خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 7؍ جنوری 2005ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
ایک مومن کے دل کی زمین زرخیز اور تقویٰ کے اونچے معیاروں پر قائم ہے اور اس تقویٰ کی قدر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قربانی کرنے والوں کو انفرادی طورپر بھی نوازتا ہے اورجماعتی طورپر بھی ان کی جیب سے نکلے ہوئے تھوڑی سی رقم کے چندے میں بھی بے انتہا برکت پڑتی ہے۔
وقف جدید کے نئے مالی سال کا اعلان۔
احمدی مائیں اپنے بچوں کوچندے کی عادت ڈالنے کے لئے وقف جدید میں شامل کریں۔
وقف جدید میں مالی قربانی میں امریکہ اول، پاکستان دوم اور برطانیہ تیسرے نمبر پر رہے۔
(قرآن مجید، احادیث نبویہ، ارشاد ات حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور تاریخ احمدیت کے حوالہ سے مالی قربانی کی فضیلت وبرکات اور مالی قربانیوں کے شاندارواقعات کا ایمان افروز تذکرہ)
خطبہ جمعہ ارشاد فرمودہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
7؍ جنوری 2005ء بمطابق7؍صلح 1384ہجری شمسی بمقام مسجد بشارت۔ پیدروآباد (سپین)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
وَمَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمُ ابْتِغَاء مَرْضَاتِ اللّٰہِ وَتَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ کَمَثَلِ جَنَّۃٍ بِرَبْوَۃٍ اَصَابَھَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُکُلَھَا ضِعْفَیْنِ۔ فَاِنْ لَّمْ یُّصِبْھَا وَابِلٌ فَطَلٌّ۔وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْن بَصِیْرٌ۔ (سورۃ البقرہ آیت نمبر 266)

یکم جنوری سے وقف جدید کا نیا سال شروع ہوتا ہے اس لئے عموماً جنوری کا پہلا جمعہ اس اعلان کے لئے رکھا جاتا ہے۔ اس لئے اس طریق پر عمل کرتے ہوئے آج مَیں وقف جدید کی گزشتہ سال کی مالی قربانی کا جائزہ اور نئے سال کا اعلان کروں گا۔ اور اس کے ساتھ مالی قربانی کا مضمون بیان کروں گا۔ مالی قربانی کا مضمون بھی ایک ایسا مضمون ہے جس کے بارے میں ہمیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد بار حکم فرمایا ہے، نصیحت فرمائی ہے۔ اور اس اہمیت کے پیش نظر تحریک جدید اور وقف جدید کے اعلان کے علاوہ بھی جماعت کو سال میں ایک دو مرتبہ اس طرف توجہ دلائی جاتی ہے۔ اس مضمون کو اگر کوئی سمجھ لے اور اس پر عمل کرنا شروع کر دے تو ایک عجیب روحانی تبدیلی بھی انسان کے اندر پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔
آج سپین کی جماعت کا جلسہ سالانہ بھی اس خطبے سے شروع ہو رہا ہے اور جلسوں کا مقصد بھی افراد جماعت کے اندر روحانی تبدیلی کے معیار اونچے کرنا ہے۔ اس لئے کوئی یہاں بیٹھا ہوا یہ نہ سمجھے کہ وقف جدید کے اعلان کی وجہ سے ہمارا جلسے کا مضمون متاثر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے مضمون کو اللہ تعالیٰ نے عبادت کے ساتھ، نمازوں کے ساتھ رکھا ہے۔ اور یہ جو آیت میں نے تلاوت کی ہے، اس کے علاوہ بھی متعدد جگہ اللہ کی راہ میں مال اور نعمتوں کو خرچ کرنے کا ذکر سورۃبقرہ میں ملتا ہے۔ تو یقینا یہ ایک اہم عنصر ہے دین کا، جو تقویٰ و روحانیت میں ترقی کا باعث بنتا ہے۔
اس آیت میں جس کی مَیں نے تلاوت کی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اور ان لوگوں کی مثال جو اپنے اموال اللہ کی رضا چاہتے ہوئے اور اپنے نفوس میں سے بعض کو ثبات دینے کے لئے خرچ کرتے ہیں ایسے باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو اور اسے تیز بارش پہنچے تو وہ بڑھ چڑھ کر اپنا پھل لائے اور اگر اسے تیز بارش نہ پہنچے تو شبنم ہی بہت ہو، اور اللہ اس پر جو تم کرتے ہو گہری نظر رکھنے والا ہے۔
یعنی جو لوگ چندہ دینے والے ہیں، صدقہ دینے والے ہیں ان کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر جو کچھ بھی تم خرچ کرو گے اور اس کی مخلوق کی خاطر جو کچھ بھی خرچ کرو گے وہ یقینا اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا باعث بنے گا۔ اس سے دین کو بھی مضبوطی حاصل ہو گی اور تمہارے دینی بھائیوں کوبھی مضبوطی حاصل ہو گی۔ پھر ایسے لوگوں کی مثال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس سرسبز باغ کی طرح ہیں جو اونچی جگہ پر واقع ہو جہاں انہیں تیز بارش یا پانی کی زیادتی بھی فائدہ دیتی ہے۔ نچلی زمینوں کی طرح اس طرح نہیں ہوتا کہ بارشوں میں فصلیں ڈوب جائیں یا باغ ڈوب جائیں۔ یہ خراب نہیں ہو جاتے بلکہ وہ ایسے سیلابوں سے محفوظ رہتے ہیں اور زائد پانی نیچے بہہ جاتا ہے اور باغ پھلوں سے لدا رہتا ہے، اس کو نقصان نہیں پہنچتا۔ جو لوگ زمیندار ہیں زمیندارہ جانتے ہیں ان کو پتہ ہے کہ اگر پانی میں درخت زیادہ دیر کھڑا رہے تو جڑیں گلنی شروع ہو جاتی ہیں، تنے گل جاتے ہیں اور پودے مر جاتے ہیں۔ اور اسی طرح جو زمینیں پانی روکنے والی ہیں ان میں بھی یہی حال ہوتا ہے۔ تو بہرحال اس جذبہ قربانی کی وجہ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ٹھہرو گے۔یہ بڑھ چڑھ کر قربانی کرنے کا جذبہ پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وجہ سے اور زیادہ پھل لانے کا،تمہارے اموال و نفوس میں برکت کا باعث بنتا ہے۔ اگر کبھی حالات موافق نہ بھی ہوں، بارشیں نہ بھی ہوں، تو بھی۔ اگر زیادہ بارشیں ہوں تو بھی نقصان دہ ہوتی ہیں اور کم بارشیں ہوں توبھی نقصان دہ ہوتی ہیں۔ لیکن ایک اچھی زرخیر زمین پر جو محفوظ زمین ہو، زیادہ بارشیں نہ بھی ہوں تو تب بھی ان کو ہلکی نمی جو رات کے وقت پہنچتی رہتی ہے یہ بھی فائدہ دیتی ہے۔ تو فرمایا کہ اگر ایسے حالات بہتر نہیں بھی تو تب بھی اللہ تعالیٰ تمہاری اس قربانی کی وجہ سے جو تم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کر رہے ہو تمہاری تھوڑی کوششوں میں بھی اتنی برکت ڈال دیتا ہے کہ پھلوں کی کوئی کمی نہیں رہتی۔
اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور برکتوں کی کوئی کمی نہیں رہتی۔ تمہارا کسی کام کو تھوڑا سا بھی ہاتھ لگانا اس میں برکت ڈال دیتا ہے کیونکہ تمہاری نیت یہ ہوتی ہے کہ مَیں نے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہے اس کی خاطر خرچ کرنا ہے۔
جماعتی طور پر بھی اگر دیکھیں تو بڑی بڑی رقمیں چندوں میں دینے والے تو چند ایک ہی ہوتے ہیں۔ اول تو اگر دنیا کی امارت کا آج کا معیار لیا جائے تو جماعت میں اتنے امیر ہیں ہی نہیں۔ لیکن پھر بھی جو زیادہ بہتر حالت میں ہیں وہ چند ایک ہی ہوتے ہیں۔ اور اکثر جماعت کے افراد کی تعداد درمیانے یا اوسط درجے بلکہ اس سے بھی کم سے تعلق رکھتی ہے۔ تو ایسے لوگوں کی جو معمولی سی قربانی کی کوشش ہوتی ہے وہ جماعتی اموال کو اتنا پانی لگا دیتی ہے کہ اس سے نمی پہنچ جائے جتنا شبنم کے قطرے سے پودے کو پانی ملتا ہے۔ لیکن کیونکہ یہ رقم نیک نیتی سے دی گئی ہوتی ہے اس لئے اس میں اتنی برکت پڑتی ہے جو دنیا دار تصور بھی نہیں کر سکتا۔جماعت کی معمولی سی کوشش و کاوش ایسے حیرت انگیز نتیجے ظاہر کرتی ہے جو ایک بے دین اور دنیا دار کی سینکڑوں سے زیادہ کوشش سے بھی ظاہر نہیں ہوتی۔ صرف اس لئے کہ غیر مومنوں کے اعمال کی زمین پتھریلی ہے۔ اور ایک مومن کے دل کی زمین زرخیز اور تقویٰ کے اونچے معیاروں پر قائم ہے۔ اور اس تقویٰ کی قدر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ان قربانی کرنے والوں کو انفرادی طور پر بھی نوازتا ہے اور جماعتی طور پر بھی ان کی جیب سے نکلے ہوئے تھوڑی سی رقم کے چندے میں بھی بے انتہا برکت پڑتی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تو تمہارے دل پہ بھی نظر ہے اور تمہاری گنجائش پر بھی نظر ہے۔وہ جب تمہاری قربانی کے معیار دیکھتا ہے تو اپنے وعدوں کے مطابق اس سے حاصل ہونے والے فوائد اور ان کے پھل کئی گنا بڑھا دیتاہے۔ اور یہی جماعت کے پیسے میں برکت کا راز ہے جس کی مخالفین کو کبھی سمجھ نہیں آسکتی۔ کیونکہ ان کے دل چٹیل چٹانوں کی طرح ہیں، پتھروں کی طرح ہیں جن میں نہ زیادہ بارش نہ کم بارش برکت ڈالتی ہے۔ برکت ان میں پڑ ہی نہیں سکتی۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والوں کا ہی خاصہ ہے اور آج دنیا میں اس سوچ کے ساتھ قربانی کرنے والی سوائے جماعت احمدیہ کے اور کوئی نہیں اور یقینا یہی لوگ قابل رشک ہیں۔ اور اللہ کے رسولؐ نے ایسے ہی لوگوں پر رشک کیا ہے۔
ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا دو شخصوں کے سوا کسی پر رشک نہیں کرنا چاہئے۔ ایک وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس نے اسے راہ حق میں خرچ کر دیا، دوسرے وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے سمجھ، دانائی اور علم و حکمت دی جس کی مدد سے وہ لوگوں کے فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو سکھاتا ہے۔ (بخاری کتاب الزکوٰۃ باب انفاق المال فی حقہ)
تو یہ علم و حکمت بھی ایک نعمت ہے۔ ہمارے مخالفین جو ہر وقت اس بات پر پیچ و تاب کھاتے رہتے ہیں کہ جماعت کے افراد چندہ کیوں دیتے ہیں۔ چندہ ہم اپنی جماعت کو دیتے ہیں، تمہیں اس سے کیا؟کبھی یہ شور ہوتا ہے کہ فلاں دکانداروں کا بائیکاٹ ہو جاتا ہے کہ ان سے چیز نہیں خریدنی کہ وہ جو منافع ہے اس پہ چند دے دیں گے۔ تمہارے پیسے سے چندہ جائے گا۔ ہمارے شیزان جو س کے خلاف اکثر بڑا محاذاٹھتا رہتا ہے کہ یہ چندہ دیتے ہیں۔ اور حکومت کو بھی یہ مشورہ ہوتا ہے اور مخالفین کا یہ مطالبہ ہے کہ جماعت کے تمام فنڈ حکومت اپنے قبضے میں لے لے۔ تو یہ بیچارے حسد کی آگ میں جلتے رہتے ہیں۔ کیونکہ ان کی چٹیل زمین میں یہ برکت پڑ ہی نہیں سکتی۔ اور پھر سوائے حسد کے ان کے پاس اور کچھ رہ نہیں جاتا۔
ہم تو اس بات پر خوش ہیں کہ اللہ کے حکموں پر عمل کر رہے ہیں اور اس بات سے اللہ کے رسولؐ نے ہم پر رشک کیا ہے۔ صحابہؓ تو ہر وقت اس فکر میں رہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی تحریک ہو اور ہم عمل کریں۔ امراء تو اپنی کشائش کی وجہ سے خرچ کر دیتے تھے لیکن غرباء بھی پیچھے نہیں رہتے تھے۔ وہ بھی اپنا حصہ ڈالتے رہتے تھے۔ چاہے وہ شبنم کے قطرے کے برابر ہی ہو۔
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صدقہ کرنے کا ارشاد فرماتے تو ہم میں سے کوئی بازار کو جاتا اور وہاں محنت مزدوری کرتا اور اسے اجرت کے طور پر ایک مُداناج وغیرہ یا جو بھی چیز ملتی وہ اسے صدقہ کرتا یہ کوشش ہوتی کہ ہم نے اس میں حصہ لینا ہے۔ اور کما کے حصہ لینا ہے۔ اور راوی بیان کرتے ہیں کہ ان میں سے بعضوں کا یہ حال ہے کہ ایک ایک لاکھ درہم ان کے پاس موجود ہیں۔ جو مزدوری کرکے چندے دیا کرتے تھے۔ (بخاری کتاب الاجارہ۔باب من آجر نفسہ لیحمل علی ظہرہ ثم تصدق بہ…)
