خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 17؍دسمبر 2004ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق حسنہ کی تکمیل کے لئے مبعوث فرمائے گئے تھے۔ آپ کی امت میں داخل ہونے کا دعویٰ کرنے والے ہر شخص کا فرض بنتاہے کہ آپؐ کے اخلاق حسنہ کو اختیار کرکے آپؐ کی بعثت کے مقصد کو پورا کرے۔ اور آج یہ فرض سب سے بڑھ کر جماعت احمدیہ کے ہر فرد پر عائد ہوتاہے۔
(احادیث نبویہ اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات اور عملی نمونہ کے حوالہ سے معاشرہ کے کمزور اور بے سہارا افراد اور ماتحت ملازموں اور خادموں سے حسن سلوک کرنے کی تاکیدی نصائح)
خطبہ جمعہ ارشاد فرمودہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
17؍دسمبر 2004ء بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن۔ لندن

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوااللہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَکَرَاللہَ کَثِیْرًا (سورۃ الاحزاب: 22)

اس آیت کا ترجمہ ہے، یقینا تمہارے لئے اللہ کے رسول میں نیک نمونہ ہے۔ ہر اس شخص کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہے اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے کسی پوچھنے والے کو جواب دیا کہ تم جو آنحضرت ﷺ کے اخلاق عالیہ کے بارے مجھ سے پوچھ رہے ہو، کیا قرآن کریم میں نہیں پڑھا اس زمین و آسمان کے پیدا کرنے والے خدا کی گواہی کافی نہیں ہے

وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْم

کہ اے رسول! تو یقینا اخلاق کے اعلیٰ ترین مقام پر ہے۔ تو نمونے تو وہی بنا کرتے ہیں جو کسی چیز کے اعلیٰ مقام پر ہوں- جنہوں نے اعلیٰ ترین معیار قائم کئے ہوں- دنیا میں تو کسی ایک یا دو باتوں یا چیزوں میں کوئی اچھا معیار حاصل کر لے تو اس کی مثال دی جاتی ہے اور وہ معیار بھی ایسے نہیں ہوتے جس کو کہہ سکیں کہ اس کی انتہا ہو گئی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بارے میں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نبی ہر معاملے میں اعلیٰ نمونہ ہے۔ چاہے وہ گھریلو معاملات ہوں یا قومی اور ملی معاملات ہوں یا اعلیٰ روحانی معاملات ہوں، اللہ تعالیٰ کے قرب پانے کی باتیں ہوں- یہی ایک نمونہ ہے جو تمہارے لئے اسوۂ حسنہ ہے۔ اس لئے ہر وہ شخص جس کو اللہ کی ذات پر یقین ہے، اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ آخرت کا ایک دن مقرر ہے جہاں اس کا حساب کتاب ہو گا اور اس کی تیاری کے لئے وہ کثرت سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے،اس کی عبادت کرتا ہے تو اس کو پھر ان راستوں پر چلنا ہو گا جن پر آنحضرت ﷺ نے ہمیں چل کر دکھایا ہے۔ تبھی اللہ تمہاری ان دعاؤں اور اس کا قرب پانے کی امیدوں پر بھی نظر کرے گا۔ اس لئے ان راستوں کو بھی تلاش کرو۔ ان کی تلاش میں رہا کرو کہ وہ کون کون سے راستے ہیں جن پر اللہ کا یہ پیارا نبی چلا کرتا تھا۔ آنحضرت ﷺ کا جو بلند مقام ہے، جو اعلیٰ نمونے آپ نے قائم کئے ہیں ان کو تو کبھی بھی مکمل طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن ان نمونوں پر چلنے کی کچھ مثالیں عموماً پیش کی جاتی ہیں- ان میں سے چند مثالیں اس وقت میں لوں گا۔ لیکن ان مثالوں میں بھی صرف ایک خُلق کے بارے میں مَیں اس وقت بیان کروں گا کہ کمزوروں اور بے سہاروں سے آپؐ کا کیسا سلوک ہوا کرتا تھا۔ لیکن جو باتیں، جیسا کہ میں نے کہا ہے، روایات کے ذریعہ سے ہم تک پہنچی ہیں شاید اصل کاکروڑواں حصہ بھی نہ ہوں- لیکن بہرحال چند روایات مَیں پیش کرتا ہوں- لیکن اس سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک اقتباس پیش کروں گا۔ کیونکہ آپ ہی ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو پہچانا ہے۔
آپؑ فرماتے ہیں کہ:’’وہ انسان جس نے اپنی ذات سے، اپنی صفات سے، اپنے افعال سے، اپنے اعمال سے اور اپنے روحانی اور پاک قویٰ کے پُر زور دریا سے کمال تام کا نمونہ عِلْمًا وَ عَمَلًا، صِدْقًا وَ ثَبَاتًا دکھلایا اور انسان کامل کہلایا…… وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء، امام الاصفیاء، ختم المرسلین، فخرالنبییّن جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں- اے پیارے خدا! اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتداء دنیا سے تو نے کسی پر نہ بھیجا ہو‘‘۔ (اتمام الحجۃ،روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 308)
