے دیکھا تھا انہوں نے کہا کہ نہیں ایسے چہرے کی مثال تو چاند کی ہے جو گول بھی ہے، چمکدار بھی ہے۔ جس سے ٹھنڈی روشنی بھی نکلتی ہے۔ جس کو مستقل دیکھنے کو دل بھی چاہتا ہے۔ یہ اپنا گرویدہ بھی بنا لیتی ہے۔ اس حسین چہرے میں تو ٹھنڈک ہی ٹھنڈک تھی۔ تلوار کی مثال تو نہیں دی جا سکتی جس میں کاٹنے کی خاصیت ہے۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن تو دلوں کو موہ لینے والا حسن تھا۔
پھر حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپؐ کا چہرہ دمک رہا تھا اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوخوشی کی خبر ملتی تھی تو آپ ؐ کا چہرہ ایسے چمک اٹھتا تھا گویا چاند کا ٹکڑاہے اور اسی سے ہم آپؐ کی خوشی پہچان لیتے تھے۔(بخاری کتاب المناقب باب صفۃ النبی ﷺ)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو چاندنی رات میں دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرخ رنگ کا لباس زیب تن فرمایا ہوا تھا۔مَیں کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا اور کبھی چاند کو۔ پس میرے نزدیک تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم یقینا اَحْسَنُ مِنَ الْقَمَرَ یعنی چاند سے کہیں زیادہ حسین تھے۔ (شمائل ترمذی۔باب فی خلق رسول اللہ ﷺ)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و جمال، خوبصورتی، وجاہت اور اخلاق کے بارے میں ایک تفصیلی روایت اس طرح بیان ہوئی ہے۔ حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے اپنے ماموں ہند بن ابی ہالہ سے جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کرنے میں بڑے ماہر تھے اور مَیں چاہتا تھا کہ یہ میرے پاس ایسی باتیں بیان کریں جنہیں مَیں گرہ میں باندھ لوں۔ چنانچہ ہند نے بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بارعب اور وجیہہ شکل و صورت کے تھے۔ چہرہ مبارک یوں چمکتا تھا گویا چودھویں کا چاند۔ میانہ قد یعنی پستہ قامت سے دراز اور طویل قامت سے قدرے چھوٹا۔ یعنی نہ چھوٹا قد تھا نہ بہت لمبا۔درمیانہ قد تھا۔ سر بڑا، بال خم دار اور گھنے جو کانوں کی لَو تک پہنچتے تھے۔ مانگ نمایاں، رنگ کھلتا ہوا سفید،پیشانی کشادہ، ابرو لمبے باریک اوربھرے ہوئے جو باہم ملے ہوئے نہیں تھے بلکہ درمیان میں سفید سی لکیر نظر آتی تھی جو غصے کے وقت نمایاں ہو جاتی تھی۔ ریش مبارک گھنی، رخسار نرم اور ہموار، دہن کشادہ،دانت ریخدار اور چمکیلے، آنکھوں کے کوئے باریک، گردن صراحی دار مگر چاندنی کی طرح شفاف جس پر سرخی جھلکتی تھی۔ معتدل الخلق، بدن کچھ فربہ لیکن بہت موزوں۔پیٹ اور سینہ ہموار ہوتا تھا۔ سینہ چوڑا اور فراخ۔ جوڑ مضبوط اور بھرے ہوئے۔ جلد چمکتی ہوئی نازک اور ملائم۔ چھاتی اور پیٹ بالوں سے بالکل صاف سوائے ایک باریک سی دھاری کے جو سینے سے ناف تک چلی گئی تھی۔ کہنیوں تک دونوں ہاتھوں اور کندھوں پر کچھ کچھ بال۔ پہنچے لمبے، ہتھلیاں چوڑی، اور گوشت سے بھری ہوئی۔ انگلیاں لمبی اور سڈول۔ پاؤں کے تلوے قدرے بھرے ہوئے۔ قدم نرم اور چکنے کہ پانی بھی ان کے اوپر سے پھسل جائے۔جب قدم اٹھاتے تو پوری طرح اٹھاتے۔ رفتار باوقار لیکن کسی قدر تیز جیسے بلندی سے اتر رہے ہوں۔ جب کسی کی طرف رخ پھیرتے تو پورا رخ پھیرتے۔ نظر ہمیشہ نیچی رہتی۔ یوں لگتا جیسے فضا کی نسبت زمین پر آپ کی نظر زیادہ پڑتی ہے۔ آپ اکثر نیم وا آنکھوں سے دیکھتے۔اپنے صحابہ کے پیچھے چلتے اور ان کا خیال رکھتے۔ ہر ملنے والے کو سلام میں پہل فرماتے۔(شمائل ترمذی باب فی خلق رسول اللہ ﷺ)
یہ آپ کے حسن و وجاہت اور اعلیٰ خلق کا ایک ایسا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ جو کچھ بھی انسانی طاقت کسی چیز کو بیان کرنے کی ہے اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ لیکن جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ آپؐ کا ہر خُلق عظیم تھا اور ہر معاملے میں آپ کی عظمت اتنی تھی کہ احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ پھر بھی لگتا ہے کہ یہاں کمی رہ گئی ہے۔ اس سے بہت بڑھ کر ہوں گے جو بیان ہوا ہے۔
