خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 11؍فروری 2005ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
کسی اعلیٰ تعلیم اور اس کے لانے والے کے اعلیٰ کردار کو جانچنے کے لئے اس شخص کی زندگی میں سچائی کے معیار بھی دیکھنا بہت ضروری ہوتاہے
اور یہ معیار ہمیں حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سب سے بڑھ کر نظر آتے ہیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق کا تقاضا ہے کہ آپؐ کی سیرت کے ہر پہلو کو دیکھا جائے اور بیان کیا جائے۔
(آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ زندگی سے آپ ؐ کے صادق اور راستباز ہونے سے متعلق اپنوں اور غیروں کی مختلف گواہیوں کا تذکرہ)
خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ 11؍فروری 2005ء بمقام مسجد بیت الفتوح۔مورڈن،لندن

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
قُلْ لَّوْ شَآء اللّٰہُ مَا تَلَوْتُہٗ عَلَیْکُمْ وَلَآ اَدْرٰکُمْ بِہٖ۔ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ۔ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (سورۃ یونس آیت نمبر17)

انبیاء دنیا میں مبعوث ہوتے ہیں تو لوگوں کو اپنی گزشتہ زندگی کا حوالہ دے کر یہ کہتے ہیں، قوم کے لوگوں کو چیلنج دیتے ہیں کہ یہ جو ہماری زندگی تمہارے سامنے گزری اس میں ہمارا جو کردار بھی تمہیں نظر آئے گا یا نظر آیا وہ یہی نظر آئے گا کہ سچ بات پر قائم رہے اور سچ کہا اور سچ پھیلانے کی کوشش کی۔ اور اس وصف کے اعلیٰ ترین معیار ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نظر آتے ہیں۔ آپؐ کی زندگی کا ہر لمحہ اس اعلیٰ خُلق کے نور سے منور تھا۔ آپؐ کا ہر عمل، ہر فعل، دعویٰ نبوت سے پہلے بھی سچائی اور حق گوئی سے سجا ہوا تھا۔ تبھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس اعلیٰ خُلق کی مثال دیتے ہوئے کفار کو مخاطب کرکے اس آیت میں جو میں نے تلاوت کی ہے فرمایا ہے کہ توُ کہہ دے کہ اگر اللہ چاہتا تو میں تم پر اس کی تلاوت نہ کرتا اور نہ وہ اللہ تمہیں اس بات پر مطلع کرتا۔پس میں اس رسالت سے پہلے بھی تمہارے درمیان لمبی عمر گزار چکا ہوں، کیا تم عقل نہیں کرتے؟۔ تم جو مجھ پر یہ الزام دے رہے ہو کہ یہ جو مَیں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے یہ غلط ہے، جھوٹ ہے اور قطعاً مَیں خداتعالیٰ کی طرف سے مبعوث نہیں کیا گیا، مَیں دنیاداروں کی طرح اپنی لیڈری کی دکان چمکانے کے لئے (نعوذ باللہ) یہ دعویٰ کر رہا ہوں تاکہ تم لوگ کسی طرح مجھے اپنا سردار تسلیم کر لو یا تنگ آ کر میرے سے شرائط طے کرنے لگ جاؤ۔ تو سن لو کہ ان بکھیڑوں سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے،ان
دنیا داری کی باتوں سے مجھ کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اگر یہ باتیں، یہ چیزیں مجھے چاہیے ہوتیں تو مَیں تمہاری مرضی کی باتیں تمہیں بتاتا جو تمہیں خوش کر دیتیں۔ مجھ پر تم اعتراض کرنے والے نہ ہوتے بلکہ فوراً مجھے وہ مقام دینے والے بن جاتے۔ لیکن مَیں تو تمہیں حق کا وہ پیغام پہنچا رہا ہوں جو خداتعالیٰ نے مجھ پر اتارا ہے۔ اس لئے مجھ سے اس بارہ میں نہ لڑو۔ اگر اللہ یہ پیغام تم تک پہنچانا نہ چاہتا تو مَیں قطعاً تمہیں وہ باتیں نہ کہتا جو اللہ تعالیٰ نے مجھے سکھائیں اور مَیں نے تمہیں بتائیں۔ تم مجھے شک کی نظر سے دیکھ رہے ہو کہ شاید یہ ساری باتیں مَیں نے اپنے پاس سے گھڑ لی ہیں۔کچھ تو ہوش کرو۔ میں تمہارے درمیان ایک عرصے سے رہ رہا ہوں۔ دو چار سال کا عرصہ نہیں ہے، دس بیس سال کا عرصہ نہیں ہے گو کہ یہ عرصہ بھی کسی کے کردار کو جانچنے کے لئے بہت ہوتا ہے۔ لیکن اس میں کہا جا سکتا ہے کہ جوانی کی عمر ہے کئی اتار چڑھاؤ آتے ہیں۔ فرمایا کہ میری تو یہ عمر بھی گزر گئی ہے جو جوانی کی عمر ہوتی ہے اور چالیس سال کی پختہ عمر ہو گئی ہے۔ اور یہ تمام عرصہ مَیں نے تمہارے درمیان گزارا ہے۔ یہ تو وہ عمر ہے جس میں اب عمر ڈھلنے کا دور شروع ہو جاتا ہے۔ میری گزشتہ چالیس سالہ زندگی تمہارے سامنے ہے۔ مَیں نے کبھی بھی کسی بھی معاملے میں جھوٹ تو درکنا ر، حق سے اور سچ سے رتّی بھر بھی انحراف نہیں کیا، ذراسا بھی حق سے پیچھے نہیں ہٹا۔ اب اس عمر میں کیا مَیں تمہاری سرداری لینے کے لئے خدا پر جھوٹ بولوں گا!؟۔
