حضرت چوہدری برکت علی خان صاحبؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 24 اور26 مارچ 2008ء میں شامل اشاعت مکرم رانا سعید احمد خان صاحب اپنے مضمون میں اپنے دادا حضرت چودھری برکت علی خانصاحبؓ کا ذکرخیر کرتے ہیں۔
حضرت چوہدری برکت علی خانصاحبؓ اندازاً 1886ء میں چوہدری میراں بخش صاحب کے ہاں گڑھ شنکر ضلع ہوشیارپور میں پیدا ہوئے۔ آپ اکلوتی اولاد تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے ننھیال سڑوعہ میں حاصل کرکے ورینکلر مڈل تک گڑھ شنکر میں پڑھا لیکن امتحان میں پاس نہ ہوسکے اور تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔
اگرچہ آپ نمازوں کے زیادہ پابند نہ تھے لیکن ایک ایسے راہنما سے ملنے کی دعائیں کرتے جو نیکی کی روح آپ میں پھونک دے۔ اسی دوران حضرت ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب گوڑیانویؓ سے آپ کا کچھ تعلق ہوگیا تھا اس لئے اُن کے پاس جانا اور وہاں اخبار الحکم پڑھنا شروع کر دیا۔ اس میں حضورؑ کے کلمات طیبات اور الہامات وغیرہ پڑھ کر دل نے حضورؑ کی سچائی کی گواہی دی ۔ چنانچہ 1902ء میں آپ نے حضرت ڈاکٹر صاحبؓ سے بیعت کی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے آپ کی قوم راجپوت کی سختی کا ذکر کیا۔ لیکن آپ کے عزم کو دیکھ کر خدمت اقدسؑ میں آپ کی بیعت کا خط لکھ دیا جس کی منظوری بھی بذریعہ خط مل گئی۔ جلد ہی دستی بیعت کی خاطر آپؓ تنہا قادیان کی طرف روانہ ہوئے۔ رات بٹالہ پہنچے اور صبح کے انتظار میں ایک مسجد میں ٹھہرے ۔ یہاں کسی آدمی نے پوچھا کہ کون ہو تو آپؓ کے اپنا مقصد بتلانے پر وہ گالیاں دیتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔ تاہم آپ صبح کی نماز جلدی پڑھ کر روانہ ہوئے اور پیدل قادیان پہنچ گئے۔ لنگر خانہ میں کھانا کھایا اور ظہر کی نماز کے لئے مسجد مبارک میں چلے گئے۔ جب حضورعلیہ السلام مسجد میں تشریف لائے تو آپؓ کے دل نے بے اختیار حضورؑ کی سچائی کی گواہی دی۔ پھر مغرب کی نماز کے بعد جب حضورؑ شہ نشین پر جلوہ فرما ہوئے تو حضرت مولوی عبد الکریم صاحبؓ نے آپؓ کا بازو پکڑ کر فرمایا کہ حضور! یہ لڑکا بیعت کرنا چاہتا ہے۔ حضورؑ نے نظر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا کہ کل بیعت کرلینا۔ چنانچہ آپؓ نے اگلے روز نماز مغرب کے بعد بیعت کی سعادت حاصل کی۔ پھر ایک ہفتہ قادیان میں گزار کر آپؓ واپس گڑھ شنکر آگئے۔ لیکن قادیان میں جانے اور بسنے کی خواہش بھی ساتھ لائے۔ چنانچہ 1904ء میں ہجرت کرکے قادیان آبسے جہاں اخبار الحکم میں پانچ روپے ماہوار پر نوکری مل گئی۔