تو دیکھیں یہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا کلام۔ کس خوبصورتی سے اپنے آقا کی خوبیاں بیان فرمائی ہیں- اس کے بعد بھی اگر کوئی کہتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو نہیں پہچانا تو اس کو سوائے عقل کا اندھا ہونے کے اور کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا اور عین اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق فرمایا کہ صفات کے لحاظ سے بھی اور قول اور فعل اور عمل اور سب طاقتوں کے لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ ہی ہے جس کی پیروی کرنا ہمارے لئے ضروری ہے۔ اور وہی اعلیٰ معیار ہیں جن سے بڑھ کر کوئی اور معیار نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا بھی انسانی طاقت کے لحاظ سے اگر کسی انسان سے اعلیٰ ترین اظہار ہو سکتا ہے، تو وہ بھی صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں-
ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے یعنی اسے اپنی صفات کا مظہر بنایا ہے۔ اور اس میں یہ اہلیت اور استعداد رکھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو ظلی طور پر اپنا سکے۔ تو جیسا کہ مَیں نے کہا، سب سے اعلیٰ معیار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں- یہ اہلیت اور استعداد سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں رکھی ہے۔ اور اگرکوئی انسان اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا کامل نمونہ دکھا سکتا ہے تو وہ آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔
اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں کہ اخلاق حسنہ کی تکمیل کے لئے مجھے مبعوث کیا گیا ہے۔ یعنی مَیں اچھے اور اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث ہوا ہوں- تو تکمیل وہی کرتا ہے جو خود ان صفات اور اخلاق میں مکمل ہو۔ پس اس کامل انسان کی امت میں داخل ہونے کا دعویٰ کرنے والے ہر شخص کا یہ فرض بنتا ہے کہ اِن اخلاق کو اختیار کرکے آپؐ کی بعثت کے مقصد کو پورا کرے۔ اور آج یہ فرض سب سے بڑھ کر جماعت احمدیہ کے ہر فرد پر عائد ہوتا ہے۔ جیسا کہ مَیں نے کہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خُلق جو کمزوروں اور مسکینوں کے بارے میں ہے، اس میں سے چند روایات پیش کروں گا۔ وہ یہ ہیں جن سے آپ کے دل میں اس مجبور اور کمزور طبقے کی محبت کے جذبات کی جھلکیاں نظر آتی ہیں-
حضرت عبداللہؓ بن ابی اوفٰی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں تکبّر نام کو بھی نہ تھا۔ نہ آپؐ ناک چڑھاتے تھے۔ نہ اس بات سے برا مناتے اور بچتے کہ آپ بیواؤں اور مسکینوں کے ساتھ چلیں اور ان کے کام آئیں اور ان کی مدد کریں-(مقدمہ سنن الدارمی۔ باب فی تواضع رسول اللہ ﷺ) یعنی بے سہارا عورتوں اور مسکینوں اور غریبوں کی مدد کے لئے ہر وقت کمربستہ رہتے اور اس میں خوشی محسوس کرتے۔ اور یہ صرف ابتدائی زمانے کی بات نہیں ہے بلکہ جب فتوحات پر فتوحات ہو رہی تھیں تب بھی آپؐ کے اخلاق کے یہی اعلیٰ نمونے تھے۔ یہی طریق تھے۔
پھر عاجزوں اور مسکینوں کا آپؐ کی نظر میں کیا مقام تھا۔ اس بارے میں حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضور
صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی کہ:’’اے اللہ! مجھے حالت مسکینی میں زندہ رکھ اور مسکینی کی حالت میں موت دے۔ اور مجھے قیامت کے روز زُمرۂ مساکین میں اٹھا۔ اس پر حضرت عائشہؓ نے عرض کیا کہ کیوں یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اس پر آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ مساکین اغنیاء سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے‘‘۔ یعنی ان میں تکبر اور غرور اتنا نہیں ہوتا۔ عاجزی اور انکساری ہوتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ ان کے درجات بڑھاتا ہے۔ ‘’اے عائشہ! کسی مسکین کو نہ دھتکارنا خواہ تجھے کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ دینا پڑے۔ اے عائشہ! مساکین کو اپنا محبوب رکھنا اور انہیں اپنے قرب سے نوازنا۔ خداتعالیٰ کے قیامت کے دن تجھے اپنے قرب سے نوازے گا۔ (ترمذی کتاب الزھد باب ما جاء ان فقراء المہاجرین یدخلون الجنۃ قبل اغنیائھم)
تو دیکھیں معاشرے کے بظاہر کمزور طبقے کے لئے کس قدر محبت اور درد کے جذبات ہیں-۔ لیکن یہ دعا کے الفاظ کہہ کر دنیا کی نظر میں اس کمزور طبقے کو کتنا اونچا مقام دلوا دیا ہے۔ پھر دیکھیں یہ صرف دعا یا اپنے گھر والوں کونصیحت ہی نہیں تھی بلکہ اس پر عمل بھی کرکے دکھایا۔ اور صحابہ کو یہ عمل، یہ نمونے نظر بھی آتے تھے۔
