حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اکرام ضیف

حضرت مسیح موعودؑ کے اکرام ضیف کے چند واقعات محترم سمیع اللہ صاحب زاہد نے ماہنامہ ’’انصار اللہ‘‘ اگست 1996ء میں پیش کئے ہیں۔
حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب رضی اللہ عنہ ایک روایت بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بیگوال کا ایک ساہوکار اپنے کسی عزیز کے علاج کے لئے آیا حضور کو اطلاع ہوئی اور آپ نے فوراً اعلیٰ پیمانہ پر قیام و طعام کا انتظام فرمایا اور حضرت مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ کو علاج کی خاص تاکید فرمائی۔ اسی سلسلہ میں حضور نے یہ ذکر بھی کیا کہ سکھوں کے زمانہ میں ہمارے بزرگوں کو ایک مرتبہ بیگوال جانا پڑا تھا اس گاؤں کے ہم پر حقوق ہیں۔
ھَلْ جَزَآء الْاِحْسَانِ اِلّا الْاِحْسَان کا یہ کیا ہی عمدہ نمونہ ہے۔
حضورؑ کا مخالفین کے ساتھ حسن سلوک بھی مثالی تھا۔ بنّوں سے ایک اسلام دشمن، عیسائی مشنری ڈاکٹر جب ہندوستان کے سفر پر نکلا تو قادیان بھی آیا۔ حضورؑ نے باوجود دشمن سلسلہ ہونے کے اس کی بہت خاطر تواضع فرمائی اور اُس کے لئے منتظمین کو خاص تاکید فرمائی۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/Q2pJC]

اپنا تبصرہ بھیجیں