تو یہ ہے برکت قربانی کی۔ اس لئے جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ بہت غریب ہیں۔ بعض کہہ دیتے ہیں حالات اجازت نہیں دیتے کہ چندہ دے سکیں اس لئے معذرت۔ ایسے لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ چندہ نہ دے کر اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور وعدوں سے محروم ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی غربت بہت زیادہ ہے لیکن وہاں اللہ کے فضل سے بڑھ چڑھ کر ہر تحریک میں حصہ لیتے ہیں چندہ دیتے ہیں۔ اور عموماً جو انہوں نے مختلف تحریکات اور چندوں میں پہلی دوسری پوزیشن لینے کا اپنا ایک معیار قائم کیا ہوا ہے۔ اس کو قائم رکھتے ہیں اس کی تفصیل تو آگے آخر میں بتاؤں گا۔
تو مغربی ممالک میں رہنے والے سوائے ان کے جن کو صرف کھانے کے لئے ملتا ہے کئی ایسے ہیں جو اچھی قربانی کر سکتے ہیں۔ صرف دل میں حوصلہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر علم ہو جائے کہ کتنا ثواب ہے، کتنی برکات ہیں، کتنے فضل ہیں تو حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔
ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہر صبح دو فرشتے اترتے ہیں۔ ان میں سے ایک کہتا ہے کہ اے اللہ!خرچ کرنے والے سخی کو اور دے اور اس کے نقش قد م پر چلنے والے اور پیدا کر۔ دوسرا کہتا ہے کہ اے اللہ! روک رکھنے والے کنجوس کو ہلاکت دے اور اس کا مال و متاع برباد کر دے۔ (بخاری کتاب الزکوٰۃ باب قول اللہ فاما من اعطی والتقی …)
پس فرشتوں کی دعائیں لینے کے لئے، اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بننے کے لئے، ہمیشہ کوشش کرتے رہنا چاہئے کہ اللہ کی راہ میں جس قدر بھی خرچ کر سکیں کیا جائے۔
پھر ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ اپنی نسبتی ہمشیرہ حضرت اسماء بنت ابوبکرؓ کو نصیحت فرمائی کہ اللہ کی راہ میں گن گن کر خرچ نہ کیا کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر ہی دیا کرے گا۔ اپنی روپوں کی تھیلی کا منہ بند کرکے کنجوسی سے نہ بیٹھ جاؤ ور نہ پھر اس کا منہ بند ہی رکھا جائے گا۔ فرمایا کہ جتنی طاقت ہے کھول کر خرچ کرو، اللہ پہ توکل کرو، اللہ دیتا چلا جائے گا۔(بخاری کتاب الزکوٰۃ باب الصدقۃ فی ما استطاعۃ)
تو جن احمدیوں کو اس راز کا علم ہے۔ وہ اتنا بڑھ بڑھ کر چندہ دے رہے ہوتے ہیں کہ بعض دفعہ انہیں روکنا پڑتا ہے۔ لیکن ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ آپ لوگ ہماری تھیلیوں کا منہ بند کرنا چاہتے ہیں ؟ ہم نے اپنے خدا سے ایک سودا کیا ہوا ہے آپ اس کے بیچ میں حائل نہ ہوں۔ یہ اظہار دنیا میں ہر جگہ ہر قوم میں نظر آتا ہے۔ اور احمدی معاشرے میں ہر قوم میں نظر آنا چاہئے۔ جن میں کمی ہے ان کو بھی اس کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ اور اللہ کے فضل سے بڑی تعداد ایسی ہے جو اس رویے کا اظہار کرتی ہے چاہے وہ افریقہ کے غریب ممالک ہوں یا امیر ممالک۔ یہ نہ کوئی سمجھے کہ افریقہ کے غریب لوگ صرف اپنے پر خرچ ہی کرواتے ہیں ان میں بھی بڑے بڑے اعلیٰ قربانی کرنے کے معیار قائم کرنے والے ہیں اور حسب توفیق دوسرا چندہ دینے والے بھی ہیں۔
اب گھانا کی مثال میں دیتا ہوں۔ ہمارے بڑے اعلیٰ قربانی کرنے والے بھی ہیں، ایک ہمارے یوسف آڈ وسئی صاحب ہیں وہ لوکل مشنری بھی تھے، بلکہ اب بھی ہیں لیکن آنریری۔ وہ کچھ دوائیاں وغیرہ بھی بنایا کرتے تھے۔ چھوٹا سا شاید کاروبار تھا۔ اور وہ بیمار بھی تھے ان کی ٹانگ میں ایک گہرا زخم تھا جو ہڈی تک چلا گیا تھا۔ بڑی تکلیف میں رہتے تھے۔ تو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے علاج اور دعا سے اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا، زخم ٹھیک ہو گیا۔ اور اس کے بعد انہوں نے پہلے سے بڑھ کر جماعت کی خدمت کرنا شروع کر دی۔ اور کاروبار میں بھی کیونکہ ان کو کچھ جڑی بوٹیاں بنانے کا شوق تھا تو ایسی دوائیاں بنیں جن سے کاروبار خوب چمکا اور پیسے کی ایسی فراوانی ہوئی کہ جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن یہ اس پیسے پر بیٹھ نہیں گئے، بلکہ اپنے وعدے کے مطابق جماعت کے لئے بے انتہا خرچ کیا، اور کر رہے ہیں۔ مختلف عمارات اور مساجد بنوائیں۔ اور بڑی بڑی شاندار مسجدیں بنوائیں، چھوٹی چھوٹی مسجدیں نہیں اور اب بھی ہمہ وقت قربانی کے لئے تیار ہیں۔ گزشتہ سال جب میں دورے پر گیا تھا تو کسی خرچ کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا یہ مَیں نے کرنا ہے۔ کیونکہ آجکل دنیا میں کاروباری حالات کچھ خراب ہیں مجھے اپنے طور پر پتہ لگا تھا کہ ان کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے، کاروبار اب اتنا زیادہ نہیں ہے۔،ان پر بھی حالات کا اثر ہے۔ تو مَیں نے ان کو کہا کہ کسی اور کو بھی ثواب لینے کا موقع دیں۔ سارے کام خود ہی کرواتے جا رہے ہیں۔ لیکن دینی علم تھا۔ قرآن حدیث کا علم بھی ہے۔ تو پتہ ہے کہ مَیں نے تھیلی کا منہ بند کیا تو کہیں مستقل بند ہی نہ ہو جائے اس لئے فوراً کہا کہ یہ تو مَیں نے کرنا ہے۔ اور بہت سے دوسرے اخراجات بھی ہیں کسی کومَیں نے روکا نہیں ہے۔ آگے آئیں اور کریں۔