حضرت عبداللہؓ بن ابی اوفیٰ ہی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تکبر نہ کرتے اور بیوگان اور مساکین کے ساتھ چلنے میں اور ان کے کام کرنے میں عار محسوس نہ کرتے۔ تو یہ جو چیزیں تھیں، جو باتیں تھیں، یہ نظر بھی آیا کرتی تھیں اور پھر انہیں عملی نمونوں کا اثر تھا کہ صحابہ بھی پھر ان پر چلنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔
پھر ملازموں سے شفقت ہے۔ خادموں سے شفقت ہے جو ایک اور مجبور طبقہ ہے۔ اس بارے میں حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ مَیں بچہ تھا اور دس سال تک مجھے حضورؐ کی خدمت کا موقعہ ملا۔ اور مَیں اس طرح کام نہیں کیا کرتا تھا جس طرح حضورؐ کی خواہش ہوتی تھی اکثر یہ ہوتا تھا۔ لیکن آپؐ نے کبھی مجھے آج تک کام کے بارے میں کچھ نہیں کہا، اُف تک نہیں کہی۔ یا یہ کبھی نہیں کہا کہ تم نے یہ کیوں کیا ہے یا تم نے یہ کیوں نہیں کیا یا اس طرح کیوں نہیں کیا۔ کبھی آپؐ نے کچھ نہیں کہا۔ (سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی الحلم واخلاق النبی)
حضرت انسؓ ہی ایک اور روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے اچھے اخلاق کے مالک تھے۔ ایک بار آپؐ نے مجھے کسی کام کے لئے بھیجا۔ میں نے کہا میں نہیں جاؤں گا۔ لیکن میرے دل میں تھا کہ کر لوں گا کام، ابھی کرکے آتا ہوں کیونکہ حضورؐ کا حکم ہے۔ بہرحال کہتے ہیں کہ مَیں چل پڑا،بچہ تھا تو بازار میں بچوں کے پاس سے گزرا۔ بچے کھیل رہے تھے میں کھڑا ہو گیا اور ان کو دیکھنے لگ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پیچھے سے میری گردن پکڑ لی، گردن پرہا تھ رکھا۔ مَیں نے مڑ کر آپؐ کی طرف دیکھا تو آپؐ ہنس رہے تھے۔ فرمایا: اُنَیس ! (مذاق میں کہا) جس کام کی طرف مَیں نے تجھے بھیجا تھا وہاں گئے؟ مَیں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! ابھی جاتا ہوں- انس کہتے ہیں کہ خدا کی قسم میں نے نَو سال تک حضورؐ کی خدمت کی ہے۔ مجھے علم نہیں کہ آپؐ نے کبھی فرمایا ہو کہ تو نے یہ کام کیوں کیا ہے یا کوئی کام نہ کیا تو آپؐ نے فرمایا ہو کہ کیوں نہیں کیا۔ (مسلم کتاب الفضائل باب کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احسن الناس خلقاً)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خادموں اور ملازموں سے جو حسن سلوک کیا اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:’’اللہ تعالیٰ بہت رحیم و کریم ہے۔ وہ ہر طرح انسان کی پرورش فرماتا ہے اور اس پر رحم کرتا ہے۔ اور اسی رحم کی وجہ سے وہ اپنے ماموروں اور مُرسلوں کو بھیجتا ہے تا وہ اہل دنیا کو گناہ آلود زندگی سے نجات دیں’‘۔
پھر فرماتے ہیں :’’مومن کی یہ شرط ہے کہ اس میں تکبر نہ ہو بلکہ انکسار، عاجزی، فروتنی اس میں پائی جائے اور یہ خداتعالیٰ کے ماموروں کا خاصّہ ہوتا ہے۔ ان میں حد درجہ کی فروتنی اور انکسار ہوتا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ وصف تھا۔ آپؐ کے ایک خادم سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ آپؐ کا کیا معاملہ ہے۔ اس نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ مجھ سے زیادہ میری خدمت کرتے ہیں-

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔

فرمایاکہ:’’یہ ہے نمونہ اعلیٰ اخلاق اور فروتنی کا۔ اور یہ بات بھی سچ ہے کہ زیادہ تر عزیزوں میں خدام ہوتے ہیں جو ہر وقت گرد و پیش رہتے ہیں اس لئے اگر کسی کے انکسار و فروتنی اور تحمل و برداشت کا نمونہ دیکھنا ہو تو ان سے معلوم ہو سکتا ہے‘‘۔ فرمایا کہ آج کل کیا ہوتا ہے۔ ‘’بعض مرد یا عورتیں ایسی ہوتی ہیں کہ خدمتگار سے ذرا کوئی کا م بگڑا۔ مثلاً چائے میں نقص ہوا تو جھٹ گالیاں دینی شروع کر دیں یا تازیانہ لے کر مارنا شروع کر دیا‘‘۔ یعنی کوئی چیز دے کے مارنا شروع کر دیا۔ ‘’ذرا شوربے میں نمک زیادہ ہو گیا بس بیچارے خدمتگاروں کی آفت آئی۔ (ملفوظات جلد نمبر 4 صفحہ 438-437 جدید ایڈیشن)۔ اگر کبھی کسی غریب یا خادم پر ظلم ہوتا آپؐ دیکھ لیتے تو آپؐ کا دل تڑپ جایا کرتا تھا۔ اس زمانے میں تو غلام خریدے جاتے تھے اور مالکانہ حقوق اور مالکیت اس کی ہوتی تھی۔ اور اس کی ذات پر مکمل حق اور تصرف سمجھا جاتا تھا۔ اور رواج کے مطابق جو چاہے سلوک بھی کر لو اس کو بُرا بھی نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اور اسلام سے پہلے تو غلاموں کو انتہائی ظالمانہ طریقے سے رکھا جاتا تھا۔ بلکہ بعض دفعہ تو جانوروں سے بھی زیادہ بدتر سلوک کیا جاتا تھا۔ غلاموں کو بھی بحیثیت انسان جو شرف اور مقام دلوایا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی دلوایا ہے۔