آپؐ کے حسن کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم اس قدر شفاف حسین اور خوبصورت تھے گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن مبارک چاندی سے ڈھالا گیا ہے۔ (شمائل ترمذی باب فی خلق رسول اللہ ﷺ)
اور آپؐ کی خوبصورت چال کا نقشہ یوں کھینچا گیا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مَیں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین کوئی نہیں دیکھا گویا آپ ؐکا چہرہ مبارک ایک درخشندہ آفتاب کی مانند تھا۔اور مَیں نے چلنے میں آپ ؐ سے تیز کسی کو نہیں پایا گویا زمین آپ کے لئے سمٹتی جاتی تھی۔ ہمیں آپؐ کے ساتھ چلتے رہنے میں کافی دقت پیش آتی تھی جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی معمول کی رفتار سے چل رہے ہوتے تھے۔(شمائل ترمذی باب ما جاء فی مشیۃ رسول اللہ ﷺ)
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روشن اور صاف رنگ کے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ موتیوں کی طرح نظر آتا تھا۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے تھے توجس طرح آدمی ڈھلوان سے اترتے ہوئے چل رہا ہوتا ہے آپؐ کے چلنے میں اس طرح کی روانی ہوتی تھی۔(مسلم کتاب الفضائل باب طیب رائحۃ النبی ﷺ)
آپؐ کے ہاتھوں کی نرمی کے بارے میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ مَیں نے کوئی ریشم یا ریشم ملا کپڑا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم ہو کبھی نہیں چھوا۔(بخاری کتاب الفضائل باب صفۃ النبیﷺ)
باوجود اس کے کہ گھریلو کام بھی کرتے تھے، جنگوں میں بھی حصہ لیتے تھے۔ سب صحابہ سے سخت جان تھے۔ جنگ احزاب میں جب ایک جگہ چٹان نہیں ٹوٹ رہی تھی تو آپؐ کی ضربات نے ہی اسے ریزہ ریزہ کر دیا تھا۔تو نرم ہاتھوں سے کوئی اس غلط فہمی میں نہ پڑے کہ ان ہاتھوں نے مشقت نہیں کی تھی۔ یہ ہاتھ تو سب سے زیادہ مشقت کرنے والے ہاتھ تھے اور اس کی بے شمار مثالیں ہیں۔ آپ کو خوشبو بہت پسند تھی۔ خوشبو لگایا کرتے تھے۔
حضرت جابر بن سمرہؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی آپؐ اپنے اہل خانہ کی طرف چلے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو لیا تو کچھ بچے آپؐ کے سامنے آگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ہر ایک کے رخسار کو چھونے اور پیار کرنے لگے۔ راوی بیان کرتے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے میری گال پر بھی پیار کرتے ہوئے چھوا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹھنڈا اور ایسا خوشبو دار پایا گویا کہ آپ نے اسے کسی عطار کے برتن میں سے نکالا ہے۔(مسلم کتاب الفضائل باب طیب رائحۃ النبیؐ)
خوشبو آپؐ کو بہت پسند تھی، خوشبولگایا کرتے تھے اور ایک خاص جگہ رکھا کرتے تھے۔ یہ بھی روایت میں آتا ہے کہ ایک شیشی میں رکھا کرتے تھے۔ اس سے خوشبو لگایا کرتے تھے۔(شمائل ترمذی باب ماجاء فی تعطر رسول اللہ ﷺ)
پھر آپ کی حیا ہے۔ وہ بھی آپؐ میں اس قدر تھی کہ جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اور آپؐ نے فرمایا کہ حیا ایمان کا حصہ ہے۔ بچپن میں بھی آپؐ میں اتنی حیا تھی کہ ایک موقع پر آپؐ کا کپڑا اوپرہونے پر جب آپؐ کو ننگ کا احساس ہوا تو آپ کی آنکھیں پتھرا گئی تھیں۔ حالانکہ وہ کوئی ایسی بات نہیں تھی اور اس وقت آپ کی عمر بھی چھوٹی تھی لیکن آپؐ کی حیادار فطرت کو اتنا بھی گوارا نہیں ہوا۔ اور پھر جب آپؐ نے اپنے نمونے قائم کرنے تھے پھر تو اس حیا میں کوئی مقابلہ ہی نہیں کر سکتا۔
چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پردہ دار کنواری دوشیزہ سے بھی زیادہ حیا دار تھے۔ (بخاری کتاب المناقب باب صفۃ النبیﷺ)اور آپؐ جب بھی کوئی ناپسندیدہ چیز کو دیکھتے تو ہم اسے آپؐ کے چہرہ مبارک سے جان لیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اعلیٰ نمونوں کی وجہ سے صحابہؓ کا اخلاص بھی اس قدر بڑھ گیاتھا کہ وہ ہر وقت آپ کے چہرے کو دیکھا کرتے تھے کہ اس سے آپؐ کی پسنداورناپسند کاپتہ لگائیں اور پھر آپ کی خواہش کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالیں۔
حضرت حسان بن ثابتؓ ایک قصیدے میں فرماتے ہیں ؎