پھر ایک ابراہیم بونسو صاحب ہیں۔ یہ بھی بڑی قربانی کرنے والے ہیں۔اکرا کے قریب انہوں نے ایک بہت مہنگی جگہ پہ جماعت کے لئے قبرستان اور بہشتی مقبرے کے لئے جگہ لے کر دی ہے اور بھی بہت سارے ہیں جو اپنی اپنی طاقت کے مطابق قربانی کرنے والے ہیں۔ پھر دوسرے ملکوں میں بھی ہیں۔ انڈونیشیا میں بھی ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں بھی ہیں۔ اب زلزلہ زدگان کے لئے جب مَیں نے جماعت کو کہا تھا کہ مدد کریں جو آجکل انڈونیشیا، سری لنکا میں زلزلہ کے اثرات ہیں بڑا جانی نقصان ہوا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت نے ہر جگہ بڑے پُر زور طریقے سے اس میں حصہ لیا ہے۔ لبیک کہا اور آگے آئے۔
امریکہ میں ایک جماعت نے 36-35ہزار ڈالرز اکٹھے کئے تھے تاکہ وہاں بھجوائے جا سکیں۔ تو وہیں کے ایک صاحب حیثیت شخص نے کہا کہ اتنی ہی رقم مَیں دیتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے اتنی ہی رقم ڈال کر اس کو دوگنا کر دیا۔ 36-35ہزار ڈالرز فوراً ادا کر دئیے۔ تو یہ صرف اس لئے کہ جماعت کو قربانی کی عادت ہے۔ اور پتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قربانیوں کے پھل دیتا ہے اور اس نے اپنے وعدوں کے مطابق یقینا پھل دینے ہیں۔
پھر ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت جابرؓ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار نماز عید پڑھائی آپؐ کھڑے ہوئے نماز سے آغاز کیا اور پھر لوگوں سے خطاب کیا، جب آپؐ فارغ ہو گئے تو آپؐ منبرسے اترے اور عورتوں میں تشریف لے گئے اور انہیں نصیحت فرمائی۔ آپ اس وقت حضرت بلالؓ کے ہاتھ کا سہارا لئے ہوئے تھے۔ اور حضرت بلالؓ نے کپڑا پھیلایا ہوا تھا جس میں عورتیں صدقات ڈالتی جا رہی تھیں۔ (بخاری کتاب العیدین باب معضۃ الامام النساء یوم العید)
تو اسلام میں مالی قربانی کی مثالیں صرف مردوں تک ہی محدود نہیں ہیں۔ بلکہ اس پیاری تعلیم اور جذبہ ایمان کی وجہ سے عورتیں بھی مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہی ہیں اور لیتی ہیں اور اپنا زیور اتار اتار کر پھینکتی رہی ہیں اور آج پہلوں سے ملنی والی جماعت میں یہی نمونے ہمیں نظر آتے ہیں۔ اور عورتیں اپنے زیور آ آ کر پیش کرتی ہیں۔ عموماً عورت جو شوق سے زیور بنواتی ہے اس کو چھوڑنا مشکل ہوتا ہے لیکن احمدی عورت کا یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ یہی ہے کہ اپنی پسندیدہ چیز پیش کی جائے۔
گزشتہ دنوں میں جب انگلستان کی مساجد اور پھر تحریک جدید کے بزرگوں کے پرانے کھاتے کھولنے کی میں نے تحریک کی تھی تو احمدی خواتین نے بھی اپنے زیور پیش کئے۔ اور بعض بڑے بڑے قیمتی سیٹ پیش کئے کہ یہ ہمارے زیوروں میں سے بہترین ہیں۔ تو یہ ہے احمدی کا اخلاص۔ اس حکم پر عمل کر رہے ہیں کہ

لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّحَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۔ (آل عمران:93)

جو سب سے پسندیدہ چیزیں ہیں وہ ہی پیش کی جا رہی ہیں۔ تو مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کا بھی یہی ایمان ہے۔ ان باتوں کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ جماعت میں اخلاص کی کمی ہے۔ ہاں یاددہانی کی ضرورت پڑتی ہے اور وہ کرواتے رہنا چاہئے۔ اس کا حکم بھی ہے۔
تو وقف جدید کے ضمن میں احمدی ماؤں سے مَیں یہ کہتا ہوں کہ آپ لوگوں میں یہ قربانی کی عادت اس طرح بڑھ بڑھ کر اپنے زیور پیش کرنا آپ کے بڑوں کی نیک تربیت کی وجہ سے ہے۔ اور سوائے استثناء کے اِلاّماشاء اللہ، جن گھروں میں مالی قربانی کا ذکر اور عادت ہو ان کے بچے بھی عموماً قربانیوں میں آگے بڑھنے والے ہوتے ہیں۔ اس لئے احمدی مائیں اپنے بچوں کو چندے کی عادت ڈالنے کے لئے وقف جدید میں شامل کریں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان میں بچوں کے ذمہ وقف جدید کیا تھا۔ اور اُس وقت سے وہاں بچے خاص شوق کے ساتھ یہ چندہ دیتے ہیں۔ اگر باقی دنیا کے ممالک بھی اطفال الاحمدیہ اور ناصرات الاحمدیہ کو خاص طورپر اس طرف متوجہ کریں تو شامل ہونے والوں کی تعداد کے ساتھ ساتھ چندے میں بھی اضافہ ہو گا۔ اور سب سے بڑا مقصد جو قربانی کا جذبہ دل میں پیدا کرنا ہے وہ حاصل ہو گا۔ انشاء اللہ۔ اگر مائیں اور ذیلی تنظیمیں مل کر کوشش کریں اور صحیح طریق پرکوشش ہو تو اس تعداد میں آسانی سے (جو موجودہ تعداد ہے) دنیا میں 6لاکھ کا اضافہ ہو سکتا ہے، بغیرکسی دقت کے۔ اور یہ تعداد آسانی سے 10لاکھ تک پہنچائی جا سکتی ہے۔ کیونکہ موجودہ تعداد 4لاکھ کے قریب ہے جیسا کہ مَیں آگے بیان کروں گا۔
عورتیں یاد رکھیں کہ جس طرح مرد کی کمائی سے عورت جو صدقہ دیتی ہے اس میں مرد کو بھی ثواب میں حصہ مل جاتا ہے تو آپ کے بچوں کی اس قربانی میں شمولیت کا آپ کو بھی ثواب ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نیتوں کو جانتا ہے اور ان کا اجر دیتا ہے۔ اور جب بچوں کو عادت پڑ جائے گی تو پھر یہ مستقل چندہ دینے والے بچے ہو ں گے۔ اور زندگی کے بعد بھی یہ چندہ دینے کی عادت قائم رہے گی تو یہ ماں باپ کے لئے ایک صدقہ جاریہ ہو گا۔ جیسا کہ مَیں نے کہا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نصائح پر عمل کرنے کے نمونے،قربانیوں میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے نمونے، ہمیں آخرین کی اس جماعت میں بھی ملتے ہیں۔ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے قائم کئے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ نے جو قربانیوں کے نمونے قائم کئے ہیں ان کے نظارے بھی عجیب ہیں۔ آج بھی ہمیں جو قربانیوں کے نظارے نظر آتے ہیں جیسا کہ مَیں نے کہا کہ بڑوں کی تربیت کا اثر ہوتا ہے۔ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کی اپنی اولا د کی تربیت اور ان کے لئے دعاؤں کا نتیجہ ہے اور سب سے بڑھ کر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اپنی جماعت کے لئے دعاؤں کی وجہ سے ہے۔ جس درد سے آپؑ نے اپنی جماعت کی تربیت کرنے کی کوشش کی ہے جن کا ذکر حضور علیہ السلام کی تحریرات میں مختلف جگہ پر ملتا ہے اور جس تڑپ کے ساتھ آپؑ نے اپنی جماعت کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کے لئے دعائیں کی ہیں ،تقویٰ کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کے لئے دعائیں کی ہیں۔ یہ و ہی پھل ہیں جو ہم کھا رہے ہیں۔ مردہ درخت انہیں دعاؤں کے طفیل ہرے ہو رہے ہیں جن میں بزرگوں کی اولادیں بھی شامل ہیں اور نئے آنے والے بھی شامل ہیں۔
ایک دور دراز علاقے کا آدمی جو عیسائیت سے اسلام قبول کرتا ہے اور پھر قربانیوں میں اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ مَیں ہر وقت قربانی کرتا رہوں اور اگر بس چلے تو کسی کو آگے آنے ہی نہ دوں۔ تو یہ سب کچھ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قوت قدسی اور دعاؤں کا ہی نتیجہ ہے۔ آپؑ کے زمانے میں یہ قربانیوں کے معیار قائم ہوئے جن کی آگے جاگ لگتی چلی جا رہی ہے۔ اس لئے اگر یہ معیار قائم کرنے ہیں تو اس زمانے کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والوں، اپنے اندر اس قوت قدسی سے پاک تبدیلی پید اکرنے والوں کے بھی جو ذکر ہیں ان کا ذکر چلتا رہنا چاہئے تاکہ ان بزرگوں کے لئے بھی دعا کی تحریک ہو اور ہمیں بھی یہ احساس رہے کہ یہ پاک نمونے نہ صرف اپنے اندر قائم رکھنے ہیں، بلکہ اپنی نسلوں کے اندر بھی پیدا کرنے ہیں۔
اب ان پاک نمونوں میں سے چند ایک کا مَیں ذکر کروں گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ایسا ہی مباہلہ کے بعد حبی فی اللہ شیخ رحمت اللہ صاحب نے مالی اعانت سے بہت سا بوجھ ہمارے درویش خانہ کا اٹھایا ہے۔ میں خیال کرتا ہوں کہ سیٹھ صاحب (حاجی سیٹھ عبدالرحمن، اللہ رکھا صاحب مدراس کے تاجر تھے) موصوف سے باب نمبر دوئم پر شیخ صاحب ہیں۔ جو محبت اور اخلاص سے بھرے ہوئے ہیں۔ شیخ صاحب موصوف اس راہ میں دو ہزار سے زیادہ روپیہ دے چکے ہوں گے۔ اور ہر ایک طور سے وہ خدمت میں حاضر ہیں۔ اس زمانے میں دو ہزار کی بڑی ویلیو (Value) تھی۔ اور اپنی طاقت اور وسعت سے زیادہ خدمت میں سرگرم ہیں۔ ایسا ہی بعض میرے مخلص دوستوں نے مباہلہ کے بعد اس درویش خانہ کے کثرت مصارف کو دیکھ کر اپنی تھوڑی تھوڑی تنخواہوں میں سے اس کے لئے حصہ مقرر کر دیا ہے۔ چنانچہ میرے مخلص دوست منشی رستم علی صاحب کورٹ انسپکٹر گورداسپور تنخواہ میں سے تیسرا حصہ یعنی 20روپے ماہوار دیتے ہیں۔ (ضمیمہ انجام آتھم، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 313-312)
اس زمانے میں وہ بڑی چیز تھی۔ تو دیکھیں اپنے پر تنگی کرکے قربانیاں کرنے کا جو طریق ہے وہ جاری کیا۔ وہ نمونے قائم کئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ میں تھے۔
پھر ایک اور ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : مَیں اپنی جماعت کے محبت اور اخلاص پر تعجب کرتا ہوں کہ ان میں سے نہایت ہی کم معاش والے جیسے میاں جمال دین اور خیر دین اور امام دین کشمیری میرے گاؤں سے قریب رہنے والے ہیں وہ تینوں غریب بھائی بھی جو شاید تین آنہ یا چار آنہ روزانہ مزدوری کرتے ہیں۔ آج ان کی اولادیں لاکھوں میں کھیل رہی ہیں۔ سرگرمی سے ماہواری چندہ میں شریک ہیں۔ ان کے دوست میاں عبدالعزیز پٹواری کے اخلاص سے بھی مجھے تعجب کے باوجود قلت معاش کے ایک دن سو روپیہ دے گیا۔ یعنی اتنی طاقت نہیں تھی ایسا کاروبار نہیں تھا اس کے باوجود کہتے ہیں ایک دن مجھے ایک سو روپیہ دے گیا۔ مَیں چاہتا ہوں کہ خدا کی راہ میں خرچ ہو یہ کہنے لگا۔
تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں : وہ سو روپیہ شاید اس غریب نے کئی برسوں میں جمع کیاہو گا۔ مگر للہی جوش نے خدا کی رضا کا جوش دلایا۔(ضمیمہ انجام آتھم، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 314-313)
جب مینارۃ المسیح کی تعمیر ہونے لگی تھی اس وقت کا ذکر ہے۔ فرمایا: ان دنوں میں میری جماعت میں سے دو ایسے مخلص آدمیوں نے اس کام کے لئے چندہ دیا ہے۔ جو باقی دوستوں کے لئے درحقیقت جائے رشک ہیں۔ ایک ان میں سے منشی عبدالعزیز نام، ضلع گورداسپور میں پٹواری ہیں، جنہوں نے باوجود اپنی کم سرمائیگی کے ایک سو روپیہ اس کام کے لئے چندہ دیا ہے۔ (جن کا پہلے ذکر آیا ہے) اورمَیں خیال کرتا ہوں کہ یہ سوروپیہ کئی سال کا ان کا اندوختہ ہو گا۔ اور فرمایا کہ یہ اس لئے زیادہ قابل تعریف ہیں کہ ابھی وہ ایک اور کام میں بھی ایک سو روپیہ چندہ دے چکے ہیں۔ اور اپنے عیال کی بھی چنداں پرواہ نہیں کی (بالکل پرواہ نہیں رکھی) اور یہ چندہ پیش کر دیا۔ فرمایا : دوسرے مخلص جنہوں نے اس وقت بڑی مردانگی دکھلائی ہے، میاں شادی خان لکڑی فروش ساکن سیالکوٹ ہیں۔ ابھی وہ ایک کام میں ڈیڑھ سو روپیہ چندہ دے چکے ہیں۔ اور اب اس کام کے لئے دو سو روپیہ بھیج دیا ہے۔ اور یہ وہ متوکل شخص ہے کہ اگر اس کے گھر کا تمام اسباب دیکھاجائے تو شاید اس کی تمام جائیداد 50روپے سے زیادہ نہ ہو لیکن 2سو روپے چندہ دے دیا۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ کیونکہ ایام قحط ہیں اور دنیاوی تجارت میں صاف تباہی نظر آتی ہے تو بہتر ہے کہ ہم دینی تجارت کرلیں۔ اس لئے جو کچھ اپنے پاس تھا سب بھیج دیا۔حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں : اور درحقیقت وہ کام کیا جو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیا تھا۔ (مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 315-314)