تو یہ ہے وہ شاندار گواہی جو خداتعالیٰ نے وحی کرکے آپؐ کے ذریعے کفار تک پہنچائی، دنیا تک پہنچائی کہ کچھ تو ہوش کے ناخن لو، کیوں تمہاری مت ماری گئی ہے، تمہاری عقل کو کیا ہو گیا ہے۔ آج بھی جو لوگ قرآن کو نہیں مانتے ان میں سے بعض ایسے ہیں جن کا کام اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کے سوا کچھ نہیں ہے۔ وہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ قرآن میں سے تم دکھا رہے ہو اور ہم لوگ تو اس کو مانتے نہیں کہ یہ الہامی کتاب ہے۔ تم نے کہانی بنا کر خود ہی اس کے بارے میں گواہی دے دی۔ تو ایسے لوگوں کو کم از کم حقائق اور واقعات سے ہی سچائی کو پرکھ لینا چاہئے۔
یہ جو آپؐ نے اتنا لمبا عرصہ کفار میں گزارا اور یہ جو اتنا بڑا دعویٰ کفار کے سامنے رکھا کہ تمہارے سامنے میری زندگی ہے اس پر غور کرو۔اس پر کبھی کفار مکہ نے انگلی نہیں اٹھائی کہ تم جھوٹ بول رہے ہو، فلاں فلاں موقع پر جھوٹ نہیں بولا تھا؟ یاد کرایا جائے۔ ایک بھی مثال ایسی نہیں ملتی کہ کفار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس استدلال پر اس دلیل کو ردّ کیا ہو، کوئی اس پہ اعتراض کیا ہو۔ اس کے برعکس آپؐ کو صدوق کہا جاتا تھا۔ اس کی مثالیں ہیں۔ یعنی جھوٹ بولنا تو ایک طرف رہا، صداقت کا ایسا اعلیٰ نمونہ تھے جس کی مثال نہیں ملتی۔ ایسے واقعات کی بعض مثالیں مَیں پیش کرتا ہوں لیکن اس سے پہلے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک اقتباس ہے۔
آپؑ فرماتے ہیں کہ: ’’انبیاء وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اپنی کامل راستبازی کی قوی حجّت پیش کرکے اپنے دشمنوں کو بھی الزام دیا جیسا کہ یہ الزام قرآن شریف میں حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے موجود ہے جہاں فرمایا ہے

فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ۔ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (سورۃ یونس)

یعنی میں ایسا نہیں کہ جھوٹ بولوں اور افتراء کروں۔ دیکھو مَیں چالیس برس اس سے پہلے تم میں ہی رہتا رہا ہوں کیا کبھی تم نے میر ا کوئی جھوٹ یا افتراء ثابت کیا؟ پھر کیا تم کو اتنی سمجھ نہیں یعنی یہ سمجھ کہ جس نے کبھی آج تک کسی قسم کا جھوٹ نہیں بولا وہ اب خد اپر کیوں جھوٹ بولنے لگا۔ غرض انبیاء کے واقعات عمری اور ان کی سلامت روشی ایسی بدیہی اور ثابت ہے‘‘ یعنی واضح اور ثابت شدہ ہے’’ کہ اگر سب باتوں کو چھوڑ کر ان کے واقعات ہی کو دیکھا جائے تو ان کی صداقت ان کے واقعات سے ہی روشن ہو رہی ہے۔ مثلاً اگر کوئی منصف اور عاقل ان تمام براہین اور دلائل صدق نبوت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے جو اس کتاب میں لکھی جائیں گی، قطع نظر کر کے محض ان کے حالات پر ہی غور کرے تو بلاشبہ ان حالات پر غور کرنے سے ان کے نبی صادق ہونے پر دل سے یقین کر ے گا اور کیوں کر یقین نہ کرے وہ واقعات ہی ایسے کمال سچائی اور صفائی سے معطر ہیں کہ حق کے طالبوں کے دل بلا اختیار ان کی طرف کھینچے جاتے ہیں ‘‘۔ (براہین ا حمدیہ۔روحانی خزائن جلد اول صفحہ 108-107جدید ایڈیشن)
یہ آپ نے براہین احمدیہ میں فرمایا تھا۔ تو بہرحال آگے مَیں باقی باتیں تو نہیں بیان کر رہا۔ اب احادیث سے کچھ واقعات بیان کروں گا جن سے آپؐ کی سچائی پر معاشرے کے ہر طبقے نے مہر ثبت کی ہے، گواہی دی ہے۔ جس میں گھر والے بھی ہیں،کاروباری شریک بھی ہیں، دوست بھی ہیں اور دشمن بھی ہیں کہ یہ وہ سچا انسان تھا جسے ہم بلامبالغہ صدوق کہتے تھے اور کہتے ہیں۔
ابتدائے جوانی میں ہی قریش مکہ کی ایک گواہی ہے جو انہوں نے آپؐ کے صادق اور امین ہونے پردی۔ ایک واقعہ ہے کہ جب تعمیر کعبہ کے وقت حجر اسود کی تنصیب کے لئے قبائل کا باہم اختلاف ہوا اور نوبت جنگ و جدال تک پہنچنے لگی تو چار پانچ دن تک کوئی حل نظر نہیں آ رہا تھا۔ پھر ان میں سے ایک عقلمند شخص نے مشورہ دیا، جن کا نام ابو امیہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمربن مختوم تھا۔یہ سب سے بوڑھے شخص اور تجربہ کار تھے۔ عموماً بوڑھے ذرا ہوش سے کام لیتے ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اختلاف کرنے کی ضرورت نہیں ہے یہ فیصلہ کر لو کہ جو شخص کل سب سے پہلے بیت اللہ میں آئے گا وہ فیصلہ کر دے۔ اس بات پر سارے راضی ہو جاؤ۔ چنانچہ سب نے یہ تجویز مان لی اور اگلے روز انہوں نے دیکھا کہ سب سے پہلے بیت اللہ میں داخل ہونے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ چنانچہ جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہا ھٰذَالْاَمِیْنیہ تو امین ہے۔ ہم خوش ہو گئے یہ محمدؐ ہیں۔ چنانچہ جب وہ ان کے پاس پہنچے اور قریش نے حجر اسود کے وضع کرنے کا جھگڑا بتایا۔ جب حجر اسود لگانا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس ایک کپڑا لاؤ۔ چنانچہ آپؐ کو کپڑا پیش کیا گیا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا بچھایا اور حجر اسود کو اس چادر پہ رکھ دیا۔ پھر آپؐ نے فرمایا ہر قبیلہ اس چادر کا ایک کونہ پکڑ لے۔ پھر سب مل کر حجر اسود کو اٹھاؤ۔ چنانچہ انہوں نے ایسے ہی کیا۔ یہاں تک کہ جب وہ حجر اسود جہاں رکھنا تھا اپنی اس جگہ پر پہنچ گیا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کو اپنے ہاتھ سے اس کی جگہ پر نصب فرما دیا۔(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام۔ اشارۃ ابی امیۃ بتحکیم اول داخل فکا ن رسو ل اللہ ؐ)