وَاَحْسَنُ مِنْکَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَیْنِیْ
وَاَجْمَلُ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَآءٗ

کہ تجھ سے زیادہ حسین میری آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا اور نہ ہی تجھ سے زیادہ خوبصورت بچہ کسی عورت نے جنا ہے۔
پھر کہتے ہیں کہ ؎

خُلِقْتَ مُبَرَّء مِنْ کُلِّ عَیْبٍ
کَاَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَآءٗ

کہ آپ ؐ ہر عیب و نقص سے پاک بنائے گئے گویا کہ آپؐ اپنی مرضی سے اور جس طرح آپ نے چاہا اس عالم میں تشریف لائے۔
عطاء بن یسار سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ مَیں عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے ملا اور کہا کہ آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ نشانیاں بتائیں جو تورات میں مذکور ہیں۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے اور پھر فرمایا خدا کی قسم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض صفات تورات میں بھی وہی مذکور ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔ مثلاً یہ آیت یٰٓاَ یُّھَا النَّبِیُّ اِ نَّآ اَرۡسَلۡنٰکَ شَاھِدًا (الاحزاب:45) یعنی اے نبی ہم نے تجھے بطور شاہد کے اور مبشر اور نذیر کے بھیجا ہے۔ نیز امیوں کے لئے حفاظت کا ذریعہ بنایاہے۔ توُ میرا بندہ اور میرا رسول ہے۔ مَیں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے۔ نیز نہ تو توُ بدخلق، درشت کلام ہے اور نہ سخت دل۔ اور نہ ہی بازاروں میں شور مچانے والا ہے۔ بدی کا بدلہ بدی سے نہیں دیتا بلکہ درگزر کرتا اور معاف کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس وقت تک اسے وفات نہیں دے گا جب تک کہ وہ اس کے ذریعے سے ایک ٹیڑھی قوم کو راہ راست پر قائم نہ کر دے۔ (بخاری کتاب التفسیر باب انا ارسلناک شاھدا…)
پس دیکھیں کس طرح یہ باتیں سچی ثابت ہوئی ہیں۔ دنیا دار لوگ اگر کوئی بھی نیکی کریں یا مثلاً نیکیوں کا اظہار کرنے والے لوگ۔اگر کوئی نیکی کرے یا نیکی کرنے کی کوشش کریں تو نیکی کے اظہار کے لئے وقتی طور پر یہ ہوتا ہے کہ مشکل راستہ اختیار کیا جائے۔ وقتی طور پر اس لئے کہ ان میں مستقل مزاجی تو ہوتی نہیں۔ دکھاوے کی نیکیاں ہوتی ہیں۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ کیا ہے۔
اس بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کو دو معاملات میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کا حق دیا جاتا تو آپؐ ہمیشہ آسان کو اختیار فرماتے بشرطیکہ گناہ نہ ہو۔ اور اگر آسان معاملے میں گناہ کا اندیشہ ہوتا تو آپ ؐ تمام لوگوں سے اس معاملے میں سب سے زیادہ دُور اور محتاط ہوتے۔ آپؐ نے اپنی ذات کے لئے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔ سوائے اس کے کہ اگر کوئی اللہ کی بے حرمتی کرتا تو آپؐ اللہ کے لئے اس سے انتقام لیتے۔ (بخاری کتاب المناقب باب صفۃ النبیؐ)
آپؐ کا ہر قول، ہر فعل خداتعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے تھا۔ ایک تو ہر کام میں آسان راستہ تلاش کرتے۔ دوسرے آسان اور مشکل راستے کا فیصلہ اس سوچ سے فرماتے کہ اللہ تعالیٰ کا کیا حکم ہے، اس کی رضا کیا ہے۔ اور پھر اگر کسی سے انتقام لیا بھی تو اپنی ذات کے لئے نہیں لیا بلکہ اللہ تعالیٰ کی غیرت کی خاطر لیا۔