پھر فرمایا : حبی فی اللہ میاں عبدالحق صاحب یہ ایک اول درجے کا مخلص اور سچا ہمدرد اور محض للہ محبت رکھنے والا دوست اور غریب مزاج ہے۔ دین کو ابتداء سے غریبوں سے مناسبت ہے کیونکہ غریب لوگ تکبر نہیں کرتے۔ اور پوری تواضع کے ساتھ حق کو قبول کرتے ہیں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ دولت مندوں میں ایسے شخص بہت کم ہیں کہ اس سعادت کا عشربھی حاصل کر سکیں جس کو غریب لوگ کامل طور پر حاصل کر لیتے ہیں۔ دسواں حصہ بھی ان کے پاس نہیں ہوتا۔ فتوبٰی للغربائ۔میاں عبدالحق با وجود اپنے اِفلاس اور کمی مقدرت کے ایک عاشق صادق کی طرح محض للہ خدمت کرتا رہتا ہے اور اس کی یہ خدمات اس آیت کا مصداق اس کو ٹھہرا رہی ہیں کہ

وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ وَلَوْکَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ… (الحشر:10)

یعنی باوجود تنگی درپیش ہونے کے بھی اپنی جانوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں۔(ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد 3صفحہ 537)
تو یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے کے ہیں جن کی ان چھوٹی چھوٹی قربانیوں سے، ان شبنم کے قطروں سے، درخت پھلوں سے لدے رہتے تھے۔ ان کے اعمال کے درخت بھی پھلدار رہتے تھے۔ اور جماعت بھی ان قربانیوں کی وجہ سے پھلوں سے لدی رہتی تھی۔
حضرت قاضی محمد یوسف صاحبؓ پشاوری لکھتے ہیں کہ :جن مخلص احباب نے لنگر خانے کے واسطے فوراً امداد بھیجی ان میں ایک شخص چوہدری عبدالعزیز صاحب احمدی پٹواری بھی تھے۔ (ان کا پہلے بھی ذکر اچکا ہے)۔ جو خود آپ گورداسپور آئے اور آریہ کے مکان میں جبکہ حضرت احمدؑ اوپر سے نیچے اتر رہے تھے (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر ہے) زینے میں نصف راہ میں ملے اور ہاتھ سے اپنی کمر سے ایک سو روپیہ چاندی کے کھول کر پیش کئے۔ (یہ وہی واقعہ ہے، اس کی ذرا تفصیل ہے یا پہلے واقعہ کا جہاں حضرت مسیح موعود ؑنے ذکر فرمایا ہے وہ ہو گا۔) کہ حضور کا خط آیا اور خاکسار کے پاس یہی رقم موجود تھی جو بطور امداد لنگر پیش کر رہا ہوں۔
قاضی محمد یوسف صاحب لکھتے ہیں کہ مجھے ایک پٹواری کے جو ان دنوں صرف چھ روپے ماہوار تنخواہ لیتا تھا۔ان کی صرف چھ روپے ماہوار تنخواہ تھی۔ اور سو روپیہ چندہ دے رہے ہیں۔ اس ایثار پر رشک آیا۔ خداتعالیٰ نے اس کے اخلاص کے عوض اس پر بڑے فضل کئے۔ (رسالہ ظہور احمد موعودؑ صفحہ 72 مطبوعہ 30؍ جنوری 1955)
تو یہ تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابہ کے نمونے جو پہلوں سے ملنے کے لئے اپنے پر تنگی وارد کیا کرتے تھے اور تنگی وارد کرکے قربانیاں دیا کرتے تھے۔
پھر حضرت قاضی یوسف صاحبؓ ایک اور ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: میرے پہلے قیام گورداسپور میں ایک واقعہ پیش آیا کہ ایک دفعہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے حضرت احمد سے (حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے) عرض کی کہ حضور لنگری کہتا ہے کہ لنگر کا خرچ ختم ہو گیا ہے۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ بعض مخلص احباب کو متوجہ کیا جاوے چند مخلص افراد کو امداد لنگر کے واسطے خطوط لکھے گئے اور کئی مخلصوں کے جواب اور رقوم آئیں۔ کہتے ہیں کہ ان میں سے ایک واقعہ خاکسار کو یاد ہے کہ
وزیر آبادکے شیخ خاندان نے جو مخلص احمدی تھے ان کا ایک پسر نوجوان خط ملتے وقت طاعون سے فوت ہوا تھا۔ اس خاندان کا نوجوان لڑکا اس طاعون سے فوت ہوا تھا اور اس کے کفن دفن کے واسطے مبلغ دو سو روپے بغرض اخراجات اس کے پاس موجود تھے۔ اس نے اسی وقت (اس لڑکے کے باپ نے) ایک خط حضرت مسیح موعودؑ کو لکھا اور یہ خط ایک سبز کاغذ پر تحریر تھا اور اس کے عنوان میں یہ لکھا کہ ’اے خوشامال کہ قربانِ مسیحا گردد‘ کہ مبارک ہے وہ مال جو خدا کے مسیح کے لئے قربان کر دیا جائے۔ نیچے خط میں لکھا میرا نوجوان لڑکا طاعون سے فوت ہوا ہے۔ میں نے اس کی تجہیز و تکفین کے واسطے مبلغ دوسو روپے تجویز کئے تھے جو ارسال خدمت کرتا ہوں وہ دو سو روپے تھے جو اس کے لئے رکھے ہوئے تھے اور لڑکے کو اس کے لباس میں دفن کر دیتا ہوں۔ یہ ہے وہ اخلاص جو حضرت مسیح موعودؑ نے مریدں کے دلوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے تھاجماعت کے لئے تھا،
اللہ تعالیٰ کی مرضی چاہنے کے لئے تھا۔ قاضی صاحب لکھتے ہیں کہ یہی لوگ تھے جن کو آیت وَآخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ۔ (سورۃ الجمعۃ :۴) کے ماتحت صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا کا مصداق قرار دیا گیا ہے۔(قاضی محمد یوسف فاروقی احمدی۔قاضی خیل رسالہ ظہور احمد موعود صفحہ 71-70 مطبوعہ 30؍ جنور ی1955) اتنی زیادہ قربانی کی کہیں اور مثال آپ کو نظر نہیں آئے گی۔ اگر آئے گی تو یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں ہی نظر آئے گی۔ اسی کا یہ خاصّہ ہے۔