آپؓ کی اِس قربانی کو اللہ تعالیٰ نے کیسے برکت عطا فرمائی۔ آپؓ بیان فرماتے ہیں کہ 1908ء میں اخبار کی آمدنی کم ہونے کی وجہ سے فارغ کر دیا گیا۔ تو جنوری 1909ء میں دفتر محاسب میں محرر سوم کے طور پر ملازم ہوگیا اور تنخواہ پندرہ روپے ماہوار مقرر ہوئی۔ چند ماہ بعد دفتر تعمیر میں منتقل کیا گیا اور وہاں عمدہ کارکردگی دکھانے پر چند ماہ میں گریڈ دوم میں ترقی پائی اور تنخواہ بیس روپے ماہوار ہوگئی۔ پھر دوبارہ دفتر محاسب میں تبدیل ہوا اور ایک مخلص دوست سے اپنے وقت میں خزانہ کا کام بھی سیکھنا شروع کیا۔ کچھ عرصہ بعد وہ دوست محاسب مقرر ہوئے اور مَیں اُن کی جگہ محرر درجہ اوّل بنادیا گیا۔ 1923ء میں مجھے دفتر نظارت مال میں تبدیل کر دیا جہاں حضرت مولوی عبد المغنی خان صاحب ناظر تھے۔ 1930ء میں صدر انجمن کی مالی حالت بہت نازک ہوگئی تو حضرت مصلح موعودؓ کی ہدایت پر خاص چندہ کی تحریک کے سلسلہ میں غیرمعمولی خدمت کی توفیق ملی۔ 1931ء میں حضورؓ جب کشمیر کمیٹی کے صدر مقرر ہوئے خاکسار کو کشمیر ریلیف فنڈ کا فنانشل سیکرٹری مقرر فرمایا۔ خاکسار نے حضور کی ہدایات کے تحت کام شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہزاروں ہزار روپیہ کشمیر ریلیف فنڈ میں عطا فرمایا اور خرچ ہوا۔ 1932ء میں حضورؓ کے ارشاد پر خاکسار کو آڈیٹرصدر انجمن بھی مقرر کردیا گیا۔ پھر فروری 1933ء میں حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب دردؓ لندن روانہ ہوئے تو اُن کی جگہ حضورؓ نے مجھے دارالانوار کمیٹی کا سیکرٹری بھی مقرر فرمادیا۔ نومبر 1934ء میں حضورؓ نے تحریک جدید کا آغاز فرمایا تو اگلے ہی روز مجھے تحریک کا کام شروع کرنے کا ارشاد بھی فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کا بے حد فضل ہے کہ خاکسار کو ایک ساتھ چار کام کرنے کا موقع عطا فرمایا۔ تب سے یہ بات گھٹی میں پڑی ہوئی ہے کہ جب تک روزانہ کام ختم نہ ہو دفتر بند نہ ہو۔ اتفاق کی بات ہے کہ تحریک جدید کا دفتر حضور کے قصرخلافت میں تھا۔ خاکسار تو رات کے دس بجے یا کبھی بارہ بجے تک کام کرتا۔ جبکہ خاکسار کا آقا ساری ساری رات کام کرتا تھا تو میرے لئے کیا عذر تھا کہ زیادہ وقت لگا کر کام پورا نہ کروں۔ پہلے سال کے وعدے پورے ہونے تک مَیں روزانہ حضورؓ کی خدمت میں رپورٹ بھیجا کرتا تھا۔ جب وعدے مکمل ہوگئے تو خیال کیا کہ اب صدر انجمن احمدیہ کے قواعد کے مطابق ہفتہ وار رپورٹ پیش کیا کروں گا۔ لیکن تین دن متواتر رپورٹ نہ ملنے پر حضور نے خاکسار کو بلا کر وجہ پوچھی اور میرے جواب پر فرمایا کہ ’’میرے ساتھ کام کرنے والے کو روزانہ رپورٹ مجھے پہنچا کر دفتر بند کرنا ہوگا‘‘۔ مجھے جس وقت تحریک جدید کا کام تفویض ہوا اس وقت میر احافظہ اتنا کمزور تھا کہ مَیں بات کرتے کرتے بھول جاتا تھا۔ حضورؓ کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل فرمایا کہ ریکارڈ سے متعلق کام کے سوا بہت سارا دفتری کام یادداشت پر کرتا ہوں۔ مَیں نے حضورؓ کے ارشادات پر مشتمل 64 صفحات کا ایک کتابچہ بھی مرتب کر کے 1938ء میں شائع کیا ۔
حضرت خانصاحبؓ کی پہلی شادی 1908ء میں اپنی ماموں زاد سے ہوئی جو 1918ء میں ایک بیٹی چھوڑ کر وفات پاگئیں۔ مرحومہ بہت نیک اور موصیہ تھیں۔ پھر آپؓ کی دوسری شادی 1920ء میں مرحومہ کی بہن سے ہوئی اور وہ بھی اپریل 1949ء میں وفات پاکر بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئیں۔ مرحومہ تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں شامل تھیں۔ اِن سے پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں عطا ہوئیں۔ تین بیٹوں کو زندگی وقف کرنے کی سعادت نصیب ہوئی یعنی مکرم کرامت احمد خانصاحب (فضل عمر ہسپتال ربوہ )، مکرم بشارت احمد خانصاحب (دفتر صدر انجمن احمدیہ) اور (مضمون نگار کے والد) مکرم سعادت احمد خانصاحب (دفتر تحریک جدید) میں خدمت کرتے رہے۔