تو جیسا کہ اس وقت کفار نے، قریش کے سرداروں نے آپؐ کو امین کہا تھا۔ یہ دعویٰ سے بہت پہلے کا قصہ ہے، جوانی کا قصہ ہے۔ اورامین بھی وہی ہوتا ہے جو سچ پر قائم رہنے والا ہو۔ کبھی کوئی جھوٹا شخص امانت دار نہیں ہو سکتا۔ تو دیکھیں اس بات سے سرداران قریش میں آپؐ کا ایک مقام تھا۔ اگر آپ ؐ دنیاداروں کی طرح سرداری یا لیڈری چاہتے تو اس مقام کی وجہ سے وہ حاصل کر سکتے تھے۔ لیکن آپؐ کو تو اس چیز سے کوئی غرض نہیں تھی۔
پھر دیکھیں انہیں جوانی کے ایام کی بات ہے۔ جب حضرت خدیجہؓ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صدق بیانی اور امانتداری اور اعلیٰ اخلاق کا حال سن کر اپنا مال آپ کو دے کر تجارت کے لئے آپؐ کو روانہ کیا۔ اس سفر میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے غلام میسرہ بھی آپ ؐ کے ساتھ تھے۔ واپسی پہ میسرہ نے سفر کے حالات بیان کئے تو حضرت خدیجہؓ نے ان سے متأثر ہو کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو شادی کا پیغام بھجوایا۔ کہ آپؐ قرابت داری کا خیال رکھتے ہیں، قوم میں معزز ہیں، امانتدار ہیں اور احسن اخلاق کے مالک ہیں اور بات کہنے میں سچے ہیں۔(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام صفحہ 149)
توسچائی اور امانتداری کے اعلیٰ معیار جو آپؐ نے اس وقت جوانی کے وقت میں قائم کئے تھے۔ تجارتی سفر میں اپنے ساتھیوں کو دکھائے تھے۔ اور وہ غلام جو آپؐ کے ساتھ تھا وہ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیرنہ رہ سکااور آپؐ کا گرویدہ ہو گیا۔ واپس آ کے اپنی مالکن کو بتایا کہ کیسا ایماندار اور سچا شخص ہے۔
پھر بیوی کی گواہی ہے۔ بیویاں جو اپنے خاوند کے اچھے برے کی راز دار ہوتی ہیں، وہی ان کے گھریلو حالات و معاملات میں گواہی دے سکتی ہیں، انہیں کی گواہی وزن رکھنے والی گواہی ہے جو مل سکتی ہے۔ تو اس بارے میں بھی ایک روایت میں بیان ہے۔ اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی کے نزول کا ذکر کرتے ہوئے (یہ تفصیلی روایت ہے) بیان کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمّ المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے وحی کے وقت اپنی پریشانی کا ذکر کیا۔ تو انہوں نے آپؐ کو تسلی دیتے ہوئے کہا:

’’کَلَّا أبْشِرْ فَوَاللّٰہِ لاَ یُخْزِیْکَ اللّٰہُ اَبَدًا اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَ تَصْدُقُ الْحَدِیْثَ‘‘

یعنی ویسے نہیں جیسے آپ سوچ رہے ہیں، آپؐ کو مبارک ہو۔ اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپؐ کو کبھی رُسوا نہیں کرے گا۔ آپؐ صلہ رحمی کرتے ہیں اور راست گوئی اور سچائی سے کام لیتے ہیں۔(بخاری کتاب التعبیر باب اول ما بدیء بہ رسول اللہ من الوحی الرؤیا الصالحۃ)
پھر دیکھیں دوست کی گواہی۔ وہ دوست جو بچپن سے ساتھ کھیلا،پلا،بڑھا، یعنی حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ اس دوست نے ہمیشہ ہر حالت میں آپؐ کو سچ کہتے اور سچ کی تلقین کرتے ہی دیکھا اور سنا تھا۔ اس لئے ان کے ذہن میں کبھی یہ تصور آ ہی نہیں سکتا تھا کہ کبھی یہ شخص جھوٹ بھی بول سکتا ہے۔ چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے جب آپؐ کے دعویٰ کے بارے میں سنا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار کے باوجود کوئی دلیل نہیں چاہی۔ کیونکہ ان کا زندگی بھر کا یہی مشاہدہ تھا کہ آپؐ ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔ آپؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف یہی پوچھا کہ کیا آپؐ نے دعویٰ کیا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت کرنی چاہی تو ہر بار یہی عرض کی کہ مجھے صرف ہاں یا نہ میں بتا دیں۔ اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں کہنے پر عرض کیا کہ میرے سامنے تو آپؐ کی ساری سابقہ زندگی پڑی ہوئی ہے۔ مَیں کس طرح کہہ سکتا ہوں کہ بندوں سے تو سچ بولنے والا ہو اور اس کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والا ہو اور خدا پر جھوٹ بولے۔ (دلائل النبوۃ للبیھقی جلد 2صفحہ 164دارالکتب العلمیۃ بیروت)