حافظ معین الدین صاحبؓ کی قربانی کا ذکر آتا ہے کہ ان کی طبیعت میں اس امر کا بڑا جوش تھا کہ وہ سلسلے کی خدمت کے لئے قربانی کریں۔ خود اپنی حالت ان کی یہ تھی کہ نہایت عسر کے ساتھ گزارا کرتے تھے، نہایت تنگی کے ساتھ گزارا کرتے تھے۔ اور معذور بھی تھے، کام نہیں کر سکتے تھے۔ حضرت اقد سؑ کا ایک خادم قدیم سمجھ کر بعض لوگ محبت اور اخلاص کے ساتھ کچھ سلوک ان سے کرتے تھے ان کو کچھ رقم پیش کر دیا کرتے تھے لیکن حافظ صاحب کا ہمیشہ یہ اصول تھا کہ وہ اس روپے کو جو اس طرح ملتا تھا کبھی اپنی ذاتی ضرورت پر خرچ نہیں کرتے بلکہ اس کو سلسلے کی خدمت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور پیش کر دیتے۔ اور کبھی کوئی تحریک سلسلے کی ایسی نہ ہوتی جن میں وہ شریک نہ ہوتے، خواہ ایک پیسہ ہی دیں۔ حافظ صاحب کی ذاتی ضروریات کو دیکھتے ہوئے ان کی یہ قربانی معمولی نہ ہوتی تھی۔(اصحاب احمدؑ جلد 11 صفحہ 293)
تو یہ ان لوگوں کے چند نمونے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کو سنا، سمجھا اور عمل کیا۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا مالی قربانی کے سلسلہ میں ایک اقتباس پیش کرتاہوں۔ آپ ؑفرماتے ہیں کہ:
’’میرے پیارے دوستو! مَیں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھے خدائے تعالیٰ نے سچا جوش آپ لوگوں کی ہمدردی کے لئے بخشا ہے۔ اور ایک سچی معرفت آپ صاحبوں کی زیادت ایمان و عرفان کے لئے مجھے عطا کی گئی ہے اس معرفت کی آپ کو اور آپ کی ذریت کو نہایت ضرورت ہے۔ سومَیں اس لئے مستعد کھڑا ہوں کہ آپ لوگ اپنے اموال طیبہ سے اپنے دینی مہمات کے لئے مدد دیں اور ہر یک شخص جہاں تک خدائے تعالیٰ نے اس کو وسعت وطاقت و مقتدرت دی ہے اس راہ میں دریغ نہ کرے۔ اور اللہ اور رسول سے اپنے اموال کو مقدم نہ سمجھے اور پھر مَیں جہاں تک میرے امکان میں ہے تالیفات کے ذریعے سے ان علوم و برکات کو ایشیا اور یورپ کے ملکوں میں پھیلاؤں جو خداتعالیٰ کی پاک روح نے مجھے دی ہیں ‘‘۔
(ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد 3صفحہ 516)
پس آپ کا یہ سچا جوش اور سچی تڑپ ہے اور اس کے لئے آپ کی دعائیں ہیں جو آج سو سال گزرنے کے بعد بھی اخلاص و وفا کے نمونے دکھا رہی ہیں۔کیونکہ اس کے بغیر تزکیہ نفس نہیں ہو سکتا۔ اور دلوں کی پاکیزگی قربانیوں سے ہی پیداہوتی ہے۔ ورنہ اخراجات کی تو آپؑ کو فکر نہ تھی۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ: آخر خداتعالیٰ نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ خود اپنے ہاتھ سے اس نے اس سلسلے کو قائم کیا ہے۔ وہ خود ہی اس کا حامی و ناصر ہے۔ لیکن وہ چاہتا ہے کہ اپنے بندوں کو ثواب کا مستحق بنا دے۔
پس اس ثواب کو حاصل کرنے کے لئے یاددہانی کروائی جاتی ہے۔ قربانیوں کے یہ معیار قائم کریں۔ مختلف تحریکات ہیں جماعت میں۔ اللہ تعالیٰ سب کو معیار بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔
اب میں وقف جدید کا 47واں سال 31 دسمبر کو جو ختم ہوا ہے اور 48 واں سال شروع ہوا ہے۔ کے کچھ کوائف پیش کروں گا۔ اور یہ جیسا کہ میں نے کہا 48واں سال شروع ہوا ہے اس سال کا اعلان کروں گا۔ رپورٹس کے مطابق اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقف جدید کی کل وصولی 19لاکھ 76 ہزار پاؤنڈ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اگر ملکوں کا حساب کریں تو ان میں زیادہ قربانیاں ہوئی ہیں۔ کیونکہ امریکہ میں بھی اور پاکستان میں بھی اور ملکوں میں بھی پاؤنڈ کے مقابلہ میں شرح میں غیر معمولی کمی ہوئی ہے اور اس کے باوجود خدا کے فضل سے گزشتہ سال سے وصولی ایک لاکھ پاؤنڈ زیادہ رہی ہے۔ اور مخلصین کی تعداد 4لاکھ 15ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ لیکن جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ اس میں اگر کوشش کی جائے تو بچوں کے ذریعے سے ہی میرے خیال میں معمولی کوشش سے پوری دنیا میں 6لاکھ کی تعداد کا اضافہ کیا جا سکتا ہے تاکہ کم از کم وقف جدید میں 10لاکھ افراد تو شامل ہوں۔ تحریک جدید کی طرح نئے آنے والوں کو بھی اس میں شامل کریں۔ بچوں کو شامل کریں، خاص طور پر بھارت اور افریقہ کے ممالک میں کافی گنجائش ہے۔ اللہ تعالیٰ توفیق دے۔ ویسے تو میں سمجھتا ہوں اگر کوشش کی جائے تو ایک کروڑ کی تعداد ہو سکتی ہے۔ لیکن بہرحال پہلے قدم پر آپ اتنی کوشش بھی کر لیں تو بہت ہے۔ کیونکہ 1957ء میں جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ تحریک شروع کی تھی تو جماعت کی اس تعداد کو دیکھتے ہوئے یہ خواہش فرمائی تھی کہ ایک لاکھ چندہ دہند ہوں۔ تو اِس وقت کوائف تو میرے پاس نہیں ہیں کہ پاکستان میں کتنے شامل ہوئے لیکن یہ صرف تحریک پاکستان کے لئے تھی اور وہاں سے آپؓ ایک لاکھ مانگ رہے تھے تو اب تو پوری دنیا میں حاوی ہے۔
دنیا بھر میں جو مجموعی وصولی کے لحاظ سے بالترتیب پہلی دس جماعتوں کا بھی ذکر کیا جاتا ہے وہ مَیں بتا دیتا ہوں پہلے نمبر پہ امریکہ ہے، دوسرے پہ پاکستان، تیسرے پہ، برطانیہ چوتھے پہ، جرمنی پانچویں پہ، کینیڈا (میرا خیال ہے جرمنی نیچے جا رہاہے) چھٹے نمبر پہ ہندوستان، ساتویں نمبر پہ انڈونیشیا، آٹھویں پہ بلجیم، نویں پہ سوئٹزر لینڈ اور دسویں پہ آسٹریلیا۔
اس کے علاوہ فرانس، ناروے، ہالینڈ، سویڈن، جاپان، سعودی عرب اور ابو ظہبی وغیرہ کی جماعتیں جو ہیں انہوں نے بھی کافی کوشش کی ہے۔