آپؐ کی غذا بھی نہایت سادہ تھی۔ لیکن اچھا کھانا میسر آتا تو وہ بھی پسند فرمایا کرتے تھے۔حضرت انسؓ ایک دعوت کا ذکر کرتے ہیں کہ آپؐ ایک دعوت میں تشریف لے گئے۔کہتے ہیں مَیں بھی ساتھ تھا۔ اس دعوت میں جو کی روٹی اور کدو گوشت کا سالن پیش کیا گیا۔ راوی کہتے ہیں چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو پسند تھا۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم شوربے میں سے کدو تلاش کر کرکے نو ش فرماتے رہے۔ اس لئے مجھے بھی کدو سے رغبت ہو گئی۔ (شمائل ترمذی باب ما جاء فی صفۃ ادالم رسول اللہ ﷺ)
اگر آج کسی دعوت میں کسی کو کدو گوشت کھلائیں تو شاید مذاق اڑنا شروع ہو جائے۔اس زمانے میں تو ایسے حالات تھے کئی کئی دن فاقوں میں گزرتے تھے۔
پھر حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھانے میں میٹھی چیز اور شہد پسند فرمایا کرتے تھے، آپؐ کو میٹھا پسند تھا۔(بخاری کتاب الأطعمۃ باب الحلوی والعسل)
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے اہل خانہ اکثر کئی کئی راتیں بھوک میں گزار دیا کرتے تھے۔ (شمائل ترمذی باب ما جاء فی صفۃ رسول اللہ ﷺ)
تو جیسا کہ پسند کا ذکر آیا ہے، میٹھا کھانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میٹھا ہو گا تو کھاؤں گا، نہیں ہو گا تو نہیں کھاؤں گا۔فلاں چیز پکے گی تو کھاؤں گا اور وہ ضرور ملے۔ اگر مل گیا تو الحمدللہ اور اگر نہیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف بھوک برداشت کرنے کی تلقین ہی نہیں فرمائی بلکہ عملاً یہ کرکے دکھایا۔ بعض دفعہ یہ بھی ہوتا تھا کہ پوچھتے ہیں گھر میں کچھ کھانے کو ہے۔ اگر جواب’ نہیں ‘ میں ملتا تو کہتے اچھا ٹھیک ہے آج روزہ رکھ لیتے ہیں۔ اور یہ روزے بھی اکثر اوقات آٹھ پہرے ہوتے تھے۔یعنی ایک رات کو کھایا ہے تو اگلے دن 24گھنٹے بعد رات کو روزہ افطار کیا ہے۔
جنگ خندق میں جب صحابہ نے بھوک کی وجہ سے خالی پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے تھے۔ آپ کو دکھائے تو آپؐ نے بھی اپنا کپڑا اٹھا کر دکھایا کہ تمہارا ایک پتھر بندھا ہوا ہے، میرے دو پتھر بندھے ہوئے ہیں۔ غرض اگر کبھی صحابہ کسی مشکل میں گرفتار ہوئے تو سب سے بڑھ کر اس مشکل میں آپؐ نے خود اپنے آپ کو ڈالا ہے تاکہ نمونے قائم کریں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:
’’ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھو کہ آپؐ کی نبوت کے زمانے میں سے تیرہ سال مصائب اور شدائد کے تھے اور دس سال قوت و ثروت اور حکومت کے۔ مقابل میں کئی قومیں۔ اول تو اپنی ہی قوم تھی۔ یہودی تھے۔ عیسائی تھے۔ بت پرست قوموں کا گروہ تھا۔ مجوس تھے وغیرہ،جن کا کام کیا ہے؟ بت پرستی،جو ان کا حقیقی خدا کے اعتقاد سے پختہ اعتقاد اور مسلک تھا۔ وہ کوئی کام کرتے ہی نہ تھے جو بتوں کی عظمت کے خلاف ہو۔ شراب خوری کی یہ نوبت کہ دن میں پانچ مرتبہ یا سات مرتبہ شراب بلکہ پانی کی بجائے شراب ہی سے کام لیا جاتا تھا۔ حرام کو تو شیر مادر جانتے تھے۔ اور قتل و غیرہ ان کے نزدیک ایک گاجر مولی کی طرح تھا۔غرض کُل دنیا کی اقوام کا نچوڑ اور گندے عقائد کا عطر ان کے حصے میں آیا ہوا تھا۔ اس قوم کی اصلاح کرنی اور پھر ان کو درست کرنا اور پھر اس پر زمانہ وہ کہ یکہ و تنہا بے یار ومددگار پھرتے ہیں۔ کبھی کھانے کو ملا اور کبھی بھوکے ہی سو رہے۔ جو چند ایک ہمراہی ہیں ان کی بھی ہر روز بُری گت بنتی ہے۔ بے کس اور بے بس۔ اِدھر کے اُدھر اور اُدھر کے اِدھر مارے مارے پھرتے ہیں۔ وطن سے بے وطن کر دئیے گئے۔
پھر دوسرا زمانہ تھا کہ تمام جزیرہ عرب ایک سرے سے دوسرے سرے تک غلام بنا ہوا ہے۔ کوئی مخالفت کے رنگ میں چوں بھی نہیں کر سکتا۔ اور ایسا اقتدار اور رعب خدا نے دیا ہوا ہے کہ اگر چاہتے تو کل عرب کو قتل کر ڈالتے۔ اگر ایک نفسانی انسان ہوتے تو ان سے ان کی کرتوتوں کا بدلہ لینے کا عمدہ مو قع تھا۔ جب الٹ کر مکہ فتح کیا تو

لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْم

فرمایا۔
غرض اس طرح سے جو دونوں زمانے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پرآئے اور دونوں کے واسطے ایک کافی موقع تھا کہ اچھی طرح سے جانچے پرکھے جاتے۔ اور ایک جوش یا فوری ولولہ کی حالت نہ تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر طرح کے اخلاق فاضلہ کا پورا پورا امتحان ہو چکا تھا۔ اور آپؐ کے صبر، استقلال، عفت، حلم، بردباری،شجاعت، سخاوت، جود وغیرہ وغیرہ کل اخلاق کا اظہار ہو چکا تھا اور کوئی ایسا حصہ نہ تھا جو باقی رہ گیاہو۔ (ملفوظات جلد سوم صفحہ 149-148)
پھر فرمایا کہ:’’ وہ انسان جس نے اپنی ذات سے اپنی صفات سے اپنے افعال سے، اپنے اعمال اور اپنے روحانی اور پاک قویٰ کے پر زور دریا سے کمالِ تام کا نمونہ علماً وعملاً و صدقاً و ثباتاً دکھلایا اور انسان کامل کہلایا‘‘۔ یعنی اپنے تمام عمل اور فعل سے اعلیٰ نمونے دکھائے جو ایک مکمل انسان کے ہو سکتے ہیں۔ ’’وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسان کامل تھا اور کامل نبی تھا اور اورکامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اورحشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالَم کا عالَم مرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہو گیا۔ وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء امام الاصفیاء، ختم المرسلین، فخر النبیّین جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اے ہمارے خدا! اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتدائے دنیا سے تو نے کسی پر نہ بھیجا ہو۔ اگر یہ عظیم الشان نبی دنیا میں نہ آتا تو پھر جس قدر چھوٹے چھوٹے نبی دنیا میں آئے جیسا کہ یونسؑ اور ایوبؑ اور مسیح بن مریم ؑاور ملاکی ؑاور یحییٰؑ اور زکریاؑ وغیرہ وغیرہ ان کی سچائی پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں تھی اگرچہ سب مقرب ا وروجیہہ اور خداتعالیٰ کے پیارے تھے۔ یہ اس نبی کا احسان ہے کہ یہ لوگ بھی دنیا میں سچے سمجھے گئے۔

اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ۔ وَاٰخِرُدَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔‘‘ (اتمام الحجۃ صفحہ (36

آپؑ ہمیں نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپؐ کے اعمال خدا کی نگاہ میں اس قدر پسندیدہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے حکم دیا کہ آئندہ لوگ شکر گزاری کے طور پر آپؐ پر درود بھیجیں۔

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔۔
پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/BJWH4]

اپنا تبصرہ بھیجیں