اب کوئی کہہ سکتا ہے کہ گھر والوں کی یا ملازمین کی یا دوستوں کی گواہی تو ایسی ہے کہ اگر کسی میں تھوڑی بہت غلطی بھی ہو، کمی بھی ہو تو پردہ پوشی کر سکتے ہیں، در گزر کر دیتے ہیں۔لیکن اس کے علاوہ کون سی گواہیاں ہیں۔ اس کے لئے ہم دیکھتے ہیں کہ دشمن بھی جو گواہی آپؐ کے بارے میں دیتا ہے وہ تو ایسی گواہی ہے جس کو کسی طرح رد ّ نہیں کیا جا سکتا۔
چنانچہ اس کی ایک مثال آپؐ کے اشد ترین دشمن النضر بن حارث کی گواہی ہے۔ ایک مرتبہ سرداران قریش جمع ہوئے جن میں ابوجہل اور اشد ترین دشمن النضربن حارث بھی شامل تھے۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جب کسی نے یہ کہا کہ انہیں جادوگرمشہور کر دیا جائے یا جھوٹا قرار دے دیا جائے تو نضر بن حارث کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔ اے گروہ قریش! ایک ایسا معاملہ تمہارے پلّے پڑا ہے جس کے مقابلے کے لئے تم کوئی تدبیر بھی نہیں لا سکے۔ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) تم میں ایک نوجوان لڑکے تھے اور تمہیں سب سے زیادہ محبوب تھے۔ سب سے زیادہ سچ بولنے والے تھے۔ تم میں سب سے زیادہ امانتدار تھے۔ اب تم نے ان کی کنپٹیوں میں عمر کے آثار دیکھے اور جو پیغام وہ لے کر آئے تم نے کہا وہ جادوگر ہے۔ ان میں جادو کی کوئی بات نہیں۔ ہم نے بھی جادوگر دیکھے ہوئے ہیں۔ تم نے کہا وہ کاہن ہے۔ ہم نے بھی کاہن دیکھے ہوئے ہیں۔ وہ ہرگز کاہن نہیں ہیں۔ تم نے کہا وہ شاعر ہیں، ہم شعر کی سب اقسام جانتے ہیں وہ شاعر نہیں ہے۔ تم نے کہا وہ مجنون ہے، ان میں مجنون کی کوئی بھی علامت نہیں ہے۔ اے گروہ قریش! مزید غور کر لو کہ تمہار واسطہ ایک بہت بڑے معاملے سے ہے۔ (السیرۃ النبویۃ لابن ھشام صفحہ نمبر 224)
پھر دیکھیں ایک اور گواہی جو دشمنوں کے سردار ابو جہل کی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ابو جہل نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ہم تمہیں جھوٹا نہیں کہتے۔ البتہ ہم اس تعلیم کو جھوٹا سمجھتے ہیں جو تم پیش کرتے ہو۔ جب عقل پر پردے پڑ جائیں ،کسی کی مت ماری جائے تو تبھی تووہ ایسی باتیں کرتا ہے۔ اسی لئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم کچھ تو عقل کرو۔ کیا ایک سچا آدمی جھوٹی تعلیم دے سکتا ہے۔ سچا آدمی تو سب سے پہلے اس جھوٹی تعلیم کے خلاف کھڑا ہو گا۔ پھر ایک اور موقع پر آپؐ کے صادق ہونے پر دشمن کی گواہی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت کرتے ہیں کہ انہیں ابو سفیان بن حرب نے بتایا کہ جب وہ شام کی طرف ایک تجارتی قافلے کے ساتھ گیا ہوا تھا تو ایک دن شاہ روم،ہرقل نے ہمارے قافلے کے افراد کو بلا بھیجا تاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت وہ کچھ سوالات پوچھ سکے۔ شہنشاہ روم کے دربار میں ہرقل سے اپنی گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بیان کیا کہ اس نے مجھ سے کچھ سوال کئے۔ ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ کیا دعویٰ سے پہلے تم لوگ اس پر جھوٹ بولنے کا الزام لگاتے تھے؟ مَیں نے جواباً کہا کہ نہیں۔ اس پر ہرقل نے ابوسفیان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب تو نے میرے اس سوال کا جواب نفی میں دیا تو مَیں نے سمجھ لیا کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ وہ لوگوں پر تو جھوٹ باندھنے سے باز رہے مگر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے۔ ہرقل نے کہا مَاذَا یَاْمُرُکُمْ کہ محمدؐ آپ کوکس چیز کا حکم دیتے ہیں۔ ابو سفیان نے کہا وہ کہتا ہے، اللہ کی عبادت کرو جو اکیلا ہی معبود ہے اور اس کا کسی چیز میں شریک نہ قرار دو اور ان باتوں کو جو تمہارے آباؤ اجداد کہتے تھے چھوڑ دو۔ اور وہ ہمیں نماز قائم کرنے، سچ بولنے، پاکدامنی اختیار کرنے اور صلہ رحمی کرنے کا حکم دیتا ہے۔ تب ہرقل نے کہا کہ جو تو کہتا ہے اگر یہ سچ ہے تو پھر عنقریب میرے قدموں کی اس جگہ کا بھی وہی مالک ہو جائے گا۔(بخاری کتاب بدء الوحی، نمبر7)