اور پاکستان کی جماعتوں کا علیحدہ ذکر ہوتا ہے۔ اس میں اول کراچی ہے، دوئم لاہور ہے، سوئم ربوہ ہے۔ کراچی اور لاہور کا تو مقابلہ رہتا ہے۔ کاروباری لوگ بھی ہیں اور ملازم پیشہ بھی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ان کے کاروباروں میں فرق پڑا ہو لیکن پھر بھی کافی اضافہ ہے۔ لیکن ربوہ میں اکثریت انتہائی کم آمدنی والوں کی ہے۔لیکن انہوں نے اپنی پوزیشن جو وہ اول دوئم لیتے ہیں، وہ برقرار رکھی ہوئی ہے۔ پھر پاکستان میں بڑوں اور چھوٹوں کا، بچوں کا علیحدہ حساب رکھا جاتا ہے جیسا کہ مَیں نے ذکرکیا تھا۔ خلافت ثالثہ میں بچوں کے لئے علیحدہ انتظام شروع کیا گیا تھا۔ تو اس لحاظ سے جو بڑوں کا چندہ وقف جدید ہے، بالغان کا اس میں راولپنڈی کا ضلع اوّل ہے۔سیالکوٹ ہے، پھر اسلام اباد ہے پھر فیصل آباد ہے، پھر گوجرانوالہ ہے، پھر میرپور خاص ہے، شیخوپورہ ہے، سرگودھا ہے، گجرات ہے، کوئٹہ ہے۔اور بچوں یعنی دفتر اطفال کا ہے۔ اس میں جو ضلعے ہیں اسلام آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، راولپنڈی، شیخوپورہ، میر پور خاص، گجرات، فیصل آباد، نارووال اور بہاولنگر۔
اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں کو جنہوں نے بڑھ چڑھ کر مالی قربانیوں میں حصہ لیا انہیں اپنی جناب سے بے انتہا اجر عطا فرمائے۔ ان کے اموال و نفوس میں برکت عطا فرمائے ان کے اعمال کے باغ اور ان کے بیوی بچوں کے اعمال کے باغ ہرے بھرے اور پھلوں سے لدے رہیں اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کے وارث بنے رہیں۔
آپؑ فرماتے ہیں کہ:’’ او ر جو شخص ایسی ضروری مہمات میں مال خرچ کرے گا مَیں امید نہیں رکھتا کہ اس مال کے خرچ سے اس کے مال میں کچھ کمی آجائے گی بلکہ اس کے مال میں برکت ہو گی۔ پس چاہئے کہ خداتعالیٰ پر توکل کرکے پورے اخلاص اور جوش اور ہمت سے کام لے کہ یہی وقت خدمت گزاری کا ہے۔پھر بعد اس کے وہ وقت آتا ہے کہ ایک سونے کا پہاڑبھی اس راہ میں خرچ کریں تو اِس وقت کے پیسے کے برابر نہیں ہو گا‘‘۔یہ آپ نے اپنے وقت کی بات کی ہے۔ فرمایا:’’ خداتعالیٰ نے متواتر ظاہر کر دیا ہے کہ واقعی اور قطعی طور پر وہی شخص اس جماعت میں داخل سمجھا جائے گا کہ اپنے عزیز مال کو اس راہ میں خرچ کرے گا‘‘۔(مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 497)
تو بڑی قربانیاں کرنے والے جو ہیں ان کو بھی یہی سمجھنا چاہئے کہ یہ ایک فضل الٰہی ہے جو اُن پر ہوا۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں جو صحابہ کی بظاہرمعمولی قربانیاں تھیں وہ جیسا کہ آپؑ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں وہ معمولی قربانیاں بھی بہت بڑا درجہ رکھتی ہیں۔ لیکن اس زمانے میں بھی اپنی قربانیاں کرنے کے بعد جیسا کہ ہم اب بھی نمونے دیکھتے ہیں اگر عاجزی سے قربانیاں پیش کرتے چلے جائیں گے تو ان دعاؤں کے حصہ دار بنیں گے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی جماعت کے لئے کی ہیں۔
آخر پر مَیں آپ لوگوں جو یہاں پر جلسہ سننے کے لئے آئے ہیں، آپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس جلسے میں شمولیت آپ لوگوں کے لئے پاک تبدیلی کا باعث ہونی چاہئے۔ ایک دوسرے کو سلام کرنے کا رواج دیں، اس ماحول میں پیار اور محبت سے ملیں۔ یہاں جماعت اتنی چھوٹی ہے کہ ذرا سی بھی کمزوری یا اچھائی فوراً پورے ماحول میں پھیل جاتی ہے۔ اس لئے کوشش کریں کہ اگر کسی چیز کو پھیلانا ہے تو وہ نیکیوں کی، خیر کی، اچھی بات کی، پیار کی، محبت کی خوشبو پھیلانی ہے۔ ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنا ہے، دعاؤں پر زوردینا ہے۔ یہ دو دن آپ کا جلسہ ہے اس میں دنیاداری کی بجائے صرف اور صرف
اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اپنے ماحول کو معطر رکھنا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آج جنوری کی 7؍تاریخ ہے سال نو کے حوالے سے بے انتہا خطوط اور فیکسز مبارکباد کی مجھے مل رہی ہیں۔ گزشتہ جمعہ 31دسمبر کا ہی تھا اس میں بھی مبارکباد کہی جا سکتی تھی لیکن مجھے یاد نہیں رہی۔ اللہ تعالیٰ تمام جماعت کو یہ سال ہر لحاظ سے مبارک کرے اور اس ملک کے لئے بھی اوردنیا کے ہر ملک کے لئے یہ سال ہر لحاظ سے مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ تمام دنیا کے ممالک اور لوگوں کو پیار اور محبت سے رہنا سکھائے۔ دل کی نفرتیں اور کدورتیں دور ہوں۔ اللہ تعالیٰ ملکوں کے خلاف جنگوں اور ظلموں کو روکنے کے سامان پیدا فرمائے۔ لوگوں کو لوگوں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہر آفت سے تمام انسانیت کو بچائے۔ کیونکہ جس طرح آجکل کے حالات ہیں بڑی تیزی سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو آواز دے رہے ہیں۔ اللہ رحم کرے اور سال برکتوں کا سال ہو نہ کہ عذاب کا سال۔ہر احمدی کو پہلے سے بڑھ کر اخلاص اور وفا اور قربانی کے نمونے قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ عبادتوں کے معیا رقائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو دنیامیں پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے۔ خاص طور پر جب آپ اس ملک میں رہ رہے ہیں۔ سپین میں اپنی تعداد بڑھانے کی خاص کوشش کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ توفیق دے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/4A5S0]

اپنا تبصرہ بھیجیں