خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بتاریخ 17؍اکتوبر2003ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
احباب جماعت نے خدمت انسانیت اور اخلاص و وفا کے بے نظیر نمونے قائم کئے ہیں
بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے احمدی ڈاکٹر وقف کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں اور خدا کے فضلوں کے وارث بنیں
خطبہ جمعہ ارشاد فرمودہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
۱۷؍ اکتوبر۲۰۰۳ء بمطابق ۱۷؍اخاء ۱۳۸۲ہجری شمسی بمقام مسجد فضل لندن

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أشھد أن لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ وأشھد أن محمداً عبدہ و رسولہ-
أما بعد فأعوذ باللہ من الشیطان الرجیم- بسم اللہ الرحمٰن الرحیم-
الحمدللہ رب العٰلمین- الرحمٰن الرحیم- مٰلک یوم الدین- إیاک نعبد و إیاک نستعین-
اھدنا الصراط المستقیم- صراط الذین أنعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ولا الضالین-

جماعت میں خدمت خلق اور بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے جتنا زور دیا جاتاہے اور ہر امیر غریب اپنی بساط کے مطابق اس کوشش میں ہوتاہے کہ کب اسے موقع ملے اور وہ اللہ کی رضاکی خاطرخدمت خلق کے کام کو سرانجام دے۔کیوں ہر احمدی کا دل خدمت خلق کے کاموں میں اتنا کھلاہے اس لئے کہ اسلام کی جس خوبصورت تعلیم کو ہم بھول چکے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی محبت چاہتے ہوتو پھر اس کی مخلوق سے اچھا سلوک کرو، ان کی ضروریات کا خیال رکھو۔یہ بھی ایک بہت بڑا ذریعہ ہے جو تمہیں اللہ تعالیٰ کے قرب سے نوازے گا۔ اس خوبصورت تعلیم کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی شرائط بیعت کی ایک بنیاد ی شرط قرار دیاہے کہ میرے ساتھ منسلک ہونے کے بعد اپنی تمام تر طاقتوں اور نعمتوں سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی نہ صرف ہمدردی کرو بلکہ ان کو فائدہ بھی پہنچاؤ۔ اس لئے اگر زلزلہ زدگان کی مدد کی ضرورت ہے تو احمدی آگے ہے۔ سیلاب زدگان کی مدد کی ضرورت ہے تو احمدی آگے ہے۔بعض دفعہ تو ایسے مواقع بھی آئے کہ پانی کی تند و تیز دھاروں میں بہ کر احمدی نوجوانوں نے اپنی جانوں کو توقربان کردیا لیکن ڈوبتے ہوؤں کو کنارے پر پہنچا دیا۔پھر خلیفہ ٔوقت نے جب یہ اعلان کیاکہ مجھے افریقہ کے غریب بچوں کی تعلیم اور بیماریوں کی وجہ سے دکھی مخلوق جنہیں علاج کی سہولت میسر نہیں ،سکول اور ہسپتال کھولنے کے لئے اتنی رقم کی ضرورت ہے تو افراد جماعت اس جذبہ کے تحت جو ایک احمدی کے دل میں دکھی انسانیت کے لئے ہونا چاہئے یہ رقم مہیا کریں اور اس پیاری جماعت کے ا فراد نے خلیفہ ٔوقت کے اس مطالبہ پر لبیک کہتے ہوئے اس سے کئی گنازیادہ رقم خلیفہ ٔ وقت کے سامنے رکھ دی جس کا مطالبہ کیا گیاتھا۔اورپھر جب خلیفہ ٔوقت نے یہ کہا کہ یہ رقم تو مہیاہو گئی اب مجھے ان سکولوں اور ہسپتالوں کو چلانے کے لئے افرادی قوت کی بھی ضرورت ہے تو ڈاکٹر ز اورٹیچرز نے انتہائی خلوص کے ساتھ اپنے آپ کو پیش کیا۔ اب تو افریقہ کے حالات نسبتاً بہترہیں- ستّر کی دہائی میں جب یہ نصرت جہاں سکیم شروع کی گئی تھی انتہائی نامساعد حالات تھے۔اور ان نامساعد حالات میں ان لوگوں نے گزارا کیا۔ بعض ڈاکٹر ز اور ٹیچر ز اچھی ملازمتوں پرتھے لیکن وقف کے بعد دیہاتوں میں بھی جا کر رہے۔ اکثر ہسپتال اور سکول دیہاتوں میں تھے جہاں نہ بجلی کی سہولت نہ پانی کی سہولت لیکن دکھی انسانیت کی خدمت کے عہد بیعت کو نبھانا تھااس لئے کسی بھی روک اور سہولت کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں کی۔ شروع میں ہسپتالوں کا یہ حال تھا کہ لکڑی کی میز لے کر اس پر مریض کو لٹایا، روشنی کی کمی چند لالٹینوں یا گیس لیمپ سے پوری کی اور جو بھی چاقو، چھریاں، قینچیاں، سامان آپریشن کا میسر تھا اس پر مریض کا آپریشن کردیا اور پھر دعا میں مشغول ہو گئے کہ اے خدا میرے پاس تو جو کچھ میسر تھا اس کا مَیں نے علاج کر دیاہے۔ میرے خلیفہ نے مجھے کہا تھاکہ دعا سے علاج کرو اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھ میں بہت شفا رکھے گا۔ توُ ہی شفا دے اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان قربانی کرنے والے ڈاکٹروں کی قدرکی اور ایسے ایسے لاعلاج مریض شفا پاکر گئے کہ دنیا حیران ہوتی تھی۔اورپھرمالی ضرورتیں بھی اس طرح خداتعالیٰ نے پوری کیں کہ بڑے بڑے امراء بھی شہروں کے بڑے ہسپتالوں کو چھوڑ کر ہمارے چھوٹے دیہاتی ہسپتالوں میں آ کر علاج کروانے کو ترجیح دیتے تھے۔ اسی طرح اساتذہ نے بھی بنی نوع انسان کی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہو کر بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا۔ ڈاکٹر وں اور اساتذہ کی خدمات کے سلسلے آج بھی جاری ہیں-اللہ تعالیٰ یہ سلسلے جار ی رکھے اور ان سب خدمت کرنے والوں کو اجرعظیم سے نوازتارہے۔