پھر باوجود نہ ماننے کے آپؐ کی سچائی کا رعب تھا، اُس نے بھی اندر سے مخالفین کے دل دہلائے ہوئے تھے۔ اور وہ اس فکر میں رہتے تھے کہ اس سچے آدمی کی اگر یہ باتیں اور یہ تعلیم بھی سچی ہوئی تو ہمارا کیا ہو گا۔ اس خوف کا ایک واقعہ میں اس طرح ذکر ہے کہ قریش نے ایک دفعہ سردار عتبہ کو قریش کا نمائندہ بنا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھجوایا۔ اس نے کہا آپ ہمارے معبودوں کو کیوں برا بھلا کہتے ہیں اور ہمارے آباء کو کیوں گمراہ قرار دیتے ہیں۔ آپؐ کی جو بھی خواہش ہے ہم پوری کر دیتے ہیں، آپ ان باتوں سے باز آئیں۔ حضورؐ تحمل اور خاموشی سے اس کی باتیں سنتے رہے۔ جب وہ سب کہہ چکا تو آپ نے سورۃ حمؔ فصلت کی چند آیات تلاوت کیں۔ جب آپؐ اس آیت پر پہنچے کہ میں تمہیں عاد و ثمود جیسے عذاب سے ڈراتا ہوں تو اس پر عتبہ نے آپؐ کو روک دیا کہ اب بس کریں اور خوف کے مارے اٹھ کر چل دیا۔ اس نے قریش کو جا کر کہا کہ تمہیں پتہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی بات کہتا ہے تو کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں تم پر وہ عذاب نہ آ جائے جس سے وہ ڈراتا ہے۔ تمام سردار یہ سن کر خاموش ہو گئے۔(السیرۃ الحلبیۃ از علامہ برھان الدین جلد 1صفحہ 303مطبوعہ بیروت)
پھر آپؐ کی سچائی کی گواہی صرف اتنی نہیں کہ ایک آدھ مثالیں مختلف طبقات میں سے مل جاتی ہیں بلکہ پوری قوم نے جمع ہو کر آپؐ کے صادق القول ہونے پر گواہی دی ہے۔ چنانچہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے

وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ

یعنی ’اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار اور بیدار کر‘ کے احکام اترے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوہ صفا پر چڑھ گئے اور بلند آواز سے پکار کر اور ہر قبیلہ کا نام لے لے کر قریش کو بلایا۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپؐ نے فرمایا کہ اے قریش! اگر مَیں تم کو یہ خبر دوں ، یہ بتاؤں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک بہت بڑا لشکر چھپا ہوا ہے جو عنقریب تم پہ حملہ کرنے والا ہے۔ تو کیا تم میری بات مان لو گے۔اور پہاڑی اتنی اونچی نہیں تھی اور بظاہر یہ با ت بالکل ناقابل قبول تھی لیکن کیونکہ ان کو پتہ تھا کہ یہ شخص جھوٹ نہیں بولتا، کبھی کوئی غلط بات نہیں کہہ سکتا، سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہاں ہم ضرور مانیں گے کیونکہ ہم نے تمہیں صادق القول پایا ہے۔،ہمیشہ سچی بات کہنے والا پایا ہے۔ توآپؐ نے فرمایا تو پھر سنو، مَیں تمہیں خبر دیتا ہوں کہ اللہ کے عذاب کا لشکر تمہارے قریب پہنچ چکا ہے۔ خد اپر ایمان لاؤ اور عذاب سے بچ جاؤ۔ (سیرت خاتم النبیین مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اے صفحہ 128)
بہرحال یہ باتیں سن کے قریش وہاں سے چلے گئے اور ہنسی مذاق اور ٹھٹھا کرنے لگے، تعلیم کا مذاق اڑایا۔ لیکن اس کے باوجود یہ نہیں کہہ سکے کہ آپؐ جھوٹے ہیں۔ آپ ؐکو بہت برا بھلا کہا اور بھی سخت الفاظ استعمال کئے تھے لیکن یہ نہ کہہ سکے کہ آپؐ ہمیشہ کی طرح جھوٹ بول رہے ہیں۔ اگر منہ سے الفاظ نکلے تو یہی کہ ہمیشہ آپ نے سچ بولا ہے اور یقینا آپؐ سچ بول رہے ہیں۔ آپؐ کی سچائی کا معیار اتنا بلند، واضح اور روشن تھا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا تھا کہ آپؐ پر کوئی جھوٹ بولنے کا الزام لگا سکے،اشارہ بھی کر سکے۔
پھر آپ کے چچا کی ایک گواہی ہے۔ جب محصوری کے زمانے میں، جب شعب ابی طالب میں محصور ہو گئے تھے۔ تیسرا سال جب ہونے کو آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر ابو طالب کو اطلاع دی کہ بنو ہاشم سے بائیکاٹ کا جو معاہدہ خانہ کعبہ میں لٹکایا ہوا تھا۔ ساروں نے بائیکاٹ کیا تھا اس کا معاہدہ تھا، خانہ کعبہ میں لٹکایا گیا تھا۔ اس میں سوائے اللہ کے لفظ کے باقی سارا جو معاہدہ ہے اس کو دیمک کھا گئی ہے۔ اور ابو طالب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات پر اتنا یقین تھا کہ انہوں نے جا کے پہلے اپنے بھائیوں سے کہا کہ خدا کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے آج تک کبھی کوئی غلط بات نہیں کی۔ اور یہ اس نے مجھے بتایا ہے اور لازماً یہ بھی سچی بات ہے۔ پھر وہ دوسرے قریش کے سردار وں کے پاس گئے ان کو بھی وہی بات بتائی کہ تمہارے معاہدے کو دیمک کھا گئی ہے۔ اور تم بھی جانتے ہو اور مَیں بھی جانتا ہوں کہ اس نے آج تک کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ تو جا کر دیکھ لیتے ہیں۔ اگر تو میرا بھتیجا سچا نکلا تو تمہیں بائیکاٹ کا فیصلہ بدلنا ہو گا اور اگر وہ جھوٹا ہوا تو مَیں اسے تمہارے حوالے کر دوں گا۔ جو مرضی سلوک کرنا، قتل کرو یا جو چاہے کرو۔ اور پھر جب وہ وہاں گئے تو دیکھا تو سب کفار نے اس پر رضا مندی کا اظہار کیا کہ واقعی وہاں سوائے اللہ کے لفظ کے باقی سارے معاہدے کو دیمک کھا گئی تھی۔ چنانچہ وہ ختم سمجھا گیا۔ (الوفاء باحوال المصطفی لابن جوزی صفحہ 198بیروت)