اس بارے میں ایک روایت آتی ہے۔ ابو مسعودؓ انصاری کہتے ہیں کہ میں اپنے ایک غلام کو ما ررہا تھا۔ (کسی بات پہ کوئی غلطی کی ہو گی۔) مَیں نے اپنے پیچھے سے آنے والی ایک آواز سنی جو یہ تھی کہ ابن مسعود جان لو کہ اللہ تعالیٰ تم پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنی تم اس غلام پر رکھتے ہو۔ مَیں نے مڑ کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ یہ فرمانے والے رسول اللہ ﷺ تھے۔ چنانچہ میں نے کہا یا رسول اللہ! مَیں اسے اللہ کی خاطر آزاد کرتا ہوں- اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اسے آزادا نہ کرتے تو تمہیں دوزخ کا عذاب پہنچتا۔ (مسلم کتاب الایمان باب صحبۃ الممالیک وکفارۃ مَنْ لَطَمَ عَبْدَہ)
تو دیکھیں ایک غلام کو مار کھاتا دیکھ کر آپؐ کا دل کس طرح تڑپا ہے۔ آپؐ نے یہ نہیں کہا کہ دیکھوں کہ اس غلام کا قصور کیا ہے جس کومار پڑ رہی ہے۔ مار جائزپڑ رہی ہے یا ناجائز پڑ رہی ہے۔ بلکہ غلام کو مار کھاتا دیکھ کر آپ برداشت نہ کر سکے۔ صحابہ بھی آپ کے مزاج کو سمجھتے تھے اس لئے ابو مسعودؓ نے فوراً کہا کہ مَیں اس کو آزاد کرتا ہوں- سمجھ گئے کہ اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی سے بچنے کا یہی ایک ذریعہ ہے کہ اس غلام کو آزاد کر دیا جائے۔ تو اس طرح آپؐ غلاموں سے سلوک کرتے اور ان کو آزدای دلواتے تھے۔ ان کا شرف قائم کرتے تھے، ان کی عزت نفس قائم کرتے تھے۔
پھر غیروں کے بچوں سے آپؐ کا حسن سلوک ہے۔ عام طور پر اپنے بچوں کو تو آدمی پیار کر ہی لیتا ہے لیکن دوسروں کے بچوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ لیکن آپؐ تو قوم کے ہر بچے کو اپنا بچہ سمجھتے تھے۔
جابرؓ بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی پھر آپؐ اپنے گھر والوں کی طرف چل پڑے۔ میں بھی آپؐ کے ہمراہ ہو لیا۔ پس آپؐ کا استقبال بچوں نے کیا۔ چنانچہ آپ ان بچوں میں سے ہر ایک کے کلّوں پر باری باری پیار کرنے لگے۔ جابرؐ بن سمرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کلوں پر بھی شفقت سے ہاتھ پھیرا۔ میں نے آپؐ کے ہاتھوں کی ٹھنڈک اور خوشبو اس طرح محسوس کی جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو عطا ر کے عطردان سے نکالا ہو۔ (مسلم کتاب الفضائل باب طیب رائحۃ النبیؐ صفحہ 51)
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ اسامہ بن زید دروازے سے ٹکرا گئے جس کی وجہ سے ان کی پیشانی پہ زخم آ گیا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ اس کا زخم صاف کرکے اس کی تکلیف دور کرو۔ چنانچہ میں نے اس کا زخم صاف کیا اور حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو بہلاتے ہوئے شفقت اور محبت کا اظہار فرماتے رہے۔ اور فرمایا کہ اگر اسامہ لڑکی ہوتا تو میں اسے عمدہ عمدہ کپڑے پہناتا اور اسے زیور پہناتا یہاں تک کہ میں اس پر مال کثیر خرچ کرتا۔ (مسند احمد بن حنبل باقی مسند الانصار حدیث سید عائشہ رضی اللہ عنہا صفحہ 53)۔ تو اس کو بہلاتے رہے اور اس کی دلجوئی فرماتے رہے۔ آپؐ نے یہ نہیں دیکھا کہ یہ غلام زادہ ہے۔ غلام کا بیٹا ہے یا کسی امیر آدمی کا بچہ ہے بلکہ غریبوں سے زیادہ بڑھ کر حسن سلوک اور پیار کا سلوک فرمایا کرتے تھے۔
پھر حضرت اسامہ بن زیدؓ سے ہی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پکڑ کر اپنے ایک زانو پر بٹھا لیتے اور دوسرے پر حسنؓ کو۔ یعنی جب بیٹھے ہوتے تو ران پہ ایک طرف حضرت حسن کو بٹھا لیتے اور دوسرے پر مجھے پھر ہم دونوں کو اپنے سینے سے چمٹا لیتے اور فرماتے:

’’اَللّٰھُمَّ ارْحَمْہُمَا فَاِنِّیْ اَرْحَمْھُمَا‘‘

اے اللہ ان دونوں پر رحم فرمانا۔ میں ان دونوں سے شفقت رکھتا ہوں- (بخاری کتاب الادب باب وضع الصبی علی الفخذ)۔ اپنے لاڈلے نواسے اور اسامہ میں کوئی تخصیص نہیں کی۔ یہ نہیں دیکھا کہ یہ غلام کا بیٹا ہے۔ ایک غریب آدمی کے بچے کوبھی وہی مقام دیاجو اپنے نواسے کو۔ پھر دونوں کے لئے دعا بھی ایک طرح کے جذبات کے ساتھ کی۔ ظاہری طور پر ایک طرح کا سلوک بعض لوگ کر لیتے ہیں لیکن اگر دعا میں فرق بھی ہو جائے تو کوئی اعتراض کی گنجائش نہیں ہوتی۔ لیکن آپؐ تو اسوہ کامل تھے اور جو اسوہ کامل ہو، وہی اتنی گہرائی میں جا کر دوسروں کا خیال رکھ سکتا ہے کہ دعا تک میں فرق نہیں کرتا۔