جلسے پر مَیں نے ڈاکٹروں کو توجہ دلائی تھی کہ ہمارے افریقہ کے ہسپتالوں کے لئے ڈاکٹر مستقل یا عارضی وقف کریں- اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے حالات بہت بہترہیں-وہ دقّتیں اوروہ مشکلات بھی نہیں رہیں جو شروع کے واقفین کو پیش آئیں اور اکثر جگہ تو بہت بہتر حالات ہیں اور تمام سہولیات میسر ہیں- اور اگر کچھ تھوڑی بہت مشکلات ہوں بھی تو اس عہدبیعت کو سامنے رکھیں کہ محض للہ اپنی خداداد طاقتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچاؤں گا۔ آگے آئیں اور مسیح الزمان سے باندھے ہوئے اس عہد کو پورا کریں-اور ان کی دعاؤں کے وارث بنیں- اسی طر ح ربوہ میں فضل عمر ہسپتال کے لئے بھی ڈاکٹروں کی ضرورت ہے وہاں بھی ڈاکٹرصاحبان کو اپنے آپ کو پیش کرنا چاہئے۔
پھر پاکستان میں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی بچوں کی تعلیم اور مریضوں کے علاج کے لئے مستقلاً احباب جماعتی انتظام کے تحت مالی اعانت کرتے ہیں اور پاکستان اورہندوستان جیسے ملکوں میں جہاں غربت بہت زیادہ ہے اس مقصد کے لئے مالی اعانت کرنے والے اس خدمت کی وجہ سے مریضوں کی دعائیں لے رہے ہیں- تو اس نیک کام کو بھی احباب جماعت کو جاری رکھنا چاہئے اور پہلے سے بڑھ کر جار ی رکھنا چاہئے اور پہلے سے بڑھ کر کرنا چاہئیکہ دکھوں میں اضافہ بھی بڑی تیزی سے ہو رہاہے۔
اب مَیں بعض پرانے بزرگوں کے واقعات جو خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار تھے پیش کرتاہوں-
حضرت مرزا ایوب بیگ صاحب رضی اللہ عنہ کے نمونہ کے بارہ میں ان کے متعلق بیان کرنے والے لکھتے ہیں کہ مرحوم ایک زندہ مثال تھے ایسے شخص کی جو حدیث کے مطابق اپنے بھائی کے لئے وہی چیز پسند کرتا تھا جو اپنے لئے پسند کرتا اور کبھی اپنے بھائی سے ایسا سلوک روا نہ رکھتا جو اس کو ا پنے لئے ناگوار ہو۔ وہ ہمیشہ اس جستجو میں رہتاتھاکہ اس کو کوئی ایسی خدمت میسر آئے اورکوئی ایسا موقع ہو جس میں وہ اپنے کسی بھائی اور دوست کی مدد کرے۔تو ان کے بارہ میں آتاہے کہ جب وہ کالج میں پڑھا کرتے تھے اور جب جماعت کا لیکچر ہوتا تو آتے تھے اور وہاں ہر احمدی کو جا کر ملا کرتے تھے اور اگر کوئی بھائی بیمار ہوتا تو ان کے مکان پر جاتے، اُن کی بیمار پرسی کرتے اور بعض دفعہ تقریباً ہر روز ان بیماروں کو دیکھنے جایا کرتے۔ ایک دفعہ مفتی محمد صادق صاحب ؓسخت بیمار ہوگئے تو مرحوم کئی روز تک مفتی صاحب کے لئے ان کے مکان میں رہے اور رات دن ان کی خدمت کی اور ان کی ساری جوبیماری کی حالت میں بعض دفعہ گند بھی اٹھانا پڑتا تھا تو وہ بھی اٹھا لیا کرتے تھے۔
(اصحاب احمد جلد ۱صفحہ ۱۹۹۔۲۰۰)
پھر حضرت چوہدر ی ظفر اللہ خا ن صاحبؓ اپنی والدہ کے بارہ میں لکھتے ہیں کہ وہ فرمایا کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ اگردشمن نہ ہوتو کوئی دشمن کیا بگاڑ سکتاہے۔اور اس لحاظ سے مَیں تو کسی کو دشمن نہیں سمجھتی اوردشمنوں کے ساتھ حسن سلوک بہت کیا کرتی تھیں- فرماتی تھیں کہ جس سے دل خوش ہوتاہے اس کے ساتھ تو حسن سلوک کے لئے خود ہی دل چاہتاہے۔ اس میں ثواب کی کونسی بات ہے۔اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے توانسان کوچاہئے کہ ان لوگوں سے بھی احسان اورنیکی سے پیش آوے جن پر دل راضی نہیں ہو تا۔
وہ لکھتے ہیں کہ ڈسکہ میں رہتی تھیں تو وہاں کے لوگوں کے ساتھ بڑا فیاضانہ سلوک تھا اور لوگ بھی بڑی عزت و احترام سے انہیں دیکھتے تھے۔ جب احرارکا جھگڑا شروع ہوا تو اس کا اثر ان کے علاقہ میں بھی پڑا اوروہی لوگ جو مددلیا کرتے تھے دشمنیاں کرنے لگ گئے۔لیکن اس دشمنی کا بھی ان کی والدہ پر کوئی اثر نہیں پڑا اور اگر ان کے رشتہ داروں میں سے کوئی یہ بھی کہتاکہ آ پ فلاں شخص کی مدد کررہی ہیں جبکہ وہ ہماری مخالفت کر رہاہے، احرار میں شامل ہے تو بڑا برا منایا کرتی تھیں کہ تم مجھے اس خدمت سے کیوں روک رہے ہو۔
ایک دفعہ بیان کرنے والے لکھتے ہیں کہ کچھ پارچات،کپڑے وغیرہ تیار کر رہی تھیں تو انہوں نے جاکر ان کو کہا کہ آپ کس کے لئے تیار کررہی ہیں تو چوہدری صاحب کی والدہ نے فرمایاکہ یہ فلاں شخص کے بچوں کے لئے کررہی ہیں- تواس شخص نے کہا کہ آپ بھی عجیب ہیں وہ تو احراری ہے اور جماعت کی بڑی مخالفت کرتاہے، اس کے لئے آپ یہ کپڑے تیار کررہی ہیں-تو آپ نے فرمایاکہ اگر وہ شرارت کرتے ہیں تو اللہ میاں ہماری حفاظت کرتاہے اور جب تک وہ ہمارے ساتھ ہے مخالف کی شرارتیں ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں-لیکن یہ شخص مفلس ہے۔اس کے اپنے بچوں اورپوتوں کے بدن ڈھانکنے کے لئے کپڑے مہیاکرنے کا سامان نہیں ہے تو اس کو ضرورتمند سمجھتے ہوئے مَیں اس کے لئے یہ کپڑے تیار کررہی ہوں اور تم جو یہ اعتراض کررہے ہوتو تمہاری سزا یہ ہے کہ جب مَیں یہ کپڑے تیار کرلوں گی تو تم ہی اس کے گھر جا کر پہنچا کر آؤ گے۔ لیکن ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ یہ ا حراری ہے اور اس پر تو دوسرے احراریوں کی نظر بھی ہوگی تو رات کے وقت جانا تاکہ اس کو کوئی تنگ نہ کرے کہ تم نے احمدیوں سے کپڑے وصول کئے۔ (اصحاب احمد جلد ۱۱ صفحہ ۱۷۵۔۱۷۶)
پھرآپ کا نمونہ بیواؤں اور یتامی کی نگہداشت بھی آپ کا دل پسند مشغلہ تھا۔اور لکھنے والے کہتے ہیں کہ بچیوں کے جہیز تیار کررہی ہوتیں تو بڑے انہماک سے اپنے ہاتھوں سے ساری تیاری کیا کرتی تھیں ، کپڑے تیار کیا کرتی تھیں-(اصحاب احمد جلد ۱۱ صفحہ ۱۸۶)
پھرحضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ بھی یتیموں کی خبرگیری کی طرف بہت توجہ دیتے تھے اور دارالیتامیٰ میں اتنے یتیم تھے، دارالشیوخ کہلاتا تھا توان کے بارہ میں روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ بخار میں آرام فرما رہے تھے اور شدید بخار تھا۔ نقاہت تھی، کمزور ی تھی۔ کارکن نے آ کر کہا کہ کھانے کے لئے جنس کی کمی ہے اور کہیں سے انتظام نہیں ہو رہا۔ لڑکوں نے صبح سے ناشتہ بھی نہیں کیا ہوا۔ آپ نے فرمایا فوراً تانگہ لے کر آؤ اور تانگے میں بیٹھ کر مخیر حضرات کے گھروں میں گئے اور جنس اکٹھی کی اورپھر ان بچوں کے کھانے کا انتظام ہوا۔ تو یہ جذبے تھے ہمارے بزرگوں کے کہ بخار کی حالت میں بھی اپنے آرام کو قربان کیا اور یتیم بچوں کی خاطر گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔ اوریہ ایسا کیوں نہ ہوتا۔آپ کو تو اپنے آقا ﷺکی یہ خوشخبری نظروں کے سامنے تھی کہ مَیں اور یتیم کی پرورش کرنے والا اس طرح جنت میں ساتھ ساتھ ہوں گے جس طرح یہ دو انگلیاں ہوتی ہیں-شہادت کی اور درمیانی انگلی آپ نے اکٹھی کی۔تو یہ نمونے تھے ہمارے بزرگوں کے۔
پھر حضرت حافظ معین الدین صاحب ؓکے بارہ میں روایت آتی ہے کہ آپ کو نظر نہیں آتا تھا، آنکھوں کی بینائی سے محروم تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک سرد رات میں جب کہ قادیان کی کچی گلیوں میں سخت کیچڑ تھا، بہت مشکل سے گرتے پڑتے کہیں جا رہے تھے۔ ایک دوست نے پوچھا تو فرمایابھائی یہاں ایک کُتیا نے بچے دئے ہیں-میرے پاس ایک روٹی پڑی تھی۔مَیں نے کہا کہ جھڑی کے دن ہیں یعنی بارش ہو رہی ہے اس کو ہی ڈال دوں-اور یہ بھی سنت کی پیروی تھی جو حافظ صاحب نے کی کہ جانور وں پر بھی رحم کرو اوریاد رکھو وہ واقعہ جب کسی کنوئیں میں اتر کر، اپنے جوتے میں پانی بھرکر کتے کو پانی پلایا تو آپ ﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس نیکی کے عو ض اسے بخش دیا۔ اس پرصحابہ بہت حیران ہوئے اور پوچھا کہ کیاجانور وں کی وجہ سے بھی اجر ملے گا۔ تو آپ ﷺنے فرمایا تھا کہ ہاں ہر ذی روح اور جاندار کی نیکی اوراحسان کا اجر ملتاہے۔
پھر ایک واقعہ ہے ایک احمدی حضرت نور محمد صاحب کا۔سخت سردی کا موسم تھا۔ اور آپ کے پاس نہ کوٹ تھا نہ کمبل۔صرف اوپر نیچے دو قمیصیں پہن رکھی تھیں کہ گاڑی میں سوار تھے۔ ایک معذور بوڑھا ننگے بدن کانپتا ہوا نظر آیا۔اسی وقت اپنی ایک قمیص اتار کر اسے پہنادی۔ایک سکھ دوست بھی ساتھ سفر کر رہاتھا وہ یہ دیکھ کر کہنے لگا’’ بھائیاجی ہُن تہاڈاتے بیڑا پار ہوجائے گا، آپاں داپتہ نئیں کی بنے‘‘؟۔ تو یہ نمونے تھے۔پھر چند دن بعد یوں ہوا کہ یہی نور محمد صاحب ایک نیا کمبل اوڑھ کر بیت الذکر مغلپورہ میں نماز فجر کے لئے آئے تو دیکھا کہ فتح دین نامی ایک شخص جو کسی وقت بہت امیر تھا بیماری اور افلاس کے مارے ہوئے سردی سے کانپ رہے تھے-تو نور محمد صاحب نے فوراً اپنا نیا کمبل اتارا اور اسے اوڑھا دیا۔ (روح پرور یادیں صفحہ۲۸۷)
پھر ۱۹۴۷ء میں قیام پاکستان کے وقت لاکھوں لٹے پٹے مہاجر لوگ قافلوں کی صورت میں قادیان کا رُخ کرتے تھے اور اس وقت انتہائی برے حالات تھے۔مسلمانوں کی عورتوں کی عزت و حرمت کی کوئی ضمانت نہیں تھی اور سب مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ قادیان پہنچ جائیں تو ہم محفوظ ہو جائیں گے۔تو اس وقت بھی جو بھی جماعت کے ا فراد وہاں موجود تھے اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ اس وقت وہاں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں انچارج بنایا ہوا تھاتو سب آنے والوں کو جو بڑی کسمپرسی کی حالت میں وہاں پہنچے تھے۔ بعض کپڑوں کے بھی بغیر تھے تو حضور نے سب سے پہلے اپنے گھر کے، خاندان والوں کے کپڑے نکالے بکسوں سے اور پھر ان کو دئے۔ پھر وہیں سے قافلے ایک انتظام کے تحت روانہ ہوئے اور پاکستان پہنچتے رہے اوراللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے محفوظ طریقے سے پہنچتے رہے۔اور احمدیوں نے اپنی جانوں کو قربان کر کے ان لوگوں کی حفاظت کی ذمہ داری ادا کی۔
پھر حضرت اقد س مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں ایک یہ شرط بھی ہے کہ ہم اب اس عہد کے ساتھ جماعت میں شامل ہوتے ہیں کہ بیعت کرنے کے بعد اب ہمارا اپنا کچھ نہیں رہا۔اب سارے رشتے اور تمام تعلقات صرف اس وقت تک ہیں جب تک کہ وہ نظام جماعت اور حضور اقدس کی ذات کے ساتھ وابستہ ہیں-کوئی رشتہ، کوئی تعلق ہمیں حضور علیہ السلام سے دور نہیں لے جا سکتا۔ہم تو اُس دَر کے فقیر ہیں اور یہی ہمیں مقدم ہے۔ پھراس عہد کو نبھایا گیا اور خوب نبھایا۔اس کی بھی چند مثالیں پیش کرتاہوں اور اکثر ایسے ہیں جن کو زمانے کے امام نے خود اپنے الفاظ میں زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں-