اب بظاہر تو آپؐ کے سچا ہونے کی بات ابو طالب نے کی ہے۔ لیکن تمام سرداران قریش کا خاموش ہو جانا یہ ثابت کرتا ہے کہ ان کو بھی یقین تھا کہ آپؐ سچ کہنے والے ہیں، بلکہ یہ بھی یقین تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا خدا بھی سچا ہے جس نے یہ خبر دی ہے۔ لیکن خدا کو نہ ماننا، اس کے لئے تو تکبر اور ڈھٹائی تھی جو آڑے آتی تھی۔ کیونکہ اگر یہ یقین نہ ہوتا کہ واقعی کاغذ کو دیمک کھا گئی ہے یا ایسی کوئی بات ہے، خدا نے خبر دی ہے تو ہنسی مذاق میں ٹال سکتے تھے۔ لیکن بڑے سنجیدہ ہو کر سارے وہاں گئے۔
پھر ایک اور مخالف اور اس کی بیوی کی گواہی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ عمرہ کے لئے گئے تو امیہ بن خلف ابو صفوان کے پاس ٹھہرے اور امیہ بن خلف شام جاتے ہوئے سعد کے ہاں مدینہ میں ٹھہرا کرتا تھا۔ بہرحال کہتے ہیں امیہ نے سعد کو کہا آپ انتظار کریں اور جب دوپہر ہو اور لوگ غافل ہو جائیں تو اس وقت عمرہ کر لینا۔ اس وقت کفار کے سامنے کھلے بندوں کر نہیں سکتے تھے۔ چنانچہ اس دوران کہ جب سعد طواف کر رہے تھےابو جہل آ گیا اور اس نے کہاکعبہ کا طواف کرنے والا کون شخص ہے۔ انہوں نے کہا مَیں سعد ہوں۔ اس پر ابو جہل نے کہا تم کعبہ کا امن کے ساتھ طواف کر رہے ہو حالانکہ تم نے محمد اور ان کے ساتھیوں کو پناہ دے ر کھی ہے۔ سعد نے کہا ہاں ہم نے ایسا کیا ہوا ہے۔ چنانچہ وہ ایک دوسرے سے اونچی آواز میں باتیں کرنے لگے۔ اس پر امیہ نے سعد سے کہا ابو الحکم پر آواز ے بلند نہ کرو یہ اس وادی کا سردار ہے۔ سعد نے کہا اللہ کی قسم اگر تم نے مجھے طواف کرنے سے روکا تو مَیں تیری شام کے ساتھ جو تجارت ہے اس میں روک بن جاؤں گا۔ شام کے ساتھ تجارت اس کے رستے سے ہوتی تھی۔ اس پر امیہ سعد سے کہنے لگا اپنی آواز بلند نہ کرو اور وہ ان کو پکڑ کر روک رہا تھا۔ اس پر سعد ناراض ہو گئے اور کہا مجھے چھوڑ دو۔مَیں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے انہوں نے کہا ہے کہ تم ان کے ہاتھوں قتل ہونے والے ہو۔ اس پر امیہ نے کہا :کیا مَیں ؟ سعد نے کہاہاں ! اس پر امیہ نے کہا اللہ کی قسم محمدؐ جب بات کرتا ہے تو جھوٹ نہیں بولتا۔ پھر وہ اپنی بیوی کے پاس آیا اور کہا کہ تمہیں معلوم ہے کہ میرے یثربی بھائی نے مجھے کیا کہا ہے۔ اس نے کہا کیا کہا ہے۔ امیہ نے کہا اس نے کہا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا خیال ہے کہ وہ مجھے قتل کرنے والے ہیں۔ اس پر امیہ کی بیوی نے کہا۔ اللہ کی قسم! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) جھوٹ نہیں بولتے۔ پھر جب کفار مکہ کی فوج بدر کی طرف جانے لگی تو امیہ کی بیوی نے اس سے کہا کہ تجھے یاد نہیں، تیرے یثربی بھائی نے کیا کہا تھا۔ امیہ نے کہا میں آگے نہیں جاؤں گا۔ لیکن ابو جہل نے امیہ سے کہا کہ تم وادی کے معزز سرداروں میں سے ہو، زبردستی اس کو آگے لے گیا، اور ایک دو دن تک تو ساتھ رہو پھر واپس آ جانا۔ چنانچہ وہ ساتھ ہو لیا اور آخر وہیں بدر میں مارا گیا۔(بخاری کتاب المناقب۔باب علامات النبوۃ فی الاسلام)
تو یہ دیکھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر وہ دونوں میاں بیوی نہ صرف خوفزدہ ہو گئے تھے بلکہ یقین تھا کہ ایسا ہی ہو گا۔ اور لاکھ بچنے کی کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ کی تقدیر اسے بدر کے میدان میں لے گئی۔
پھر دیکھیں آپؐ کی سچائی کے رعب کی ایک اور مثال۔ جنگ اُحد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہونے کے بعد جب صحابہؓ کے ساتھ ایک گھاٹی میں ٹیک لگائے ہوئے تھے تو ابی بن خلف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر للکارتے ہوئے پکارا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر آج تم بچ گئے تو مَیں کامیاب نہ ہوا۔ صحابہؓ نے عرض کی یا رسول اللہ! کیا ہم میں سے کوئی اس کی طرف بڑھے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے چھوڑ دو۔جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نیزہ لیا اور آگے بڑھے اور اس کی گردن پر ایک ہی وار کیا۔ جس سے وہ اپنے گھوڑے سے زمین پر لوٹنیاں کھاتے ہوئے گرا۔ ابن اسحاق جن کی روایت سیرت ابن ہشام میں درج ہے بیان کرتے ہیں کہ مجھے صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف نے بتایا کہ ابی بن خلف، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مکہ میں ملتا تو کہتا محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ایک گھوڑا ہے جس کو میں خاص مقدار میں دانہ کھلا کر موٹا تازہ کر رہا ہوں۔ اس پر سوار ہوکر مَیں آپ کو قتل کروں گا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے فرماتے کہ جس طرح تم کہتے ہو ویسا نہیں ہو گا بلکہ انشاء اللہ میں ہی تمہیں قتل کروں گا۔ پس جب زخمی ہو کر قریش کے پاس واپس پلٹا تو اس کی گردن پہ ایک معمولی زخم تھا جو اتنا بڑا نہیں تھا جس سے خون بہہ نکلا۔ تھوڑا سا خون بہا تھا۔ وہ کہتا جا رہا تھا کہ بخدا محمدؐ نے مجھے مار ڈالا۔ اس کے ساتھیوں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ تم خوامخواہ دل چھوٹا کر رہے ہو، مایوس ہو رہے ہو۔ معمولی سا زخم ہے۔ اس نے کہا تم نہیں جانتے۔ اس نے (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے) مکہ میں مجھے کہا تھا کہ مَیں تجھے قتل کروں گا۔خدا کی قسم اگر وہ مجھ پر تھوک بھی دیتا تو میں مارا جاتا۔ چنانچہ یہ قافلہ ابھی مکہ نہیں پہنچا تھا کہ اسی زخم سے سرف مقام پر وہ ہلاک ہو گیا۔ (سیرت ابن ھشام۔غزوہ احد۔ مقتل ابی بن خلف۔ مطبع مصطفی البابی الحلبی مصر 1936ء جزء الثالث صفحہ 89)
پھر ایک یہودی عالم کی آپؐ کی سچائی پر گواہی ہے، جو قیافہ شناس بھی تھا، چہرہ شناس بھی تھا۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ آپؐ کا استقبال کرنے کے لئے گھروں سے باہر نکل آئے۔ اور یہ صدائیں بلند ہونے لگیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ عبداللہ بن سلام کہتے ہیں کہ مَیں بھی لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے لئے آیا۔ یہی وہ یہودی عالم تھے۔ جب مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو بغور دیکھا تو مَیں اس نتیجے پر پہنچا کہ آپؐ کا چہرہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سکتا۔(ترمذی کتاب صفۃالقیامۃ والرقائق والورع باب نمبر 42)
ان تمام گواہیوں کو سامنے رکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ آپؐ سچ بولنے والے اور خدا کے سچے نبی نہیں تھے۔ سوائے اس کے کہ جن کے دل، جن کے کان، جن کی آنکھوں پر مہر لگ چکی ہو، پردے پڑ چکے ہوں، اور کوئی نہیں جو یہ باتیں کر سکے۔اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی سچ کو اور حق کو ظاہر کیا اور پھیلایا ہی نہیں بلکہ اپنے ماننے والوں کے دلوں میں بھی پیدا کیا۔ ان کے اندر بھی اس سچائی کو کوٹ کوٹ کر بھر دیا۔ اور اسی حق بات کہنے اور حق کہنے کی وجہ سے اور حق ماننے کی وجہ سے بہتوں کو شروع زمانے میں اپنی زندگیوں سے ہاتھ بھی دھونے پڑے۔ لیکن یہی ہے کہ ہمیشہ سچ کو سچ کہا۔ جیسا کہ مَیں نے کہا تھا کسی اعلیٰ تعلیم اور اس کے لانے والے کے اعلیٰ کردار کو جانچنے کے لئے اس شخص کی زندگی میں سچائی کے معیار بھی دیکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ اور یہ معیار ہمیں حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سب سے بڑھ کر نظر آتے ہیں۔ آپؐ کی سچائی کا معیار بچپن اور جوانی میں بھی انتہائی بلند تھا۔ جس کی ہم نے مختلف واقعات میں گواہی دیکھی ہے۔ دشمن بھی باوجود آپؐ کی تعلیم اور خدا پر یقین نہ ہونے کے آپؐ کی طرف سے کوئی انذار کی بات سن کر، کوئی ڈرانے والی بات سن کر، خوفزدہ ہو جایا کرتے تھے۔
تو آج بھی آپؐ کی ذات پاک پر گھٹیا الزام لگائے جاتے ہیں۔ ہنسی ٹھٹھے اور استہزاء کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اور ایسے لوگ جو آ ج بھی یہ کام کر رہے ہیں۔ ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ آج بھی اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت رکھتا ہے۔ بعض لوگ جو اپنے میڈیا کے ذریعے سے تاریخ کو یا حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں، حق کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کو ان کفار مکہ کی مثالیں سامنے رکھنی چاہئیں جن میں سے چند ایک مَیں نے پیش کیں، مثالیں بے شمار ہیں۔ ہمارے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا سچ اور سچ کا نور نہ کبھی پہلے ماند پڑا تھا یا چھپ سکا تھا نہ آج تم لوگوں کے ان حربوں سے یہ ماند پڑے گا یا چھپے گا۔ یہ نور انشاء اللہ تعالیٰ تمام دنیا پر غالب آ نا ہے اور اس سچائی کے نور نے تمام دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لا کر ڈالنا ہے۔ جیسا کہ مَیں نے کہا تھا کہ آج کل بھی بعض لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک کے بارے میں بعض کتابیں لکھی ہیں اور وقتاً فوقتاً آتی رہتی ہیں۔ اسلام کے بارے میں، اسلام کی تعلیم کے بارے میں یا آپؐ کی ذات کے بارے میں بعض مضامین انٹرنیٹ یا اخبارات میں بھی آتے ہیں، کتب بھی لکھی گئی ہیں۔ایک خاتون مسلمان بن کے ان سائیڈ سٹوری (Inside Story)بتانے والی بھی آجکل کینیڈا میں ہیں۔ جب احمدی اس کو چیلنج دیتے ہیں کہ آؤ بات کرو تو بات نہیں کرتی اور دوسروں سے ویسے اپنے طور پر جو مرضی گند پھیلا رہی ہے۔ تو بہرحال آج کل پھر یہ مہم ہے۔ ہر احمدی کو اس بات پہ نظر رکھنی چاہئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق کا تقاضا یہی ہے کہ آپؐ کی سیرت کے ہر پہلو کو دیکھا جائے اور بیان کیا جائے، اظہار کیا جائے۔ یہ نہیں ہے کہ اگر کوئی خلاف بات سنی، جلوس نکالا، ایک دفعہ جلسہ کیا، ایک دفعہ غصے کا اظہار کیا اور بیٹھ گئے۔ بلکہ مستقل ایسے الزامات جو آپؐ کی پاک ذات پر لگائے جاتے ہیں ان کا ردّ کرنے کے لئے، آپؐ کی سیرت کے مختلف پہلو بیان کئے جائیں۔ ان اعتراضات کو سامنے رکھ کر آپؐ کی سیرت کے روشن پہلو دکھائے جا سکتے ہیں۔ کوئی بھی اعتراض ایسا نہیں جس کا جواب موجود نہ ہو۔ جن جن ملکوں میں ایسا بیہودہ لٹریچر شائع ہوا ہے یا اخباروں میں ہے یا ویسے آتے ہیں وہاں کی جماعت کا کام ہے کہ اس کو دیکھیں اور براہ راست اگر کسی بات کے جواب دینے کی ضرورت ہے یعنی اس اعتراض کے جواب میں، تو پھر وہ جواب اگر لکھنا ہے تو پہلے مرکز کو دکھائیں۔ نہیں تو جیسا کہ مَیں نے کہا سیرت کا بیان تو ہر وقت جاری رہنا چاہئے۔ یہاں بھجوائیں تاکہ یہاں بھی اس کا جائزہ لیا جا سکے او ر اگر اس کے جواب دینے کی ضرورت ہو تو دیا جائے۔ جماعت کے افراد میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے بارے میں جس طرح مَیں نے کہا مضامین اور تقاریر کے پروگرام بنائے جائیں۔ ہر ایک کے بھی علم میں آئے۔ نئے شامل ہونے والوں کوبھی اور نئے بچوں کو بھی۔ تاکہ خاص طور پر نوجوانوں میں، کیونکہ جب کالج کی عمر میں جاتے ہیں تو زیادہ اثر پڑتے ہیں۔ تو جب یہ باتیں سنیں تو نوجوان بھی جواب دے سکیں۔ پھر یہ ہے کہ ہر احمدی اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرے۔ تاکہ دنیا کو یہ بتا سکیں کہ یہ پاک تبدیلیاں آج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی کی وجہ سے ہیں جو چودہ صدیوں سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی اسی طرح تازہ ہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:
’’ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اظہار سچائی کے لئے ایک مجدد اعظم تھے جو گم گشتہ سچائی کو دوبارہ دنیا میں لائے۔ اس فخر میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی بھی نبی شریک نہیں کہ آپؐ نے تمام دنیا کو ایک تاریکی میں پایا اور پھر آپؐ کے ظہور سے وہ تاریکی نور سے بدل گئی۔ جس قوم میں آپؐ ظاہر ہوئے آپؐ فوت نہ ہوئے جب تک کہ اس تمام قوم نے شرک کا چولہ اتار کر توحید کا جامہ نہ پہن لیا۔ اور نہ صرف اس قدر بلکہ وہ لوگ اعلیٰ مراتب ایمان کوپہنچ گئے۔ اور وہ کام صدق اور وفا اور یقین کے ان سے ظاہر ہوئے کہ جس کی نظر دنیا کے کسی حصے میں پائی نہیں جاتی۔ یہ کامیابی اور اس قدر کامیابی کسی نبی کو بجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نصیب نہیں ہوئی۔ یہی ایک بڑی دلیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ہے کہ آپؐ ایک ایسے زمانہ میں مبعوث اور تشریف فرما ہوئے جب کہ زمانہ نہایت درجہ کی ظلمت میں پڑا ہوا تھا اور طبعاً ایک عظیم الشان مصلح کا خواستگار تھااور پھر آپ نے ایسے وقت میں دنیا سے ا نتقال فرمایا جب کہ لاکھوں انسان شرک اور بت پرستی کو چھوڑ کر توحید اور راہ راست اختیار کر چکے تھے اور درحقیقت یہ کامل اصلاح آپؐ ہی سے مخصوص تھی کہ آپ نے قوم وحشی سیرت اور بہائم خصلت ‘‘(یعنی وحشی طبیعت رکھنے والے اور جانوروں والی خصلتیں رکھنے والوں)’’ کو انسانی عادات سکھلائے۔یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ بہائم کو انسان بنایا اور پھر انسانوں سے تعلیم یافتہ انسان بنایا اور پھر تعلیم یافتہ انسانوں سے باخدا انسان بنایا اور روحانیت کی کیفیت ان میں پھونک دی اور سچے خدا کے ساتھ ان کا تعلق پیدا کر دیا‘‘۔ (لیکچرسیالکوٹ۔روحانی خز ائن جلد 20صفحہ 207-206)
اللہ تعالیٰ ہم سب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پر اور آپ کے نقش قدم پر اور آپؐ کی سنت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
حضور انور نے خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا:آج بنگلہ دیش کا 81واں جلسہ سالانہ بھی ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ خیریت سے ہو جائے۔ وہاں کے حالات بھی ایسے ہیں جب احمدی اکٹھے ہوتے ہیں تو ہر وقت خطرہ رہتا ہے۔ تو ان کے لئے دعاکریں۔ اور بنگلہ دیش کے احمدیوں کے لئے بھی یہی پیغام ہے کہ اپنی زندگیوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔ اور ہمیشہ سچائی اور حق پر قائم رہیں۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/XJyy0]

اپنا تبصرہ بھیجیں