پھر دیکھیں کہ دیہات سے آنے والے غریب اور معمولی شکل و صورت کے شخص کے ساتھ آپؐ کا کتنا پیار اور محبت اور اس کی عزت نفس رکھنے کا سلوک تھا۔ ایک روایت میں آتا ہے حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ زاھر نامی ایک بدوی شخص جو دیہات میں رہنے والا تھا۔ نبی کریم ﷺ کو دیہات کے تحفے پیش کیا کرتا تھا۔ جب وہ واپس جانے کا ارادہ کرتا تو نبی ﷺ بھی اسے تحائف دیا کرتے تھے۔ تو نبی ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا زاھر ہمارابدوی دوست ہے اور ہم اس کے شہری دوست ہیں- نبی کریم ﷺ اس سے محبت کیا کرتے تھے حالانکہ وہ بظاہر معمولی شکل کا تھا۔ کہتے ہیں کہ ایک روز یوں ہوا کہ وہ بازار میں اپنا سامان فروخت کر رہا تھا۔ تو نبی ﷺ اس کے پیچھے سے آئے اور چپکے سے آ کر اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کو نہ دیکھا۔ چنانچہ وہ کہنے لگا کون ہے مجھے چھوڑ دو۔ بہرحال ہاتھ سے پہچان بھی لیاہو گا کہ اور کس نے ہاتھ رکھنا ہے، آپؐ ہی ہو سکتے ہیں- پھر وہ آپؐ سے لپٹ گیا۔ اسے پتہ لگ گیا کہ یہ آپؐ ہی ہیں- چنانچہ اس نے اپنی پشت کو نبی کریم ﷺ کے سینے کے ساتھ خوب رگڑا۔ اور نبی ﷺ فرمانے لگے اس غلام کو کون خریدے گا۔ اس پر اس نے کہا یا رسول اللہ! پھر تو آپ مجھے بڑا سستا پائیں گے۔ مجھ جیسے معمولی شکل والے شخص کو۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا مگر تم اللہ کے نزدیک سستے تو نہیں ہو یا فرمایا کہ تم اللہ کے نزدیک بہت قیمتی ہو۔ (مسند احمد بن حنبل۔ باقی مسند المکثرین من الصحابہ)
تو دیکھیں کم شکل و صورت کے دیہاتی کی بھی کس طرح دلداری فرمائی۔ پہلی بات تو یہ کہ بازار میں کھڑے ہو کر اس سے اس طرح سلوک فرماکر سب کو یہ بتا دیا کہ غربت یا امارت، خوبصورتی یا بدصورتی، کم علمی یا زیادہ علم والا ہونا، کوئی معیار نہیں ہے۔ اب اگر معیار قائم ہوں گے تو نیکی اور تقویٰ پر قائم ہوں گے، عاجزی اور مسکینی پر قائم ہوں گے۔ پھر اس شخص کو بھی سبق دے دیا کہ اپنی کم شکل یا غربت کا احساس نہ کروتمہاری نیکی اور مسکینی ہی تمہیں اللہ کے نزدیک انتہائی قیمتی وجود بنا رہی ہے۔ پھر دیکھیں وہ بظاہر ان پڑھ بدوی تھا لیکن آپؐ کے نور سے منور ہونے کے بعد آپؐ کی تعلیم سے حصہ پانے کے بعد اس کی عقل میں بھی تیزی آ گئی اور کہاں تک پہنچ گئی۔ اس نے یہ پہچان لیا کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں اس لئے فوراً اپنا جسم آپؐ کے جسم سے رگڑنا شروع کر دیا کہ آج جتنی برکتیں سمیٹنی ہیں سمیٹ لو۔ ذرا تصور کریں اس وقت بازار میں کھڑے بڑے بڑے لوگ بھی کس حسرت سے اس دیہاتی آدمی کو دیکھ رہے ہوں گے کہ کاش اس وقت یہ برکتیں ہم حاصل کر رہے ہوتے۔
پھر آپؐ کی غریب لوگوں سے بردباری کی ایک مثال ہے۔ یہ شروع کی بات ہی ہو گی دیہات والوں کو اسلام کی تعلیم کا پورا علم نہیں تھا، فہم و ادراک نہیں تھا تو بعض دفعہ بعض غلط حرکتیں بھی کر جایا کرتے تھے۔ تو صحابہؓ کو جو شہر کے رہنے والے تھے ان کی لمبا عرصہ تربیت ہو گئی تھی اُن کو اِن باتوں پر غصہ بھی آیا کرتا تھا۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ایسے معاملے میں بڑی نرم دلی سے اور بردباری سے یہ مسئلہ حل کر دیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ ایک بدوی مسجد کے ایک پہلو میں آیا اور مسجد کے سائیڈ پر ہو کے اس نے پیشاب کر دیا۔ اس پر لوگوں نے اس پر چلّانا شروع کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا اسے چھوڑ دو۔ پھر جب وہ فارغ ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے کچھ ڈول کچھ بالٹیاں پانی کی منگوائیں اور اس جگہ پانی بہایا گیا۔ تاکہ جگہ صاف ہو جائے۔ (مسلم کتاب الطہارۃ باب وجوب غسل البول صفحہ 45)۔
تو دیکھیں آپؐ نے اسے اس حالت میں روکنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔ لیکن فوراً ہی اپنے عمل سے لوگوں کو بھی کہہ دیا آرام سے مسئلہ حل ہو سکتا ہے اور اس کو بھی سمجھا دیا کہ مسجد ایسی جگہ نہیں جہاں گند کیا جائے۔ یہ ہمیشہ پاک صاف رہنے والی جگہ ہے اور فوراً پانی بہا کر اس کے سامنے اسے صاف کر دیا۔
تو یہ چند مثالیں مَیں نے دی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نمونے کی، آپؐ کے حسن سلوک کی، جو معاشرے کے کمزور طبقے کے ساتھ آپؐ کا تھا۔ یہ نمونے جو آپؐ نے قائم کئے ہیں یہ اس لئے تھے کہ امت کے لوگ بھی، آپ کو ماننے والے بھی اپنے معیاروں کوبلند کرکے ان نمونوں پر عمل کرکے حسن اخلاق کے اعلیٰ معیار قائم کریں- تبھی تو آپؐ نے فرمایا ہے کہ میری بعثت کا مقصد ان اعلیٰ اخلاق کی تکمیل ہے۔ آپؐ نہیں چاہتے تھے کہ آپؐ کی امت کا کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ کا ناپسندیدہ بنے۔
ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام مخلوقات اللہ کی عیال ہیں- پس اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوقات میں سے وہ شخص بہت پسند ہے جو اس کی عیال کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے۔ یعنی اس کی مخلوق کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے۔
کمزوروں کے حقوق کے بارے میں آپؐ نے اپنی امت کے لوگوں کو جو نصائح فرمائی ہیں اب اس کی بھی چند مثالیں پیش کرتا ہوں- حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تین شخص ایسے ہیں جن سے میں قیامت کے دن سخت باز پرس کروں گا۔ ایک وہ جس نے میرے نام پر کسی کو امان دی اور اس سے غداری کی۔ دوسرا وہ جس نے ایک آزا دکو فروخت کرکے اس کی قیمت کھا لی یعنی کسی کو پکڑ کر غلام بنایا اور فروخت کیا اور تیسرا شخص وہ جس نے کسی کو مزدوری پر رکھا اور اس سے پورا پورا کام لیا اور پھر اسے پوری مزدوری نہ دی۔ یعنی مزدور کی مزدوری کی اجرت نہ دی۔ کام کی اجرت نہ دی۔ (بخاری کتاب البیوع)۔
تو یہ عادت اب بھی ہمارے معاشرے میں بعض لوگوں کو ہوتی ہے۔ یا تو کام کروانے سے پہلے یہ شرط رکھنی چاہئے کہ اگر کام اس معیار کا نہ ہوا اور یہ یہ چیزیں نہ ہوئیں تو میں اتنی کم قیمت دوں گا۔ اور اگر نہیں تو پھر کام ہو جانے کے بعد کسی کی مزدوری مارنے کے لئے بہانے تلاش نہیں کرنے چاہئیں- کیونکہ آپؐ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں ضرور ایسے شخص سے باز پرس کروں گا۔ پس اللہ کی باز پرس سے ڈرنا چاہئے۔
پھر ایک روایت میں آتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رحم کرنے والوں پر رحمن رحم کرتا ہے۔ تم اہل زمین پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔ رحم کا لفظ رحمن سے ہے جو صلہ رحمی کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو اپنے ساتھ ملا لے گا۔ اور جو قطع رحمی کرے گا اللہ تعالیٰ اس سے قطع تعلقی کر لے گا۔ (ترمذی کتاب البر والصلۃ باب ماجاء فی رحمۃ الصبیان)
ایک روایت میں آتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ اس شخص کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں جو چھوٹے پر رحم نہیں کرتا اور بڑے کا شرف نہیں پہچانتا۔ یعنی بڑے کی عزت نہیں کرتا۔
پھر ایسے لوگوں کو جو کمزوروں، غریبوں، مسکینوں کا خیال نہیں رکھتے، انذار کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں،حارثہ بن وھب سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا کیا جنت میں بسنے والوں کے متعلق میں تمہیں کچھ بتاؤں- ہر وہ کمزور جس کو لوگ کمزور سمجھتے ہیں مگر جب وہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے اسی کے نام کی قسم کھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی قسم کو پورا کر دیتا ہے اور جیسا وہ چاہتا ہے ویسا ہی کر دیتا ہے۔ پھر فرمایا کہ کیامَیں تمہیں دوزخ میں رہنے والوں کے متعلق نہ بتاؤں- ہر سرکش، خود پسند، شعلہ مزاج یعنی تیز مزاج والا، متکبر دوزخ کا ایندھن بنے گا۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق نے آپؐ کے نور کامل سے روشنی حاصل کرکے کس طرح ہمیں اس پہلو سے نصیحت فرمائی ہے اور کیا عمل کرکے دکھائے ہیں-
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:’’اگر اللہ تعالیٰ کو تلاش کرنا ہے تو مسکینوں کے دل کے پاس تلاش کرو اسی لئے پیغمبروں نے مسکینی کا جامہ ہی پہن لیا تھا۔ اسی طرح چاہئے کہ بڑی قوم کے لوگ چھوٹی قوم کو ہنسی نہ کریں- اور نہ کوئی یہ کہے کہ میرا خاندان بڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم جو میرے پاس آؤ گے تو یہ سوال نہ کروں گا کہ تمہاری قوم کیا ہے۔ بلکہ سوال یہ ہو گا کہ تمہارا عمل کیا ہے۔ اسی طرح پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ہے اپنی بیٹی سے کہ اے فاطمہ! خدا تعالیٰ ذات کو نہیں پوچھے گا اگر تم کوئی برا کام کرو گی تو خداتعالیٰ اس واسطے درگزر نہ کر ے گا کہ تم رسول کی بیٹی ہو۔ (ملفوظات جلد سوم صفحہ 370جدید ایڈیشن)