’’ایسا ہی ہمارے دلی محب مولوی محمد احسن صاحب امروہی جو اس سلسلہ کی تائید کے لئے عمدہ عمدہ تالیفات میں سرگرم ہیں اور صاحبزادہ پیر جی سراج الحق صاحب نے تو ہزاروں مریدوں سے قطع تعلق کرکے اس جگہ کی درویشانہ زندگی قبول کی۔ اورمیاں عبداللہ صاحب سنوری ؔ اور مولوی برہان الدین صاحب جہلمی، اورمولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی اور قاضی ضیاء الدین صاحب قاضی کوٹی اورمنشی چوہدر ی نبی بخش صاحب بٹالہ ضلع گورداسپوراورمنشی جلال الدین صاحب یلانی وغیرہ احباب اپنی اپنی طاقت کے موافق خدمت میں لگے ہوئے ہیں- مَیں اپنی جماعت کے محبت اور اخلاص پر تعجب کرتاہوں کہ ان میں سے نہایت ہی کم معاش والے جیسے میاں جمال دین اور امام دین کشمیری میرے گاؤں کے قریب رہنے والے ہیں-یہ تینوں غریب بھائی جو شاید تین آنہ یا چار آنہ روزانہ مزدوری کرتے ہیں سرگرمی سے ماہواری چندہ میں شریک ہیں- ان کے دوست میاں عبدالعزیز پٹواری کے اخلاص سے بھی مجھے تعجب ہے کہ باوجود قلت معاش کے ایک دن سو روپیہ دے گیاکہ مَیں چاہتاہوں کہ یہ خدا کی راہ میں خرچ ہو جائے۔وہ سو روپیہ اس غریب نے شاید کئی برسوں میں جمع کیاہوگا مگر للّہی جوش نے خدا کی رضا کاجوش دلایا‘‘۔(انجام آتھم،روحانی خزائن جلد نمبر۱۱ صفحہ ۳۱۳۔۳۱۴)
پھر آپ حضرت خلیفۃ المسیح اوّل ؓ کے متعلق فرماتے ہیں :-
’’کثرت مال کے ساتھ کچھ قدر قلیل خدا کی راہ میں دیتے ہوئے تو بہتوں کو دیکھا مگر خود بھوکے پیاسے رہ کر اپنا عزیز مال رضائے مولیٰ میں اٹھا دینا اور اپنے لئے دنیا میں سے کچھ نہ بنانا یہ صفت کامل طور پر مولوی صاحب موصوف میں دیکھی …جس قدر ان کے مال سے مجھ کو مدد پہنچی ہے اس کی نظیر اب تک کوئی میرے پاس نہیں ‘‘۔(نشان آسمانی۔روحانی خزائن جلد ۴صفحہ۴۰۷)
پھر حضرت خلیفۃ المسیح اوّل، مولانانور الدین صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں لکھا کہ :
’’میں آپ کی راہ میں قربان ہوں-میرا جو کچھ ہے، میرا نہیں آپ کا ہے۔ حضرت پیر و مرشد میں کمال راستی سے عرض کرتا ہوں کہ میرا سارا مال و دولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہوجائے تو میں مراد کو پہنچ گیا‘‘۔(فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد۳صفحہ ۳۶)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام حضرت منشی ظفر احمد صاحبؓ کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ :
’’حبّی فی اللہ منشی ظفر احمد صاحب جو جوان صالح اور کم گو اور خلوص سے بھرادقیق فہم آدمی ہے یعنی بڑی باریک نظر سے دیکھنے والے ہیں- استقامت کے آثار و انوار ان میں ظاہر ہیں-وفاداری کی علامات وغیرہ میں قسمت زدہ ہیں-ثابت شدہ صداقتوں کوخو ب سمجھتاہے۔اور ان سے لذت اٹھاتاہے۔اللہ اوررسول سے سچی محبت رکھتاہے اور ادب، جس پر تمام مدار حصول فیض کاہے اور حسن ظن جو اس راہ کا مرکب ہے دونوں سیرتیں ان میں پائی جاتی ہیں یعنی فیض اٹھانا اور حسن ظن رکھنا۔ جن کا یہ مجموعہ ہے یہ دونوں صفتیں ان میں پائی جاتی ہیں- جزاھم اللہ خیر الجزائ۔
پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام حضرت میاں عبداللہ سنوریؓ کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ:
’’حبی فی اللہ میاں عبداللہ سنوریؓ یہ جوان صالح اپنی فطرتی مناسبت کی وجہ سے میری طرف کھنیچا گیا۔ مَیں یقین رکھتاہوں کہ وہ ان وفادار دوستوں میں سے ہے جن پر کوئی ابتلاء جنبش نہیں لا سکتا‘‘۔ یعنی کوئی ابتلا ان کو اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتا۔’’وہ متفرق وقتوں میں دو دو تین تین ماہ تک بلکہ زیادہ بھی میری صحبت میں رہا اور مَیں ہمیشہ بنظر ایمان اس کی اندرونی حالت پر نظر ڈالتارہاہوں ‘‘یعنی مَیں بڑے غور سے دیکھتا رہاہوں- ’’تو میری فراست نے اس کی تہ تک پہنچنے سے جو کچھ معلوم کیا وہ یہ ہے کہ یہ نوجوان درحقیقت اللہ اوررسول کی محبت میں ایک خاص جوش رکھتاہے اورمیرے ساتھ اس کے اس قدر تعلق محبت کی بجز اس بات کے اور کوئی وجہ نہیں کہ اس کے دل میں یقین ہو گیاہے کہ یہ شخص محبان خدا اور رسول میں سے ہے‘‘۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد نمبر ۳ صفحہ ۵۳۱)
پھر حضرت منشی اروڑا صاحبؓ کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ حبی فی اللہ منشی محمد اروڑا نقشہ نویس مجسٹریٹی۔ منشی صاحب محبت اور خلوص اور ارادت میں زندہ دل آدمی ہیں-سچائی کے عاشق اور سچائی کو بہت جلد سمجھ جاتے ہیں-خدمات کو نہایت نشاط سے بجا لاتے ہیں ‘‘ بڑی خوشی سے بجا لاتے ہیں- ’’بلکہ وہ تو دن رات اس فکرمیں لگے رہتے ہیں کہ کوئی خدمت مجھ سے صادر ہو جائے۔ عزیز منشرح الصدر اورجانثار آدمی ہیں ‘‘۔یعنی کھلے دل سے قبول کرنے والے اور جانثار آدمی ہیں-’’ مَیں خیال کرتاہوں کہ ان کو اس عاجز سے ایک نسبت عشق ہے۔شاید ان کی اس سے بڑھ کر اورکسی بات میں خوشی نہیں ہوتی ہوگی کہ اپنی طاقتوں اوراپنے مال اور اپنے وجود کی ہر یک توفیق سے کوئی خدمت بجا لاویں- وہ دل و جان سے وفادار اور مستقیم الاحوال اور بہاد ر آدمی ہے‘‘۔ہرحال میں وفادار ہیں-اور مضبوط ہیں ایمان میں اور بہادر آدمی ہیں-’’خدائے تعالیٰ ان کو جزائے خیر بخشے ‘‘۔