1934ء میں حضرت خانصاحبؓ کی ایک بیٹی کے نکاح کا اعلان حضورؓ نے خود فرمایا۔ خطبۂ نکاح میں حضورؓ نے فرمایا: ’’گلے میں تکلیف کی وجہ سے زیادہ بول نہیں سکتا اور میں نے اس نکاح کا اعلان خود کرنا اس لئے منظور کر لیا تھا کہ میری نگاہ میں فریقین مخلص ہیں۔ چوہدری برکت علی خان جن کی لڑکی کا نکاح ہے بچپن میں قادیان آئے اور ان چند اشخاص میں سے ہیں جو محنت، کوشش اور اخلاص سے کام کرنے والے ہیں اور جن کے سپرد کوئی کام کر کے پھر انہیں یاددہانی کی ضرورت نہیں ہوتی … جن کاموں پر ان کو لگایا ان کے متعلق میرا ذاتی تجربہ اور افسروں کی رپورٹ یہی ہے کہ اخلاص اور سرگرمی سے کام کیا‘‘۔
حضرت خانصاحبؓ نصف صدی سے زائد عرصہ تک خدمات دین بجالانے کے بعد 7؍اپریل 1960ء کو قریباً 73 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور نعش کو کندھا دیا۔
حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے مجلس مشاورت 1935ء میں فرمایا: ’’رات کے ساڑھے بارہ ایک بجے تک ڈاک پڑھی اور پھر صبح سویرے کام شروع کردیا۔ تو ہمارے ذمہ اتنے کام ہیں کہ انہیں چھوڑ ہی نہیں سکتے۔ کل رات کو جب میں یہاں سے گیا ہوں تو جسم مضمحل تھا اور صبح بخار بھی تھا معلوم نہیں اب ہے یا نہیں۔ گو جسم کوفت محسوس کرتا ہے مگر وقت نہیں کہ اس کا خیال رکھیں۔ شریعت کہتی ہے کہ اپنے جسم کا بھی خیال رکھو مگر پھر بھی مصروفیت ایسی ہے کہ جسمانی تکلیف کی پرواہ نہیں کی جاسکتی اور میرے ساتھ کام کرنے والوں کی بھی یہی حالت ہوتی ہے۔ چوہدری برکت علی صاحب کو مہینوں رات کے بارہ بجے تک تحریک جدید کا کام کرنا پڑا۔ اسی تحریک جدید کے دفتر کے کام کرنے کا وقت بارہ گھنٹے مقرر ہے اس سے زیادہ ہوجائے کم نہیں کیونکہ یہ اقل مقدار ہے‘‘۔
حضرت مصلح موعودؓ نے بارہا آپؓ کے کام کی تعریف فرمائی اور متعدد خطبات اور مجلس مشاورت کے مواقع پر خوشنودی کا اظہار فرمایا۔ آپؓ کی وفات کے بعد کئی نامور احباب نے بھی آپؓ کے بارہ میں مضامین لکھے اور آپؓ کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔ محترم قریشی عبدالرشید صاحب وکیل المال نے لکھا کہ حضرت چوہدری صاحب مرحوم بلاشبہ ایک بے لوث اور مسلسل سترہ سترہ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرنے والے بزرگ تھے۔…باوجود تعلیم کی کمی کے آپ کو اخبار کے لئے نوٹ لکھنے کا ایک خاص ملکہ حاصل ہوگیا تھا اور آپ کا اسلوب تحریر منفرد رنگ اختیار کر گیا تھا جو بعد میں کسی سے نقل نہ ہو سکا۔ آپ کے نوٹ پڑھنے والے جانتے ہیں کہ باوجود اپنی سادگی کے وہ کسی قدر گہرے اثر کے حامل ہوتے تھے اور چندہ تھا کہ اس کے نتیجہ میں امڈا چلا آتا تھا۔ چندہ جمع کرنے میں آپ کو ایک خاص مہارت تھی۔ دو چار لاکھ روپے کسی تحریک کے لئے جمع کرنا آپ بہت معمولی بات سمجھتے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بقایاجات کی وصولی کا کام آپ کے سپرد کیا گیا۔ جن دوستوں کو چندہ جمع کرنے کا تجربہ ہے وہ جانتے ہیں کہ بقایا جات بالخصوص طوعی چندوں کے بقائے وصول کرنا خاصا مشکل کام ہے لیکن اس میں بھی مکرم چوہدری صاحب کو نمایاں کامیابی ہوئی اور آپ نے اس مد میں ایک کثیر رقم جمع کر کے تحریک جدید کو دی۔
ریٹائرمنٹ کے بعد مرحوم کی تمام تر توجہ پانچ ہزاری فوج کے 19سالہ حساب کی تدوین و ترتیب اور بصورت کتاب طباعت کی طرف رہی۔ 1947ء کے قیامت خیز ہنگامہ میں ہجرت کے وقت خدا کے اس مخلص بندہ کو اگر فکر تھا تو صرف اس بات کا کہ مخلصین جماعت کے چندوں کا ریکارڈ کسی طرح پاکستان محفوظ پہنچ جائے۔ تقسیم ملک کے بعد جو دھامل بلڈنگ کے اس کمرہ میں جو دفتر کے لئے الاٹ ہوا فروکش ہوئے۔ ان کے ساتھ رہنے والوں کا بیان ہے کہ رات جب بھی ان کی آنکھ کھلتی تو وہ اکثر مرحوم کو چندہ جات کا کھاتہ لئے ہوئے کام کرتے ہوئے پاتے۔ غرضیکہ محترم چوہدری صاحب کی زندگی کام، کام، کام پر مشتمل تھی اور اسی دھن میں آپ نے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کردی۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے ماریشس سے جلسہ سالانہ قادیان کے لئے 26؍دسمبر 1993ء کو اپنے خطاب میں مختلف صحابہؓ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ’’حضرت چوہدری برکت علی صاحب تحریر فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ کا خاکسار پر کتنا بڑا احسان ہوا کہ مجھے ایک ساتھ چار کام کرنے کا موقع عطا فرمایا‘‘۔ مجھے بعض لوگوں کا تجربہ ہے کہ انہیں ایک کے بعد دوسرا کام دیا جائے تو گھبراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ نے کام تو دیدیا ساتھ چار کلرک بھی تو دیں، ساتھ اور ذرائع بھی تو مہیا کریں، یہ بھی تو دیکھیں کہ کس دفتر میں ہم بیٹھے ہیں۔ لیکن حضرت چوہدری برکت علی صاحب جن کو مَیں نے خود دیوانہ وار کام کرتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور وہ لکھتے ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ کا خاکسار پر کتنا بڑا احسان ہوا کہ مجھے ایک ساتھ چار کام کرنے کا موقع عطا فرمایا۔ کشمیر فنڈ اور دارالانوار کے کام کے لئے تو دو مددگار مل گئے لیکن آڈیٹر اور تحریک جدید کا کام خاکسار اکیلا ہی کر رہا تھا۔ … وہ زمانہ جسے ہم نے بھی اپنے بچپن میں اپنی آنکھوں سے دیکھا ایک کلرک چوہدری برکت علی صاحب دفتر میں بیٹھے ہوئے رات کو بتیاں جلا کر کام کیا کرتے تھے اور بسا اوقات ہم رات کو جب گزرتے تھے تو حیران ہو کر دیکھا کرتے تھے۔ سب دفاتر کے وقت ختم ہوگئے ان کے دفتر کا وقت ختم نہیں ہوا‘‘۔ حضورؒ نے اپنے خطاب میں حضرت مصلح موعودؓ کی زبان سے حضرت چودھری صاحبؓ کے لئے بیان فرمودہ بعض کلمات بھی بیان فرمائے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/Nhsea]

اپنا تبصرہ بھیجیں