پھر آپ فرماتے ہیں :’’اہل تقویٰ کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کریں- یہ تقویٰ کی ایک شاخ ہے جس کے ذریعہ سے ہمیں ناجائز غضب کا مقابلہ کرنا ہے۔ بڑے بڑے عارف اور صدیقوں کے لئے آخری اور کڑی منزل غضب سے بچنا ہی ہے۔ عُجب و پندار غضب سے پیدا ہوتا ہے‘‘۔ یعنی غرور تکبر وغیرہ سب غصے سے پیدا ہوتے ہیں ’’اور ایسا ہی کبھی خود غضب عجب و پندار کا نتیجہ ہوتا ہے‘‘۔ اور اگر دل میں تکبر وغیرہ ہو تو پھر بھی ہر ایک کو غصہ ہوتا ہے اپنے آپ کو آدمی بڑا سمجھتا ہے۔ چھوٹے پر غصہ اتارنا شروع کر دیتا ہے۔ ’’کیونکہ غضب اس وقت ہو گا جب انسان اپنے نفس کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ میری جماعت والے آپس میں ایک دوسرے کو چھوٹا یا بڑا سمجھیں یا ایک دوسرے پر غرور کریں یا نظر استخفاف سے دیکھیں’‘۔ کسی کو کم نظر سے دیکھیں- ’’خدا جانتا ہے کہ بڑا کون ہے یا چھوٹا کون ہے۔ یہ ایک قسم کی تحقیر ہے جس کے اندر حقارت ہے۔ ڈر ہے کہ یہ حقارت بیج کی طرح بڑھے اور اس کی ہلاکت کا باعث ہو جائے۔ بعض آدمی بڑوں کو مل کر بڑے ادب سے پیش آتے ہیں- لیکن بڑا وہ ہے جو مسکین کی بات کو مسکینی سے سنے اس کی دلجوئی کرے، اس کی بات کی عزت کرے۔ کوئی چڑ کی بات منہ پر نہ لاوے کہ جس سے دکھ پہنچے خداتعالیٰ فرماتا ہے

ولَاَ تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ بِئْسَ الْاِسْمُ الْفُسُوْقِ بَعْدَ الْاِیْمَانِ وَمَنْ لَمْ یَتُبْ فَاُوْلٰئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ (الحجرات:12)

تم ایک دوسرے کا چڑ کے نام نہ لو۔ یہ فعل فُسّاق و فُجار کا ہے۔ جو شخص کسی کو چڑاتا ہے وہ نہ مرے گا جب تک وہ خود اسی طرح مبتلا نہ ہو گا۔ اپنے بھایؤں کو حقیرنہ سمجھو۔ جب ایک ہی چشمہ سے کُل پانی پیتے ہو تو کون جانتا ہے کہ کس کی قسمت میں زیادہ پانی پینا ہے۔ مکرم و معظم کوئی دنیاوی اصولوں سے نہیں ہوسکتا۔ خداتعالیٰ کے نزدیک بڑا وہ ہے جو متقی ہے۔

اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللہِ اَتْقٰکُمْ۔ اِنَّ اللہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ (الحجرات:14)‘‘۔

(ملفوظات جلد دوم صفحہ 23-22 جدید ایڈیشن)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے عاجزی کے اور غریبوں کا خیال رکھنے کے جو معیار قائم کئے ہیں اب وہ ہم دیکھتے ہیں-
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضورؑ مغرب کی نماز کے بعد مسجد مبارک کی چھت پہ بیٹھے ہوئے تھے۔ کچھ لوگ ساتھ تھے۔ اور کھانے کے لئے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے تو ایک احمدی میاں نظام الدین ساکن لدھیانہ جو بہت غریب تھے اور ان کے کپڑے بھی پھٹے پرانے تھے، بری حالت میں تھے، حضورؑ سے چار پانچ آدمیوں کے فاصلے پر بیٹھے تھے کہتے ہیں کہ اتنے میں کئی اور لوگ آتے گئے اور وہ لوگ جو بعد میں جماعت کو چھوڑ بھی گئے تھے یا پیغامی ہو گئے تھے ان میں سے اکثر تھے۔ حضورؑ کے قریب بیٹھتے گئے جس کی وجہ سے میاں نظام دین پرے ہٹتے چلے گئے یہاں تک کہ وہ پیچھے جوتیوں میں جا کے بیٹھ گئے۔ اتنے میں کھانا آیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک سالن کا پیالہ لیا کچھ روٹیاں لیں اور میاں نظام الدین کو کہا کہ آؤ ہم اندر بیٹھ کر کھانا کھائیں اور جو مسجد کے ساتھ چھوٹا کمرہ تھا اس میں چلے گئے اور وہاں بیٹھ کے ان کے ساتھ کھانا کھایا اور اس وقت حضرت منشی
ظفر احمد صاحب جو روایت بیان کرنے والے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جو لوگ ان کو پیچھے ہٹاتے چلے جا رہے تھے ان لوگوں کے چہروں کی حالت اور شرمندگی سے ان کی شکلیں دیکھنے والی تھیں-(روایات حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی صفحہ 100-99)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خادموں میں سے ایک پیرا پہاڑیہ تھا۔ مزدور آدمی تھا جو پہاڑی علاقے سے آیا ہوا تھا۔ بالکل جاہل اور اجڈ آدمی تھا۔ لیکن بہت سی غلطیاں کرنے کے باوجود کبھی یہ نہیں ہوا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے کبھی اسے جھڑکا ہو۔ ایک دفعہ یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اچانک بیمار ہو گئے گرمی کا موسم ہونے کے باوجود ایک دم ہاتھ پیر ٹھنڈے ہو گئے اور مسجد کی چھت پر ہی مغرب کی نماز کے بیٹھے ہوئے تھے تو اس وقت جو لوگ بیٹھے ہوئے تھے ان کو فوراً فکر ہوئی، تدبیریں ہونی شروع ہوئیں کہ کیا کرنا ہے۔ یہی جو پیرا تھا، ان کو بھی خبر پہنچی، وہ گارے مٹی کا کوئی کام کر رہے تھے، یہ کہتے ہیں کہ اسی حالت میں اندر آ گئے اور یہ نہیں دیکھا کہ دری بچھی ہوئی ہے یا کیا ہے تو اسی فرش پہ نشان بھی پڑنے شروع ہو گئے اور آتے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاؤں دبانے شروع کر دئیے۔ تو لوگوں نے ذرا ان کو گھورنا شروع کیا، ڈانٹنا شروع کیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ:’’اس کو کیا خبر ہے جو کرتا ہے کرنے دو کچھ حرج نہیں’‘۔ (سیرت حضرت مسیح موعودؑ مرتبہ حضرت یعقوب علی صاحب عرفانیؓ صفحہ 350)