پھر آپ نے فرمایا:’’حبی فی اللہ میاں محمد خان صاحب ریاست کپور تھلہ میں نوکر ہیں-نہایت درجہ کے غریب طبع ،صاف باطن،دقیق فہم،حق پسند ‘‘۔یعنی باریکی سے غور کرنے والے اورحق کو پہچاننے والے، سچ کو پسند کرنے والے-’’ اور جس قدر انہیں میری نسبت عقیدت وارادت و محبت اور نیک ظن ہے مَیں اس کا اندازہ نہیں کر سکتا۔ مجھے ان کی نسبت یہ تردّد نہیں ہے کہ ان کے اس درجہ ارادت میں کبھی کوئی؟ پیدا ہو۔ بلکہ یہ اندیشہ ہے کہ حد سے زیادہ نہ بڑھ جائے۔ وہ سچے وفادار اور جانثار اور مستقیم الاحوال ہیں-خدا ان کے ساتھ ہو۔ ان کا نوجوان بھائی سردار علی خان بھی میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہے۔ یہ لڑکا بھی اپنے بھائی کی طرح بہت سعید اور رشید ہے ‘‘۔بہت نیک اور سیدھے رستے پر چلنے والا۔ اور’’ خداتعالیٰ ان کامحافظ ہو‘‘۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد نمبر۳ صفحہ ۵۳۲)
پھر آ پؑ فرماتے ہیں :
’’میرے نہایت پیارے بھائی اپنی جدائی سے ہمارے دل پر داغ ڈالنے والے مرزا اعظم بیگ صاحب مرحوم و مغفور رئیس سامانہ علاقہ پٹیالہ کے ہیں جو دوسری ربیع الثانی۱۳۰۸ہجری میں اس جہان فانی سے انتقال کرگئے۔

اناللہ وانا الیہ راجعون۔

فرماتے ہیں

اَلْعَیْنُ تَدْمَعُ وَالْقَلْبُ یَحْزُنُ وَاِناَّ بِفِرَاقِہٖ لَمَحْزُوْنُوْنَ

یعنی آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہیں اور ہم اس کی جدائی سے غمزدہ ہیں-مرزا صاحب مرحوم جس قدر مجھ سے محض للہ محبت رکھتے تھے اور جس قدرمجھ میں فنا ہو رہے تھے۔مَیں کہاں سے ایسے الفاظ لاؤں تااس کے مرتبہ کو بیان کرسکوں- اورجس قدر ان کی بے وقت مفارقت سے مجھے غم اور اندوہ پہنچاہے مَیں اپنے گزشتہ زمانہ میں اس کی نظیر بہت کم دیکھتاہوں- وہ ہمارے فرد اور ہمارے میر منزل ہیں ‘‘یعنی ہماری نظرمیں ان کا بڑامقام ہے اور بڑے اچھے آگے بڑھنے والے تھے لیڈرانہ صلاحیت تھی جو ہمارے دیکھتے دیکھتے ہم سے رخصت ہو گئے۔جب تک ہم زندہ رہیں گے ان کی وفات کا غم ہمیں نہیں بھولے گا۔ ان کی مفارقت کی یاد سے طبیعت میں اداسی اور سینہ میں کرب کے غلبہ سے کچھ خلش اور دل میں غم اورآنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں-ان کا تمام وجود محبت سے بھرگیا تھا۔مرزا صاحب مرحوم محبانہ جوشوں کے ظاہر کرنے کے لئے بڑے بہادر تھے‘‘۔(فتح اسلام،روحانی خزائن جلد نمبر۳ صفحہ ۳۹)
حضرت قاضی ضیاء الدین صاحبؓؓ تحریر فرماتے ہیں-دعا ہے، بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے یہ بیان دے رہے تھے کہ :
’’اے میرے آقا!مَیں اپنے دل میں متضاد خیالات موجزن پاتاہوں- ایک طرف تو مَیں بہت اخلاص سے اس امر کا خواہاں ہوں کہ حضور ؑکی صداقت اور روحانی انوار سے بیرونی دنیا جلد واقف ہو جائے۔ اور تمام اقوام وعقائد کے لوگ آئیں اور اس سرچشمہ سے سیراب ہوں جو اللہ تعالیٰ نے یہاں جاری کیاہے۔لیکن دوسری طرف اس خواہش کے عین ساتھ ہی اس خیال سے میرا دل اندوہگین ہوجاتاہے کہ جب دوسرے لوگ بھی حضورؑ سے واقف ہوجائیں گے اور بڑی تعداد میں یہاں آنے لگیں گے تواس وقت مجھے آپ ؑ کی صحبت اورقرب جس طرح میسر ہے اُس سے لطف اندوزہونے کی مسرت سے محروم ہوجاؤں گا۔ ایسی صورت میں حضور دوسروں کے گھرجائیں گے۔
حضور والا! مجھے اپنے پیارے آقا کی صحبت میں بیٹھنے اوران سے گفتگو کرنے کا جو مسرت بخش شرف حاصل ہے اس سے مجھے محرومی ہو جائے گی۔ایسی متضاد خواہشات یکے بعد دیگرے میرے دل میں رونما ہوتی ہیں ‘‘۔
توقاضی صاحب کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود ؑعلیہ السلام میری یہ باتیں سن کر مسکرا دئے۔(اصحاب احمد جلد ۶ صفحہ ۱۰)
پھرقاضی ضیاء الدین صاحبؓ کا ہی ایک نمونہ ہے۔قاضی عبدالرحیم صاحب ؓسناتے تھے کہ ایک دفعہ والد صاحبؓ نے خوشی سے بیان کیاکہ مَیں وضو کررہا تھا کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام سے آپ کے خادم حضرت حافظ حامد علی صاحبؓنے میرے متعلق دریافت کیا کہ یہ کون صاحب ہیں- تو حضور ؑنے میرانام اورپتہ بتاتے ہوئے یہ بھی فرمایاکہ اس شخص کو ہمارے ساتھ عشق ہے۔ چنانچہ قاضی صاحبؓاس بات پر فخر کیا کرتے اور (تعجب سے ) کہا کرتے تھے کہ حضورؑکو میرے دل کی کیفیت کا کیونکر علم ہو گیا۔ یہ اسی عشق کا ہی نتیجہ تھا کہ حضرت قاضی صاحبؓنے اپنی وفات کے وقت اپنی اولاد کو وصیت کی تھی کہ مَیں بڑی مشکل سے تمہیں حضرت مسیح موعود ؑکے در پر لے آیاہوں-اب میرے بعد اس دروازہ کوکبھی نہ چھوڑنا۔چنانچہ آپ کی اولاد نے اس پر کامل طورپر عمل کیا۔ (اصحاب احمد جلد ۶صفحہ ۸۔۹)
حضرت مولوی نعمت اللہ صاحب کو کابل میں ۱۹۲۴ء میں شہید کیا گیا۔ شہادت سے پہلے انہوں نے قید خانہ سے ایک احمدی دوست کو خط لکھا اور اس میں فرمایا ’’ میں ہر وقت قید خانہ میں خدا سے یہ دعا کرتا ہوں کہ الٰہی اس نالائق بندہ کو دین کی خدمت میں کامیاب کر۔میں نہیں چاہتا کہ مجھے قید خانہ سے رہائی بخشے بلکہ میں یہ عرض کرتا ہوں کہ الٰہی اس نالائق کے وجود کا ذرہ ذرہ احمدیت پر قربان کردے‘‘۔
(تاریخ احمدیت جلد نمبر۵)
پھر اسی دسویں شرط کے تحت کہ حضرت مسیح موعودعلیہ ا لصلوٰۃ والسلام سے ایک ایسا تعلق ہوگا جس کی نظیر نہ ہو۔ یہ واقعہ سیدعبدالستار شاہ صاحبؓ کا ہے کہ ۱۹۰۷ء میں جبکہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے چھوٹے بیٹے صاحبزادہ مرزا مبارک احمد بیمار ہوگئے اور شدید قسم کا ٹائیفائڈ کاحملہ ہوا۔ ان کی بیماری کے ایام میں کسی شخص نے خواب میں دیکھاکہ مبارک احمد کی شادی ہو رہی ہے۔ اور معبرین نے لکھاہے کہ اگر شادی غیرمعلوم عورت سے ہو تواس کی تعبیر موت ہوتی ہے مگربعض معبرین کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر ایسے خواب کو ظاہری صورت میں پورا کر دیا جائے تو بعض دفعہ یہ تعبیرٹل جاتی ہے۔ پس جب خواب دیکھنے والے نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنا یہ خواب سنایا تو آپ نے بھی یہی فرمایا کہ اس کی تعبیر موت ہے مگر اسے ظاہری رنگ میں پوراکردینے کی صورت میں بعض دفعہ یہ تعبیر ٹل جاتی ہے۔ اس لئے آؤ مبارک احمد کی شادی کردیں- گویاوہ بچہ جسے شادی بیاہ کاکچھ علم نہ تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس کی شادی کا فکرہوا۔ جس وقت حضور علیہ السلام یہ باتیں کررہے تھے تو اتفاقاً حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کی ا ہلیہ سیدہ سعیدۃ النساء بیگم صاحبہ جو یہاں بطور مہمان آئی ہوئی تھیں صحن میں نظر آئیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو بلایااور فرمایا ہمارا منشاء ہے کہ مبارک احمد کی شادی کردیں- آپ کی لڑکی مریم ہے۔ آپ اگر پسند کریں تواس سے مبارک احمد کی شادی کر دی جائے۔ انہوں نے کہا حضور مجھے کوئی عذر نہیں لیکن اگر حضور کچھ مہلت دیں تو ڈاکٹر صاحب سے بھی پوچھ لوں- ان دنوں ڈاکٹر صاحب مرحوم اوران کے اہل وعیال گول کمرہ میں رہتے تھے۔ وہ (اہلیہ حضرت ڈاکٹر صاحب)نیچے گئیں- ڈاکٹر صاحب شاید وہاں نہ تھے۔کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔انہوں نے کچھ دیر انتظار کیاتو وہ آگئے۔جب وہ آئے تو انہوں نے اس رنگ میں ان سے بات کی کہ اللہ تعالیٰ کے دین میں جب کوئی داخل ہوتاہے تو بعض دفعہ اس کے ایمان کی آزمائش ہوتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ آپ کے ایمان کی آزمائش کرے توکیا آپ پکے رہیں گے؟ان کو اس وقت دو خیال تھے کہ شاید ان کی وجہ سے ڈاکٹرصاحب کو یہ رشتہ کرنے میں تامّل ہو۔ ایک تو یہ کہ اس سے قبل ان کے خاندان کی کوئی لڑکی غیر سید کے ساتھ نہ بیاہی گئی تھی۔ اوردوسرے یہ کہ مبارک احمد ایک مہلک بیماری میں مبتلاتھا۔ اورڈاکٹر صاحب مرحوم خود اس کا علاج کرتے تھے۔ اوراس وجہ سے وہ خیال کریں گے کہ یہ شادی ننانوے فیصد خطرہ سے پُر ہے۔اور اس سے لڑکی کے ماتھے پر جلد ہی بیوگی کا ٹیکہ لگنے کا خوف ہے۔ ان باتوں کی وجہ سے ڈاکٹرصاحب کے گھروالوں کو یہ خیال تھا کہ ایسا نہ ہو ڈاکٹرصاحب کمزوری دکھائیں- اوران کاایمان ضائع ہو جائے اس لئے انہوں نے پوچھاکہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کے ایمان کی آزمائش کرے تو کیا آپ پکے رہیں گے۔ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ مجھے اُمید ہے اللہ تعالیٰ استقامت عطا کرے گا۔ اس پر والدہ مریم بیگم مرحومہ نے ان کی بات سنائی اور بتایاکہ اس طر ح مَیں اوپرگئی تھی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایاکہ مریم کی شادی مبارک احمد سے کر دیں- یہ بات سن کر ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ اچھی بات ہے اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو یہ پسندہے تو ہمیں اس پرکیااعتراض ہوسکتاہے۔ ا ن کا یہ جواب سن کر مریم بیگم مرحومہ کی والدہ،اللہ تعالیٰ ان کے درجات کوہمیشہ بڑھاتا چلا جائے، رو پڑیں- اور بے اختیار ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ اس پرڈاکٹر صاحب مرحوم نے ان سے پوچھا کہ کیاہوا۔ کیاتم کویہ تعلق پسند نہیں؟۔ انہوں نے کہا مجھے پسند ہے۔ بات یہ ہے کہ جب سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نکاح کا ارشاد فرمایا تھا،میرادل دھڑک رہا تھا اورمَیں ڈرتی تھی کہ کہیں آپ کا ایمان ضائع نہ ہو جائے۔ اوراب آپ کاجواب سن کر مَیں خوشی سے اپنے آنسو روک نہیں سکی۔ چنانچہ یہ شادی ہوگئی اور کچھ دنوں کے بعد( جیساکہ بیماری شدید تھی) وہ لڑکی بھی بیوہ ہوگئی۔ اب دیکھیں اللہ تعالیٰ نے بھی ڈاکٹر صاحب کے اخلاص کو ضائع نہیں کیا اور حضرت مصلح موعود ؓسے ان کی شادی ہوئی جس کا نام حضرت اُمّ طاہر، مریم صدیقہ رضی اللہ عنہا تھا۔
(روزنامہ الفضل قادیان، یکم اگست ۱۹۴۴ء صفحہ ۱۔۲۔بحوالہ سیرت سید عبدالستار شاہ صاحب صفحہ ۱۲۲ تا ۱۲۴)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہیدؓ کے بارہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ’’ انہی دنوں میں جب کہ متواتریہ وحی خداکی مجھ پرہوئی۔اور نہایت زبردست اور قوی نشان ظاہر ہوئے۔اور میرا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا دلائل کے ساتھ دنیامیں شائع ہوا۔ خوست علاقہ حدود کابل میں ایک بزرگ تک جن کا نام اخوند زادہ مولوی عبداللطیف ہے کسی اتفاق سے میری کتابیں پہنچیں اور وہ تمام دلائل جو نقل اور عقل اور تائیدات سماوی سے مَیں نے اپنی کتابوں میں لکھے تھے (یعنی اللہ تعالیٰ کی تائید سے مَیں نے اپنی کتابوں میں لکھے تھے )وہ سب دلیلیں ان کی نظر سے گزریں اور چونکہ وہ بزرگ نہایت پاک باطن او ر اہل علم اور اہل فراست اور خدا ترس اور تقویٰ شعار تھے اس لئے ان کے دل پر ان دلائل کا قوی اثر ہوا اور ان کو اس دعویٰ کی تصدیق میں کوئی دقّت پیش نہ آئی۔ اور ان کے پاک کانشنس نے بلاتوقف مان لیاکہ یہ شخص منجانب اللہ ہے او ر یہ دعویٰ صحیح ہے۔ تب انہوں نے میری کتابوں کو نہایت محبت سے دیکھنا شروع کیا اور ان کی روح جو نہایت صاف اور مستعد تھی میری طرف کھینچی گئی یہاں تک کہ ان کے لئے بغیر ملاقات کے دور بیٹھے رہنا نہایت دشوار ہو گیا۔ آخر اس زبردست کشش اور محبت اور اخلاص کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے اس غرض سے کہ ریاست کابل سے اجازت حاصل ہو جائے حج کے لئے مصمم ارادہ کیااور امیر کابل سے اس سفر کے لئے درخواست کی۔ چونکہ وہ امیر کابل کی نظر میں ایک برگزیدہ عالم اور تمام علماء کے سردار سمجھے جاتے تھے اس لئے نہ صرف ان کو اجازت ہوئی بلکہ امداد کے طورپر کچھ روپیہ بھی دیا گیا۔ سو وہ اجاز ت حاصل کر کے قادیان میں پہنچے اور جب مجھ سے ان کی ملاقات ہوئی تو قسم اس خدا کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مَیں نے ان کو اپنی پیروی اور اپنے دعوے کی تصدیق میں ایسا فنا شدہ پایاکہ جس سے بڑھ کر انسان کے لئے ممکن نہیں- اورجیساکہ ایک شیشہ عطر سے بھرا ہوا ہوتاہے ایسا ہی مَیں نے ان کو اپنی محبت سے بھرا ہوا پایا۔ اور جیسا کہ ان کا چہرہ نورانی تھاایسا ہی ان کا دل مجھے نورانی معلوم ہوتاتھا‘‘۔(تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۹۔۱۰)
پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت خلیفہ اوّلؓ کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ:
’’اس جگہ مَیں اس بات کا اظہار اور اس کا شکر ادا کرنے کے بغیر نہیں رہ سکتاکہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم نے مجھے اکیلانہیں چھوڑا۔ میرے ساتھ تعلق اخوت پکڑنے والے اور اس سلسلے میں داخل ہونے والے جس کو خداتعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے محبت اور اخلاص کے رنگ سے ایک عجیب طرز پر رنگین ہیں-نہ مَیں نے اپنی محنت سے بلکہ خدا تعالیٰ نے اپنے خاص احسان سے جو صدق سے بھری ہوئی روحیں مجھے عطا کی ہیں-سب سے پہلے مَیں اپنے ایک روحانی بھائی کے ذکر کرنے کے لئے دل میں جوش پاتاہوں جن کا نام ان کے نور اخلاص کی طرح نور ِدین ہے۔مَیں ان کی بعض دینی خدمتوں کو جو اپنے مال حلال کے خرچ سے اعلائے کلمہ اسلام کے لئے وہ کر رہے ہیں ہمیشہ ادب کی نظر سے دیکھتاہوں کہ کاش وہ خدمتیں مجھ سے بھی ادا ہو سکتیں-ان کے دل میں جو تائید دین کے لئے جوش بھرا ہے اس کے تصور سے قدرت الٰہی کا نقشہ میری آنکھوں کے سامنے آ جاتاہے کہ وہ کیسے اپنے بندوں کو اپنی طرف کھینچ لیتاہے۔ وہ اپنے تمام مال اور تمام زور اور تمام اسباب مقدرت کے ساتھ جو ان کو میسر ہے (یعنی جو مال ان کے قبضے میں ہے) ہر وقت اللہ اور رسول کی ا طاعت کے لئے مستعد کھڑے ہیں اور مَیں تجربہ سے نہ صرف حسن ظن سے یہ علم صحیح واقعی رکھتاہوں کہ انہیں میری راہ میں مال کیا بلکہ جان اور عزت تک دریغ نہیں اوراگر مَیں اجازت دیتا تو وہ سب کچھ اس راہ میں فدا کرکے اپنی روحانی رفاقت کی طرح جسمانی رفاقت اور ہر دم صحبت میں رہنے کا حق اداکرتے۔ان کے بعض خطوط کی چندسطریں بطور نمونہ ناظرین کو دکھلاتاہوں تا ان کو معلوم ہو کہ میرے پیار ے بھائی حکیم نورالدین بھیروی معالج ریاست جموں نے محبت اور اخلاص کے مراتب میں کہاں تک ترقی کی ہے اور وہ سطریں یہ ہیں ،لکھتے ہیں :
مولانا، مرشد نا، امامنا!السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ عالی جناب میری دعایہ ہے کہ ہروقت حضور کی جناب میں حاضر رہوں اور اما م زمان سے جس مطلب کے واسطے وہ مجدد کیا گیاہے وہ مطالب حاصل کروں- اگر ا جازت ہو تو مَیں نوکری سے استعفیٰ دے دوں اور دن رات خدمت عالی میں پڑارہوں- یا اگر حکم ہو تو اس تعلق کو چھوڑ کر دنیا میں پھروں اور لوگوں کو دین حق کی طرف بلاؤں اور اسی راہ میں جان دوں- مَیں آپ کی راہ میں قربان ہوں-میراجو کچھ ہے میرا نہیں ،آپ کا ہے۔حضرت پیرومرشد !مَیں کما ل راستی سے عرض کرتاہوں کہ میرا سارا مال و دولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہو جائے تو مَیں مراد کو پہنچ گیا۔…… مجھے آپ سے نسبت فاروقی ہے اور سب کچھ اس راہ میں فدا کرنے کے لئے تیار ہوں- دعافرماویں کہ میری موت صدیقوں کی موت ہو‘‘۔
مولوی صاحب ممدوح کا صدق اور ہمت اور ان کی غمخواری اور دیانتداری جیسے ان کے قول سے ظاہر ہے اس سے بڑھ کر ان کے حال سے ان کی مخلصانہ خدمتوں سے ظاہر ہو رہاہے اور وہ محبت اور اخلاص کے جذبہ کاملہ سے چاہتے ہیں کہ سب کچھ یہاں تک کہ اپنے عیال کی زندگی بسر کرنے کی ضروری چیزیں بھی اسی راہ میں فداکردیں-ان کی روح محبت کے جوش اور ہستی سے ان کی طاقت سے زیادہ قدم بڑھانے کی تعلیم دے رہی ہے۔اور ہر دم ہر آن خدمت میں لگے ہوئے ہیں ‘‘۔(فتح اسلام، روحانی خزائن جلد نمبر ۳ صفحہ ۳۵ تا ۳۷)
ایک معترض کے جواب میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام لکھتے ہیں کہ :
’’آپ کہتے ہیں کہ صرف ایک حکیم نورالدین صاحب اس جماعت میں عملی رنگ رکھتے ہیں ، دوسرے ایسے ہیں اور ایسے ہیں-مَیں نہیں جانتا کہ آپ اس افتراء کاکیا جواب دیں گے۔ مَیں حلفاً کہہ سکتاہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں ایسے ہیں کہ سچے دل سے میرے پرایمان لائے ہیں اور اعمال صالحہ بجا لاتے ہیں اور باتیں سننے کے وقت اس قدر روتے ہیں کہ اُن کے گریبان تر ہو جاتے ہیں- مَیں اپنے ہزار ہا بیعت کنندوں میں اس قدر تبدیلی دیکھتاہوں کہ موسیٰ نبی کے پیرو ان سے جو ان کی زندگی میں ان پرایمان لائے تھے ہزاردرجہ ان کو بہتر خیال کرتاہوں اور ان کے چہرہ پر صحابہ کے اعتقاد اور صلاحیت کا نور پاتاہوں- ہاں شاذونادر کے طورپر اگر کوئی اپنے فطرتی نقص اور صلاحیت میں کم رہاہو تو وہ شاذونادر میں داخل ہے‘‘۔