حضرت مسیح موعودؑ کے پرانے خادموں میں سے ایک حضرت حافظ حامد علی صاحبؓ مرحوم تھے۔ وہ لمبے عرصے تک حضورؑ کی خدمت کرتے رہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ان کی طبیعت پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اخلاق کا جو اثر تھا وہ اتنا زیادہ تھا کہ اس کا بار بار ذکر کیا کرتے تھے کہ مَیں نے کبھی ایسا انسان نہیں دیکھا کہ بلکہ زندگی بھر حضرت صاحب کے بعد بھی کوئی انسان اخلاق کی اس شان کا نظر نہیں آتا تھا۔ حافظ صاحب کہتے ہیں کہ مجھے ساری عمر کبھی حضرت مسیح موعود نے نہ جھڑکا اور نہ سختی سے خطاب کیا۔ بلکہ مَیں بڑا ہی سست تھا اور اکثر آپؑ کے ارشادات کی تعمیل میں دیر بھی کر دیا کرتا تھا۔ اس کے باوجود سفر میں مجھے ساتھ رکھتے تھے۔ (سیرت حضرت مسیح موعودؑ مرتبہ حضرت یعقوب علی صاحب عرفانیؓ صفحہ-349 350)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جب تک یہ معمول تھا کہ آپؑ باہر اپنے دوستوں کے ساتھ کھانا کھایا کرتے تھے کبھی آپ نے یہ فرق نہیں کیا، یہ امتیاز نہیں کیا کہ کون آپ کے پاس بیٹھا ہوا ہے۔ کسی کو محض اس وجہ سے اٹھانے کو ناجائز سمجھتے تھے کہ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے ہیں یا وہ ان پڑھ زمیندار ہے یا کسی اور قوم کا آدمی ہے۔ آپ کے دستر خوان پر جو شخص آزادی سے جہاں چاہتا تھا بیٹھ جاتا تھا۔ ایک شخص خاکی شاہ نامی تھا، گاؤں کا رہنے والا۔ کہتے ہیں کہ اس کی عادت تھی کہ جب کھانا لایا جاتا تو وہ کود کر لوگوں کو پھلانگتا ہوا آگے آ کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قریب بیٹھ جاتا تھا۔ تو اگر جگہ تنگ ہوتی تھی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام خود ہی ایک طرف ہو کے کھل جاتے تھے اور اس کو بیٹھنے کی جگہ دے دیتے تھے اور کہتے ہیں کہ وہ دنیاوی لحاظ سے اتنا معمولی آدمی تھا کہ کوئی اس کا درجہ نہیں تھا۔
پھر مہر حامد قادیان کے آرائیوں میں سے تھے جو اپنے خاندان میں پہلے تھے جو حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت میں داخل ہوئے۔ تو بیمار ہو گئے، اپنے ڈیرے پہ۔ جہاں ڈیرہ ہوتا ہے ایشیا میں پاکستان اور ہندوستان وغیرہ میں اکثر جو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں وہ جانتے ہی ہیں وہاں بھینسیں بندھی ہوتی ہیں- وہیں گھر ہوتا ہے وہیں سب کچھ ہوتا ہے گند بھی ان کا ہوتا ہے۔ تو جب بیمارہوئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ان کو پوچھنے جایا کرتے تھے اور وہاں ایک طرف گوبر اورگند وغیرہ اکٹھا ہوا ہوتا تھا۔ اس کی بو بھی بڑی ہوتی تھی۔ آپ کی طبیعت میں بڑی نفاست تھی۔ لیکن اس کے باوجود کبھی اشارۃً بھی یہ اظہار نہیں کیا کہ
بو آ رہی ہے۔ بلکہ باقاعدگی سے اس کی عیادت کے لئے تشریف لے جاتے تھے۔ اور اس سے بڑی محبت اور دلجوئی کی باتیں کرتے تھے۔ اور بہت دیر تک بیماری سے متعلق دریافت کرتے رہتے تھے۔ پھر دوائیاں بتاتے تھے اور دعاؤں کی طرف توجہ دلاتے تھے۔ تھا وہ بہت معمولی زمیندار بلکہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کی جو زمینداری تھی وہاں اس کے لحاظ سے تو وہ گویا آپ کی رعایا میں داخل تھا۔ مگر کبھی آپؑ نے فخر نہیں کیا۔ جس کے پاس جاتے اس کو اپنا عزیز بھائی سمجھتے۔
تو یہ تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نمونے اپنے آقا کی اقتدا میں- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کمزور مخلوق کی دلداری کے لئے جونمونے قائم کئے ہیں اور آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان پر چل کر دکھایا ہے، یہ نمونے کبھی پرانے ہونے والے نہیں-بلکہ آج بھی اگر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنا ہے اور اس کی رضا حاصل کرنی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق کے دعوے کو سچا ثابت کرکے دکھانا ہے تو ان نمونوں پر چلنا ہو گا۔
آج ہر احمدی کا دوسرے مسلمانوں کی نسبت زیادہ فرض بنتا ہے کہ اپنے ارد گرد کے ماحول میں ان کمزوروں اور بے سہاروں کو تلاش کریں- اور ان سے حسن سلوک کریں اور آنحضرت ﷺ کے ساتھ عشق کے دعوے کو سچا کرکے دکھائیں اللہ تعالیٰ اس کی توفیق دے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/RNOMF]

اپنا تبصرہ بھیجیں