فرماتے ہیں :’’مَیں دیکھتاہوں کہ میری جماعت نے جس قدر نیکی اور صلاحیت میں ترقی کی ہے یہ بھی ایک معجزہ ہے۔ ہزارہا آدمی دل سے فدا ہیں- اگر آ ج ان کو کہاجائے کہ اپنے تمام اموال سے دستبردارہو جاؤ تو وہ دستبردار ہو جانے کے لئے مستعد ہیں- پھربھی مَیں ہمیشہ ان کو اور ترقیات کے لئے ترغیب دیتاہوں اور ان کی نیکیاں ان کو نہیں سناتا مگردل میں خوش ہوں ‘‘۔(سیرت المہدی حصہ اول صفحہ ۱۶۵)
یہ تو چند نمونے تھے جو مَیں نے پیش کئے، حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کی اس پیاری جماعت میں ایسے ہزاروں لاکھوں نمونے بکھرے پڑے ہیں-حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے وقت میں لاکھوں کا ذکر کیا اب تو اور بھی بہت بڑھ چکے ہیں جنہوں نے اپنے اخلاص اور اپنی قربانیوں کے بڑے اعلیٰ معیار قائم کئے ہیں-بہت سے ایسے ہیں جن کے وفا، اخلاص، تعلق، محبت، اطاعت کے واقعات سامنے نہیں آئے۔ یہ لوگ خاموشی سے آئے اورمحبت و تعلق وفا اور اطاعت کی مثالیں رقم کرتے ہوئے خاموشی سے چلے گئے۔ایسے مخلصین کی اولادوں کوچاہئے کہ اپنے ایسے بزرگوں کے واقعات قلمبندکریں اورجماعت کے پاس محفوظ کروائیں اور اپنے خاندانوں میں بھی ان روایتوں کو جار ی کریں اوراپنی نسلوں کوبھی بتاتے رہیں کہ ہمارے بزرگوں نے یہ مثالیں قائم کی ہیں اور ان کو ہم نے جار ی رکھناہے۔ جہاں ہم ان بزرگوں پر رشک کرتے ہیں کہ کس طرح وہ قربانیاں کرکے اما م الزمان کی دعاؤں کے وارث ہوئے وہاں یہ بھی یاد رکھیں کہ آج بھی ان دعاؤں کو سمیٹنے کے مواقع موجود ہیں-آئیں اور ان وفاؤں ،اخلاص،اطاعت، تعلق اور محبت کی مثالیں قائم کرتے چلے جائیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے چلے جائیں-یادرکھیں جب تک یہ مثالیں قائم ہو تی رہیں گی زمینی مخالفتیں ہمارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتیں- حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس فقرہ کوہمیشہ یاد رکھیں کہ’’ زمین تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتی اگر تمہارا آسمان سے پختہ تعلق ہے‘‘۔
ان تبدیلیوں کو غیروں نے بھی دیکھا اور ان کا اعتراف کیا اوراتنی واضح اورکھلی تبدیلیاں تھیں کہ وہ مجبور تھے کہ اعتراف کرتے۔اور یہ مان لیاکہ زمانہ کے امام کومان کر احمدیوں میں بہت ساری تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں لیکن ان کا رویہ وہی ہے کہ مَیں نہ مانوں کی رٹ لگی رہتی ہے۔ بہر حال اس اعتراف کے چند نمونے مَیں پیش کرتاہوں-
علامہ اقبال نے لکھاکہ ’’پنجاب میں اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ اس جماعت کی شکل میں ظاہر ہوا ہے جسے فرقہ قادیانی کہتے ہیں ‘‘۔
(قومی زندگی اور ملت بیضاء پر ایک عمرانی نظر صفحہ ۸۴)
علامہ نیاز فتح پوری نے حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق لکھا:
’’اس میں کلام نہیں کہ انہوں نے یقیناً اخلاقِ اسلامی کو دوبارہ زندہ کیااور ایک ایسی جماعت پیدا کر کے دکھادی جس کی زندگی کو ہم یقینا اسوۂ نبیؐ کا پر تو کہہ سکتے ہیں ‘‘۔(ملاحظات نیاز فتح پوری صفحہ ۲۹)
پھرایڈیٹر صاحب اخبار سٹیٹسمین دہلی نے لکھا :
’’ قادیا ن کے مقدس شہر میں ایک ہندوستانی پیغمبر پیدا ہوا جس نے اپنے گر و پیش کو نیکی اور بلند اخلاق سے بھر دیا۔یہ اچھی صفات اس کے لاکھوں ماننے والوں کی زندگی میں بھی منعکس ہیں ‘‘۔(سٹیٹسمین دہلی ۱۲؍ فروری۱۹۴۹ء)
عبدالرحیم اشرف آزادجماعت احمدیہ کے اندر پیدا ہونے والے انقلاب کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’ ہزاروں اشخاص ایسے ہیں جنہوں نے اس نئے مذہب کی خاطر اپنی برادریوں سے علیحدگی اختیار کی۔ دنیاوی نقصانات برداشت کئے اور جان و مال کی قربانیاں پیش کیں …ہم کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں کہ قادیانی عوام ایک معقول تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو اخلاص کے ساتھ اسے حقیقت سمجھ کر اس کے لئے مال و جان اور دنیاوی وسائل و علائق کی قربانی پیش کرتی ہے۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے بعض افراد نے کابل میں سزائے موت کو لبیک کہا۔بیرون ملک دور دراز علاقوں میں غربت و افلاس کی زندگی اختیار کی‘‘۔
(ہفت روزہ المنبر لائلپور۲؍مارچ۱۹۵۲ء صفحہ ۱۰)
اس کے باوجود ان لوگوں کی بدنصیبی ہے کہ ماننے کی توفیق نہیں ملی۔ الحمدللہ کہ ان کے اس اعتراف نے ہمارے ایمانوں کو مضبوط کیا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ایمان اوریقین میں مزید اضافہ کرتا چلاجائے۔ اور عہدبیعت کی ہر شرط کو خوشی سے اور اپنے اوپر فرض سمجھتے ہوئے پورا کرنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے وارث بنیں-

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/zteQx]

اپنا تبصرہ بھیجیں